Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

شہرِ مادرِ مہربان ملتان میں دو دن | حیدر جاوید سید

شہرِ مادرِ مہربان ملتان میں دو دن | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

پچھلے دو دن جنم شہر ملتان میں گزرے۔ اماں حضور کی تربت کا بوسہ لیتے وقت کچھ آنسو آنکھوں سے نکلے اور اماں حضور کی تربت میں جذب ہوگئے۔ ایسے لگاکہ اماں کہہ رہی ہوں ”میرے بچے حیاتی کا سفر حوصلے کے ساتھ طے کرتے ہیں۔ آنسو سنبھال کر رکھو“۔ عرض کیا آنکھوں نے تربتِ مادر کو سلامی پیش کی ہے۔ اماں بولیں اولاد کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ماﺅں کا جگر کٹتا ہے۔ ڈھیروں دعائیں جھولی میں سنبھالے تربت مادرِگرامی سے رخصت ہوا۔ ملتان سے میری محبت کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ میرا جنم شہر ہے۔ دوسرا یہ کہ زمانے میں شناخت کا حوالہ ہے اور تیسری وجہ اس شہر کے ایک قبرستان میں اماں حضور مٹی کی چادر اوڑھے سورہی ہیں۔ جب بھی مہینوں کے وقفے سے ملتان کے لئے عازم سفر ہوتا ہوں اولین کام پہلے اماں حضور کی قدم بوسی ہوتا تھا اور ان کے سانحہ ارتحال کے بعد ان کی تربت کا بوسہ لینا ہے۔ اماں حضور کہا کرتی تھیں اولاد کے دکھ ماں کو بے چین رکھتے ہیں۔ کم ازکم میں ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ ماں تربت میں بھی آرام کررہی ہوتو اولاد کے لئے اپنے رب کے حضور درخواست گزار رہتی ہے۔ اس بار کے سفر ملتان کی ایک وجہ سرائیکی لوک سانجھ کے سیمینار ”آج کی سیاست اور سرائیکی وسیب“ سرائیکی پارٹی کے قومی کنونشن میں شرکت تھی۔ پاکستان سرائیکی پارٹی ہمارے محبوب و محترم دوست سئیں بیرسٹر تاج محمد لنگاہ نے قائم کی تھی۔ تاج محمدخان لنگاہ زمانہ طالب علمی میں ذوالفقار علی بھٹو کے عشق میں مبتلا ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ 1970ءکے عام انتخابات میں انہوں نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر کونسل مسلم لیگ کے سربراہ ممتاز احمد خان دولتانہ کے مقابلہ میں انتخاب میں حصہ لیا اور چند سو ووٹوں سے ہار گئے۔ 1977ءمیں انہوں نے خورشید حسن میر کے ساتھ مل کر عوامی جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی۔ عوامی جمہوری پارٹی کے منشور میں سرائیکی بولنے والوں کو الگ قومی اکائی کی حیثیت دی۔ بعدازاں انہوں نے سیٹھ عبدالرحمن‘ ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ‘ قاری نورالحق قریشی اور دیگر اہل وسیب کے ہمراہ سرائیکی صوبہ محاذ کی بنیاد رکھی۔ چند برس اس پلیٹ فارم سے سرگرم عمل رہنے کے بعد انہوں نے سرائیکی قوم کی پہلی باضابطہ سیاسی جماعت پاکستان سرائیکی پارٹی کے نام سے قائم کی۔ پاکستان سرائیکی پارٹی نے وسیب میں قومی شعور اور سرائیکی صوبے کے حصول کے لئے جدوجہد کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ لنگاہ صاحب نے عمر بھر گھر پھونک کر چراغ جلائے رکھا۔ سرائیکی وسیب کو وفاق پاکستان میں الگ صوبائی اکائی کا تشخص دلانے کے لئے انہوں نے جو پُرعزم جدوجہد کی وہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

چند برس قبل ان کی بے وقت وفات سے سرائیکی قوم پرستی کی سیاست میں جو خلا پیدا ہوا اس سے قوم پرست سیاست کے لئے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ 6اگست کو ملتان میں منعقد ہونے والے سرائیکی پارٹی کے قومی کنونشن کے انعقاد سے یہ تاثر دم توڑ گیاکہ پی ایس پی ختم ہوگئی ہے۔ میری رائے میں سرائیکی پارٹی کے نئے دور کا آغاز اس کے بہتر مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ وسیب بھر کی بھرپور نمائندگی اور پارٹی کے عہدیداران کا انتخاب خوش آئند ہے۔ سرائیکی قوم پرستوں اور بالخصوص سرائیکی پارٹی کو اَن گنت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قوم پرستی کی سیاست پھولوں کی سیج ہرگز نہیں۔ ایک اہم مسئلہ وسیب میں آباد دیگر طبقات اور برادریوں کے اعتماد کی بحالی ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سرائیکی قوم پرستی کی سیاست تنگ نظر لسانیت پرستی کے بجائے وسیب بھر کے لوگوں کا اعتماد حاصل کرکے بھرپور کردار ادا کرے۔ طالب علم کو بہت حیرانی ہوتی ہے جب پشتون‘ بلوچ اور سندھی قوم پرستوں سے اتحاد کرنے اور کبھی کبھی فرقہ پرستوں کے ناز اٹھانے والی وفاق پرست سیاسی جماعتوں کے بعض رہنما سرائیکی قومی سوال کو حب الوطنی کے اپنے مقررہ معیار سے جانچنے کی سعی فرماتے ہیں۔ حضور سرائیکی بھی دوسری قومی اکائیوں کی طرح کی ایک اکائی ہیں۔ اگر چترال اور ہندکو بولنے والے اپنا لسانی تشخص چھوڑے بغیر پشتون ولی کی سیاست اور قوم پرستی کا حصہ بن سکتے ہیں تو سرائیکی وسیب میں پنجابی اور اردو بولنے والے اپنی لسانی شناخت سمیت سرائیکی قوم پرستی کی سیاست اور قومی اکائی کا حصہ کیوں نہیں بن سکتے؟ سرائیکی پارٹی کے مرکزی و علاقائی عہدیداران کے چناﺅ میں نئی نسل کو بھرپور نمائندگی دینے کے ساتھ طلباء‘ یوتھ‘ کسان‘ مزدور‘ خواتین اور لائرز ونگ کا قیام مثبت فیصلہ ہے۔ پارٹی کی نئی قیادت کی جدوجہد اور فکر ہی فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں معاون ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:   جمشید دستی ہوش محمد شیدیؒ ہرگز نہیں مگر ۔۔۔ حیدرجاوید سید

سرائیکی لوک سانجھ کا قیام اس وقت عمل میں آیا تھا جب ملک کے طول و عرض میں تیسرے مارشل لاءکا ڈنکا بج رہا تھا۔ مظہر عارف‘ عزیز نیازی ایڈووکیٹ‘ مقبول انیس‘ سید حسن رضا بخاری‘ رضوشاہ‘ استاد فداحسین گاڈی اور دوسرے روشن خیال لوک سانجھ کے بانیوں میں شامل ہیں۔ مارشل لاءکے جبر اور تاریک رات میں لوک سانجھ نے فہم و شعور کے جو چراغ جلائے اس سے انکار کج بحثی کے سوا کچھ نہیں۔ میرے کچھ دوست سرائیکی لوک سانجھ کو وسیب میں پیپلزپارٹی کا ہراول دستہ قرار دیتے ہیں ان کی رائے پر بحث مقصود نہیں البتہ ہم لوک سانجھ کے علمی‘ ثقافتی اور شعوری ترویج کے لئے خدمات کو محض اس لئے نظرانداز نہیں کرسکتے کہ لوک سانجھ میں ماضی یا اب کچھ لوگ پیپلزپارٹی کے سوا کچھ دیکھتے سنتے نہیں۔ لاریب کسی بھی علاقے کے لوگوں یا ایک غیرسیاسی تنظیم کے ارکان کو اپنے سیاسی تعلق بارے کامل حق ہے البتہ اپنے حق کو دوسروں کےلئے تقلید کے طور پر واجب سمجھنا درست نہیں۔ لوک سانجھ کے دوستوں کی دعوت پر طالب علم نے بھی سیمینار میں اظہارخیال کیا۔ دوستوں کی خدمت میں عرض کیاکہ سرائیکی صوبہ کے نام سے ایک نئی وفاقی اکائی کا قیام نہ صرف بہت ضروری ہے بلکہ سرائیکی وسیب کے قومی و سیاسی شعور اور لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی ضروری۔ البتہ ہمیں وسیب میں آباد دوسری زبانیں بولنے والوں کے تحفظات دور کرنا ہوں گے اور ان کی خدمت میں یہ عرض کرنا ہوگا کہ جب ہمارے مفادات مشترکہ ہیں‘ گلی محلوں میں گھروں کی دیواریں اور قبرستانوں میں قبریں ساتھ ساتھ ہیں تو عملی زندگی میں اشتراک کے اس حسن سے محروم کیوں ہیں۔ اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سرائیکی لوک سانجھ ایک قدم آگے بڑھ کر وسیب میں موجود سرائیکی پارٹیوں کے لئے تھنک ٹینک کا کردار ادا کرے۔ نئی نسل کی نظریاتی اور سیاسی تربیت کے لئے ہر ضلع کی سطح پر تربیتی کیمپ منعقد کئے جائیں۔ اندھی لسانیت پرستی کے بجائے قومی شعور کو پروان چڑھانے کے لئے اہل دانش اپنا کردار ادا کریں۔ یہ بھی عرض کیاکہ لوک سانجھ اور قوم پرست جماعتیں کسی وفاقی پارٹی کی غیرمشروط حمایت کے بجائے ان سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے ذریعے سیاسی معاہدے پر زور دیں اور جو سیاسی جماعت سرائیکی وسیب کے لوگوں کے حقوق کے تحفظ اور وفاق پاکستان میں نئی صوبائی اکائی کے طور پر قبول کرنے کی یقین دہانی کرائے اس کی سیاسی اور انتخابی محاذ پر تائید کی جائے۔ نوجوان دوست محبوب تابش نے پھبتی کسی ”نکاح میں بھی دستاویزات کی لکھت پڑت ہوتی ہے مگر طلاقیں بھی ہوتی ہیں“۔ بہت احترام کے ساتھ عرض ہے کہ سیاسی معاہدے سیاسی جدوجہد کے دوران ہوتے ہیں معاہدے ہوتے ہیں ٹوٹتے ہیں مگر ان معاہدوں کی تاریخی و سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بنیادی بات جو کم ازکم مجھے سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ بہت سارے دوست پیپلزپارٹی کے عشق میں مبتلا ہیں اور اس کے سوا کوئی بات سننے کو تیار نہیں جبکہ میری دانست میں لوک سانجھ وسیب کے اہل دانش کا کٹھ ہے پیپلزپارٹی کی ذیلی تنظیم نہیں۔ اس لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ دوستوں کے خیالات پر پھبتیاں کسنے سے اجتناب کیا جائے۔ پیپلزپارٹی یا دوسری وفاق پرست جماعتوں کی حیثیت سے انکار نہیں مگر یہاں معاملہ قومی حقوق اور الگ اکائی کے حصول کا ہے اس کے لئے بے دام غلامی زہرقاتل ہوگی اور پُرعزم جدوجہد وسیب کے لوگوں کو کامیابیوں سے ہمکنار کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:   انتہا پسندی کیسے پھیلتی ہے؟ - خورشید ندیم

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
659
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: