Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

تین عشروں کی افغان پالیسی کی مختصر کہانی | حیدرجاویدسید 

by اکتوبر 20, 2017 کالم
تین عشروں کی افغان پالیسی کی مختصر کہانی | حیدرجاویدسید 
Print Friendly, PDF & Email

پاک افغان سرحدی علاقوں میں سوموار اور منگل کو ہونے والے ڈرون حملوں میں ٹی ٹی پی ‘ جماعت الاحرار’ حقانی گروپ اور چند دوسرے کالعدم گروپوں کے 50سے زیادہ افراد مارے گئے۔ بدھ کی صبح پاکستانی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے خود کش کار حملے میں 5پولیس اہلکار اور 2شہری شہید ہوئے جبکہ 24سے زیادہ زخمی۔ آئی ایس پی آر نے تصدیق کی ہے کہ امریکیوں نے پاک افغان سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں کے حوالے سے پیشگی اعتماد میں لیا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے غیر نیٹو اتحادی کی حیثیت سے پاکستان کی قربانیاں اور نقصانات کا سارا عالم معترف ہے۔ امریکی اقرار و انکار کی مالا جپتے رہنے کے ساتھ ڈو مور کا ہوکا دیتے رہتے ہیں۔ پچھلے تین عشروں کی تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے حساب دوستاں سارا ان اوراق پر رقم ہے۔ امریکیوں نے افغان انقلاب ثور کے بعد سوویت یونین کی گرم پانیوں تک رسائی کا ہوا کھڑا کیا تو ہمارے تیسرے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق سوویت یونین کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو لے کر کود گئے۔ سی آئی اے نے مصر’ سوڈان’ سعودی عرب’ الجزائر اور اردن وغیرہ سے جہادیوں کے جہاز بھرے اور انہیں براستہ پاکستان افغان میدان جنگ میں اتار دیا۔ 1980ء کی دہائی کا پاکستان عالمی جہادیوں کی زرخیز منڈی بنا ہوا تھا اس جنگ میں پاکستانی ریاست کے نظریہ ساز اور ہمنوا بھی شوق سے کودے۔ بچے غریبوں کے مرے اور چند سالوں میں بہت سارے لوگ اربوں پتی بھی ہوئے اور عرب پتی بھی۔ ” افغان جہاد” کے دنوں میں ہی ایک امریکی جریدے نے دنیا کے 7مالدار ترین جرنیلوں کی فہرست شائع کی الحمدللہ اس میں سے تین کا تعلق پاکستان سے تھا۔ ایک جنرل تو اس وقت صوبہ سرحد (اب خیبر پختونخوا) کے گورنر بھی تھے دوسرے اختر عبدالرحمن تھے تیسرے کا اسم گرامی یاد آتے ہی عرض کردوں گا۔ ان جہادی رہنمائوں کی تعداد درجنوں سے بھی زیادہ ہے جو ڈالروں اور مال غنیمت کی وجہ سے ککھ پتی سے کروڑ پتی ہوئے۔ ان دنوں ہمارے ملک میں عطائی حکیموں کی طرح جہادی تنظیمیں بھی باقاعدہ دیواروں پر اشتہارات لکھواتی اور رابطہ کے لئے ایڈریس اور فون نمبر بھی دیتی تھیں۔ امریکیوں کے افغانستان سے نکلتے ہی نئی صف بندی ہوئی۔ بہت سارے مجاہدین اسلام وار لارڈ بن گئے۔ کچھ نے منشیات کا کاروبار شروع کردیا اور کچھ اغواء برائے تاوان کا بزنس کرنے لگے۔ ہمارے چوتھے فوجی آمر جنرل مشرف کی تشریف آوری سے قبل افغانستان پر طالبان حکمران تھے۔ طالبان کا ظہور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار میں ہوا۔ جنرل بابر اس کا کریڈٹ لیتے رہے مگر جن قوتوں نے طالبان کو منظم کیا تھا وہ وہی تھیں جنہوں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دے کر انہیں کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔ 9/11 پرویز مشرف کے دور میں ہی ہوا انہوں نے ہزار زاوئیے کی الٹی زقند بھری۔ کل کے مجاہدین دہشت گرد قرار پائے۔ ایک ٹیلی فون کال پر ہماری افغان پالیسی تبدیل ہوگئی حالانکہ چند دن کے تحمل اور صبر سے امریکیوں سے اپنی شرائط منوائی جاسکتی تھیں جیسی کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے وقت مصر نے امریکہ سے منوائی تھیں۔ مشرف چونکہ عقل کل تھے انہوں نے بھی جنرل ضیاء کی طرح تنہا فیصلہ کیا۔ نتائج ہم سب کے سامنے ہیں۔ پچھلے تین عشروں کی افغان پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات کے اتار چڑھائو دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کسی بھی لمحے ریاست پاکستان کے مفادات کو مد نظر نہیں رکھا گیا۔
دونوں فوجی آمروں اور 1988ء سے 1999ء کے درمیانی سالوں کی لولی لنگڑی جمہوری حکومتوں نے بھی گروہی مفادات کو مقدم سمجھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت جنرل پرویز مشرف نے عطا فرمائی۔ امریکی ڈرون حملوں اور افغانستان میں 9/11 کے بعد امریکہ کے دوسری بار ورود کی سزا اہل پاکستان نے بھگتی اور اب تک بھگت رہے ہیں۔ تین عشروں کے دوران دہشت گردی کے واقعات 70ہزار کے قریب پاکستانیوں کو نگل گئے۔ انسداد دہشت گردی کی مہم میں 5سے 7ہزار سیکورٹی فورسز کے اہلکاران بھی قربان ہوئے۔ معیشت کے نقصان نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج بھی کچھ واضح نہیں ہے افراد کی پالیسیوں کا جو خمیازہ پاکستان اور اہل پاکستان بھگت رہے ہیں یہ مزید کتنا عرصہ بھگتنا ہوگا؟ بہت ادب سے عرض کروں ہمیں ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنی افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی مگر اس کے ساتھ ساتھ گھر کے اندر بے رحم بھل صفائی بھی ضروری ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکی ایک طرف تو دہشت گردوں پر پاک افغان سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے کررہے ہیں مگر دوسری طرف افغانستان میں داعش کو پروان چڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ امریکیوں کے اس دوغلے پن کی نشاندہی سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی چند دن قبل کے انٹرویو ز میں کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری قیادت ( اگر ہے تو) کب ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسی خارجہ پالیسی وضع کرے گی جو افراد کے نہیں 22 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہو؟ معاف کیجئے گا بہت ہوگیا اس جنگی دلدل سے نکلنے کی حکمت عملی وضع کیجئے کہ ہمارے کاندھے تھک گئے ہیں پیاروں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے۔

یہ بھی پڑھئے:   خوف و ہراس کی فضاء-ڈاکٹر تصور حسین مرزا

بشکریہ: روزنامہ مشرق پشاور

Views All Time
Views All Time
178
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: