جمہوریت اور فقط جمہوریت | حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

سوال ہوا کیا فقط سیاستدان ہی کرپٹ ہیں اور باقی کے سارے شعبوں میں فرشتے ہیں۔ آخر کیوں ایک منظم انداز میں لوگوں کو اپنے حق رائے دہی سے متنفر کیا جا رہا ہے؟ عرض کیا یہ فقط آج کا مسئلہ نہیں اکتوبر1958ء سے جب جنرل ایوب خان نے جو اس وقت صدر سکندر مرزا کی کابینہ میں وزیر دفاع تھے حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تو ان کی حکومت نے بھی سیاسی عمل کو ٹارگٹ کیا مگر کچھ عرصہ بعد انہوں نے اپنے گملوں میں اگی فصل کو سیاستدانوں کے طور پر متعارف و مسلط کردیا۔ چار میں تین فوجی حکومتوں نے منظم انداز میں جمہوری نظام ( حالانکہ وہ جمہوری نہیں طبقاتی نظام تھے) کو گالی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر اس ساری ہا ہا کاری کے باوجود جمہوریت پسند زمین زادے توانائی کے ساتھ میدان میں اترے اور قربانیوں کی شاندار تاریخ رقم کی۔ البتہ ہمیں کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ جمہوریت پسند زمین زادوں کی قربانیوں کاثمر طبقاتی نظام کے مجاوروں نے پایا۔ زمین زادوں کا آج بھی وہی حال ہے ۔ بقول حبیب جالب مرحوم
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
آگے بڑھنے سے قبل یہ بتا دوں کہ سوال جواب بلکہ یوں کہیں کہ مکالمے کی یہ نشست چند دن ادھر میرے جنم شہر ملتان میں منعقد ہوئی ۔اس مختصر سی مجلس مکالمہ میں جو لگ بھگ ساڑھے سات گھنٹے تک جاری رہی قانون دانوں، سرکاری ملازمت اور کاروبار سے وابستہ درد دستور و جمہوریت رکھنے والے احباب شریک تھے۔ ساجد رضا تھہیم اور محسن خان قانون دان ہیں۔ طارق شیراز سارا دن اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھے رہتے ہیں۔ ملک خاور حسین بھٹہ اور عزیزم کاشف حسین کاروبار کرتے ہیں۔ ان سب میں قدر مشترک ان کی ترقی پسندانہ سوچ ہے۔ جنم شہر میں حالیہ حاضری ان دوستوں کے حکم پر ہوئی۔ کیا خوب نتھری سوچ اور روایات کے امین لوگ ہیں۔ ہم ساروں نے سات ساڑھے سات گھنٹے دنیا بھر کے موضوعات پر بات کی مگر اس مکالمے کی نشست کے زیادہ حصے میں پاکستان، تاریخ، سیاست، جمہوریت کو لاحق خطرات اور ان سے منسلک موضوعات پر اٹھائے گئے سوالوں کے جواب میں مطالعہ اور مشاہدہ کی مدد سے سبھی نے ایک دوسرے سے سوال کئے۔ میرے ان دوستوں کا مجھ پر ایک اعتراض یہ تھا کہ بڑی شد و مد کے ساتھ میں بھی سیاستدانوں کی کرپشن پر بات کرتا ہوں کیا اس ملک کا سب سے اہم بلکہ نمبر ون مسئلہ یہی ہے؟ عرض کیا، جی نہیں کرپشن ایک مسئلہ اور سنگین مسئلہ ہے مگر اصل گھٹالہ یہ ہے کہ دستور میں طے شدہ حدود کا ادارے احترام نہیں کرتے۔ بد قسمتی سے جمہوریت کے نام پر اقتدار میں آنے والے جمہور کے مفادات کے تحفظ اور ان کا اجتماعی ضمیر بننے کی بجائے طبقاتی نظام کے محافظ بن جاتے ہیں۔ خرابی یہیں سے پیدا ہوتی ہے۔
ہمیں بنیادی مسائل سمجھنا ہوں گے ، غربت کے خاتمے، تعلیم کو عام کرنے اور طبی سہولتوں کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔ پہلے تعلیم کو کاروبار بنا دیاگیا اور یہ تعلیمی تاجر میڈیا میں پیرا شوٹرز کی طرح نازل ہوئے ۔آزادی صحافت ہائی جیک ہوگئی۔ اب سرکار ہسپتالوں کی نجکاری کر رہی ہے۔ سیاسی کارکنوں کی جگہ ٹھیکیدار اور ملازمین لے چکے ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں حب الوطنی اور کرپشن کا سودا بیچا جا رہا ہے۔ صحافتی طرم خانوں کے پر جلتے ہیں کسی بھی دوسرے ادارے کی کرپشن بارے بات کرتے ہوئے۔ امن و امان کو متاثر کرنے والوں کی ریاستی سر پرستی کا آج بھی دور دورہ ہے۔ اچھا ان حالات سے نبرد آزما کیسے ہواجائے؟ اس سوال کے جواب میں عرض کیا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ قومی جمہوریت کے قیام کے لئے جس پر عزم اور لمبی جدوجہد کی ضرورت ہے اس کے لئے جمہوری اقدار سے حقیقی معنوں میں روشناس نسل موجود نہیں۔ ایک سازش کے تحت نئی نسل کو گالم گلوچ کی سیاست پر لگا دیاگیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے بڑے شہروں میں ایسے فورم ہوں جو جمہوری اقدار کی ترویج اور نئی نسل کی فکری تربیت کے لئے کردار ادا کریں۔ جمہوریت خاندانی ملازمین اور سیاسی ہاریوں کے ذریعے نہیں سیاسی کارکنوں کے ذریعے آتی ہے۔ اس ملک میں بد قسمتی سے سیاسی کارکن سازی کا کلچر ختم ہوگیا ہے۔ اسے زندہ کرنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ احتساب کا ایک ایسا ادارہ جو بلا امتیاز سب کا احتساب کرے اور کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں شخص کا احتساب ہمارا داخلی معاملہ ہے۔ قانون کی عملداری میں توازن اور بلا امتیاز انصاف ان دو کے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں۔ ہمیں پارلیمان میں موجود تمام جماعتوں سے سوال کرنا ہوگا کہ انتخابی عمل کو مہنگا ترین بنانے کی سازش میں آپ کیوں شریک ہوئے۔ کیوں آپ نے معاشرے کے عام طبقات کے لوگوں پر اسمبلیوں میں پہنچنے کی راہ کھوٹی کی۔ مجھ سے طالب علم کا ایمان اس بات پر ہے کہ یہ پانچ قوموں کی فیڈریشن والا ملک ہے ۔ اس لئے اگر سماجی و معاشی انصاف اور حقیقی جمہوریت سے انحراف جاری رہا تو خطرات بڑھتے چلے جائیں گے۔ ان سب سے پہلے تمام طبقات اور اداروں کو دستور میں دئیے گئے حقوق اور کردار کی حدود پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا،۔ ماورائے دستور کردار کی خواہش اور اسے کسی قسم کے پروپیگنڈے کا "چوگ” بنانے سے نقصان ہوگا۔ جمہوریت ہی اس ملک کو محفوظ مستقبل دے سکتی ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کتنی ہے؟ اس نشست کی خوبصورتی یہ تھی کہ ہم سبھی نے ایک دوسرے کے سوال اور جواب تحمل سے سنے۔ حرف آخر یہ ہے کہ جمہوریت اور فقط جمہوریت ہی ہماری آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔ ایڈونچروں کا وقت گزر گیا اور اب ایڈونچر سانحوں کو جنم دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایران کے بارہویں صدارتی انتخابات | نادر بلوچ

بشکریہ روزنامہ مشرق پشاور

 

Views All Time
Views All Time
548
Views Today
Views Today
3

One thought on “جمہوریت اور فقط جمہوریت | حیدر جاوید سید

  • 01/11/2017 at 12:20 شام
    Permalink

    بیشک مہم جوئی کا دوراب رھا نہیں۔ زبردست محاکمہ کیا ھے۔ سلامت رہیں ، سیدی

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: