Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دو جمع دو سات بنانے والے سادہ دل | حیدر جاوید سید

by اگست 20, 2017 کالم
دو جمع دو سات بنانے والے سادہ دل | حیدر جاوید سید

صد شکر کہ جناب نوازشریف کو یہ تو معلوم ہواکہ انہیں کیوں نکالا گیا۔ معلوم ہوا ہے تو سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے ورنہ وہ اپنی جی ٹی روڈ ریلی کے آغاز سے اختتام اور پھر 14اگست کو علامہ اقبالؒ کے مزار کے باہر یہی کہتے رہے کہ مجھے کیوں نکالا گیا؟ مجھے کیوں نکالا گیا کی تکرار پر جو لطیفے بنے اور پھیلے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کے انقلابی خواب بارے پچھلے دو کالموں میں عرض کرچکا۔ کچھ دوستوں کی تازہ حالت اور دردِجمہوریت بارے عرض کرنا چاہتا تھا مگر میرے ایک محبِ مکرم کہتے ہیں شاہ جی جانے دو۔ مشورہ ان کا اچھا ہے لیکن چلتے چلتے سابق سوشلسٹ دوستوں کی خدمت میں یہی عرض کروں گاکہ آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے۔ پوری دو نسلیں انہوں نے برباد کردیں اپنے سواد کے لئے مگر ان پر ہی کیا دکھ کیجئے ہمیں تو وہ ترقی پسند نہیں بھولتے جنہوں نے آنجہانی سوویت یونین کی زندگی میں انقلاب کی تسبیح رولی اور جیسے ہی سوویت یونین کا خاتمہ ہوا امریکہ و یورپی امدادوں سے چلنے والے اداروں میں ملازمتیں کرلیں۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا اس ملک میں جمہوریت سوشلزم اور نفاذِ اسلام کی جدوجہدوں کا ایندھن غریبوں کے بچے بنے مڈل کلاسیوں نے (تینوں طرح کے) اپنی دنیا سنوارنے پر توجہ مرکوز رکھی موقع ملتے ہی دنیا سنوار لی۔ مطلب یہ کہ ایک سے بڑھ کر ایک خودغرض نکلا۔ یہاں کیا مڈل کلاس کا سوشلسٹ کیا جمہوریت پسند اور کیا اسلام پسند۔ جب کبھی کوئی اس ملک کی سیاسی تاریخ کے تینوں رُخوں پر لکھے گا وہ کچلے ہوئے طبقات کے بچوں کی نعشوں پر امارتیں اٹھانے والوں کے چہروں سے نقاب ضرور اتارے گا۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ چند دوستوں کے احترام میں یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ یہ شرم حیا عزت نظریات غیرت اصول صبر اور شکر سب کچلے ہوئے طبقات کے لوگوں کے لئے ہیں جو خود کو نظریاتی کارکن قرار دیتے ہیں۔ لیڈر الگ برانڈز کی مخلوقیں ہیں۔ عوام کے ساتھ کھڑا ہونا بہت مشکل ہے۔ پھانسی چڑھنا پڑتا ہے یا سڑک پر گولی کھانا پڑتی ہے۔

ایک ہمارے نوخیز انقلابی میاں نوازشریف ہیں۔ تین بار وزیراعظم بنے اور دو بار سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ حرام ہے کبھی ایک منصوبہ ایسا بنایا ہو جو عوام کے وسیع تر مفاد میں ہو۔ انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ روزگار کے مواقع بڑھائے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرے۔ اﷲ جانے کس نے انہیں بتایاکہ میٹروبس سے صبح کا ناشتہ پُلوں سے دوپہر کا کھانا اور سڑکوں سے شام کا کھانا بٹتا ہے؟ تین بار وزیراعظم بنے بتا دیجئے کہ تینوں ادوارمیں بین الاقوامی معیار کی کوئی ایک درسگاہ بناپائے ہوں کوئی ڈھنگ کا ہسپتال؟ درسگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر میں کمیشن کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہیں تو وہ منصوبے اچھے لگتے ہیں جو منفعت بخش ثابت ہوں ان کے لئے ملکی خزانہ بھاڑ میں جائے۔ لاہور میں فیڈربس سروس کے نام سے دو سو بسیں مختلف روٹس پر چلتی ہیں دوارب روپے کے قریب سالانہ سبسڈی ہوگی اس کی میٹرو کی سبسڈی کو گولی ماریں۔ چند دن قبل ان کالموں میں عرض کیا تھاکہ لاہور میں کوڑاکرکٹ جمع کرنے کا ٹھیکہ جس کمپنی کو دیا گیا ہے وہ اپنے قیام کے دن سے روزانہ کی بنیاد پر فراڈ میں مصروف ہے۔ کاش ہمارے پیپلزپارٹی والے دوست فراڈ کرنے کے جدید طریقے ہی سیکھ لیتے دوروپے کے کمیشن میں 100روپے کی ذلت نہ اٹھانا پڑتی انہیں۔
میاں صاحب کا انقلاب کیا ہوا؟ اس بارے زیادہ بہتر تو وہی بتا سکتے ہیں جو اس انقلاب کے دیوانے ہیں یا پھر کم بارکر نامی مغربی صحافی بتاسکتی ہے کہ انہیں کس قسم کا انقلاب پسند ہے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ پیپلزپارٹی مان کر نہیں دے رہی۔ ویسے اچھا ہے۔ پیپلزپارٹی کو اگر اپنی بچی کھچی سیاست عزیز ہے تو اسے (ن)لیگ سے سات کوس کے فاصلے پر رہنا چاہیے۔ جناب زرداری کے دورصدارت اور بعد کے برسوں میں ان کا ناقد رہا ہوں۔ محب اب بھی نہیں لیکن ان کی ایک بات پر دل میں ان کے لئے بہت احترام ہے کہ جب محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سندھ میں قوم پرستوں کے بعض حلقے پیپلزپارٹی کے جذباتی کارکنوں کو ساتھ لے کر پاکستان کے خلاف اور سندھو دیش کے حق میں نعرے لگارہے تھے تو انہوں نے پوری قوت کے ساتھ پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔ یہ ان کا بڑاپن تھا۔ ان کے مقابلہ میں میڈ اِن پاکستان کہلانے اور 13اگست کی تاریخ پیدائش کو پہلی وزارت عظمیٰ کے دور میں 25دسمبر میں تبدیل کروانے والے میاں نوازشریف ہیں۔ انہیں یہ زعم ہے کہ انہیں اقتدار سے نکالنے والے سانحہ کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ کبھی کبھی ان پشتون اور بلوچ قوم پرستوں پر حیرانی ہوتی ہے جو پچھلے کچھ عرصہ سے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایک پنجابی لیڈر اسٹیبلشمنٹ سے لڑنے کے لئے میدان میں اترا ہے اس کا ساتھ دیا جانا چاہیے۔ بالکل دینا چاہیے نوازشریف کا ساتھ تاکہ وہ ماضی کی طرح سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر کوئی این آر او کرے اور نکل لے۔ لاریب ووٹ کا تقدس اور پارلیمان و آئین کی بالادستی کا احترام اس ملک کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ جان کی امان ہوتو دریافت کرلوں دومرتبہ جھرلو برانڈ انتخابات (1990ءاور 1997ئ) اور تیسری مرتبہ سمجھوتہ برانڈ انتخابات کے ذریعے اقتدار پانے والے نوازشریف کو ماضی میں تینوں بار ووٹ کا تقدس یاد کیوں نہ رہا؟ ہم سے طالب علم بھی معافی نامے کے عوض خریدی گئی دس سالہ جلاوطنی کے دنوں میں دیئے گئے ان کے انٹرویوز اور بیانات سے یہ سمجھتے تھے کہ میاںصاحب تبدیل ہوگئے ہیں اب اگر کبھی اقتدار میں آئے تو ایک نئے نوازشریف ثابت ہوں گے۔ اﷲ کا شکر ہے کہ انہوں نے اپنے قول و عمل سے ہمیں غلط ثابت کردیا۔ جس سازش اور سمجھوتے سے انہوں نے اقتدار لیا اسی نے ثابت کردیاکہ ان کے اندر کا وہ نوازشریف زندہ و تابندہ ہے جو ہر قیمت پر اقتدار کا طلبگار ہے۔
میرے بہت سارے دوست ان دنوں جناب نوازشریف کی محبوبیت کے دیوانے ہیں۔ اخلاق مرزا سے ساجد رضا تھہیم تک سب کا خیال ہے کہ حسن جمہوریت کا حق یہ ہے کہ اپنا وزن نوازشریف کے پلڑے میں ڈالا جائے۔ ان دوستوں کی جمہوریت سے محبت پر شک نہیں لیکن نجانے ان کی سادہ دلی پر جی کیوں کُڑھتا ہے۔ وہ شخص کیسے جمہوریت پسند ہوسکتا ہے جو ماڈل ٹاﺅن میں منہاج القرآن کے کارکنوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے۔ سادہ لفظوں میں یہ جو شخص اور خاندان اپنے مخالفین کو سبق سکھانے کے لئے پولیس کی وردیوں میں ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے کارکنوں کا لشکر قانون کے رکھوالوں کے ساتھ منہاج القرآن پر چڑھا دے اور 14انسان (دو عورتوں سمیت) جان سے چلے جائیں اس شخص اور خاندان کو جمہوریت پسند اور انقلابی سمجھنے والوں کے لئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔ دوروز قبل ایک نون لیگی رکن قومی اسمبلی دوست کہہ رہے تھے شاہ جی تم نوازشریف سے صرف اس لئے نفرت کرتے ہوکہ اس نے تمہارے بھائی کو پی آئی اے سے نکالا تھا۔ عرض کیا خدا غارت کرے اگر اختلاف کی وجہ یہ ہو۔ تاریخ اور سیاسیات کے ایک طالب علم اور عوامی جمہوریت کے عاشق کی حیثیت سے نوازشریف کو کبھی بھی جمہوریت پسند نہیں سمجھا اور شکر ہے انہوں نے بھی جمہور کی قبریں کھودنے میں کبھی تامل نہیں برتا۔ جناب نوازشریف جنرل ضیاءالحق کی غیرجماعتی سیاست کی پیداوار ہیں۔ سیاسی برداشت اور جمہوری فہم سے آج بھی ناآشنا ہیں۔ اس لیگی دوست سے عرض کیا چلیں آپ بتادیں آپ کے جمہوریت پسند انقلابی رہنما نے پچھلے چار برسوں کے دوران پارلیمان کو کتنا وقت دیا اور جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے کتنی قانون سازی کروائی؟ حرفِ آخر یہ ہے کہ یہی نوازشریف خریدی گئی جلاوطنی کے دنوں میں ہر عید پر کہا کرتے تھے عید کے دن اپنا گھر اور وطن بہت یاد آتے ہیں۔ آپ ہی بتادیں پچھلے چار برسوں کے دوران انہوں نے کتنی عیدیں اپنے گھر اور وطن میں منانا پسند کیں اور کتنی دیارِغیر میں منائیں؟ میرے محترم دوست کا جواب تھا ساری باتیں درست ہیں مگر جمہوریت کے لئے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ ایسے سادہ دل شخصیت پرستوں کو بندہ کیا کہے جو بضد ہوں کہ دو جمع دو سات بنتے ہیں؟

بشکریہ: روزنامہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
489
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. شاندار کالم جیو سیدی

جواب دیجئے

%d bloggers like this: