Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جنابِ وزیراعظم! ان چند سوالوں کے جواب تو دیجئے | حیدر جاوید سید

by اکتوبر 11, 2017 کالم
جنابِ وزیراعظم! ان چند سوالوں کے جواب تو دیجئے | حیدر جاوید سید

جناب عباسی (وزیراعظم شاہد خاقان عباسی) فرماتے ہیں ”عوامی مینڈیٹ قبول نہیں کیا جارہا۔ سیاسی فیصلے عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں پولنگ سٹیشنوں پر ہوتے ہیں۔ جمہوریت ہوگی تو انصاف ہوگا۔ دہشت گردی کو شکست دی۔ معیشت کو مضبوط کیا۔ انہوں نے پیپلزپارٹی سے کہا ہمیں میثاق جمہوریت پر غور کرنا ہوگا اور اسی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا“۔ آگے بڑھنے سے قبل چند ایک سادہ سے سوال وزیراعظم کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ کیا وجہ ہے کہ اہل سیاست میں سے جو لوگ اقتدار میں ہیں پچھلے سوا چارسال کے دوران ان کے اثاثوں اور کاروبار کی ترقیوں میں تو سینکڑوں فیصد نمایاں اضافہ ہوا ہے مگر پاکستانی معیشت پر 27ارب ڈالر سے زیادہ قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ یادرہے یہ قرضے سی پیک کے قرضوں سے الگ ہیں؟ وزیراعظم صرف اسحاق ڈار کے اثاثوں کی تحقیقات کروالیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ پچھلے سوا چارسال سے جن کے مینڈیٹ کی دہائی دی جارہی ہے (یعنی عوام) ان کی طرف روکھے منہ بھی کسی نے دیکھا۔ عام شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے کتنے منصوبے بنائے گئے۔ کتنے مکمل ہوئے اور کتنے مکمل ہونے کے مراحل میں ہیں۔ کیا پاکستان صرف لاہور کا اور وہ بھی ایک خاص حصے کا نام ہے۔ دہشت گردی کہاں ختم ہوئی ہے ابھی چند دن قبل ہی جھل مگسی کی درگاہ فتح پور شریف میں خودکش بمبار نے 24 انسانوں کی بلی لی۔ حضور جمہوریت کا مطلب جمہور کی حکومت ہوتا ہے صرف وفاقی کابینہ میں سماج کے عام نچلے طبقات کی نمائندگی بتا دیجئے۔ پچھلے سوا چار برسوں میں عام آدمی کو کتنا انصاف ملا اور خواص کو کتنا کبھی تناسب نکال کر دیکھ لیجئے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ بجا ہے کہ ووٹ کی طاقت ہی اصل انصاف ہے مگر کیا اس ملک میں کبھی ووٹروں کے فیصلے کا احترام ہوا یا ہمیشہ کھلواڑ ہی ہوتا رہا۔ سیاسی فیصلے یقیناً عدالتوں اور سڑکوں پر نہیں ہوتے مگر بندہ پرور پولنگ سٹیشنوں پر مینڈیٹ ملتا ہے اور پارلیمان فیصلوں کی اصل جگہ ہے سو اس حساب سے پارلیمان نے سوا چارسال میں کتنے سیاسی فیصلے کئے۔

معاف کیجئے گا سازشوں کے ذریعے مینڈیٹ کو پامال کرنے کی بانی مسلم لیگ (ن) ہے۔ جو بیج بوئے جاتے ہیں فصل بھی اسی کی اٹھانا پڑتی ہے۔ سازشیں بوکر محبت کے سرخ گلاب اگانے کا تصور احمقانہ ہے۔ کیا وزیراعظم کے پاس اپنے مالک و قائد گھرانے کی صرف ایک واردات کا جواب ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ نیشنل بینک کے ساڑھے تین ارب روپے کے قرضوں کے عوض 1990ء کی دہائی کے آخری برسوں میں کچھ صنعتی و گھریلو جائیداد بینک کے سامنے سرنڈر کی گئی تھی۔ 2013ءم یں مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی اور 2015ء میں اس نے بینک سے 5 ارب روپے کے معاملات احسن طریقہ سے طے پا جانے کا این او سی حاصل کر لیا۔ بینک کا این او سی سر آنکھوں پر فقط یہ بتادیجئے کہ 5ارب روپے ادا کیسے ہوئے اور مالک خاندان کے کاروباری گوشواروں میں ان کا کہاں ذکر ہے؟ عجیب بات ہے نہ جو مالیاتی ادارے پچاس ساٹھ ہزار کے مقروض عام ملازم یا شہری کو جیل بھجوا دیتے ہیں وہ 16سال بعد ایک طاقتور اور برسراقتدار خاندان سے معاملات طے کرلیتے ہیں اور معاملہ طے کرنے کے لئے بینک کا سربراہ بھی مرضی کا مقرر کیا جاتا ہے۔ لاریب جمہوریت کا کوئی متبادل نہیں مگر کیا جمہوریت اشرافیہ کے اللوں تللوں کا نام ہے؟ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں جمہور تو قدم قدم پر ذلیل ہوتے ہیں اور خواص کے لئے ہر دن شبرات بھرا ہے۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام تو خود انہوں نے بھی نہیں کیا جو رہنما ہونے کے دعویدار ہیں۔ ہنسی آتی ہے پیپلزپارٹی کی تین مرکزی حکومتوں کے خلاف ”اشرافیہ“ سے مل کر سازشیں کرنے والوں کے ”دردِ جمہوریت“ پر۔ بجا ہے کہ دستور اسی لئے ہوتا ہے کہ اس پر عمل ہو دستور میں کہاں لکھا ہے کہ ایک برسراقتدار حکومت خود ہی دستور و ریاستی اداروں کی بدنامی کا سامان کرتی پھرے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ پی سی او ججوں نے دیا۔ سوال یہ ہے کہ ان پی سی او ججوں کو بحال کس نے کروایا اور پانچ سال تک افتخار چودھری سے ”خدمت“ کس نے کن شرائط پر لی۔ اچھا اگر سارے ادارے غلط اور حکومت درست ہے (یہاں حکومت کے ساتھ شریف خاندان بھی شامل ہے) تو پارلیمان کس مرض کی دوا تھی اور ہے۔ اداروں کے حدِ ادب سے تجاوز اور سازشوں کے ثبوت لے کر پارلیمان میں بات کرلینے میں کیا امر مانع تھا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس ملک میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے لئے اور معیار رہا پنجاب اور بلوچستان کے لئے اور معیار۔ پچھلے سوا چار برسوں سے یہی ہوا۔ کیوں پنجاب میں کرپشن اور دہشت گردی کے خلاف ٹھوس آپریشن نہ ہوسکے۔ بلوچستان کے دارالحکومت میں دہشت گردوں کے سہولت کار ریلیاں نکالتے نعرے مارتے پھرتے رہے کسی نے اُف تک نہ کی۔

میثاق جمہوریت کی فاتحہ خوانی اسی دن ہوگئی تھی جب نون لیگ پی سی او ججوں کو بحال کروانے نکلی تھی۔ پیپلزپارٹی کاملاً آزاد ہے وہ نون لیگ کے ساتھ کھڑی ہو یا الگ سے سیاست کرے مگر ایک سوال اس کی قیادت سے بھی بنتا ہے کہ اس نے سوا چار سال عوامی امنگوں کے مطابق اپوزیشن کا کردار ادا کیوں نہ کیا؟ ایک بات عرض کردینا ضروری ہے وہ یہ کہ طالب علم کو بھاڑے کی حب الوطنی اور نظریات سے کبھی رغبت نہیں رہی۔ سول و ملٹری اشرافیہ کے دستوری کردار سے تجاوز پر پچھلے چار عشروں کے دوران بساط مطابق لکھا۔ اب بھی دوٹوک رائے یہی ہے کہ انتخابی عمل مقررہ وقت پر منعقد ہونا ضروری ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر نون لیگ ہر بار تنازعات کا شکار کیوں ہوتی ہے۔ سیاست اور اقتدار میں منفی ہتھکنڈوں کی باوا آدم مسلم لیگ (ن) کو منہ بسورنے اور سازشوں کی مالا جپنے کے بجائے اپنے لچھن بھی دیکھ لینے چاہئیں۔ عجیب بات ہے جناب نوازشریف یوسف رضا گیلانی کو تو عدالتی فیصلہ تسلیم کرنے کا مشورہ دیتے تھے خود اپنے خلاف ہوئے عدالتی فیصلے کو سازش قرار دے رہے ہیں۔ معاف کیجئے گا وزیراعظم صاحب داخلی‘ خارجی اور معاشی بحرانوں کے سوا آپ کی جماعت نے کچھ نہیں دیا۔ سوا چار برسوں میں سے اس ملک کا چار سال اور ڈیڑھ ماہ تو وزیرخارجہ ہی نہیں تھا۔ اس عرصے میں وزیرداخلہ (اب سابق) کالعدم تنظیموں کے وفاقی دارالحکومت میں نخرے اٹھاتے اور لمبی لمبی پریس کانفرنسوں میں بڑی بڑی چھوڑتے رہے مگر ان کی ”اعلیٰ کارکردگی“ کا پول جسٹس فائز عیسیٰ رپورٹ نے کھول دیا کسی نے اس وزیرداخلہ سے استعفیٰ مانگا نہ اس نے رتی برابر شرم محسوس کرتے ہوئے اپنی وزارت کی نااہلی کو قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا۔ یہاں ایک کڑوا سوال پوچھ لوں۔ کیا آپ اس امر سے ناواقف ہیں کہ آپ کے سیاسی مالک شریف خاندان نے امریکہ‘ برطانیہ اور آسٹریلیا میں پاکستان مخالف لابی کرنے والوں کی حال ہی میں اعانت کی ہے اور ان لابیوں کے سوشل میڈیا پیجز اور متحرک افراد صبح شام پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے؟ حرفِ آخر یہ ہے کہ ایک صاف ستھرے جمہوری نظام اور سماجی انصاف کے علمبرداروں کی تائید ہر قیمت پر کی جاسکتی ہے مگر جمہوریت کے نام پر خواص کے کاروبار اور مفادات کے تحفظ میں پُرجوش نظام کی حمایت ممکن نہیں۔

بشکریہ: روزنامہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
86
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: