Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

"کامریڈ چنگ چی نواز شریف گویڑا کا اعلان بغاوت”

by مارچ 10, 2018 کالم
"کامریڈ چنگ چی نواز شریف گویڑا کا اعلان بغاوت”
Print Friendly, PDF & Email

کامریڈ چنگ چی نوازشریف گویڑا نے 70سال سے مسلط استحصالی نظام کے خلاف بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’70سال سے چلنے والی پالیسیوں سے بغاوت کا کرتا ہوں میں باغی ہوں۔ حق چھین لیں گے۔ یہ سب ٹانگیں کھنچنے والے ہیں اب عوام ان کی ٹانگیں کھینچ لیں گے۔فوجی دور کے گورنر پنجاب جنرل جیلانی خان اور بریگیڈئر قیوم قریشی کی مشترکہ تخلیق نواز شریف 1983ء سے چند عبوری وقفوں کے ساتھ اس نظام حکومت کا حصہ ہیں۔سیاسی عمل میں ان کی تشریف آوری ایر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال سے ہوئی تھی اصغر خان بھٹو کی نفرت میں پھنسے ہوئے مگر ذاتی اوصاف کے بھلے شخص تھے۔

جولائی 1977ء میں مارشل لاء لگا تو فوجی حکومت نے پہلی ترجیح کے طور پر ان سرمایہ دار خان دانوں سے رابطہ کیا جنکی صنعتیں اور مالیاتی ادارے بھٹو نے قومی تحویل میں لئے تھے۔ نوازشریف خاندان بھی اتفاق فونڈری قومی تحویل میں لئے جانے کی وجہ سے بھٹو کے خون کا پیاسا تھا۔ آئی ایس آئی کے کرنل قریشی (یہ حضرت بعدازاں بریگیڈئر بنے اور اسی حثیت سے ریٹائر ہوئے)نے میاں شریف سے ملاقات کی اور ان کا خاندان جنرل ضیاء الحق کا ہمنوا ہوا، نوازشریف پہلے پنجاب کونسل کے رکن بنے پھر پنجاب کے وزیر خزانہ، 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلیوں میں پنجاب اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے پیر پگارا کے وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار مخدوم زادہ حسن محمود کو ردکرکے جنرل ضیاء نے نوازشریف کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنانے کی منظوری دی۔

غیر جماعتی اسمبلیوں کی کوکھ سے مسلم لیگ برآمد ہوئی آگے چل کر ضیاء جونیجو اختلافات پیدا ہوئے تو نواز شریف نے پارٹی صدر محمد خان جونیجو کی بجائے اپنے مر بی و محسن جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا اس خدمت کے عوض وہ ’’محبوب ‘‘ ہوئے۔ 1988ء کے انتخابات سے قبل جنرل حمید گل نے پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ جنرل گل و ہمنواؤں کا دعویٰ تھا پیپلزپارٹی بھارت نواز جماعت ہے۔بھٹو خاندان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے برہم ہے اس جماعت کو اقتدار ملا تو پہلا حملہ فوج پر ہوگا۔ ریاستی ٹولے کی کوششوں کے باوجود پیپلزپارٹی سنگل لارجسٹ پارٹی کے طور پر ابھری۔

یہ بھی پڑھئے:   حضور! آپ میدان میں ڈٹے کب؟ | حیدر جاوید سید

1988ء کے انتخابات میں پہلی بار گھوسٹ پولنگ سٹیشنوں کا تجربہ ہوا، پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے آزاد ارکان کو آئی ایس آئی اور ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے ہانک کر نون لیگ میں لیجایا گیا یوں مرکز میں پی پی پی اور پنجاب میں آئی جے آئی کم نون لیگ کو اقتدار ملا۔ اسی دور میں عالی جناب نواز شریف نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے بے نظیر بھٹو کی ’’کافر‘ حکومت کو ہٹانے کے لئے اربوں روپے کی امداد لی اور چھانگا مانگا میں اصبطل بنا لیا۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ دوسری طرف سمجھوتوں پر عمل کرنے کے باوجود صدر اسحق اور فوجی اشرافیہ پی پی پی سے خوش نہ ہوئے اگست 90ء میں 58/2Bکے تحت لولے لنگڑے نظام کو چلتا کردیا گیا۔ اسی سال ہونے والے انتخابات میں ریاست نے پوری طاقت سے جُھرلو پھیرا پی پی پی کو مشکل سے قومی اسمبلی کی 17نشستیں ملیں سندھ میں اس کی اکثریت چرالی گئی۔ نوازشریف وزیراعظم بنے مگر اپنے ہی صدر مملکت سے ان کے پھڈے شروع ہوئے۔93ء میں پیپلزپارٹی اور پھر 97ء میں نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آئے اور 12 اکتوبر کو نکال دیئے گئے۔ مشرف سے معاہدہ کرکے انہوں نے جلاوطنی خریدلی خاندان سمیت ملک سے رخصت ہو گئے۔

2007ء میں ان کی کیسے واپسی ہوئی سب جانتے ہیں 2008ء کے انتخابات کے بعد فوجی اشرافیہ نے ق لیگ کا پنجاب اسمبلی میں فاروڈ بلاک بنواکر نون لیگ کو پیش کیا تا کہ نون لیگ پنجاب میں حکومت سازی کرسکے ابتدائی عرصہ میں وفاق میں نون لیگ پی پی پی کی اتحادی تھی پھر جنرل کیانی اور پاشا کے مشورے پر اس اتحاد سے الگ ہوگئی نوازشریف ایک دن کا لا کوٹ پہن کر کیانی پاشاجوڑی کے ’’بے بی میموگیٹ‘‘ کو حلالی قرار دلوانے کے لئے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ 2013ء میں فوجی اشرافیہ سے معاملات طے پائے اور آخری مرحلہ میں عمران کی جگہ ملکی و عالمی قوتوں نے نوازشریف کو گودلے لیا۔وزیراعظم بننے سے لے کر پانامہ کیس میں نااہلی تک ان کا طرز حکمرانی عرب بدو بادشاہوں جیسا تھا خاندان اور سمدھیانوں کے 26افراد وفاق اور پنجاب کی حکومت میں شامل تھے اور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   اقتصادی راہداری منصوبہ.... بھارت اور ایران

جمعہ 9مارچ کو بہاولپور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بغاوت کا اعلان کردیا۔ پنجابی میڈیا قوم پرستوں، لبرلز اور تھڑدلے ترقی پسندوں کے تازہ محبوب نے جس نظام سے بغاوت کا اعلان کیا ہے ان کی جماعت اس نظام کے تحت اقتدار میں ہے اور چھوٹا بھائی پنجاب کا وزیر اعلیٰ بھی۔ فقیر راحموں انہیں پیار سے کامریڈ چنگ چی نواز شریف گویڑا کہتے ہیں۔ اب وہ باغی بھی ہیں تو باغی میاں کیا1983ء سے اب تک لوٹی گئی دولت واپس کریں گے۔ فوجی جنتا کی تابعداری اور اسامہ بن لادن سے اپنے ہی ملک کی حکومت کے خلاف مالی امداد لینے یا پھر مشرف سے معافی مانگ کر ملک سے بھاگ جانے پر قوم سے معافی مانگیں گے کیا وہ عوام کو یہ بتائیں گے کہ انہوں نے پی پی پی حکومت کے خلاف کیانی، پاشا اور چودھری کی تگڑم کے ساتھ ملکر جمہوریت دشمنی کی آئس کریم کیوں کھائی؟۔ ویسے ا پنی ہی حکومت اور پروٹوکول میں منعقدہ جلسہ میں اعلان بغاوت جھوٹ کے سوا کیا ہو سکتا ہے؟۔

Views All Time
Views All Time
175
Views Today
Views Today
2
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: