Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

زندگی کا امتحانی پرچہ | حیدر جاوید سید

زندگی کا امتحانی پرچہ | حیدر جاوید سید

حبس کے موسم میں سفر کچھ زیادہ ہی کڑا ثابت ہوا۔ ہمزاد (فقیرراحموں) کی ضد تھی اس لئے موسم اور سفر دونوں کی سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ کہتے ہیں سفر وسیلہء ظفر ہوتا ہے۔ بات درست ہے۔ اس سفر کی منزل مرشد کریمؒ کی خانقاہ تھی۔ مرشد کریم حضرت سید بلھے شاہؒ ملامتی صوفیاءکے سرخیل۔ چند برس ہوتے ہیں عرض کیا تھا خانقاہیں دو طرح کی ہیں (رہیں اور ہیں بھی) اوّلاً وہ جن میں آرام فرمانے والے اپنے عہد کے حاکموں اور بالادست طبقات کے منظورنظر رہے‘ ثانیاً وہ جن میں آرام فرمائے انسانیت پرستوں کو قدم قدم پر کچلے ہوئے طبقات عزیز رہے۔ صوفیاءکا دوسرا طبقہ بالادست طبقات اور حاکمانِ وقت کے دلوں میں کانٹوں کی طرح چبھتا رہا۔ بلھے شاہؒ اس دوسرے طبقے کے سرخیلوں میں تھے۔ پچھلے چند دنوں سے فقیرراحموں بضد ہوئے کہ مرشدِکریمؒ کے حضور حاضری دی جائے۔ بہت ٹالا‘ حبس سے ڈرایا مگر وہ سنتا کب ہے۔ بس حکم دیتا ہے۔ تعمیل تو ہرصورت میں کرنا ہی پڑتی ہے۔ مرشدکریم کے حضور حاضر ہوئے۔ سلام و نیاز عرض کرچکے تو دیوار سے ٹیک لگاکر بیٹھ گئے۔ فقیرراحموں بولے شاہ! جانتے ہو مقصودِکائنات کیا ہے؟ جواب کا انتظار کئے بغیر خود ہی سمجھانے کے انداز میں کہا ”علم‘ محبت‘ شجاعت‘ سخاوت و ایثار اور قربانی“ مقصودِکائنات ہیں۔ انسان ہو یا سماج دونوں کو بالترتیب اسی کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے تبھی ارتقاءممکن ہے۔ مرشدکریمؒ کی آواز سنائی دی ”لوگ بھی کیا چیز ہیں نمک کی کان سے شہد مانگتے ہیں“۔ عرض کیا مرشد جھمیلوں سے نجات نہیں ملتی۔ شفقت بھرے انداز میں فرمایا ”ضرورت سے زیادہ کی خواہش جھمیلے پیدا کرتی ہے“۔ پھر انہوں نے خود ہی کہا وہ تمہارے پسندیدہ شاعر حافظ شیرازی نے بھی تو کہا تھا ”ضرورتوں کو شمار کرتے ہو زندگی بیتانے سے بہتر ہے ایثار کیا جائے“۔ لیکن مرشد اگر ہو ہی کچھ نہ تو ایثار کیسا؟ جواب ملا ”لفظوں کا ایثار بھی کرتے رہنا چاہیے“۔ مرشد کہتے ہیں ”ظرف کے پیالے میں گنجائش سے زیادہ ہوتو چھلکنے لگتا ہے‘ کچھ اسے بھی کمال سمجھتے ہیں حالانکہ احتیاط لازم ہے“۔ شاہ حسینؒ نے کہا ”بدلاﺅ کے لئے کوچہ کوچہ پھرنے کے بجائے ذات کے کج دیکھ لینا زیادہ بہتر ہے“۔

فقیر راحموں نے سوال کیا ”بندہ حضوری پر کیوں راضی ہوتا ہے؟“ مرشد بولے ”حضوری عارضہ ہے بندگی اس سے نجات دلاتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ بندہ بندگی سے بھاگتا ہے“۔ ان سموں تلسی داس یاد آئے کہا تھا ”رضا قربانی کے بنا کہاں ملتی ہے اور قربانی! مورکھ تو لقمے کی نہیں دیتا ذات کی کیسے دے گا“۔ مرشدکریمؒ پھر گویا ہوئے ”قدم مضبوطی کے ساتھ مٹی سے جُڑے رہیں اور دل لوگوں سے تو آدمی تنہا نہیں ہوتا“۔ آدمی بھی کیا چیز ہے۔ کبھی سامت نے کہا تھا ”آدمی آدم خور نہ ہوتا تو دنیا امن کا گھر ہوتی“۔ نجانے آدم خوری آدمیوں کو اتنی مرغوب کیوں ہے؟ فقیر نے کاندھا ہلاتے ہوئے کہا یادوں کی کھڑکی بند کرو۔ ہم مرشد کے حضور ہیں۔ ہاں یہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں حضوری کی نہیں محبت کی قدر ہوتی ہے۔ حافظ شیرازیؒ کے بقول ”اس کی یادوں نے اب تو مے خانے میں بھی ڈیرے ڈال لئے ہیں یہاں سے اٹھیں تو دل کے کعبہ میں جھانکیں“۔ ایک بار یوں بھی کہا ”مے خانے کی دہلیز پر کم ظرفوں کا کیا کام؟“ شاہ لطیف کہتے ہیں ”اُسے پانے کی لگن سچی ہوتو ہر مشکل آسان ہوتی چلی جاتی ہے“۔ حلاجؒ نے کہا تھا ”اسی کو پانے کے لئے تو دار تک کا سفر طے کیا ہے اس کے سوا ضرورت بھی کیا ہے“۔ سیدی بلھے شاہؒ کہتے ہیں ”یار کے دوارے بیٹھ کے حالِ دل سنانے کی راہ میں حائل ہونے والے تو تسبیح پھرولنے سے پہلے دانے گنتے ہیں۔ حالِ دل کوئی سودا تھوڑا ہی ہے کہ حساب کیا جائے“۔ مدت بہت ہوئی جب زانواس سے دریافت کیا گیا ”استادِمکرم! لاعلمی بھی تو نعمت کی ایک قسم ہے“؟ دانائے بابل نے مسکراتے ہوئے کہا میرے عزیز! ”ضبط بہتر ہے لاعلمی سے۔ جاننا آدمی کا حق ہے۔ حق سے لاعلمی کیسی“؟

اب سوال کس کے سامنے رکھے جائیں۔ اس عہدِنفساں میں شاہ‘ سامت‘ حلاج‘ بھٹائی اور زانواس کہاں سے لائیں؟ سوال تمام ہوا تو مرشدکریمؒ نے کہا ”علم اور فقط علم ہی آگہی کے چراغ روشن کرسکتا ہے۔ آگہی کا چراغ جس کے اندر روشن ہوا وہ بھٹکائے نہیں بھٹکتا۔ ہاں پر خیال رہے عشروں کے بھوکے کو شکار کی دعوت نہ دے دینا“۔ مرشد سمجھ گئے۔ طالب علم حیران ہیں۔ رسان سے بولے ”کئی پہروں سے پیٹ خالی ہوتو ٹھنڈے پانی سے بھی درد ہوجاتا ہے“۔ اسباق کی ترتیب کو سمجھنا لازم ہے۔ ”خوراک پیٹ بھرنے کے لئے نہیں زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے۔ بھرا پیٹ اور بے لگام خواہشیں دونوں فہم کے دشمن ہیں“۔ فقیرراحموں نے دریافت کیا مرشد لوگ فہم پر ضرورت کو مقدم کیوں سمجھتے ہیں؟ جواب ملا ”زندگی ضرورتوں سے باندھ لینے والوں پر عیاں ہی کب ہوتا ہے تخلیق کا مقصد؟ وہ تو ہونے کے یقین سے زیادہ ”ہیں“ کو اہمیت دیتے ہیں“۔ شاہ لطیف بھٹائیؒ نے کہا تھا ”زندگی چراغِ علم سے منور نہ ہوپائے تو زیاں ہی زیاں ہے۔ اُس تک جانے کا سفر قدموں پر نہیں چراغ علم کی رہنمائی سے طے ہوتا ہے“۔ طالب علم نے ایک دن مرشدکریمؒ سے عرض کیا اُس تک جانا لازم کیوں ہے؟ فرمایا ””وہ“ نہ ہوتو بندگی کیسی“۔ سعدیؒ کہتے تھے ”میرے کریم ہمارے حال پر نظرکرم کر۔ اپنی عطاﺅں کو دیکھ ہمارے اعمال نہیں۔ زمانے اور حالات کی اسیری نے جو رنج دیئے تیرا کرم ہی ان کا مرہم ہے“۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کو پھاڑ کھانے کے مرض میں مبتلا ہیں۔ تکبر ہے‘ خودپسندی‘ ہونے کا زعم ہے اور معلوم کا خبط۔ انہیں کون سمجھائے کہ تکبر‘ خودپسندی‘ ہونے کا زعم اور معلوم کا خبط یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ اگر کالے پتھر والے پہاڑ کو بھی لگ جائیں تو ریزہ ریزہ کردیں۔ آدمی بھی کیا چیز ہے عنایت پر مشکور اور عطا پر شکرگزار ہونے کے بجائے ہل من مزید چاہتا رہتا ہے۔ شاہ (بلھے شاہؒ) کہتے تھے ”جس نے حقِ بندگی نہیں سمجھا اسے بندہ کہلانے کا حق نہیں ہے“۔ حقِ بندگی بھلا اس کے سوا کیاہے کہ آدمی قرارِجاں کا متلاشی ہونے کے بجائے عفوودرگزر سے کام لے۔ ایثار کو مقصدِ زندگی سمجھے اور نعمتوں پر کامل حق نہ جتائے۔ کہاں سے لائیں اب ویسے لوگ۔ ہمارے چار اَور تو بندوں کا ہجوم ہے۔ ایسا لگاکہ مرشد کہہ رہے ہیں ”نمازِعشق کا سجدہ تبھی ادا ہوتا ہے جب سر کٹواتے ہوئے سب تیرا ہے کا ورد جاری رہے“۔ یہ بھی تو سچ ہے کہ نمازِعشق کا سجدہ ہر کس و ناکس کب ادا کرپاتا ہے۔ مرشد کریمؒ ایک سوال کی اجازت ہے؟ مسکراتے ہوئے بولے ”سوال ہوتے ہی پوچھنے کے لئے ہیں۔ سوال ختم زندگی تمام۔ سانسوں کی ڈور سوالوں سے بندھی ہے۔ جواب سے بھاگتے وہ ہیں جو زعم تقویٰ کے مرض میں مبتلا ہوں“۔ آدمی کا خمیر نیکی سے کیوں نہیں گُندھا گیا؟ فرمایا ”خمیر گوندھنے والے نے فیصلے کا اختیار آدمی کو دے دیا۔ اپنے معاملات پر جوابدہ ہے آدمی۔ حساب تب ہوتا ہے جب کام مکمل ہوجائے۔ پہلے سے کچھ طے نہیں ہوتا سوائے کام کے۔ لوگوں نے عادت بنالی ہے خیر ہوتو اپنے عمل پر اتراتے ہیں شر ہوتو پہلے سے لکھے پر ڈال دیتے ہیں“۔ مرشد کہتے تھے ”جس نے بانٹ کر نہیں کھایا وہ ایثار کی لذت کو کیا جانے۔ جس نے فقط پیٹ بھرنے کی سوچی وہ ہمیشہ بھوکا ہی رہا“۔ پھر سے تلسی داس یاد آگئے کہا تھا ”دو نوالوں اور ایک گھونٹ پانی سے زندہ رہا جاسکتا ہے تو غذاﺅں کے پیچھے دیوانوں کی طرح بھاگنے کی ضرورت کیا ہے“؟ فضیل بن عیاضؒ نے کہا تھا ”معلوم کی کوئی حد نہیں۔ مجھے ان پر حیرانی ہوتی ہے جو سب معلوم ہے کا دعویٰ کرتے نہیں تھکتے اور اپنی تخلیق کی وجہ سے ناآشنا ہوتے ہیں“۔ مرشدکریمؒ سے رخصت کی اجازت طلب کی۔ دعا کے لئے ان کے ہاتھ بلند ہوئے۔ فرمایا مالک! یہ تیرے ہیں‘ تیرے ہی حوالے۔ عرض کیا مرشد! اس عہدِنفساں میں مزید جینے کو من نہیں کرتا۔ ارشاد ہوا ”زندگی کے امتحانی پرچے کے سارے سوال حل کرنا لازم ہیں۔ خالق کبھی بندے کے فہم اور ظرف سے بڑا امتحان نہیں لیتا۔ عاجزی اور درگزری کے جذبے کامیابیوں کی ضمانت ہیں“۔ مرشدؒ کی خانقاہ سے نکلے واپسی کا سفر شروع ہوا۔ فقیرراحموں نے ایک بار پھر کہا‘ شاہ! ”جانتے ہو مقصودِکائنات کیا ہے؟ علم‘ محبت‘ شجاعت‘ سخاوت و ایثار اور قربانی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جو اس ابدی سچائی کو نہیں سمجھ پاتے وہ توڑتے رہتے ہیں جوڑ ہرگز نہیں پاتے“۔

بشکریہ: روزنامہ خبریں ملتان

مرتبہ پڑھا گیا
173مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
2مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

One commentcomments

  1. raza baqari

    کیا شان دار اور محبت علم عشق اور قربانی کے حوالہ سے الہامی تحرہر ھے۔ زندگی بخش بیانیہ۔ جگ جگ جئیں سیدی

Leave a Reply

%d bloggers like this: