اڑانوں کے موسم

Print Friendly, PDF & Email

آئندہ عام انتخابات کے مقررہ وقت پر انعقاد کے سارے دعوؤں اور وعدوں کے باوجود لگتا نہیں کہ انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہو پائیں گے۔ دو بڑی وجوہات ہیں کچھ تاخیر کے حوالے سے۔ اولاً مردم شماری کے چیلنج ہوئے نتائج اور ثانیاً نئی حلقہ بندیاں۔ دو عدد وکیل بھی درخواستیں تیار کرکے بیٹھے ہیں کہ نگران حکومتوں کا اعلان ہو اور وہ اپنی آئینی عبارتوں کا مظاہرہ کریں، فقیر راحموں کی اطلاع یہی ہے کہ انتخابات اگست کے بجائے اکتوبر، نومبر میں ہوں گے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ تین بڑی سیاسی جماعتوں، نون لیگ، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ ایم ایم اے پارٹ2 کے پاس اصلاحات پر مبنی معاشی پروگرام نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی مخالفت اور الزام تراشی کیساتھ چند کھوکھلے دعوے ہیں ان کے چھابوں میں ان دعوؤں کے خریدار ان کے کارکن تو ہو سکتے ہیں لیکن وہ عام شہری ہرگز نہیں جو مہنگائی، بدامنی، عدم مساوات اور اس طرح کے دوسرے مسائل کی وجہ سے بدحال ہے۔ ان حالات میں اگر انتخابی عمل کے مختصر یا سال بھر کے اقتدار کا کوئی ہتھکنڈہ آزمایا گیا تو سیاسی جماعتیں عوام کو کیسے منظم کریں گی؟۔

دوسری طرف سیاسی ہجرتوں کا موسم بھی شروع ہو چکا ہے، خدمت خلق کے نام پر جماعتیں تبدیل ہو رہی ہیں۔ حکمران جماعت نون لیگ کے گلستان سے اُڑنے والے پرندوں کی کہانیاں دلچسپ ہیں۔ ان کے دعوے اور اعلانات سن کر تو ’وجد‘ طاری ہو جاتا ہے مگر کہیں نہ کہیں یہ سچائی بھی بہرطور ہے کہ کچھ ہجرتیں کھال بچاؤ پروگرام کا حصہ ہیں اور کچھ بدلتے ہوئے حالات میں اپنے حلقہ انتخاب کے رائے دہندگان کو نیا مال فروخت کرنے کیلئے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ 1988ء سے 2013ء تک (ماسوائے 2002) کے انتخابات کے بعد پنجاب میں سول وملٹری بیوروکریسی کے ذریعے آزاد حیثیت سے منتخب ہونیوالوں کا نون لیگ کی طرف ہانکا کروانے اور ضرورت کے تحت ق لیگ کا فارورڈ بلاک قبول کر لینے والی میڈ ان پاکستان قیادت شکوؤں کے انبار لگاتی چلی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر قسم کے داؤپیچ نون لیگ کیلئے ’’حق‘‘ ہیں۔ انتخابی عمل سے کچھ پہلے ہونیوالی سیاسی ہجرتوں کو اصول پسندی قرار دینے والوں کو سوا دو توپوں کی سلامی پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان مریضان عشق عوام میں سے زیادہ تر تو ان دنوں بنی گالہ کے صحن میں اُتر رہے ہیں۔ چند دن قبل عرض کیا گیا کہ پنجاب کے 24ایم این اے صاحبان اپنے خلاف ہونیوالی بعض تحقیقاتوں سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کی دیوار پر جابیٹھنے کو تیار ہیں، شروعات ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   الطاف بھائی! تاریخ کو جوتے نہیں مارے جا سکتے

انقلاب اور تبدیلی کے فلک شگاف نعرے مارتی تحریک انصاف ان سیاسی مہاجروں کوکیوں قبول کر رہی ہے اس بات کو زیادہ مناسب انداز میں سمجھنے کیلئے پی ٹی آئی کی بانی رہنماء محترمہ فوزیہ قصوری کی ایک حالیہ تحریر پڑھ لیجئے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ جس گند کو صاف کرنے کا دعویٰ تھا وہ اپنے ڈیپو میں جمع کیا جا رہا ہے۔ طافو رنگ باز کے بقول جیسے مال نون لیگ نے جمع کیا تھا ویسے اب تحریک انصاف جمع کر رہی ہے۔
اُڑانوں کے اس تازہ موسم میں سوموار کے روز نون لیگ کے سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے 5ارکان قومی اسمبلی اور 2ارکان پنجاب اسمبلی نے پارٹی اور اسمبلیوں سے مستعفی ہو کر ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ الگ صوبے کیلئے نئی جماعت بنانے والوں میں ایک صاحب وہ بھی ہیں جو کچھ عرصہ قبل سرائیکی صوبہ کے مطالبہ کو ’’را‘‘ کی سازش قرار دیئے جانے پر بھنگڑا  ڈال رہے تھے۔ خاندانی جاگیرداروں، سردار ابن سرداروں اور مخدوموں کے اس سات رکنی گروپ کا دعویٰ ہے کہ انہیں 20ارکان قومی اسمبلی اور50ارکان پنجاب اسمبلی کی تائید ہے اور یہ تائید کنندگان اگلے کچھ عرصے میں ان سے آن ملیں گے۔

سرائیکی وسیب کے جن ارکان قومی وپنجاب اسمبلی نے سوموار کے روز جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا وہ سرائیکی صوبے کی تحریک کی روز اول سے یہ کہہ کہ مخالفت فرماتے رہے کہ یہ تحریک چند مایوس لوگوں کے نعرہ کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی اس قلابازی پر سرائیکی قوم پرست دو حصوں میں تقسیم ہیں، ایک کا مؤقف ہے کہ چلیں بات آگے تو بڑھی وسیب کے خاص پس منظر میں سردار، جاگیردار اور مخدوم زادے اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسرے گروپ کا مؤقف ہے کہ اس قلابازی اور نعرے سے سرائیکی صوبے کی اصل تحریک کو نقصان ہوگا کیونکہ یہ گروپ ’’کہیں کسی سے‘‘ طے کر کے میدان میں اُترا ہے۔ اُڑانوں کے اس موسم کی اہم خبر یہ ہے کہ چند دن قبل مخدوم آف ہالہ سندھ، پیر پگاڑا اور مخدوم شاہ محمود قریشی کے درمیان ساڑھے چار گھنٹوں کی مجلس برپا ہوئی۔ سرائیکی وسیب کے ان دنوں لندن گئے ہوئے ایک مخدوم کی تائید بھی اس مجلس کو حاصل تھی۔ مخدومین نے مستقبل کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاق ہی ہے کہ مخدوم آف ہالہ شریف 4اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش نہیں گئے اور نہ ہی ہالہ میں کوئی اجتماع ہوا، بہرطور صبر کیجئے اور دیکھتے جایئے۔

یہ بھی پڑھئے:   دہشت گرد کہہ رہے ہیں کہ وہی دہشت گردی کے خلاف لڑرہے ہیں؟

آخری بات یہ ہے کہ پشاور میں منعقد ہونیوالے پی ٹی ایم کے جلسہ میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت اور ان کے فوج مخالف نعروں کی پی ٹی ایم کے ایک دو رہنماؤں نے جو وضاحتیں کی ہیں وہ قبول نہیں کی جارہیں۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
143
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: