کہانیوں کے اندر بھی کچھ کہانیاں ہیں

Print Friendly, PDF & Email

کامریڈ نواز شریف نے منگل کے روز ارشاد فرمایا ’’میمو گیٹ میں زرداری کے خلاف حصہ بن کر غلطی کی تھی ۔ نیب کو ملیامیٹ کر دینا چاہیئے ۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ ’’ میں اب پکا نظریاتی ہوگیا ہوں ۔ آئین عوام بناتے ہیں اس کا احترام کیوں نہیں ہوتا ووٹ کو عزت دو اور آئین سپریم ہے میرا بیانیہ مقبول ہورہا ہے ‘‘۔ میاں نواز شریف کو اب بھی وزیر اعظم سمجھنے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی چندر وز قبل امریکہ کے نجی دورہ پر پہنچے ۔ امریکی نائب صدر سے ملاقات کی اس ملاقات کے بعد وطن واپسی پر انہوں نے عسکری قیادت سے ملاقات فرمائی اور منگل کے روز چیف جسٹس آف پاکستان سے ددگھنٹے کی طویل ملاقات، اپنے نام کے ثبوت کے طور پر ملاقات کی تصویر شائع کروائی گئی ۔ فقیر راحموں کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کی تصویر الیکٹرانک میڈیا پر دکھانے اور پرنٹ میڈیا میں شائع کروانے کا مقصد کسی ایسی ملاقات کے ہونے سے انکار کے خطرے کا تدارک تھا ۔

 چند روز قبل جناب شہباز شریف نے 30گھنٹوں کے دوران عسکری قیادت سے 3عدد ملاقاتیں فرمائیں ۔ ایک ملاقات میں مریم نواز کے سمدھی اور ایک سابق جرنیل بھی ہمراہ تھے دو ملاقاتیں ون ٹوون ہوئیں ۔ ملاقاتوں کی خبر پرایک خاتون صحافی نے ٹویٹ کیا ۔ آئی ایس پی آر اور خود اس خاتون صحافی کے ادارے میں بھونچال آگیا نتیجتاًدو سے تین گھنٹے کے اندر انہوں نے ٹویٹ ہٹا دی ۔ آئی ایس پی آر نے ملاقاتوں کی تردید کردی فقیر راحموں بضد ہیں کہ ملاقاتیں ہوئی ہیں البتہ راز رکھنے سے فریقین پریشان ہیں ۔ سوال کیا پریشانی کی وجہ ؟ جواب ملا یہ ملاقاتیں وزیر اعظم عباسی کی امریکی نائب صدر سے ملاقات کے دن اور ایک روز بعد ہوئیں ، تردید کا مقصد اس تاثر کو دور کرنا تھا کہ یہ ملاقاتیں امریکی نائب صدر کے ’’پیغام یا حکم ‘‘ پر ہوئی ہیں ۔ فقیر راحموں کچھ بھی کہتے ہیں لیکن اتنا ہی کافی ہے ۔

چلیں اب ہم ترتیب سے دیکھتے ہیں ۔ وزیراعظم امریکی نائب صدر کو مل رہے تھے تو شہباز شریف عسکری حکام سے ملے ۔ وزیراعظم وطن واپس آئے عسکری قیادت سے ملے اور پھر سو مو ار کی شام سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعظم اہم ملکی وقانونی امور پر مشاورت کے لئے چیف جسٹس سے ملاقات کے خواہش مند ہیں ۔ سوموار کی شب 8سے ساڑھے 8بجے کے درمیان ملاقات اور وقت سے وزیراعظم کے دفتر کو آگاہ کر دیا گیا منگل کو یہ ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی روایتی پروٹوکول کے بغیر سی جے ہاؤس گئے ۔ دو گھنٹے کی ملاقات کے حوالے سے طرفین کے ذرائع نے جو کچھ بتایا ’’دل ہے کہ مانتا نہیں ‘‘۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس روز میاں نواز شریف نے کیانی پاشا ڈاکٹرائن میمو گیٹ میں حصہ ڈالنے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ راولپنڈی کے پنجاب ہاؤس میں ہوئے مشاورتی اجلاس میں حسب سابق انقلابی گفتگو ہوئی ۔ انقلابی گفتگو ؤں اور درمیان  میں جاری ملاقاتوں دونوں کو الگ الگ کر کے دیکھنا بہت مشکل ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   پانامہ لیکس ہے کیا اور اس میں کس کس کے نام ہیں

لاہور میں شہباز شریف کے قریب ترین سمجھے جانے والے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سعودی ولی عہد کی امریکی صدر اور دیگرحکام کے ساتھ ملاقات میں پاکستان اور شریف خاندان کا ذکر ہوا ، شاہد خاقان عباسی اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کے پیغام پر بھاگے بھاگے نجی دورہ پر امریکہ بلا وجہ نہیں گئے ۔ واپسی کی ملاقاتیں بھی بے وجہ یا یوں کہہ لیں غیر ضروری اور ان اطلاعات کے تناظر میں نہیں تھیں جو اس ملاقات کی خبر کا حصہ ہیں ۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ سعودی عرب ایک بار پھر مدد کے لئے رضا مند ہوا ہے لیکن اس بار شریف خاندان جدہ نہیں جائے گا بلکہ اگلی منزل لندن یا نیو یارک ہوگی ۔ کیا واقعی این آر او ہونے جارہا ہے ؟ فقیر راحموں نے اس سوال پر مسکراتے ہوئے کہا شاہ جی ۔ نون لیگ والے صرف چوری کھانے کے شوقین ہیں قربانی دینا ان کے بس میں نہیں ۔ عرض کیا نواز شریف تو کہہ رہے ہیں وہ نظریاتی ہوگئے ہیں ؟ جواب ملا جان بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا بھی نظریہ ہی ہے ۔ سہولت کے لئے اسے نظریہ ضرورت جاتی امراء کہہ لو۔ فقیر راحموں کی باتوں کو ایک بار پھر یہیں چھوڑتے ہیں ۔ بنیادی مسئلہ اور بیانیہ یہ ہے کہ شریف خاندان سرنڈر کیا کرے گا ؟ ۔ اور کیا وہ یہ چاہتا ہے کہ لندن فلیٹس کی ساری رقم ادا کر کے سارے دھندے کی دُھند سے جان چھڑا لے ؟ یا پھر یہ کہ مریم نواز کو سیاست کرنے کی اجازت دے دی جائے ؟ ان دو سوالوں کے بیچوں بیچ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ شریف خاندان نے پاکستان میں مشترکہ کاروبار ی امور کے سارے معاملات حمزہ شہباز شریف کی بجائے شہباز شریف کے چھوٹے صاحبزادے سلمان شہباز شریف کے سپرد کردیئے ہیں ۔ شہباز شریف فیملی کے انفرادی کا روبار کے حوالے سے بھی نیاانتظام یہی ہے (یاد کیجئے کہ2000میں اس خاندان نے جلاوطنی کے معاہدہ سے قبل خاندانی اور کاروباری امور حمزہ شہباز شریف کو سونپ دیئے تھے ) کیا ان نئے انتظامات اور امریکہ سے اسلام آباد تک ہوئی ملاقاتوں میں کوئی باہمی تعلق ہے ؟ یہی اہم سوال ہے ۔

یہ بھی پڑھئے:   این آر او کی بازگشت | اکرم شیخ - قلم کار

ہمزاد فقیر راحموں اس سوال کا جواب دینے کی بجائے کہہ رہے ہیں شاہ جی تین باتیں ہیں ۔ مریم کو کلین چٹ نہیں ملی ، ڈان لیکس کی تلوار لٹک رہی ہے ۔ سزائیں ہوں گی بہت نرمی برتی گئی تو جرمانہ ہوگا لوٹی ہوئی دولت کے مساوی یا پھر 50فیصد زیادہ ۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ مسٹر کلین خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف بھی آنے والے مہینوں میں نواز شریف جیسی صورتحال سے دوچار ہوں گے انتظامات کی وجہ یہی ہے ۔ یعنی این آرو ہونے جارہا ہے ؟ ۔ فقیر راحموں مسکراتے ہوئے بولے زیادہ صحافت بکھیرنے کی ضرورت نہیں جتنی باتیں ہضم ہو سکیں اتنی بتا دی ہیں ۔ حرف آخر یہ ہے کہ پیغام رساں ، پیادے اور غلام بھاگ رہے ہیں اسلام آباد سے نیویارک تک کی دنیاؤں میں تبادلہ خیال جاری ہے ۔ الیکشن وقت پر نہیں ہوں گے ۔ کم از کم 6ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ بظاہر مردم شماری اور انتخابی حلقوں کے معاملات سامنے ہوں گے مگر در پردہ آپریشن کلین اپ عام فہم زبان میں بھل صفائی پروگرام ۔ لیکن طالب علم کا سوال یہ ہے کہ طبقاتی جمہوریت کے چچا ماموں اور خالو تومذاکراتوں میں مصروف ہیں مجاہدین آزادی جاتی امرا ء کی گالیاں پیپلز پارٹی کے لئے ہیں ۔ کوئی نوازشریف سے بھی تو پوچھے کامریڈ تمہارے عزائم کیا ہیں انقلاب کے نام پر این آر او ، یعنی توپ کے لائسنس کی درخواست اور پستول کے لائسنس پر راضی ہو جاؤ گے ؟ ۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
374
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: