Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

اماں حضور‘ ملتان اور ملتانی | حیدر جاوید سید

by اکتوبر 18, 2017 کالم
اماں حضور‘ ملتان اور ملتانی | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

جنم شہر کی زیارت کے لئے سفر کے لمحوں میں عجیب کیفیت ہوتی ہے اور بچھڑنے کے لمحوں کی اپنی اذیت۔ ماہ دوماہ بعد ہردو سے گزرتا ہوں۔ روزگار کے غم نرالے ہیں۔ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی ہجرتوں کے ذائقے چکھتا رہتا ہے۔ سوموار کی صبح جب تربت مادرگرامی پر بوسے کے ساتھ آنسوؤں کا نذرانہ پیش کیا تو جی کچھ اور بے قرار ہوگیا۔ اپنے ہی جنم شہر میں اس سے پچھلے 16گھنٹے سے ایک مسافر کی طرح مقیم تھا۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ماؤں کی رحلت کا سانحہ المیہ تو ہے لیکن اس کے ساتھ بند ہونے والے دروازے بھی پھر نہیں کھل پاتے۔ بس ایک تربت مادر ہی وہ واحد جگہ ہوتی ہے جہاں اولاد اپنے دکھ سکھ پھرول سکتی ہے۔ ماں قبر میں سوتی کہاں ہے اولاد کے دل میں بستی رہتی ہے یہ ہستی۔ روزگار کے غم میں جنم شہر سے بچھڑے اس مسافر کو تو ملتان کے سفر کے لئے بہانہ چاہیے۔ دو تین سال ہوتے ہیں جب برادرم عامر حسینی نے ایک کالم میں لکھا تھا ”شاہ جب ملتان سے نکلتا ہے تو دور تک پیچھے مُڑ مُڑ کر دیکھتا رہتا ہے۔ کوئی آواز‘ کوئی واپسی کا اشارہ۔ پھر راواں بائی پاس کے موڑ پر ملتان کے سائے آنکھوں سے رم جھم شروع ہوجاتی ہے“۔ سچ یہ ہے کہ لمبی جدائیوں کے باوجود ملتان کے لئے اندر موجود الفت و محبت میں کمی نہیں ہوپائی۔ اب جبکہ کوئی دم آتا ہے اور دم جاتا ہے والی صورتحال ہے۔ ملتان ایسا محبوب بن گیا جس کی فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے بھی ساری تھکن دور ہوجاتی ہے۔ ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے ملتانی کہیں بھی چلا جائے اس کا ملتانی پناں نہیں جاتا۔ کیسے جائے۔ کرہ ارض پر کوئی اور شہر ہوتو ملتان جیسا۔ اس بے مثال شہر کی اپنی تاریخ ہے۔ 7ہزار برسوں سے کچھ اوپر کی تاریخ کے ادوار ہیں۔ جب کبھی کہیں دور سے سفر شروع ہوتا ہے تاریخ کی فلم چلنے لگتی ہے۔ راجہ پرہلاد کا دور بھی کیا شاندار دور تھا۔ عدل و انصاف‘ سماجی مساوات اور علم و دانش کا دوردورہ تھا۔ کیا بدقسمت لوگ ہیں ہم جنہوں نے پہلے تاریخ کو مذہب کی دہلیز پر ذبح کیا اور پھر مسلکوں کے کُند خنجر سے کھلڑی اتاری۔ اب صورت یہ ہے کہ تاریخ کا سر کہیں‘ دھڑ کہیں‘ کھال کہیں پڑی ہے۔ راجہ پرہلاد ملتانیوں کی معلوم تاریخ کا پہلا توحید پرست تھا۔ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ پر حضرت بہاءالدین زکریا ملتانیؒ کی خانقاہ راجہ پرہلاد کے قائم کردہ توحید پرستوں کے مدرسے کی تاریخی عمارت کے پہلو میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس خانقاہ کی رونق صدیوں سے قائم ہے پر ہائے افسوس مسلمانوں نے بابری مسجد کا کھاتہ بے باک کرنے کے لئے اس خطے کے اولین توحید پرستوں کی نشانی والی عمارت (اس عمارت کو اس کے طرزتعمیر کی وجہ سے مندر کہا سمجھا لکھا جاتا رہا) کو مندر کی باقیات سمجھ کر برباد کردیا۔ جس دن یہ المیہ ہوا فقیرراحموں نے خون کے آنسو روتے ہوئے کہا ”شاہ دیکھ لو اپنے اصل سے کٹے لوگ کس طرح تاریخ پر حملہ کرتے ہیں“۔

یہ بھی پڑھئے:   خواب نہ دکھائیں تعبیر دیجئے حضور! - حیدر جاوید سید

پانچ سات ہزار برس کے قریب کی عمر کے ملتان نے اَنگنت اتارچڑھاؤ دیکھے۔ اس شہر پر محض مسلکی اختلاف کی بناپر افغان حکمران محمود غزنوی کو حملہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ غزنوی ملتان پر حملہ آور ہوا تو اس نے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ گلیاں ملتانیوں کے لہو سے رنگین اور لاشوں سے بھر گئیں۔ نصف کے قریب شہر کو اس کے فوجیوں نے جلاکر راکھ کردیا۔ 30ہزار ملتانی مرد و زن اور بچے محمود غزنوی کا لشکر غلام بناکر ساتھ لے گیا۔ بیرونی حملہ آور کو ملتان تاراج کرنے کی دعوت دینے والے غداروں کی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے لیکن ملتان اور ملتانیوں کے نوحوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ اپنی تاریخ و تمدن‘ تہذیب‘ علم و دانش کے حوالے سے تاریخ میں نمایاں اس شہر سے تعلق نے ہمیشہ فخر عطا کیا۔ کیوں نہ عطاءہو‘ اس شہر کے لئے تو کسی شاعر نے کہا تھا ”یہ جنت اعلیٰ کے برابر کا مقام ہے قدم سنبھل سنبھل کر رکھ کہ یہاں فرشتے بھی سجدہ کرتے ہیں“۔ نسب کے رشتوں والی کئی نسلیں اور خود میرے والدین اس شہر کی مٹی میں آرام فرما رہے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ ملتان واقعتاً ایسا شہر ہے جس سے محبت کی جاسکے اور جسے محبوب کا درجہ دیا جاسکے۔ سیدی شاہ شمس سبزواریؒ اسی شہر کی مٹی میں آسودہ خاک ہیں۔ عربی اور فارسی کے قادرالکلام شاعر سیدی شاہ شمس سبزواریؒ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ آپ جب ملتان آئے تو دریا کی پرانی گزرگاہ (موجودہ سرکلر روڈ) کشتی کے ذریعہ عبور کرکے جناب بہاءالدین زکریاؒ سے ملاقات کے لئے پہنچے۔ جناب زکریاؒ نے ملاقاتی کو دودھ سے بھرا ہوا پیالہ بھجوایا۔ لے جانے والے خادم نے دیکھا مہمان نے دودھ پینے کے بجائے قریب لگے پھولوں میں سے ایک پھول توڑا اور دودھ کے پیالے میں رکھ دیا۔ خادم نے اندر جاکر حضرت کو ماجرا بیان کیا تو فرمایا ”پھول اور خوشبو کسی کے اختیار میں کب ہوئے“۔

ملتان کی مٹی پر پاؤں پاؤں چلنا سیکھا۔ اس شہر کا اولین سبق یہ تھاکہ سب معلوم ہے کا روگ پالنے کے بجائے معلوم کرنے کی جستجو آدمی کو زندہ رکھتی ہے۔ ایک کم ساٹھ برس اسی جستجو میں بیت گئے۔ طالب علم کی جستجو ختم نہیں ہوئی۔ ملتانی ہمیشہ سے نرم خُو ہوتے ہیں۔ دردمند دوسروں کے دکھوں کو اپنی ذات کا دکھ محسوس کرنے والے زمانوں نے بہت کروٹیں لیں ملتانی ویسے کے ویسے ہیں۔ مہمان نواز‘ علم دوست‘ محبت کرنے والے‘ موتیے کے پھولوں سے ملتانیوں کو عشق ہے۔ اب بھی اَنگنت ملتانی شام کو گھروں کی طرف جاتے ہوئے موتیے کے پھولوں کے ہار ضرور خریدتے اور گھر لے جاتے ہیں۔ بے حساب ملتانی موتیے کے پھول اپنی ماؤں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ کچھ گھر میں اپنی محبوب ذات کو۔ اماں جب تک زندہ تھیں ان کی قدم بوسی کے لئے ملتان پہنچتا تو موتیے کے پھول ضرور لے کر جاتا۔ اب جب بھی ان کی تربت کو بوسہ دینے کے لئے حاضر ہوتا ہوں تو موتیے کے پھولوں والے ہار ان کی تربت پر عقیدت کے ساتھ رکھ دیتا ہوں۔ فقیرراحموں سوموار کی صبح تربت مادرگرامی پر کہہ رہے تھے کہ ”ماں نعمت دین و دنیا اور وسیلہ اذنِ بارگاہ ہادی اکبر نورمجسم حضرت محمد مصطفی ہے“۔ لاریب اس پر دوآراءہیں ہی نہیں۔ آقائے دوجہاںﷺ کی ذاتِ اقدس سے پہلا تعارف نم آنکھوں سے اماں نے ہی کروایا تھا۔ کملی والے آقا کہنا اور کہتے وقت احترام سے سر جھکا لینا۔ یہ اماں کا پہلا سبق تھا۔ پہلا سبق اور ممتا کی محبت کب آدمی بھول پاتا ہے۔ یہ سطور لکھ رہا تھا تو میرے بھانجے سید آصف بخاری نے ٹیلیفون پر شکوہ کیا۔ ماموں ملتان آئے اور مل کر نہیں گئے۔ دو بار ماں کہتے ہیں تو ماماں مکمل ہوتا ہے۔ بہت محبت بھرے رشتے ملتان میں ہیں دوست بھی اور نسبی رشتے بھی یاد آتے ہیں تو سب کی صحت و سلامتی کے لئے دستِ دعا بلند کئے دیتا ہوں۔ اماں کہا کرتی ہیں میرے بچے دوست نوازی اور دعاؤں میں بخیلی کبھی نہ کرنا۔ اب بھلا اماں کے حکم سے انحراف کا کفر کون کمائے۔ مجھ غریب الوطن کے دوست ہی تو زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ دوستوں کو اﷲ رب العزت سکھ‘ سلامتی کے ساتھ رکھے۔ ان کے دم سے زندگی میں بہت رونق ہے۔ سیدی و آقائی سید ابوالحسن امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ”غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو“۔ مولا کا یہ ارشاد جب بھی یادیں تازہ کرتا ہے تو اپنی خوش نصیبی پر فخر ہونے لگتا ہے۔ میرے دوستوں نے زندگی کے آڑے لمحوں میں جس استقامت سے ساتھ دیا اور رہنمائی کی اس پر ہمیشہ شکرگزاری کے جذبات پاتا ہوں اپنے اندر۔ سوموار کی صبح تربتِ مادرگرامی پر قرآن مجید کی تلاوت اور حالِ دل بیان کرچکا تو اماں کہہ رہی تھیں ”میرے بچے زمانے کی سختیوں اور کج ادائیوں سے گھبرایا نہیں کرتے۔ امتحان ہمیشہ فضیلت کے مساوی ہوتا ہے کم یا زیادہ نہیں“۔ نم آنکھوں کے ساتھ الوداعی بوسہ دے کر جنم شہر سے رخصت کی اجازت طلب کی اور الٹے قدموں قبرستان سے باہر آگیا۔

یہ بھی پڑھئے:   پیر افضل قادری کس کے ایجنڈے پہ کام کررہے ہیں؟ - کرن سنگھ

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
321
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: