فکرِ حسین علیہ السلام کی دعوتِ عام |حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن رحیم یارخان کے عہدیداران اور پنجاب بار کونسل کے رکن رئیس ممتاز مصطفی ایڈووکیٹ نے طالب علم کو یاد کیا اور بار کے زیراہتمام شہادت امام حسینؑ اور ہماری ذمہ داری کے عنوان سے منعقد کئے جانے والے فکرحسینؑ سیمینار میں شرکت کا حکم دیا۔ اس محبت بھرے حکم سے انکار کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ ناسازی طبیعت کے باوجود حاضری پر آمادگی ظاہر کی۔ رحیم یارخان بار ایسوسی ایشن کی تاریخ میں پہلی بار منعقد ہونے والے یومِ حسینؑ کے محرک ہمارے دوست حسن معاویہ بلوچ ایڈووکیٹ اور جناب خادم خان خاصخیلی ایڈووکیٹ تھے۔ دونوں صاحبان بار کے عہدیدار ہیں پھر محب مکرم و محترم رئیس ممتاز مصطفی کی منشا بھی یہی تھی۔ بار کے خواجہ فریدؒ ہال میں منعقدہ ذکر حسینؑ کی اس محفل میں عرض کیاکہ کربلا کا حق اسی طور ادا ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے عہد کی سامراجی قوتوں یزیدیت مزاج بالادست طبقات اور جبرواستحصال پر مبنی نظام کے خلاف اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور اس کردار کی ادائیگی کے لئے لازم ہے کہ ہمہ وقت سورة بقرہ کی آیت 18 کو پیش نظر رکھا جائے جس میں ارشاد ہورہا ہے کہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں اور اسی لئے حق کی مخالفت سے باز نہیں آئیں گے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ قرآن عظیم الشان کی تعلیمات آفاقی اور دائمی ہیں۔ کسی بھی عہد میں حق پرستی سے منہ موڑنے ظالموں کی ہمنوائی اور مظلوموں کی آواز پر دادرسی کے لئے نہ اٹھنے والوں پر ہی اس آیت کا اطلاق ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم واقعتاً شہادت امام حسینؑ کے پیغام کو سمجھ پائے ہیں؟ سبطِ احمد مرسل نے کربلا کے میدان میں اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا لوگو! میں اقتدار طلبی سے بندھا یہاں نہیں آیا۔ اقتدار میرے جوتے کے تلوے سے لگی مٹی سے بھی حقیر تر ہے۔ مدینہ چھوڑنے اور اس مقام پر قیام کا مقصد فقط یہ ہے کہ انقلاب محمد کی جن آفاقی تعلیمات کا چہرہ مسخ کیا جارہا انہیں پھر سے عالم انسانیت اور مسلمانوں کے سامنے حقیقی انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ حلالِ محمد کو حرام اور حرامِ محمد کو حلال قرار دینے والوں کی اصلیت بے نقاب ہو۔
اقتدار طلبی کو ہم کربلا سے اس لئے بھی نہیں جوڑ سکتے کہ سانحہ کربلا کے حوالے سے حضرت رسول اکرم کے ارشادات (احادیث) موجود ہیں۔ 61ہجری میں پیش آنے والے اس معرکہ حق و باطل بارے رسول اﷲﷺ اپنی زندگی میں ہی اپنے اصحاب کو تفصیل سے بتاچکے۔ یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہمیں اس فکری و تاریخی مغالطے پر ازسرنو غور کی دعوت دیتا ہے کہ امام حسینؑ نے کربلا میں کسی قسم کی تین شرائط یا تین درخواستیں پیش کیں۔ خود امام حسینؑ اپنے نانا جان حضرت محمد کے ارشادات سے آگاہ تھے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ 2محرم الحرام 61ہجری کو امام حسینؑ جب ریگزار کربلا پہنچے تو آپ نے سب سے پہلے اس صحرائی اراضی کی ملکیت بارے دریافت کیا۔ قبیلہ بنواسد سے 60ہزار درہم میں یہ اراضی خریدی اور پھر بنو اسد کو ہی ہبہ کردی۔ اراضی خریدنے ہبہ کرنے اور پھر 10محرم الحرام کے بعد ان سے کچھ خدمات کا وعدہ لئے جانے کی تفصیلات تواریخ اور مقتل کی ساری کتابوں میں موجود ہیں۔ سو تین شرائط یا تین درخواستوں کا قصہ تاریخ میں داخل کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ امام حسینؑ نے مدینہ کے گورنر ولید کی طرف سے بیعت یزید کرنے کے دعوت نما حکم کو حقارت کے ساتھ مسترد کردیا تھا۔
ہم اگر کتب تواریخ کا بطور طالب علم مطالعہ کریں تو چند ہی لمحوں میں جھوٹ کے طومار اور ابدی سچائی کو سمجھ لیں گے۔ خود امام عالی مقام کربلا میں ارشاد کئے جانے والے خطبات میں سے ایک خطبے میں فرماتے ہیں لوگو! انقلابِ محمد نے جن جہالتوں تعصبات نفس پرستی اور بالادستی کو ختم کرکے انسانیت پروری کا درس دیا تھا بدقسمتی سے اُن جہالتوں تعصبات نفس پرستی اقرباءپروری اور طبقاتی بالادستی کا پھر سے دوردورہ ہوچکا۔ ان حالات میں مجھ پر واجب ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی ترویج اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرے اور نظام کے لئے آواز بلند کروں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ اس نے یہ سعادت مجھ حسینؑ کے مقدر میں لکھی اور میں نے ظالموں کی بیعت سے انکار کردیا۔ ایک اور موقع پر ارشاد فرمایا کسی غلط فہمی میں نہ رہنا ابدی سچائی یہ ہے کہ زندگی اور موت کے فیصلے حقیقی قادر مطلق کرتا ہے۔ حسینؑ کو اپنے ناناجان حضرت محمد کا یہ ارشاد گرامی یاد ہے کہ میرا یہ بیٹا اسلام کی حقانیت کا پرچم لہرانے کے لئے اپنی جان قربان کردے گا۔ بار ایسوسی ایشن کے اجتماع میں یہ بھی عرض کیاکہ امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے مالک اشترؓ کے نام لکھے گئے خط میں فرمایا اے مالک میں نے رسول معظم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ جن مظلوموں کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو ان مظلوموں سے اﷲ رب العزت نے وعدہ کرلیا ہے کہ اﷲ ان کے ساتھ مل کر ظالموں سے بدلہ لے گا۔ اس ارشاد نبوی کی روشنی ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم پیغام کربلا کو شعوری طور پر سمجھ کر اپنے عہد کی کربلا کے مظلوم طبقات کی ہمنوائی کا فرض ادا کرتے ہیں یا پھر ان ظالموں کے عملی مددگار یا دعویٰ غیرجانبداری کرتے ہیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ مظلوموں کا ساتھ نہ دینے کا ہر بہانہ ظالموں کی مدد ہے اور پھر جب خود اﷲتبارک وتعالیٰ مظلوموں کی مدد کے لئے ظالموں سے جنگ کرے گا تو کیا ہمارے بہانے ہمیں بچا پائیں گے؟
فکرِحسین یہی ہے کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں مسائل کتنے ہی گمبھیر اور ظالم طبقات کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں اعلائے کلمة الحق کا فرض ادا کرنے میں تامل نہ کیا جائے۔ ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا تقاضا امن عدل علم مساوات پر مبنی سماج اور نظام کی تشکیل ہے۔ اسلام کی دعوت حق عالم انسانیت کے لئے ہے۔ جس بات کو ہم جانے انجانے میں نظرانداز کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ اﷲ رب العزت رب العالمین ہے۔ حضرت محمد عالمین کے لئے رحمتوں والی ذات قرار دیئے گئے اور قرآن مجید کتاب العالمین ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آخر ہم ان حقیقتوں سے انحراف کرکے تنگ نظری و تعصبات میں گردن تک کیوں دھنسے ہوئے ہیں۔ کربلا کا پیغام یہی ہے کہ حقوق اﷲ اور حقوق العباد دونوں وقت پر ادا کئے جائیں تساہل نہ برتا جائے۔ روزمرہ کے معاملات پر احتسابی گرفت کی جائے۔ ایک ایسے سماج اور نظام حکومت کی تشکیل ہم سب کی ذمہ داری ہے جو ظلم و جہل سے محفوظ ہو۔ یاد رکھئے ہر امت اپنے رسول مکرم کا چہرہ ہوتی ہے۔ ملت اسلامیہ بھی محبوبِ خدا حضرت محمد کا چہرہ ہی ہے۔ دیکھنا اور سمجھنا یہ ہے کہ ہم یہ چہرہ عالم انسانیت کے سامنے کس طرح پیش کررہے ہیں۔ حضوراکرم کی تعلیمات کے مطابق یا انحراف و انکار سے مسخ کرکے؟ ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ طبقات فقط دو ہی ہیں ایک ظالموں کا دوسرا مظلوموں کا۔ غیرجانبداری کا ڈھکوسلہ جی بہلانے کا سامان ہے صرف اس لئے فیصلہ کیجئے کہ آپ ظالموں کے ساتھی بن کر اﷲ سے جنگ چاہتے ہیں یا مظلوموں کے ہمنوا بن کر محبوبانِ خدا کے قافلے میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ فیصلہ کرنے کے لئے آپ کاملاً آزاد ہیں۔ قرآن حضرت محمد اور کربلا تو دعوت دیتے ہیں اور یہ دعوت دائمی ہے وقت ہرگز نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اپنے عصر کی کربلا میں اترنے سے قبل یزیدیت مزاج نفس پر فتح حاصل کرلیجئے۔

یہ بھی پڑھئے:   حبیب ابنِ مظاہر الاسدیؑ | نور درویش

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
611
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: