Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

برمی مسلمانوں کے مصائب اور عالم انسانیت کی ذمہ داری | حیدر جاوید سید

by ستمبر 7, 2017 کالم
برمی مسلمانوں کے مصائب اور عالم انسانیت کی ذمہ داری | حیدر جاوید سید

دو بنیادی باتیں برمی مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں اوّلاً یہ کہ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم المائم فاﺅنڈیشن اور اس کے سربراہ خالد باطرفی کا کردار (یہ حضرت آگ بھڑکا کر اب ایک برادر اسلامی ملک میں چین کی بانسری بجارہے ہیں) ثانیاً یہ کہ 2001ء میں افغانستان کے طالبان کے ہاتھوں بامیان میں ہزاروں سال پرانے بدھا کے مجسموں کی توہین۔ اولین طور پر یہی واقعہ برما میں بدھ مسلم تنازع کے خونی باب کا دروازہ کھولنے کا باعث بنا۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلم ہی فقط برمی مسلمان نہیں ان کے علاوہ بھی برما میں مسلم آبادیاں ہیں۔ روہنگیا بنیادی طور پر بنگالی النسل ہیں۔ برما کی بنگلہ دیش سے ملحقہ سرحد کے ساتھ کے علاقوں میں آباد۔ ہزارسال یا چند صدیاں کتنا عرصہ ہوا انہیں برمی سرزمین پر آباد ہوئے اس پر بحث اٹھانے کے بجائے اس حقیقت کو مدنظر رکھنا ہوگا کہ بڑی تعداد میں کسی نسلی گروہ کی نقل مکانی کی وجہ درپیش مسائل اور ان میں سب سے اہم ضروریات زندگی کی نایابی ہوتی ہے۔ نقل مکانی اگر ناقابل معافی جرم ہے تو سزا فقط روہنگیا مسلمانوں کو کیوں۔ دوسرے بہت سارے قبائل بھی تو پہلے یا بعد میں پڑوس کے مختلف ممالک سے آ کر برما میں آباد ہوئے۔ اس طرح یہ بھی یاد رکھئے کہ شہریت کا جو تنازع روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہے وہ کل آبادی کا 4 فیصد ہیں۔ مجموعی طور پر مسلمان 6 فیصد۔ مطلب یہ کہ لگ بھگ 2 فیصد برمی مسلمانوں کو شہری حقوق میسر ہیں اور وہ روہنگیا نہیں ہیں۔ تلخ نوائی پر پیشگی معذرت کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی ازبس ضروری ہے کہ اب ہمیں (مسلمانوں کو) اپنے تبلیغی نصابوں اور اندازِ تکلم کا بھی ازسرنو جائزہ لینا ہو گا۔بہت ادب کے ساتھ یہ بھی عرض ہے کہ سوفیصد جرم بدھسٹوں پر ڈالنے کے بجائے اگر پچھلے ڈیڑھ عشرے سے ہوئے واقعات پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال لیں تو ہمارے ان دوستوں کا کھانا ہضم ہوجائے گا جو حالات کو بگاڑنے میں مصروف ہیں۔

افسوس کہ جماعت اسلامی اور اس کے ہمنواﺅں کے کچھ سوشل میڈیا پیجز بنگلہ مکتی باہنی کے مسلح نوجوانوں کی تصاویر کو روہنگیا مسلمانوں کی جوابی حکمت عملی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ سال ڈیڑھ سال قبل کی خونریز نسل کشی کے دوران تو فوٹو شاپ تصاویر کے ذریعے خلیفہ اردگان کی فورس کو برما پہنچا دیا گیا تھا۔ ایسی ایک جعلی ویڈیو بارے چند گھنٹوں بعد ہی یہ ہولناک انکشاف ہوا کہ وہ ایک انگلش فلم کے چند سین ہیں۔ کیا کبھی ٹھنڈے دل سے ان لوگوں نے بدھسٹوں کی عبادت گاہوں پر حملے اور پچھلے دوسال کے دوران کم ازکم 5 ٹمپلز (بدھ عبادت گاہیں) کی توہین اور 100 کے قریب بھکشوﺅں کے جاں بحق ہونے کی بھی اسی طرح مذمت کی؟ اس نازک سوال پر دلی معذرت مگر یہ حوالہ دینا لازم تھا۔ انسانیت کشی کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ روہنگیا مسلمانوں کا مقدمہ اس وقت کمزور پڑا جب ان کے چند درجن یا سو دوسو نوجوانوں نے القاعدہ کے خالد باطرفی کی مسلح تنظیم میں شامل ہوکر کچھ کارروائیوں میں حصہ لیا۔ جواباً برمی فوج نے کارروائی کی اور برما کی تاریخ کی سب سے منظم نسل کشی سرکاری سرپرستی میں ہوئی۔ لاریب برما میں ہونے والے واقعات انسانیت سوز ہیں۔ ہرصاحب دل اور صاحب اولاد انسان کا دل دکھا بلکہ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہیں۔ مگر اس کڑے وقت میں بھی پورا سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر الٹے سیدھے بیانات اور دوسری چند باتوں سے مظلوموں کی مدد تو نہیں ہوئی الٹا ان کے مسائل سنگین صورت اختیار کریں گے۔ یہاں ایک سوال ہے چند عادی چندہ خور اور کھال فروش تنظیمیں پچھلے کئی برسوں سے مظلوم برمی مسلمانوں کے نام پر زکوٰة صدقات اور کھالیں اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں۔ کسی میں اخلاقی جرات ہے کہ ان تنظیموں سے جواب طلب کرے کہ جو مال برمی مسلمانوں کے نام پر اکٹھا کیا تھا وہ کیا ہوا؟ پچھلی باتوں کو چھوڑ بھی دیجئے تو ابھی عیدقرباں پر جنہوں نے برمی مسلمانوں کے نام پر کھالیں بٹوری ہیں ان سے ہی کوئی پوچھ لے رقم وصول کرے اور قانونی طریقہ سے مظلوموں کی مدد کرے۔ ترکی و ایران کا عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھانے کا اعلان ہو یا سعودی عرب کا اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کا مثبت اعلانات ہیں۔ کاش ان اعلانات سے قبل بھارت یا کسی اور پڑوسی ملک کے ذریعے سفارتکاری کو بھی ایک اقدام کے طور پر اپنایا جاتا۔ بھارت کے ذکر پر یاد آیاکہ چند مچونے تو اس میں بھی عالمی سازش کا پہلو تلاش کررہے ہیں کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر تشدد ظلم کی زیادہ تصاویر بھارتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آئیں۔
معاف کیجئے گا یہ سازش تلاش کرنے اور کرائے پر سیاپا کرنے والی عورتوں کی طرح بین ڈالنے کا وقت نہیں برمی مسلمانوں کو اپنے حق میں سیاپوں کی نہیں عملی مدد کی ضرورت ہے اور عملی مدد کے پروگراموں کو مسلم دنیا کی حکومتیں یقینی بناسکتی ہیں اگر ان کے پاس وقت ہوتو۔ اقوام متحدہ ہے انسانی حقوق کے عالمی ادارے ہیں یونیسیف ہے سفارتکاری کیجئے کس نے روکا ہے۔ دوسرے بہت سارے انسانیت و جمہوریت پرستوں کی طرح اس طالب علم کو بھی برما کی نوبل پرائز یافتہ رہنما آنگ سانگ سوچی سے شکوہ ہے کہ وہ اپنے مادرِوطن میں جنم لینے والے اس انسانی المیے پر چُپ سادھے ہوئے ہیں البتہ آزادکشمیر حکومت کے نونی وزیر اطلاعات لگ بھگ آٹھ سال پرانی ایک تصویر کو لے کر جس طرح نوازشریف کے نمک کا حق ادا کررہے ہیں اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ مشتاق منہاس کو سمجھنا ہوگا کہ وہ اپنی قیمت پاچکے اس سے زیادہ مول لگنے کا نہیں اب اس لئے تاریخ کو مسخ کرنے کے بجائے اس سادہ سوال کا جواب دیں کہ اس وقت پاکستان کے دو صوبوں اور وفاق کے علاوہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں (ن)لیگ کی حکومت ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران نون لیگ کی حکومت کا اس اہم مسئلہ پر کوئی ایک پالیسی بیان؟ اس جملہء معترضہ کو چھوڑیئے آگے بڑھتے ہیں۔ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا سربراہی یا کم ازکم وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں قرارداد لانے کے سعودی اعلان پر عمل سے قبل مسلم ممالک کا رابطہ گروپ قائم کیجئے۔ ساعت بھر کے لئے اگر رُک کر ایک سوال پر غور کرلیں اور ناگوار نہ گزرے تو یہ بتا دیجئے کہ یمن کے صوفی سنی مسلمانوں کا کیا قصور ہے وہ بھی تو برما کے روہنگیا مسلمانوں جیسے مظالم برداشت کررہے ہیں۔ پچھلے دس بارہ دنوں کے دوران یمن میں جو ہولناک واقعات ہوئے ان کی مذمت سے پہلو چرانے والے بھی اتنے ہی مجرم ہیں جتنے برمی مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش لوگ اور حکمران مجرم ہیں۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت اور مسلمانی کے مخصوص جذبات پالنے اور ان کے اظہار کو حق سمجھنے والے بھی انسانیت اور اسلام کے مجرم ہیں۔ مکرر عرض ہے برمی مسلمانوں کی سیاسی سفارتی اور مالی مدد کو سفارتکاری کے ذریعے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان کی مظلومیت کو کاروبار بنالینے والوں سے بھی بازپرس ہونی چاہیے۔ برما کے مسئلہ کو اس ملک کے ثقافتی لسانی تاریخی اور مختلف ادیان کے تاریخی پس منظر سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بڑا مذہب بدھ دھرم ہے۔ مسلمان ہندو اور عیسائی اقلیت ہیں۔ مسلمان بڑی اقلیت ہیں۔ بنگالی النسل روہنگیا کے ساتھ بدھسٹوں کا تنازع پہلے لسانی و ثقافتی تھا 2001ءکے المیہ بامیان اور پھر القاعدہ کے ایک گروپ کی چند کارروائیوں کے بعد یہ مذہبی نوعیت اختیار کرگیا۔ درمیان میں چند بدھ لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے کے معاملے نے بھی تنازع کی شکل اختیار کی۔ معاملات کو جذبات کے گھوڑے پر بیٹھ کر بھونڈی نعرے بازی سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ نسل کشی کا شکار روہنگیا کو ساری انسانیت کی مدد کی ضرورت ہے۔ خاص مذہبی رنگ دینے اور اس کی بنیاد پر شور کرنے سے ان کا نقصان بڑھے گا۔ مساوی حقوق حقِ شہریت مذہبی و ثقافتی آزادی یہ ان کا حق ہے مگر ان پر بھی فرض ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔

بشکریہ: روزنامہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
254
Views Today
Views Today
3
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: