Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شریف فیملی کی نئی سمجھوتہ ایکسپریس

by دسمبر 24, 2017 کالم
شریف فیملی کی نئی سمجھوتہ ایکسپریس
Print Friendly, PDF & Email

پردہ داری کی ضرورت نہیں ، سب سامنے صاف دیوار پر لکھا ہے ۔قصور نیب کا ہے یا معاملات ملاقاتوں میں حل ہوئے یہ ایسا سوال نہیں کہ لمبی چوڑی تحقیق کی ضرورت ہو ۔ لیکن یہ سمجھوتہ ایکسپر یس کتنے سٹیشنوں کا سفر طے کر پائے گی ؟ اصل سوال یہ ہے اور اس سے اہم بات یہ کہ کیا شہباز شریف مستقبل کے حوالے سے جن امور کے ضامن بنے ہیں ۔ سیدھے سبھاؤ وہی طے ہوں گے ؟ کم از کم مجھے ایسا ہوتانہیں لگتا ۔ فریقین داؤ پر ہیں پورے پتے کون ”فلاش”میں شو کرتا ہے ۔کاروبار کا حتمی منافع اور فلاش کی تگڑم چھپائے رکھنی پڑتی ہے ۔ نوازشریف کے لئے بہتر ین موقع تھا کچھ کر گزرتے لیکن وہ جانتے ہیں کہ کر گزرنے میں بندہ گزر بھی جاتا ہے ۔اندھے داؤ کاروباری افراد نہیں کھیلتے ہیں یہی سچ ہے ۔باقی کی باتیں جی بہلانے کا سامان ہیں ۔ سوبرس کا ہو یا پانچ برس کا سامان لیکن سانس اور مالک کا موڈ دونوں کب ساتھ چھوڑ دیں کس کو معلوم ہے ۔ایک دوست نے کہا سمجھو توں کی سیاست کا دروازہ پیپلز پارٹی کیوں نہیں کرتی ؟ ۔ عرض کیا سوال پیپلز پارٹی سے کیجئے تشفی بھر اجواب وہی دے سکتی ہے ۔ اس عاجز کو تو یہ معلوم ہے کہ شہباز شریف کی کوشش اور دوبزنس مینوں کی محنت بذریعہ دبئی رنگ لے آئی ہے ۔ یہ رنگ چوکھا ہوگا کہ پہلی برسات میں دُھل جائے گا اس پر غور ضرور کیجئے مگر یا د رکھیئے پانی سے موٹر صرف ٹی وی پروگرام میں چلتی ہے ۔دوست ناراض ہوتے ہیں جب عرض کرتا ہوں کہ سیکورٹی اسٹیٹ میں بزنس اور ملازمت مالکان کی شرائط پر ہی ممکن ہیں ۔آزادروی جاگتی آنکھ کا خواب ہے ۔

کیا ہم بھول جائیں کہ یہاں چاند کو پھانسی چڑھانے اور چاندنی کو سڑک پر مارنے کے ماہرین بہت ۔ اب ہمارے پاس رکھا کیا ہے ۔ طبقاتی نظام کے سرپرستوں اور ساجھے داروں سے نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ مختلف طبقات کے فہمیدہ لوگ تعلق خاطر نبھانے کی بجائے متحد ہو کر میدان میں اتریں اور   رعایا کو عوام بنانے کے لئے جدوجہد کریں ۔ جدوجہد طویل ہوگی یہ بہر طور ذہن میں رکھنا ہوگا ۔ ساعت بھرکے لئے رک کر محبوبان خداکے قافلہ سالار امام حریت فکر امام حسین علیہ السلام کے ایک ارشاد سے رہنمائی لیجئے ۔ فرماتے ہیں ۔”ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے قربانیاں اس قدر زیادہ دینا پڑیں گی ” عرض یہ ہے کہ پسند کے ظالم و مظلوم پالنے کی بیماری کا علاج کروایئے ۔ ہم جس سماج میں رہتے ہیں اس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ لیکن کیا پچھلی نسلوں کی طرح نا امیدی کو کفن میں رکھ کر قبروں میں اترنا واجب ہے یا پھر امید کے چراغ جلانا؟ ۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ اپنے حصے کا چراغ روشن کیجئے ۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے ۔مکرر عرض ہے ہمیں اگلی نسلوں کی راہ کھوٹی نہیں کرنی چاہیئے ۔ جمہوریت اور خالص عوامی جمہوریت سے مستقبل مشروط ہے ۔ سمجھوتے بہت ہوگئے ،لیڈ ر بہت پال لئے ہم نے ۔

یہ بھی پڑھئے:   عبید اللہ سندھی اور ترقی پسندی - عامر حسینی

ایک عزیز نے پچھلی شب سے اُدھر کی پیر میں دریافت کیا ۔ کسے رہنما کر یں اور کس سے منصفی چاہیں ؟ ” عرض کیا ۔ لازم ہے کہ مخمصے سے نکلا جائے اورعصرکی سچائی کوکھلے دل سے قبول کیا جائے ۔ انسانی سماج کے ارتقا کا سفر سمجھوتوں سے نہیں حریت فکر سے طے ہوتا ہے ۔ دشمن پالنے کے جھنجٹ طاق پر رکھنا ہوں گے ۔ 22کروڑ لوگوں کے نصف سے زیادہ خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ کھلے دل سے تسلیم کیا جائے کہ ہواؤں میں تلوار یں چلانے اور سایوں کے پیچھے بھاگتے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ پر اس کا کیا کریں تاریخ کے اورا ق اُلٹتے ہیں توجواب ملتا ہے ہم ہمیشہ سے ایسے ہی تھے وقت اور سانپ نکل جانے پر لکیروں کو پیٹنے والے۔ چند برس ہوتے ہیں جب خواجہ فرید پوسٹ گریجویٹ کالج میں گفتگو تمام کر چکا تو ایک طالب علم نے سوا ل کیا ۔ سہل پسندی کے سرطان اور اندھی تقلید سے نجات کی صورت کیا ہے ؟ ۔ عرض کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کام ہمارے حصے کا ہے وہ ہمیں کرنا ہے ، راستہ مانگنے سے ملتا ہے ورنہ لوگ کہنیا ں مار کر آگے نکل جاتے ہیں ۔ اندھی تقلید سے نجات تقابلی مطالعے میں ہے ۔ بد قسمتی سے ہم اپنی پسند کی کتاب پڑھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ سب جان لیا ، ایسا نہیں ہے ۔ معلوم کرنے کی جستجو آخری سانس تک سلامت رہنی چاہیئے ۔ یہ دو صورتیں ان بیمار یوں سے نجات دلا سکتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے:   حکومت متحارب بلوچیوں سے مذاکرات سے گریزاں کیوں؟

بات کہاں سے کہاں نکل گئی شریف فیملی کی نئی سمجھوتہ ایکسپریس سے شرو ع ہوئی تھی ۔ ایک لطیفہ یاد آگیا ۔ دو دن اُدھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کہہ رہے تھے ہم نے تو اربوں کے بعض منصوبے جیب سے مکمل کئے ۔ ”بہت دیر تک ٹھٹھہ اڑانے کو جی چاہا۔ تین فیکٹریوں سے 17فیکٹریوں اور کھربوں کے اثاثے 1984ء سے 2017ء کے درمیان یقینا جیب سے ہی بنائے ہوں گے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان 33برسوں کے دوران ملک اور پنجاب کے لوگوں کو کیا ملا ؟ اب بھی صرف لاہور میں پینے کے صاف پانی والے منصوبوں میں 7ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے ۔یہ راز نہ کھلتا اگر معاملہ ہائیکورٹ میں نہ جاتا ۔ نئی کرپشن کہانی یہ ہے کہ میاں منشا نامی جس صنعت کار کو تین سال کے لئے پنجاب پولیس کی نئی یونیفارم بنانے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا انہی صاحب کی ایک کمپنی سے 8کروڑ 80لاکھ روپے کی 40ہزار جیکٹس خریدی گئی ہیں ۔ کہیں ٹینڈر ہوا نہ اخبار اشتہار ۔ رہنے دیجئے ۔ یہاں کوئی ایک پیسے کی کرپشن نہیں کرتا ۔ بہر طور مبارک ہو سمجھوتہ ہوگیا مگر سمجھوتہ ایکسپریس مشکل سے تین سٹیشن طے کر سکے گی۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
365
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: