Oops! It appears that you have disabled your Javascript. In order for you to see this page as it is meant to appear, we ask that you please re-enable your Javascript!

تخت یا تختہ کے کھیل کی شروعات | حیدرجاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

لاہور میں اسلام آباد سے بذریعہ موٹروے آنے والی اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 3سال کیلئے ٹیکنو کریٹ اور قومی حکومت کیلئے صلاح مشورے ہورہے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی جمعہ کے روز کہا کہ ”ٹیکنوکریٹ یا غیرجمہوری حکومت نے ملک کو کبھی فائدہ نہیں پہنچایا“ مطلب یہ کہ کھسرپھر ان کے کانوں تک بھی پہنچی ہے۔ دوسری طرف جمعہ کو اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت نے سابق نااہل وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم اور داماد اعظم کی پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں اور وکلاءنے جو ہنگامہ آرائی کی اور جس طرح کمرہ عدالت کو گوالمنڈی چوک بنایا اس سے 1990ءکی دہائی کا وہ دن یاد آگیا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب سید سجاد علی شاہ کی عدالت کو موچی دروازہ بنادیا گیا تھا اور وہ جان بچانے کیلئے کمرہ عدالت سے ننگے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہوئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعہ کو احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کے دوران پنجاب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خاور بھٹی نے ایک پولیس افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ منظر ٹی وی چینلز کے لاکھوں ناظرین نے براہ راست دیکھا۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ اسلام آباد سے لاہور براستہ موٹروے جو خبریں آرہی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے مریم نوازکی تخت یا تختہ والی حکمت عملی پر پوری قوت سے عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جمعہ کا واقعہ محض ایک تفریحی ٹریلر تھا۔ فلم ابھی باقی ہے میرے دوستو! ضمنی سوال میں اپنے بلوچ قوم پرست دوست اوید نصیر بگٹی کا ذکر کرتا ہوں جنہوں نے احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کے لائیو مناظر دیکھتے ہوئے ٹیلیفون پر سات سمندر پار سے یاد کرتے ہوئے دریافت کیا۔ شاہ جی! اگر احتساب عدالت میں ہنگامہ آرائی کسی چھوٹے صوبے کے لیڈر کے حامیوں کی ہوتی اور پولیس افسر کو کسی بلوچ‘ سندھی‘ سرائیکی یا پشتون و مہاجر نے تھپڑ مارا ہوتا تو اس صورت میں بھی قانون دم دباکر پتلی گلی میں تماشا دیکھتا رہتا؟

یقین کیجئے پچھلے چوبیس گھنٹوں سے اوید نصیر بگٹی کا سوال دماغ پر ہتھوڑا بن کر برس رہا ہے۔ اس نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا پنجاب کے لیڈر اور اس کے کارکنوں کو حق حاصل ہے کہ وہ عدالتوں میں ہنگامہ کریں۔ فوج‘ ججوں اور جس کو دل کرے برا بھلا کہیں اور باقیوں کو صرف سوال کرنے کا حق بھی نہیں‘ یہ کیسا انصاف ہے۔ اوید کے سوالوں میں چھپی تلخی کو نظرانداز کیجئے البتہ سوالوں پر غور کرتے ہوئے جواب ضرور تلاش کیجئے۔ میں اپنے دوست سے کروڑ فیصد متفق ہوں کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے یا پھر سب کو کامل آزادی۔ المیہ یہی ہے کہ میڈ اِن پاکستان قائداعظم ثانی میاں نوازشریف کی قیادت نے پاکستان کو جس مقام پر لاکھڑا کیا ہے اس سے زیادہ برا مقام اور کوئی نہیں۔ بے ہنگم قرضے ہیں‘ افراتفری ہے‘ لاقانونیت‘ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ آس پڑوس کے معاملات بھی درست نہیں۔ ان کے برادر خورد کو عمران فوبیا ہوچکا۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے کرپشن نہیں کی تو کھلے دل سے عدالتی عمل کا سامنا کریں۔ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ان کے ساتھ سپریم کورٹ نے رعایت کی اور مالی بددیانتی کے معاملات متعلقہ عدالت میں بھیج دیئے تاکہ ان کے پاس اپیل کا حق رہے؟ ایسا لگتا ہے انہیں ایسے ججز چاہئیں جو حق نمک ادا کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر انصاف کریں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہی عدالتیں اگر لیگیوں کے مخالفین کے خلاف فیصلے دیں تو انصاف کا جھنڈا بلند ہوتا ہے مگر فیصلہ شریف خاندان کے خلاف ہو تو عوام کے حق حکمرانی کی توہین قرار پاتا ہے۔ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد سے جو فضا شریف خاندان اپنے ملازمین اور وفاداروں کے ذریعے بنارہا ہے وہ کس کے مفاد میں ہے؟ لاریب متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے الگ ریاست کے قیام کیلئے جو جدوجہد کی تھی اس کا مقصد جمہوری نظام اور فلاحی مملکت تھا۔ پچھلے 70برسوں میں جمہوریت کتنی پروان چڑھی اور فلاحی مملکت کے خواب کا کیا حشر ہوا اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں البتہ دو انتہاؤں میں بٹے سماج کا ایک حصہ سیاستدانوں کو اور دوسرا طالع آزما ؤں کو مایوس کن صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ بہت ادب سے عرض کروں یہ طالب علم ہر دو طبقات کو صورتحال کا مساوی ذمہ دار سمجھتا ہے۔ ویسے ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ حقیقی سیاسی قیادت کو ہماری بالادست اشرافیہ نے عالمی سامراج کی خدمت کے جذبے سے جلسہ گاہ‘ پھانسی گھاٹ اور سڑک پر مروایا۔ کوئی بیروت کے ہوٹل میں مردہ پایا گیا اور کسی کو ذلیل کرکے اقتدار سے نکالا۔ متبادل قیادت کے طور پر گھگو گھوڑے قائدین کے طور پر اشرافیہ نے پیش کئے وہ بھی اقتدار کے ایوانوں کی روشنیوں میں ایسے گم ہوئے کہ پھر اصل مالکوں کے گلے پڑنے لگے۔ جناب نوازشریف کا بت تراشنے والوں نے پھر بہت ملال کیا مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ 70سال سے اس ملک کے ساتھ تجربات کا کھلواڑ ہورہا ہے۔ آدھا ملک تجربوں کی بھینٹ چڑھ گیا لیکن یہاں کوئی بھی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ دو مارشل لاؤں کے درمیان طبقاتی نظام کو بطور جمہوریت عوام کے گلے ڈالنے والے اصل میں جمہور پرستوں کی راہ کھوٹی کرنے کی سازش پر عمل کرتے ہیں (فقیر راحموں کہتے ہیں سچ یہی ہے)

یہ بھی پڑھئے:   سیلولر کمپنیز کی بدمعاشیاں

ستر سال کی عمر کے پاکستان کی آج جو حالت ہے اس پر فقط رویا ہی جاسکتا ہے۔ جی بہلاناہے تو صرف سیاستدانوں کو منہ بھر کے گالیاں دے لیجئے۔ غوروفکر کی زحمت کرنی ہے تو عرض کئے دیتا ہوں کہ غلام رسول کو مراد بخش کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ سیاست کو کاروبار سیاسی فہم رکھنے والے سیاستدانوں اور نایاب ہوچکے سیاسی کارکنوں نے نہیں بنایا۔ جناح صاحب‘ حسین شہید سہروردی‘ نورالامین‘ میاں محمود علی مقدوی‘ جی ایم سید‘ غفار خان‘ عبدالولی خان‘ علامہ شاہ احمد نورانی‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ میر غوث بخش بزنجو‘ راؤ مہروز اختر‘ نوابزادہ نصراللہ خان‘ بینظیر بھٹو‘ محمد خان جونیجو‘ ملک محمد قاسم‘ غلام حیدر وائیں‘ یہ چند نام ہیں ان لوگوں کے جو حقیقی معنوں میں سیاستدان تھے ایک طویل فہرست ہے۔ چند نشانیاں زندہ و تابندہ ہیں ان میں میاں افتخار حسین بھی شامل ہیں۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جنہوں نے نظریاتی سیاست کی یا ان کے کم از کم کچھ اصول تو تھے۔ چار فوجی حکومتوں نے اپنے بوٹوں سے بنے گملوں میں سیاستدانوں کی جو پنیریاں لگائیں وہ سیاست کار نکلے۔ سیاستدان ان میں سے ایک بھی نہیں بن سکا۔ کاریگروں کی فوج ہے جس نے زندگی کے ہر اس شعبہ میں کاریگری دکھائی جس تک انہیں رسائی مل سکی۔ بہت سارے کاریگروں کی کاریگریاں بیان کرسکتا ہوں مگر رہنے دیجئے پھر کسی وقت سہی ویسے بھی ان دنوں ہمارے دوستوں ساجد رضا تھہیم ایڈووکیٹ اور منیرشاہین میں سے ایک جمہوریت کے غم میں ہلکان ہے اور دوسرا راولپنڈی کی طرف منہ کرکے استاد نصرت فتح علی مرحوم کی قوالی گاتا ہے اور کبھی کبھی عالم لوہار کا وہ گانا ”واجاں ماریاں بلایا کئی وار وے‘ ماہیے نے گل نہ سنی“۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حالات اچھے ہیں نہ خبریں۔ اور جس طرح کی بونگیاں ماری جارہی ہیں ان کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکلنا۔ میاں نوازشریف ان کے شیر اور صاحبزادی تخت یا تختہ کا مشن شروع کرچکے۔ احتساب عدالت کا واقعہ ٹیسٹ کیس ہے۔ بہر طور یہ حقیقت ہے کہ اس ملک میں پنجاب کیلئے قانون اور ہے اور دوسروں کے لئے اور۔ پنجاب کے لیڈروں کی کرپشن بھی خاندانی کاروبار ہوتا ہے اور باقیوں کی تو بات ہی چھوڑدیں ورنہ ہمارے دوست عمران خان اور ان کے ٹائیگر ناراض ہوجائیں گے جن کے خیال میں اس وقت پی ٹی آئی درجہ ولایت و دیانت پر فائز ہے اور باقی سارے چور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   پیرا ڈائز لیکس کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
600
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: