Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سانحہ کوئٹہ، لشکرِ جھنگوی اور حکومتی چورن – حیدر جاوید سید

by اکتوبر 25, 2016 کالم
سانحہ کوئٹہ، لشکرِ جھنگوی اور حکومتی چورن – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

Haider-Javed-Syed-300x225سوموار اور منگل کی درمیانی رات کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کے حملے کے اس واقعہ میں 61 پولیس اہلکاروں سمیت پاک فوج کے ایک کیپٹن کی شہادت اور 117 پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے المناک واقعہ نے بہت سارے سوالات کو تو جنم دیا ہی ہے مگر کچھ پرانے زخم بھی ہرے ہوگئے۔ اسی کوئٹہ میں کچھ عرصہ قبل دہشت گردوں کی ایک المناک واردات میں 60 وکلاء اور 40 دوسرے افرادشہید ہوئے تھے۔ پھر محرم الحرام کے ابتدائی ایام میں ایک مقامی مسافر بس میں ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والی پانچ خواتین کو دہشت گردوں نے شناخت کرکے شہید کیا تھا۔ آگے بڑھنے سے قبل بلوچستان حکومت سے چند ایک سوال (ان میں سے ایک کا تذکرہ عمران خان نے بھی کیا) ضرور دریافت کئے جانے چاہیں۔ دہشت گردی کے خلاف صوبائی اداروں کو منظم کرنے کے لئے وفاق کی طرف سے فراہم کی گئی 30 ارب روپے کی خطیر رقم کہاں گئی اور کہاں خرچ ہوئی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ پولیس ٹریننگ سینٹرمیں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد تربیت مکمل کر لینے والے اہلکاروں کو تعیناتی سے قبل کی رخصت (چھٹیاں) دے دی گئی تھی۔ ان اہلکاروں نے دو دن قبل یعنی ہفتہ 23 اکتوبرکو اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے گھروں کو روانہ ہونا تھا۔ ان کی کی روانگی کو کس پولیس افسر نے مؤخر کیا؟ ہفتہ کو ہی انہیں غیر مسلح کیوں کیا گیا؟ ہفتہ کے روز سے جب انہیں روکا گیا تو سیکورٹی کے انتظامات کیوں نہ کئے گئے ؟ کوئٹہ کے داخلی و خارجی راستوں پر تقریباََ 19 چیک پوسٹیں ہیں۔ کیسے ممکن ہوا کہ ان چیک پوسٹوں کی موجودگی میں چار یا پانچ مسلح دہشت گرد بھاری بارودی مواد اور اسلحہ کے ساتھ پولیس ٹریننگ کالج تک پہنچ گئے؟ ماضی کے قریب کے دو المناک واقعات سانحہ سول ہسپتال اور مسافر بس میں شناخت کے بعد 5 شیعہ خواتین کو قتل کرنے کی ذمہ داری لشکرِ جھنگوی نے قبول کی تھی مگر ان دو وواقعات کی طرح پچھلی شب ہوئی دہشت گردی کا ملبہ بھارتی خفیہ ایجنسی "را” پر ڈال کر بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ لشکرِ جھنگوی کے مقامی سہولت کاروں رمضان مینگل اور شفیق مینگل سے توجہ کیوں ہٹانا چاہتے ہیں؟ آگے بڑھنے سے قبل ایک اور سوال یہ ہے کہ شفیق مینگل اور اس کے لشکر سے کون خدمات لیتا ہے؟ ضمنی سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی اداروں کو یہ بالکل معلوم نہیں کہ شفیق مینگل نامی شخص ماضی قریب میں لشکرِ جھنگوی اور ایران میں کاروائیاں کرنے والی جند اللہ نامی تنظیم کا آپریشنل ہیڈ رہا ہے؟
عجیب بات ہے کہ دہشت گردوں کی ایک تنظیم پچھلے پورے ایک عشرے سے کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کے ساتھ دیگر طبقات اور فورسز کے اہلکاروں کے خلاف سرگرمِ عمل ہے لیکن بلوچستان کی حکومت پاکستان کے 22 کروڑ لوگوں کو "را” والے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے ہوئے ہے۔ اچھا اگر واقعتاََ لشکر جھنگوی کے دعوے جھوٹے ہیں اور "را” ہی ذمہ دار ہے تو اب تک کیا کاروائی ہوئی ؟ بدقسمتی یہ ہے کہ بلوچستان اور بالخصوص کوئٹہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہے۔ بلند و بانگ حکومتی دعوؤں کے باوجود ٹوٹی کمر والے دہشت گرد جب چاہتے ہیں شہریوں اور فورسز کی کمر توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔کوئٹہ کے حالیہ المناک سانحہ نے ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مقابلہ میں زیادہ منظم اور طاقت ور ہیں اور اہداف کا حصول ان کے لئے مسئلہ ہے نہ کوئی مشکل۔ دوسری طرف طفل تسلیاں ہیں۔ کیاان طفل تسلیوں سے متاثرہ خاندانوں کے جواں سال بچے دوسرا جنم لے پائیں گے؟ کیا دعوؤں سے حقائق چھپ جائیں گے؟ بہت ادب کے ساتھ یہ کہنا پڑے گا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کو دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہو گا۔ ان خامیوں کا تدارک کرنا ہو گا جو دہشت گردوں کو کُھل کھیلنےکے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ سانحہ کوئٹہ کا مداوا تعزیتی بیانات نہیں۔ دو ہزار کے قریب ہزارہ شیعہ مسلمان اور دوسرے شہری و سیکیورٹی فورسز کے اہلکار کوئٹہ میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے۔ اب تو ایسا لگنے لگا ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کا فرض تعزیتی بیانات جاری کرنا، "را” پر معاملہ ڈالنا اور شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنا ہی رہ گیا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک ہے۔ اربابِ حکومت اور ریاستی اداروں کو لشکرِ جھنگوی اور العالمی کے نام سے موجود اس کے زیادہ تربیت یافتہ گروپ کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی کارروائی کا آغاز ان تنظیموں کے سہولت کاروں کو گرفت میں لینے سے کرنا ہو گا۔ سرحد پار سے اگر دہشت گرد آتے ہیں یا ان کی ڈوریں ہلائی جاتی ہیں تو ہر دو کا مداوا کون کرے گا؟ بلوچستان سمیت پاکستان بھر کے عوام کو طفل تسلیوں سے بہلانے کی روش ترک کر کے حقیقی معنوں میں مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب پسند و ناپسند کی حکمت عملی حکومت اور ریاستی ادارے دونوں ترک کر دیں۔ سوموار اور منگل کی درمیانی شب کوئٹہ میں ہوئی دہشت گردی کی واردات کے بعد حکومتی سطح پر جو پھرتیاں دکھائی دے رہی ہیں اس طرح کی پھرتیاں دہشت گردی کی سابقہ وارداتوں کے بعد بھی دیکھنے میں آتی رہی ہیں۔ عوام کو حکومتی پھرتیوں، زخمیوں کی عیادت، شہدا کے جنازوں میں اربابِ حکومت و ریاست کی شرکت سے زیادہ اس بات سے دلچسپی ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ جس دہشت گرد تنظیم نے سانحہ کوئٹہ کی ذمہ داری قبول کی ہے اس کے مذہبی سیاسی چہروں مولانا سمیع الحق اور احمد لدھیانوی سے چند روز قبل وفاقی وزیرِ داخلہ نے ملاقات کیوں کی؟ اور کیوں کالعدم تنظیموں کے تعاون سے قائم دفاع پاکستان کونسل نامی تنظیم کو 28 اکتوبر کواسلام آباد میں اجتماع کی اجازت دی گئی ہے؟ حرفِ آخر یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کب تک دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟ یا پھر اس بات کو سوفیصد درست مان لیا جائے کہ جب بھی عمران خان مسلم لیگ (ن) کی کرپٹ حکومت کے خلاف اپنی تحریک کےنئے مرحلے کو منظم کرتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کی اتحادی کالعدم جماعت کی ذیلی دہشت گرد تنظیم دہشت گردی کی کارروائی کر دیتی ہے؟ جو بھی ہے اب بہت ہوگیا۔ حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت کو فوری طور پر برطرف کرے یا پھر ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجائے۔

Views All Time
Views All Time
4601
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   تین عشروں کی افغان پالیسی کی مختصر کہانی | حیدرجاویدسید 
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: