Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ابھی اور تماشے ہوں گے میرے حضور! | حیدر جاوید سید

ابھی اور تماشے ہوں گے میرے حضور! | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

بارشوں کی حالت بھی مسلم لیگ (ن) کے ترقیاتی منصوبوں جیسی ہے کہیں اربوں روپے پھینک دیئے کہیں ”دمڑی“ بھی نہیں۔ پرانی کہاوت ہے ”ساون کی بارش بیل کے ایک سینگ پر ہوتی ہے دوسرا پیاسا“۔ ساون کی بارشوں اور حبس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ سیاست کاری بھی ”چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی“ کے مصداق معاملہ ہے۔ ایسا نفع بخش کاروبار اور کیاہے کہ لگ بھگ چالیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں حاضر و غائب جائیدادوں کے ساتھ بندہ کبھی کبھی قریبی رشتہ داروں کو بھی بھول جائے۔ ویسے سیاست ہے بہت ظالم۔ جو لوگ سوچ سمجھ کر نہیں بولتے ان کا بولا کبھی کبھی منہ پر آن پڑتا ہے۔ واقعات بہت ہیں اس بات کو سمجھانے کے لئے مگر رہنے دیجئے۔ غمِ جمہوریت اور حبس کو عالمی سازش سمجھ لیجئے۔ کچھ محترم اور محبوب دوست پیپلزپارٹی پر تنقید کی صورت میں ”ڈانگاں“ نکال لیتے تھے ان دنوں نوازشریف کی محبت کے اسیر ہیں۔ نون لیگی دوست الگ سے ناراض ہیں۔ اس صورتحال میں کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وہ سارے لوگ جو قومی جمہوریت یعنی عوام کے حق حکمرانی کی محبت میں کئی عشروں سے مبتلا ہیں وہی غلط ہیں۔ باقی کوئی غلط نہیں۔ ہمارے یہاں شخصیت پرستی ہمیشہ مرغوب رہی۔ ممدوح کے کج بھی حسن لازوال کی طرح پیش کئے جاتے ہیں۔ کوئی ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اس کے ممدوح میں رتی برابر بھی نقص ہوسکتا ہے۔ہمارے ممدوح حضرت مولانا فضل الرحمن نے فرمایا دھمکیوں کے باوجود شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دیں گے۔ قبلہ آپ دبنگ آدمی ہیں۔ ذرا 1973ءکے آئین کے تناظر میں دھمکیاں دینے والوں کے چہروں سے پردہ تو ہٹا دیجئے۔ فقیر راحموں نے اس پر جو تبصرہ کیا وہ یہاں لکھنے سے معذرت۔ بلاوجہ کا فساد مول لینے کی ضرورت کیاہے۔ محترمہ عاصمہ جہانگیر فرماتی ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کی دفعہ 184 کے تحت فوج کا آڈٹ کروائے ناک سے لکیریں کھینچتی ہوئی سلام کرنے جاؤں گی۔ محترمہ کی خدمت میں عرض ہے ”نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا کی دھمال“۔ پرانی کہاوت میں ترمیم پر معذرت کہ حدِادب بھی کوئی چیز ہے۔

جناب نوازشریف کی دختر نیک اختر مریم صفدر نے سوشل میڈیا پر لکھا ”ہم پھر آئیں گے روک سکو تو روک لو“۔ ظاہر ہے ناخواندہ‘ قومی جمہوریت اور عوام کے حق حکمرانی کے فیض سے محروم گردن تک طبقاتی نظام میں دھنسے ہوئے سماج میں کون روکے گا؟ ایک طریقہ ہے سیاست کاروں اور ہمہ قسم کے دھندے بازوں سے جان چھڑانے کا وہ ہے علم و شعور کی برکتوں کا عام کیا جانا۔ (یاد رکھئے علم و شعور عرض کیاہے اسناد والی تعلیم اور ہٹ دھرمی نہیں)۔ ستر سال کا حساب کرلیجئے علم و فہم کے بڑھاوے کے لئے کسی حکومت نے کچھ کیا؟ کیوں کرتے۔ غلاموں سے محرومی کے عذاب شوق سے کون پالتا ہے۔ جی بہلانے کے لئے تو میرے لائقِ احترام دوست قمرزمان کائرہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ بھارت‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ میں عمومی مزاج یہی ہے یعنی شخصیت پرستی۔ سوال یہ ہے کہ اس مزاج کو بدلنا کس کی ذمہ داری تھی؟ سچ یہ ہے کہ سب کی اجتماعی۔ سو اس حساب سے ہم نسل در نسل اگلی نسلوں کے مجرم ہی قرار پائیں گے۔ خیر جانے دیجئے کیا بورنگ قسم کی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں۔ ہم کون سا ظالم اور مظلوم بدلنے میں وقت لگاتے ہیں۔ کل کے ظالم آج مظلوم ہیں اور باقی کا قصہ رہنے دیجئے۔ قصوں میں رکھا بھی کیا ہے۔ جب سوچ یہ ہوکہ سب اﷲ کی دین ہے اور اس سوچ سے کرپشن کو بھی تقدس کا لبادہ پہنا دیا جائے تو دیواروں سے سر پھوڑنے کا فائدہ؟ مسلم لیگ (ن) کے اندر بھی کچھ لوگ پچھلے چند دنوں سے دیواروں سے سرپھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہی عبوری انتظام کی مخالفت کرتے ہوئے بھرے اجلاس میں کہا تھاکہ اگر کسی بھی عام رکن کو آئندہ انتخابات تک پارٹی قیادت سونپی جائے تو اچھا تاثر پیدا ہوگا۔ کہنے والوں کی طرف بھائیوں کی جوڑی نے غضب ناک آنکھوں سے دیکھا۔ پھر فیصلہ مالکوں کی مرضی سے ہوا۔ واہ جی واہ۔ پارٹی مالکوں کے فیصلے من و عن قبول اور دوسرے مالکوں کے؟ سو سو اعتراضات۔ ان دوستوں پر بہت حیران ہوتا ہوں جو سمجھاتے ہیں کہ اس طبقاتی بندربانٹ والے نظام کو چلنے دو یہیں سے جمہوریت کا چشمہ پھوٹے گا۔ چلیں اس مقام کو تلاش کرتے ہیں جہاں سے جمہوریت کا چشمہ پھوٹنا ہے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ میاں شہبازشریف کے 45 دنوں بعد (شاہدخاقان عباسی کے حلف اٹھانے کے دن سے) وزیراعظم بننے کی صورت میں پنجاب کے اگلے وزیراعلیٰ کے لئے جھولی چُک قبیلہ حمزہ شہباز کو فیورٹ قرار دے رہا ہے مگر خود شریف فیملی اس حوالے سے یکسو نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ جناب میاں شہبازشریف سرتوڑ کوششوں کے باوجود معاملات طے کروانے میں ناکام رہے۔ اب صورت یہ ہے کہ بڑے میاں (میاں نوازشریف) کے بچے چاہتے ہیں کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ اور نون لیگ کا سربراہ بیگم کلثوم نواز کو بنایا جائے۔ قومی و پنجاب اسمبلی کا مؤثر گروپ ان کی تائید کررہا ہے۔ بیگم صاحبہ براہ راست کسی الزام کی زد میں نہیں ماسوائے چند امور کے ان میں سے اہم ترین یہ ہے کہ ان کے دستیاب وسائل اور جائیداد میں اضافے سے پیدا ہوئے ابہام کیسے دور ہوں گے۔ مریم صفدر سمجھتی ہیں کہ پہلے وزیراعظم میرے والد تھے تو چچا وزیراعلیٰ تھے اب چچا وزیراعظم بنتے ہیں تو وزارت اعلیٰ ہمیں رکھنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:   سامراجی زوال کا نوشتۂ دیوار!-ڈاکٹر لال خان

ان سارے قصوں کہانیوں اور دوڑتی بھاگتی خبروں کے بیچوں بیچ عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر طاہرالقادری بھی 8اگست کو وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے ہزاروں کارکنوں نے انہیں خط لکھا ہے کہ وہ وطن واپس آئیں اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے تحریک قصاص کے دوسرے دور تخت یا تختہ کا اعلان کریں۔ اس عاجز کی اطلاع یہ ہے کہ عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے بڑے تحریک قصاص کے دوسرے مرحلہ کا نقشہ بنا چکے۔ غالب امکان یہی ہے کہ ڈاکٹر قادری کی وطن واپسی پر اس کا اعلان کردیا جائے گا۔ ان کے کارکنان لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے انصاف یا شہادت کا نعرہ لگاتے ہوئے دھرنا دیں گے۔ مطالبات فقط دو ہوں گے اوّلاً جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی اشاعت اور سفارشات پر بلاتاخیر عمل‘ ثانیاً سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر میں نامزد کئے گئے نون لیگ کے رہنماؤں اور بیوروکریٹس کی فوری گرفتاری۔ عوامی تحریک کا کہناہے کہ سابق آئی جی پنجاب نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس مقدمے کی جانبدارانہ تفتیش سے انصاف کی فراہمی کے راستے میں رکاوٹ ڈالی اس لئے انہیں بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ طاہرالقادری وطن واپسی پر اپنے چار جماعتی اتحاد کو فعال بناتے ہوئے اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ یہ چار جماعتی اتحاد مستقبل کے لئے انتخابی اتحاد کی صورت لے لے۔ بہرطور انتظار کیجئے۔ اگلے چند دنوں میں جہاں عوامی تحریک میدان میں اترنے والی ہے وہیں تحریک انصاف کے قانون دان وزیراعظم نامزد ہوئے شاہدخاقان عباسی اور شہبازشریف کے بعض معاملات کو لے کر عدالتوں سے رجوع کرنے والے ہیں تو اسی دوران پیپلزپارٹی بھی بعض معاملات پر قانون و سیاسی محاذ پر فعال ہونے کےلئے پَر تول رہی ہے۔ بعض ”نامعلوم“ افراد کا دعویٰ ہے کہ نون لیگ کے لئے آنے والے دن زیادہ خوشگوار ثابت نہیں ہوں گے۔ انتظار کیجئے ”غیب“ سے کیا ظہور ہو البتہ ایک بات ہے طبقاتی نظام کی بنیادیں اکھیڑنے کا جو موقع مل رہا ہے اس سے لوگوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو ماضی سے بھی بدترین استحصال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   انسانوں کی ضرورت ہے دولے شاہ کے چوہوں کی نہیں | حیدر جاوید سید

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
782
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: