Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حضور! آپ میدان میں ڈٹے کب؟ | حیدر جاوید سید

by جولائی 19, 2017 کالم
حضور! آپ میدان میں ڈٹے کب؟ | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

طالب علم ہرگز حیران نہیں کہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے یہ کیوں کہاکہ ”میں نے دباؤ اور مشوروں کے باوجود جنرل پرویزمشرف سے این آر او نہیں کیا“۔ وہ بھول گئے غالباً کہ انہوں نے دس سالہ معاہدہ جلاوطنی ایک معافی نامے کے عوض ”خریدا“ تھا۔ ہماری تاریخ (پاکستان کی سیاسی تاریخ) بڑی عجیب ہے۔ رائے دہندگان کی اکثریت لوٹ مار‘ اقرباءپروری‘ اختیارات سے تجاوز‘ بالادست طبقات کی منہ زوری کی شکایات کا سیاپا کرتی رہتی ہے لیکن جیسے ہی بالادستوں کے احتساب کا موقع بنتا دکھائی دے تو سماج مختلف حصوں میں منقسم ہوکر اپنے اپنے پسندیدہ بُت کو پوجنے لگتا ہے۔ تاریخ اور عصری سیاست کے گھٹالوں پر ہر کس و ناکس اپنی پسند و ناپسند کی بنیاد پر بات کرتا ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں مگر ساعت بھر کے لئے رک کر اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر ریلوے حاجی غلام احمد بلور کے تازہ ارشاد پر بات کرلیتے ہیں۔ حاجی صاحب نے فرمایا ”نوازشریف نیازی نہیں جو ہتھیار ڈال دے۔ وزیراعظم لاہوری جیالے ہیں آخری وقت تک مقابلہ کریں گے“۔ کے پی کے میں آئندہ انتخابات کےلئے تین جماعتی اتحاد کے معاملات تین بڑوں کے درمیان طے پاچکے ہیں۔ اے این پی‘ جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ (ن) کے مالکان کے درمیان اصولی اتفاق رائے ہوچکا۔ تادم تحریر پیپلزپارٹی نے مولانا فضل الرحمن کی تجاویز کو سنجیدہ نہیں لیا اور جناب اسفند یارولی خان کو اس حوالے سے کئے گئے رابطے کے جواب میں کہا گیاکہ ابھی انتخابی اتحاد کی بات قبل ازوقت ہے اور محض تحریک انصاف کی مخالفت میں نون لیگ کے ساتھ یہ کیسے ممکن ہوگا؟ یہ پیپلزپارٹی کا جواب ہے لیکن دوسری طرف نون لیگ‘ اے این پی اور جے یو آئی (ف) مل کر اگلا الیکشن (صوبہ خیبرپختونخوا کی حد تک) لڑنے پر آمادہ ہیں۔ اس آمادگی کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر فوری وجہ تحریک انصاف سے بدلہ چکانا ہے اس لئے مولانا فضل الرحمن کی کراچی میں اخبارنویسوں سے گفتگو اور قابل احترام حاجی غلام احمد بلور کے ارشاد گرامی کو اس اتفاق کے حوالے سے ٹھنڈے دل سے پڑھئے کیونکہ سیاست اسی کو کہتے ہیں۔ جناب وزیراعظم کہتے ہیں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہیں نہیں لکھاکہ نوازشریف کرپشن میں ملوث ہے۔ بھولے بھالے اور سادہ دل وزیراعظم پتہ نہیں کرپشن کس کو کہتے ہیں؟ ویسے اگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو دریابرد کرکے فقط جاتی امراءوالی جاگیر خریدنے کے طریقہ کار پر ہی قانونی کارروائی ہوجائے یا اس امر پر کہ انہوں نے 2013ءکے انتخابی کاغذات نامزدگی اور اثاثوں و مالی مفادات کے ڈیکلیئریشن میں کبھی اس کا ذکر نہیں کیاکہ وہ دبئی کی کس کمپنی سے دس ہزار درہم ماہوار تنخواہ لیتے رہے وہ بھی 2014ءتک۔ وہ تو فرماتے ہیں کہ کرپشن کے ثبوت دیں۔

جے آئی ٹی رپورٹ کو کسی نے بھی سپریم کورٹ کا حکم قرار نہیں دیا۔ یہ ایک تحقیقاتی رپورٹ ہے اسی جے آئی ٹی کی جس کی تشکیل پر مسلم لیگ (ن) نے فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کی تھیں مگر پھر ہر گزرنے والے دن کے ساتھ لیگی رہنماؤں کا اندازِتکلم بدلتا گیا۔ اب صورت یہ ہے کہ ہر کریلا نیم پر چڑھا ہے اور وہ بھی دھوپ میں۔ مسلم لیگ (ن) پانامہ سکینڈل کو ملک کی ترقی کے خلاف سازش قرار دیتی ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران کتنی ترقی ہوئی (کہاں ہوئی کا سوال ہرگز نہیں) اگلے دن لاہور میں نصف گھنٹے کی بارش نے شہر کے جدید و قدیم علاقوں میں جو رونقیں لگائیں وہ وزیراعظم کے آبائی شہر کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے نون لیگ کے سارے میڈیا منیجر اور بھونپو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش کی جارہی ہے۔ ان بیانات پر عسکری حلقوں کے سنجیدہ ردعمل کے بعد ہی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنی جماعت کے رہنماؤں اور وزیروں کو عسکری اداروں اور عدلیہ بارے ذومعنی بیانات جاری کرنے سے منع کیا۔ جس بنیادی سوال کو مسلم لیگ اور خود شریف خاندان نظرانداز کررہا ہے وہ یہ ہے کہ اگر دامن اور ہاتھ واقعتاً صاف ہیں تو پھر اس طوفان بدتمیزی کی کیا ضرورت تھی جو نون لیگ کی نئی بھرتی والی مخلوق (وہ لوگ جو پرویزمشرف کے مزدا ٹرک سے اترکر نون لیگ کی بس میں سوار ہوئے) کی وجہ شہرت بھی ہے اور اسی کی وجہ سے شک یقین میں تبدیل ہوا۔ عین ممکن ہے کہ جناب نوازشریف اور ان کے خاندان کا دامن اور ہاتھ کرپشن سے پاک ہوں۔ انہوں نے اقتدار کو کبھی بھی خاندانی کاروبار اور وسائل بڑھانے کے لئے استعمال نہ کیا ہو اور ان پر سارے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہوں لیکن پرویزمشرف سے معاہدہ جلاوطنی کرتے وقت لکھے گئے معافی نامے کی پھر کیا ضرورت تھی۔ میاں صاحب کو اس وقت ڈٹ جانے کا حوصلہ کیوں نہ ہوا؟ صاف سیدھا جواب یہ ہے کہ پروپیگنڈے کے زور اور انعام و اکرام کی بارش (اس میں سرکاری کمرشل اشتہارات کی بارش بھی شامل ہے) سے ماحول کو سازگار بنالینے کے ہنر سے آگاہ شریف خاندان کے 1985ءاور 2017ءکے اثاثہ جات میں جو زمین و آسمان کا فرق ہے وہ اگر سوفیصد قانونی حیثیت رکھتے ہیں تو اس سوال کا جواب دینے میں کیا امر مانع ہے کہ حدیبیہ پیپر مل اور برطانوی بینک کے درمیان معاملات کیسے طے ہوئے اور رقم کہاں سے آئی تھی؟

یہ بھی پڑھئے:   امریکہ کا ویت نام سے افغانستان تک سفر اور بھٹو

10جولائی کو جب جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی اس دن سے اب تک جو ہاہاکاری مچی ہوئی ہے یہ کیاہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ آخر وزیراعظم ساری سازشی رام لیلا بیان کیوں نہیں کردیتے۔ بیان کرنے کا وقت کب آئے گا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس جمہوری نظام کی حفاظت کے لئے جان قربان کردینے اور آخری وقت تک لڑنے کے جس عزم کا اظہار کیا جارہا ہے یہ سب کیاہے۔ کیا وزیراعظم خود یہ نہیں سمجھتے کہ محاذآرائی کا کیا فائدہ ہوگا۔ ثانیاً یہ کہ کیا بالادست طبقات کی چھترچھایا بنے نظام کو جمہوریت مان لیا جائے گا۔ محض نام رکھ لینے سے کیا حاصل اصل چیز تو عمل ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران اس ملک کے عام شہری کو موجودہ نظام سے کیا فیض ملا۔ مہنگائی ہرگزرنے والے دن کے ساتھ بڑھی۔ بیروزگاری اور بدامنی میں اضافہ ہوا۔ پنجاب میں پولیس گردی کو دوام حاصل ہوا۔ یہ درست ہے کہ پچھلے 9برسوں (ان میں بھلے پانچ سال کی پنجاب حکومت بھی شامل ہے) کے دوران شریف خاندان اور سمدھیوں کے کاروبار نے بے پناہ ترقی کی۔ آسان سی بات یہ ہے کہ سابق سیکرٹری داخلہ قمرزمان کو نیب کا سربراہ لگاتے وقت وزیراعظم یہ جانتے تھے کہ قمرزمان بھی مدرسہ ضیاءالحق کے ہی تعلیم یافتہ ہیں اور نیب کے سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے ہم مدرسہ خاندان کے لئے بطریق احسن خدمات سرانجام دیں گے۔ غالباً اسی لئے نیب نے پچھلے چار برسوں کے دوران ہر اس ریفرنس پر نرم دلی کا مظاہرہ کیا جو شریف خاندان سے متعلق تھا۔ یہاں تک حدیبیہ پیپر والے کیس میں تو اپیل کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔ مکرر عرض ہے جناب وزیراعظم اور نون لیگ کو عدالتی عمل میں اپنی پاک دامنی ثابت کرنا ہوگی۔ جس طرزعمل کا مظاہرہ نون لیگ اور حکمران خاندان کررہا ہے اس سے یہ تاثر پختہ ہوتا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) تصادم کا راستہ سیاسی شہادت کے لئے اختیار کررہی ہے۔ لیگی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے حامیوں کا سڑکوں پر نکلنا مخالفین کو اشتعال دلائے گا جس سے چاروناچار ان قوتوں کو مداخلت کرنے کا موقع ملے گا جن کے بارے فی الوقت سازشیوں یا سازشوں کے پس پردہ کی بات کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:   جاوید ہاشمی اب مرضی کا سودا نہیں کرسکیں گے

کاش کسی دن جناب نوازشریف تنہائی میں بیٹھ کر یہ سوچیں کہ ان کے خاندان نے امرتسر سے ہجرت کرکے جس ملک میں مستقل قیام کیا اس ملک کے لئے ان کے خاندان نے کیا کیا۔ جانے دیجئے یہ کوئی سوچنے والی بات ہے۔ تیسری بار وزیراعظم بننے والے میاں نوازشریف کے دونوں صاحبزادوں کے پاس برطانوی شہریت ہے۔ چلیں یہ بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ اس خطے کی تاریخ یہی ہے۔ حکمران اکثر باہر سے آئے اور یہاں کے لوگوں نے انہیں نجات دہندہ قرار دے کر سرآنکھوں پر بٹھایا۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کہیں یہ پرانی باتیں ہیں۔ معین قریشی بھی تو آئے تھے جن کے والد اور والدہ کی قبریں انتظامیہ نے آئی بی والوں کی مدد سے قصور کے قبرستان میں تلاش کرلی تھیں۔ ہمارے وزیراعظم جب تیسری بار اقتدار میں آئے تو دس ہزار درہم ماہوار پر دبئی کی ایک کمپنی کے ملازم تھے۔ باہر سے آنے والی بات ہوئی یہ بھی۔ حرفِ آخر یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کا موجودہ دور پچھلے ادوار سے مختلف ہے نہ اس کا انجام مختلف ہوگا۔ لکھ کر رکھ لیجئے جناب نوازشریف کی بڑھکیں دراصل سودے بازی کے لئے ہیں ”اِک واری فیر شیر کی باتیں کرنے والے اور مخالفوں کو گالیاں دینے والوں کی اکثریت کو آپ اگلے دور میں کسی نئے دربار کا حاضرباش درباری پائیں گے“۔ البتہ فقیرراحموں حیران ہیں کہ نوازشریف نے یہ کیوں نہیں کہاکہ اﷲ‘ امریکہ‘ سعودیہ اور عوام ہمارے ساتھ ہیں؟

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
1017
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

One commentcomments

  1. RAZA MEHDI BAQARI

    انتہائی پر مغز بیانیہ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔۔۔۔۔۔جگ جگ جیو سیدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: