Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جمہوریت اور دستور کے دشمن سمجھتے کیوں نہیں

by دسمبر 6, 2017 کالم
جمہوریت اور دستور کے دشمن سمجھتے کیوں نہیں

سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کہتے ہیں ’’انہیں انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ پاکستان کو جمہوریت یا الیکشن کی نہیں بلکہ قومی حکومت کی ضرورت ہے تاکہ درپیش مسائل حل ہو سکیں ۔ ریاست کیلئے جمہوریت کو قربان کیا جاسکتا ہے۔‘‘ 1999ء میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر نے اور انقلاب واصلاحات کا سات نکاتی ایجنڈا دینے والے سابق فوجی آمر بجا طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست پر جمہوریت اور آئین کو قربان کیا جا سکتا ہے۔ یاد ماضی عذاب بھی ہوتا ہے مشرف کیلئے تو 1999ء سے اگست 2008ء کے درمیانی ماہ وسال، ’’رونق‘‘ بھرے تھے ان کا طوطی بولتا تھا، تب جرنیلی جمہوریت انہوں نے متعارف کروائی تھی اور اس کیلئے سند ریفرنڈم سے لی۔

دوسروں کی قسمتوں اور زندگیوں کا فیصلہ کرتے اس چوتھے فوجی آمر کو نظریہ ضرورت کے تحت آئین میں ترمیم کا حق پلیٹ میں رکھ کر عطا ء کیا گیا۔ اپنے9 سالہ دور میں انہوں نے کیا تیر مار لئے۔ کرپشن ختم کرنے آئے تھے۔ ق لیگ کے نام سے بھان متی کا کنبہ جوڑا۔ پیپلز پارٹی میں سے محب وطن تراش کر نکالے۔ میجر جنرل احتشام ضمیر کے توسط سے ایم ایم اے بنوائی۔ ہم سے طالب علم محبت سے اسے ملا ملٹری الائنس کہا کرتے تھے۔ ایم ایم اے نے 2002ء کے انتخابات میں پشتون مسلم ولی کا چورن بیچا پھر بھی اگر ’’سرکار‘‘ کی مدد نہ ملتی تو وہی چند نشستیں ہونی تھیں جو جماعت اور جے یو آئی (ف) کی پشتون دیہی علاقوں سے ہوتی ہیں ۔ جب خود پر اپنی کرنیوں کا حساب دینے کا وقت آیا تو پتلی گلی سے نکال لے جائے گئے۔ اختیارات سے تجاوز، کرپشن، نواب اکبر بگٹی اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل کے علاوہ درجنوں داغ ان صاحب کے دامن پر ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ دستور ہوگا تو نظام بھی اور نظام میں قانون تو ہوتا ہی ہے اس طرح وہ جب بھی وطن آئیں گے نصف درجن سے زیادہ مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر آج بھی اکتوبر 1999ء میں رہ رہے ہیں جب ان کے ماتحت جرنیلوں نے ان کی سری لنکا روانگی سے قبل طے پانیوالے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے نون لیگ، کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار ان کو پیش کر دیا تھا۔ اب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی آگے بڑھے جمہوریت اور دستور کو روند کر ایک تاریک شب مسلط کرے تاکہ رات کی تاریکی میں وہ جہاز سے اتریں اور چک شہزاد والے محل میں براجمان ہوں۔وہ خواب بہت دیکھتے ہیں اور شام ڈھلتے ہی دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اپنی کرپشن کو وہ مرحوم شاہ عبداللہ سے ملا تحفہ قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں اُنہوں نے مجھ سے پوچھا، میرا بھائی لندن میں کہاں رہے گا؟۔ جہاندیدہ شاہ نے میری خاموشی سے جان لیا کہ خالی جیب ہوں اور پھر انہوں نے ایک بریف کیس عنایت کیا یہ ایک بھائی کا دوسرے بھائی کو تحفہ تھا۔ بیرون ملک بھائی بھی اس ملک کے حکمرانوں کو لمبے لمبے ہاتھ کر کے ملتے ہیں۔ ترس آتا ہے ان کی عدم بلوغت پر کیسے منہ پھاڑ کے کہہ دیا۔ ریاست پر جمہوریت اور دستور قربان کئے جا سکتے ہیں۔ کیوں جناب، کس خوشی میں۔ یہ ملک کسی لشکر کی فتوحات کا نتیجہ نہیں۔ دیگر عوامل کے ساتھ ایک عدد پرامن جدوجہد بھی اس کے قیام کی وجوہات میں شامل ہے۔ جناح صاحب رائل آرمی کے جنرل ہرگز نہیں تھے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر تھے۔ یہ ملک متحدہ ہندوستان کے بٹوارے پر قائم ہوا، قیام کی وجوہات پر بحث ہمارے پیش نظر نہیں البتہ یہ طے ہے کہ جناح صاحب ایک صاف ستھرے پارلیمانی نظام اور سیکولر سماج کے حامی تھے۔

پچھلے 70 برسوں کے دوران سینکڑوں زمین زادے جمہوری نظام کے قیام پر بھی قربان ہوئے ہزاروں نے جیلیں بھگتیں۔ کوڑے کھائے۔ جمہوریت اور دستور اتنے ہی برے ہیں تو خود انہوں نے سوانگ کیوں رچایا، بادشاہت قائم کر لیتے۔ نجی لشکر کے مالک تو وہ تھے اسی نجی لشکر نے 12مئی  کو کراچی کی سڑکوں پر 60 زندہ انسانوں کی جان لے لی تھی اور بارہ مئی کی شام وہ 21 کروڑ لوگوں کو مکہ دکھاتے ہوئے پوچھ رہے تھے دیکھیں میری طاقت؟۔ فقیر راحموں کہتے ہیں شام ڈھلتے ہی خواب بننے والی عادت نے ہمارے ممدوح کی صحت کو چاٹ لیا ہے۔ ویسے کڑوا سچ یہ ہے کہ کوئی فہمیدہ شخص ہی جمہوریت اور دستور کے بغیر ریاست کا تصور پیش کر سکتا ہے۔ اچھا ویسے یہ مرض فقط انہیں ہی لاحق نہیں دانش کے دوسرے بہت سارے جگاڑو پچھلے کئی برسوں سے شام کے اوقات میں ٹی وی چینلوں پر بیٹھے کاٹھی اردو میں جمہوریت کے لتے لے رہے ہوتے ہیں۔ جنرل مشرف سمیت ان سارے جگاڑوؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دستور اور جمہوریت ہی وہ چیزیں ہیں جو اس کثیر القومی ملک کو یکجا رکھ سکتے ہیں۔ 1973ء کا دستور درحقیقت اکھٹے رہنے کا معاہدہ ہے۔ جمہوریت اسی دستور کی عطا ہے۔ بجا کہ بالادست طبقات نے اس ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت قائم نہیں ہونے دی مگر بالادست طبقات اور اداروں کے ’’فیض عام‘‘ کی سزا عوام کیوں بھگتیں۔ پھر کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ دستور اور نظام کے بغیر ریاست کیلئے وجود قائم رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ تلوار کی دھار یا بندوق سے نکلے بارود پر ریاستیں کب قائم رہیں؟۔ یہ ملک پہلے ہی بحرانوں سے دوچار ہے فی الوقت اگر اسے 10مسئلوں کا سامنا ہے تو ان میں سے آٹھ خود جنرل مشرف کے پیدا کردہ ہیں۔بزرگ کہا کرتے تھے انسان کو کلام کرنے سے پہلے سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہئے۔ جناب مشرف اب بزرگوں کی صف میں شامل ہیں وہ کیوں مجبور کرتے ہیں کہ کہا جائے کہ سترے بہترے کی باتیں ہیں یہ؟۔

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
142
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. جنرل پرویز کے مضحکہ خیز بیان بڑ ا جاندار اور منہ توڑ جواب
    جیتے رہیں سیدی

جواب دیجئے

%d bloggers like this: