وفاقی وزیرِداخلہ کی پھلجڑیاں

Print Friendly, PDF & Email

لیگی حکومت کے وفاقی وزیر داخلہ ’’پروفیسر‘‘ احسن اقبال دلچسپ آدمی ہیں۔ آج ایک تقریب میں فرما رہے تھے۔ رخصت پر گئے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں انہیں رسوائی نہیں میڈل ملنا چاہئے۔ ڈار جی نے کس کی معیشت کو مضبوط بنیاد پر استوار کیا۔ پاکستان کا حال سب کے سامنے ہے۔ گردشی قرضے 425 ارب روپے اور آئی پی پیز کے بقایاجات 200ارب روپے ہیں۔ نون لیگ کی حکومت نے ساڑھے چار سالوں میں 30ارب ڈالر سے زیادہ کے بیرونی قرضے لئے۔ سی پیک کے قرضے الگ ہیں اور یہ بات بھی کسی اور ملک کی کہانی ہے کہ سی پیک مکمل ہونے پر گوادر بندرگاہ کی سالانہ 91فیصد آمدنی چین اور 9فیصد پاکستان کو ملے گی۔ مہنگائی کا ذکر فضول ہے۔ 20روپے کلو والے ٹماٹر160روپے کلو ہیں۔ ڈالر کی قیمت 111 روپے ہوتے ہی برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں 9روپے کلو کا اضافہ ہوا۔ صرف اسلام آباد میں گریڈ 17سے 22کے 12افسروں نے 25ارب روپے کا فراڈ کیا۔

پاکستانی معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے والے اسحاق ڈار جعلی بیماری کا سہارا لے کر ملک سے فرار ہوئے۔ احتساب عدالت میں پیش کی گئی میڈیکل رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ ان کے دل کی شریانیں کھلی ہوئی ہیں‘ انہیں آپریشن کی ضرورت نہیں۔ ان کی ذاتی معیشت کا احوال یہ ہے کہ ان کے والد بزرگوار اندرون لاہور میں سائیکلوں کو پنکچر لگانے کی ایک معمولی سی دکان کے مالک تھے۔ 12×10 کی یہ دکان بھی کرائے کی تھی۔ محض 25برسوں کے دوران وہ تین ارب ڈالر کے اثاثوں کے مالک بن گئے۔ اللہ ہی جانے پروفیسر احسن اقبال نے کس آنکھ سے ڈار صاحب کی ’’فنی‘‘ خوبیاں دیکھ لیں۔ سچی بات یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے وفادار اسحاق ڈار نے پاکستان کی معیشت کو اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ایک عام سا ماہر اقتصادیات بھی ان کے دعوؤں پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ مصنوعی سرمایہ کاری سے ڈالر کی قیمت کو ایک جگہ پر روک لینا کوئی کمال نہیں۔ ذرا کسی دن بتائیے تو چین سے سی پیک کے نام پر ملنے والے 47ارب ڈالر کی ادائیگی 90ارب ڈالرمیں کیوں کرنا پڑے گی؟ بانڈز سرمایہ کاری کے نام پر 8فیصد سے زیادہ سود پر سرمایہ کاری کیوں کروائی گئی کیسے بھارت نے 3فیصد پر سرمایہ کاری کروالی؟رہنے دیجئے خامشی اچھی ہے کیونکہ اب لوگ کہتے ہیں نون لیگ کے خلاف فوج کے کہنے پر پروپیگنڈہ ہو رہا ہے۔ جی بالکل برائلر گوشت 218 روپے فوج بکوا رہی ہے۔ ڈالر کی قیمت 111روپے اسی نے کروائی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   بھارت کے ایک تیر سے تین شکار

چلیں ہم اپنے پروفیسر وزیر داخلہ کی ایک اور پھلجڑی پر بات کرتے ہیں ۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ پاکستان کو سوویت یونین توڑنے میں کردار ادا کرنے کی سزا مل رہی ہے۔‘‘ احسن اقبال مرحومہ آپا نثار فاطمہ کے صاحبزادے ہیں۔ جوانی کے دنوں میں وہ اپنی عالمہ والدہ کی طرح اس جہاد افغانستان کے پرجوش حامی تھے۔ آپا جماعت اسلامی کی فکری ہم خیال تھیں احسن اقبال بھی اسلامی جمعیت طلبہ میں رہے۔ ان کی والدہ 1985ء کی غیر جماعتی قومی اسمبلی کی رکن رہیں۔ اس سے قبل جنرل ضیاء کی اسلامی مجلس شوریٰ کی بھی رکن تھیں۔ انجمن متاثرین جماعت اسلامی میں سے پروفیسر پہلے آدمی ہیں جنہوں نے کہا پاکستان کو سوویت یونین توڑنے کی سزا مل رہی ہے۔ عجیب بات ہے جب 1980ء کی دہائی میں ہم ایسے سیاہ بخت قرار پائے طالب علم یہ کہتے تھے کہ سوویت یونین کو توڑنے کی سازشیں در حقیقت طاقت کے توازن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے قدموں میں ڈالنے کا جہاد ہے تو پروفیسرکے اس وقت کے ہم خیال جان کو آتے تھے ۔ یہی وہ جہاد ہے جس نے پاکستان میں اس شدت پسندی کے بیج بوئے جس نے ہمارے 80ہزار کے قریب مرد و زن اور بچے نگل لئے۔دیر آید درست آید اس جہاد تاباں کے سہولت کار گھرانے سے ہی آواز تو بلند ہوئی۔ سچ تو بولا کسی نے۔ سچ یہی ہے کہ سوویت یونین کی موجودگی میں دنیا میں طاقت کا توازن قائم تھا۔ پورا سچ یہ ہے کہ صرف پاکستان نہیں پوری امت مسلمہ اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ دنیا میں آج جتنی بھی مسلم دہشت گرد تنظیمیں ہیں ساری جہاد افغانستان کے بطن سے نکلیں۔ وہی جنگجو جو کبھی مجاہدین تھے پھر دہشت گرد قرار پائے۔ ضیاء رجیم سے تو ٹونی بلیئر اچھا اس نے اپنے جرم پر مسلم دنیا اور عراق سے معافی تو مانگی۔ ہمارے یہاں ایسی کسی معافی کا رواج نہیں۔ بہت سال ہوئے ایران کے سفر کے دوران ایرانی ماہر تعلیم اور خارجہ امور پر مستند رائے رکھنے والے علی اصغر زادے سے نشست ہوئی۔ گفتگو طویل ہو رہی تھی کہ اصغر زادے بولے۔ برادر سید جانتے ہو تم پاکستانیوں کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ عرض کیا آپ روشنی ڈالیں۔ انہوں نے کہا ’’ اپنے پیروں پر کھڑا ہوئے بغیر اور اپنی ترجیحات کا تعین کئے بغیر دنیا کے پھڈوں میں پڑنا۔ پاکستان کے لوگوں کو علم‘ ترقی اور اخوت جیسی اہم چیزوں پر توجہ دینا چاہئے لیکن اس کے لئے امریکی کیمپ سے نکلنا ضروری ہے۔‘‘ علی اصغر زادے آج اچانک پروفیسر احسن اقبال کے اعتراف پر یاد آ ئے۔ کاش کوئی ہمارے پالیسی سازوں اور مالکوں کو سمجھائے کہ ہمیں علم‘ اخوت اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دینا ہے۔ عذاب بہت سہہ لئے۔ مگر یہ کہے کون؟

یہ بھی پڑھئے:   بھٹو مرکربھی امرہوگیا اور مخالفین آج بھی شرمندہ ہیں

بشکریہ روزنامہ مشرق

Views All Time
Views All Time
319
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: