Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمارے محبوب وزیراعظم | حیدر جاوید سید

by جولائی 21, 2017 کالم
ہمارے محبوب وزیراعظم | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

محمود غزنوی دوئم قائداعظم ثانی مہابلی ریاست ہائے جاتی امراءہمارے محبوب وزیراعظم میاں نوازشریف پر ان دنوں وقت اچھا نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ جے آئی ٹی کے ارکان کے خلاف پینوراما سنٹر کے باہر والے سائیکل سٹینڈ سے سائیکل چرانے کا مقدمہ درج کروا دیتے۔ ایک نکاتھانیدار کافی تھا سائیکل برآمد کروانے کے لئے۔ کتنی خدمت کی انہوں نے سڑکیں‘ پُل‘ موٹروے‘ میٹروبس‘ کوئلے سے چلنے والے متروک بجلی گھر‘ قائداعظم سولرانرجی پارک‘ کون کون سی خدمت اور ترقیاتی منصوبہ گنواؤں پر صاحب یہاں کس کو قدر ہے۔ یہ جو پانامہ سکینڈل ہے اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت کے خلاف یہود و ہنود کی سازش ہے۔ غضب خدا کا یہ قوم اتفاق فونڈری کی عظیم الشان خدمات تک بھول گئی۔ 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں کیسے دن رات ایک کرکے ملک کی دفاعی ضرورتیں اس فیکٹری نے پوری کیں۔ جیپیں‘ بندوقیں‘ گولیاں‘ چھوٹے دکھائی نہ دینے والے بمبار طیارے کیا کیا بناکر نہیں دیا۔ جواب میں ہمارے قائدِمحترم کو کیا ملا؟ 1972ءمیں بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کی پالیسی نے سڑک پر لاکھڑا کیا۔ پیسہ پیسہ جوڑکر پھر سے کاروبار شروع کیا۔ پیپلزپارٹی تو ازلی دشمن ہے شریف خاندان کی۔ یہ عمران خان کو کیا ہوا کیوں ایک شریف النفس حکومت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گیا ہے؟ ماڈل ٹاؤن میں اگر طاہرالقادری اپنے کارکنوں کو جمع نہ کرتے تو پولیس اور پولیس کی وردیوں میں جھنگ فیصل آباد سے لائے غنڈوں کو بچانے کے لئے فائرنگ نہ کرنی پڑتی۔ سچی بات یہ ہے کہ اپنے کارکنوں کے قتل کے ذمہ دار طاہرالقادری ہیں۔

مسائل‘ پروپیگنڈے اور آدھے پونے کچے پکے الزامات کا میاں صاحب نے اتنا اثر لیاکہ جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران اپنے خالو محمد حسین کو اڑھائی گھنٹے تک نہ پہچان پائے۔ جس شخص کے چار بائی پاس ہوئے ہوں اسے تو ہروقت خوش رکھنا چاہیے۔ پر عجیب لوگ ہیں اپنے ہی وزیراعظم کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑگئے۔ اتنا معصوم اور ملک دوست وزیراعظم کہ حلف اٹھانے کے سال بھر بعد تک بھی دبئی کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتا رہا دس ہزار درہم ماہوار پر تاکہ گھریلو اخراجات اور غیرملکی دوروں کا بوجھ قومی خزانے پر نہ پڑے۔ حد ہے‘ ان لوگوں کو کون سمجھائے ؟کیسے خاندان کے ہر چھوٹے بڑے نے ملک کے پیسے سنبھالنے کے لئے ملکوں ملکوں دھکے کھائے۔ بے قدری کا عالم یہ ہے کہ جو شخص بھاری ایٹمی پانی کو اتفاق فونڈری کے آتش کدوں پر خود گرم کرتا ہو اور پھر بم کے خولوں میں ڈالتا رہا اس کی محنت و قربانی کو بھول بھال کر الزام لگا رہے ہیں۔ اپنا بچپن‘ جوانی اور ادھیڑعمری سب نچھاور کیا لیکن جواب میں ملا کیا۔ پہلی وفاقی حکومت کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئی‘ دوسری طیارہ اغواءکرنے کے الزام میں۔ اب پانامہ نکل آیا ہے۔ لو یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ یہاں کرپشن کون نہیں کرتا ایک عام خوانچہ فروش سے بڑے تاجر اور صنعتکار تک۔ سب کے ہاتھ منافع خوری میں نیلے ہیں۔ تیس سال ہوگئے خدمت کرتے‘ حکومتوں میں رہ کر اچھا صلہ دیا ہے اس خدمت کا ترقی کے لئے دن دیکھا نہ رات۔ کام‘ کام‘ کام اور پھر بھی کام۔ اتنا کام کیاکہ دل کے چار بائی پاس کروانے پڑے۔ یہ جو وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں کیا کیا ان سب نے ملک کے لئے؟ کوئی گلی بنائی‘ پُل‘ بھول گئے لوگ پیپلزپارٹی کے دوراقتدار کو‘ ظلم یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں جن کے لئے کالاکوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں گئے تھے ”وہ“ ہی اب پرانی فائلوں سے ریکارڈ نکال کر دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب سیاست ہے ہی کاروبار تو پھر مال کمانے کا الزام صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان پر کیوں۔ کسی اور کے پاس اسحاق ڈار جیسا تجربہ کار منشی نہیں تو حسد کس بات کا۔ ہر کسی کو یہ توفیق اور سعادت نہیں ملتی۔ احتساب کرنا ہے تو سب کا کریں۔ کھولیں ستر سال کے بہی کھاتے۔

یہ بھی پڑھئے:   سیاسی قیادت کو عوام کے اعتماد پر پورا اترنا چاہیئے | انور عباس انور

اچھا کیا کرپشن کے لئے محنت نہیں کرنا پڑتی؟ عوام کو سوچنا چاہیے اگر وزیراعظم کرپٹ ہوتے یا ان کے خاندان نے ہیراپھیری کی ہوتی تو ہربات کو 1973ءکے آئین کے تناظر میں دیکھنے والے قائدِانقلاب اسلامی مولانا فضل الرحمن ان کی حمایت میں خم ٹھونک کر میدان میں اترتے؟ جے آئی ٹی کی 60روزہ تفتیش کے دوران معزز و محترم محب وطن خاندان کو کیسے کیسے نشانہ نہیں بنایا گیا۔ جن ثبوتوں کی بات کی جارہی ہے اس سے تین ٹرک زیادہ ثبوت ایک چھوٹا تھانیدار کسی بھی مبینہ ملزم کے خلاف جمع کرسکتا ہے۔ آزمائش شرط ہے۔ اس طویل تمہید کا مقصد یہ ہے کہ ایک شریف اور محنتی خاندان کی نیت و معاملات پر الزام کی دھول اڑانے والوں کو سمجھایا جائے۔ امریکہ اور اس کے سارے حواری بھارت سمیت سی پیک کے دشمن ہیں۔ شریفین حکومت کے خلاف سازش کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی ہے جو 47ارب ڈالر کا قرضہ لے کر 90ارب ڈالر واپس کرے۔ یہ وطن دوست کام فقط نوازشریف ہی کرسکتے ہیں۔ الزامات لگانے والوں کا کیاہے منہ پھاڑکر کچھ لوگ  ہلہ ڈیری فارمز ہتھیانے کا الزام وزیراعظم کے بھتیجے پر لگا دیتے ہیں۔ ذرا سرکاری ملکیت کے دنوں اور حمزہ کی ملکیت کے سال میں اس فیکٹری کے منافع کو دیکھ لیں۔ مردم ناشناس لوگ ہیں۔ تحریک خلافت سے آزاد عدلیہ تحریک تک درمیان میں کوئی پچاس ساٹھ تحریکیں تو چلی ہوں گی کس نے مالی وسائل کے دریا بہادیئے ان تحریکوں کو کامیاب کرانے کے لئے۔ ہمارے محبوب وزیراعظم صرف پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے سوچتے ہیں۔ وہ لوگ جو پاکستان جاتی امراءاور پاکستانی صرف اپنے خاندان کو سمجھنے کی پھبتی کستے ہیں چند روپے پلے سے خرچ نہیں کرسکتے اس ملک اور عوام کے لئے۔

یہ بھی پڑھئے:   جنابِ وزیراعظم! ان چند سوالوں کے جواب تو دیجئے | حیدر جاوید سید

وزیراعظم تو وزیراعظم ان کے سمدھی وزیرخزانہ اسحاق ڈار ہی خدمت خلق میں ثانی نہیں رکھتے۔ ہرسال ہزاروں دیگوں کا لنگر تو صرف داتا دربار پر دیتے ہیں۔ حسد کے مارے کچھ لوگ کہتے ہیں ڈار صاحب کے اباجی کی سائیکلیں مرمت کرنے کی دکان تھی۔ یہ نہیں سوچتے اس بھلے وقت میں سائیکل ہوتی کتنے لوگوں کے پاس تھی۔ محنت کرنے کے بجائے حسد کرنے والے شور مچارہے ہیں ترقی کے سفر کے دشمن ہیں۔ خدا ہی سمجھے ایسے لوگوں کو جو صرف سیاسی دشمنی میں الزامات کی دھول اڑا رہے ہیں۔ پاک چین گارمنٹ سٹی کے لئے ایکوائر کی گئی زمین بلاکاشت پڑی تھی چندسو ایکڑ اگر ٹھیکے پر بیگم کلثوم نواز صاحبہ نے لے لی تو کون سی قیامت آگئی۔ زمین پر فصل کاشت ہوگی‘ یہ فصل منڈی کے راستے عوام تک ہی تو پہنچے گی۔ سکول‘ کالج کے اخراجات سے پاؤنڈز بچاکر حسین نواز و حسن نواز نے لندن میں کاروبار کئے۔ خواجہ سعدرفیق کا پرائزبانڈ پاکستان میں نکل سکتا ہے تو کیا ان معصوم بچوں کی لاٹری لندن میں نہیں نکل سکتی۔ کیوں استعفیٰ دیں وزیراعظم۔ کون سا جرم کیاہے۔ کرپشن کے الزامات ہی تو ہیں ثابت کس نے کئے اور کیا دشمنوں کے ثابت کردہ الزامات کو درست مان لیا جائے۔ اتنے بھولے بھی نہیں۔ والیم 10 کا ڈراوا نہ دیا جائے۔ جس کا دل کرتا ہے کھول کر دیکھ لے۔ خالوجان محمدحسین نے اپنے پیر سے تعویذ لے کر دیئے تھے ترقی کے لئے۔ افسوس ہے کہ جس خاندان نے 70برسوں میں پاکستان کی ”خدمت ہی خدمت“ کی اس پر انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔ جمہوریت کے خلاف عالمی سازش کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ حرفِ آخر یہ ہے کہ وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن کی منگل کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں عمران پارٹی کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ مولانا کا دعویٰ ہے کہ ان کے منصوبے پر عمل شروع ہوتے ہی شیرپاؤ کی جماعت مخلوط حکومت سے نکل آئے گی۔ چلو اب بدلے میں بھگتو تحریک انصاف والو۔

Views All Time
Views All Time
887
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: