سقوطِ مشرقی پاکستان۔۔۔ تاریخ پر مٹی پاؤ پروگرام کب تک؟ – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

جس سماج میں ہم اور آپ رہتے ہیں یہاں تاریخ اور سانحات سے سبق سیکھنے کا رواج نہیں۔ الٹا چلن یہ ہے کہ تاریخ کے پسندیدہ اوراق سے مطلب کی ادھوری بات نکال کر اس کی بھد اڑاتے ہیں۔ یہ رویہ ظاہر ہے راتوں رات تو بنا نہیں مہینوں یا سالوں کی نہیں بلکہ صدیوں کی محنت سے بنا ہے۔ اس فہم کو پروان چڑھانے والوں کا مقصد فقط یہی تھا کہ زمین زادے (عوام) پورے سچ سے کاملاً آگاہ نہ ہونے پائیں تاکہ بالادست طبقات کا استحصالی نظام لوگوں پر مسلط رہے۔ دنیا ترقی کرگئی اس قدر کہ اس ترقی سے استفادہ کرنے کو تو ہم اپنا حق سمجھتے ہیں لیکن کیا مجال کہ دنیا کے ساتھ دو قدم ملا کر چلنے کی خواہش بھی کبھی کی ہو۔ کیا یہ فقط ہمارا المیہ ہے؟ طالب علم کا جواب یہ ہے کہ بدترین پسماندگی( سماجی’ فکری’ سیاسی’ معاشی اور سیاسی) کا شکار تقریباً ساری اقوام کا یہی حال ہے۔ لمبی چوڑی بحث میں سرکھپانے کی بجائے ایک سادہ سے سوال پر غور کرلیجئے۔

آج سولہ دسمبر  ہے۔ 45 سال قبل آج ہی کے دن پاکستان دو لخت ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ مگر کیا ہمارے یہاں کبھی کسی حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ یہ کوشش کی کہ سقوط مشرقی پاکستان کے بنیادی اسباب جاننے کے لئے ایک ایسا قومی کمیشن قائم کیا جائے جو اس سانحہ کے پس منظر کو سامنے لانے کے ساتھ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لئے کوئی ایسا بیانیہ بھی تحریر کرے جو رہنما اصول کے طور پر کام آئے؟ اگر آپ اس کے جواب میں محمود الرحمن کمیشن کا تذکرہ کریں گے تو یہ جان لیجئے کہ وہ محض ایک عدالتی تحقیقاتی کمیشن تھا۔ 1956ء کے ایکٹ آف انکوائری کے تحت قائم شدہ اس کا دائرہ اختیار محدود تھا۔ گو اس کمیشن نے محدود دائرہ اختیار کے باوجود خاصا کام کیا مگر وہ کیا ہوا۔ اصولی طور پر اس کمیشن کی رپورٹ سے عوام کو آگاہ کیا جانا چاہئے تھا اور اس کی روشنی میں وہ قومی کمیشن قائم کیا جانا چاہئے تھا جس کی ضرورت کی طرف بالائی سطور میں توجہ دلائی۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ 45سال گزرنے کے باوجود اس ملک کے لوگ پاکستان کے دو لخت ہونے کی بنیادی وجوہات’ ذمہ داروں اور دیگر معاملات سے آگاہ نہیں ہو پائے۔ محمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ با ضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی۔ بعض حلقوں نے ایک خاص فکر کے ساتھ تواتر کے ساتھ پروپیگنڈا کیا جس سے اس دور کے رجعت پسندوں کا منفی کردار تو چھپ گیا مگر مجموعی تاثر یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار اولاً تو قوم پرست بنگالی تھے یا پھر ذوالفقار علی بھٹو۔

بھٹو صاحب کے حوالے سے اٹھائے گئے پروپیگنڈے کے طوفان کے اثرات آج بھی پاکستانی سیاست میں صاف محسوس ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے زمینی اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے والے اس پروپیگنڈے کے پیچھے وہی قوتیں تھیں اور ہیں جو سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی چاہتی ہیں۔ سو آج بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ نئی نسل کو اس وقت کی سیاسی و عسکری’ مذہبی قیادت’ سول بیورو کریسی کے کردار کے ساتھ ون یونٹ کی تلوار سے 57فیصد آبادی والے مشرقی پاکستان اور 43 فیصد آبادی والے مغربی پاکستان کو ملکی وسائل میں مساوی حصہ دار قرار دینے کا اصول لکھنے والوں کے چہروں سے روشناس کروایا جائے ۔ نئی نسل کا یہ حق ہے کہ وہ یہ جان پائے کہ کس طرح آبادی میں 57 فیصد ہونے کے باوجود بنگالیوں کو وفاقی محکموں میں مساوی اصول کے مطابق بھی نمائندگی نہ ملی اور دیگر معاملات میں بھی ان سے شودروں جیسا سلوک ہوا۔ ان مسلح تنظیموں کے خالقوں بارے آگاہی بھی آج کی نسل کا حق ہے جن کے کردار نے مکتی باہنی کے قیام کی راہ ہموار کی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آپ کسی قوم کی صدیوں پر پھیلی تاریخ’ ثقافت’ قومی شناخت اور زبان کی حیثیت سے انکار کریں بلکہ حقارت آمیز رویہ اپنائیں گے تو پھر جنم لینے والے رد عمل کے نتیجے کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔ یہاں اس کے برعکس ہوا اب بھی ویسی ہی صورتحال ہے۔ مثال کے طور پر سی پیک منصوبے پر چھوٹے صوبوں کے تحفظات اور سوالات کا جواب دینے کی بجائے فتوئوں کی چاند ماری کی جاتی ہے۔

ہماری نئی نسل میں سے بہت کم کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے 1906ء میں ڈھاکہ میں جنم لیا تھا۔ تقسیم بنگال اور پھر قیام پاکستان کی تحریک میں بنگالی مسلمان ہر اول دستہ تھے۔ قیام پاکستان کے حق میں سب سے پہلی قرارداد سندھ اسمبلی نے منظور کی جو جی ایم سید نے پیش کی تھی۔مکرر عرض ہے آج کے حالات میں دو باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اولاً یہ کہ ایک آزاد و خود مختار کمیشن سقوط مشرقی پاکستان کی وجوہات کے تعین اور مستقبل کے لئے رہنما اصول وضع کرے گا ثانیاً یہ کہ 1973ء کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیڈریشن کی اکائیوں کے سیاسی و معاشی حقوق کے تحفظ کو مزید یقینی بنانے کے لئے موثر قانون سازی کی جائے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ فی الوقت فیڈریشن کی اکائیوں کے درمیان بد اعتمادی کی خلیج بہت وسیع ہے۔ چھوٹے صوبوں کی شکایات دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے بعض معاملات کا ملبہ ہم لاکھ بیرونی قوتوں اور سازشی تھیوری پر ڈالیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ درون پردہ کچھ اور ہے اور کہانیاں کچھ اور سنائی جا رہی ہیں۔ سقوط مشرقی پاکستان کی اصل وجہ غیر مساویانہ پالیسیاں اور مغربی پاکستان کی بالادست اشرافیہ کا استحصالی طرز عمل تھا۔ لاکھ پردے ڈالے جائیں یا ذوالفقار علی بھٹو پر انگلیاں اٹھائی جائیں اس سے تاریخ کے سچ پر مٹی نہیں ڈالی جاسکتی۔ بھٹو اگر سقوط مشرقی پاکستان کے ایک فیصد بھی ذمہ دار ہوتے تو ان کے جانی دشمن انہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی چڑھانے کی بجائے دوسرا راستہ اختیار کرتے۔ حرف آخر یہ ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور اس امر کی ضرورت بھی ہے کہ ان پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو پھر کسی سقوط کا دروازہ کھول دیں۔

بشکریہ: روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
958
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سرمایے کا کھیل -خورشید ندیم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: