مائے نی میں کہنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی | حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

ساہیوال پہنچ کر ہمشیرہ کے گھر فون کیا۔ والدہ محترمہ سے بات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کون کون آرہا ہے تمہارے ساتھ؟ عرض کیا آپ کی بہو اور پوتی فاطمہ۔ بسم اللہ خیر سے آؤ میری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے بچے۔ انہوں نے رسیور میری بہن کو تھما دیا۔ ان سے کچھ باتیں ہوئیں۔ بہن نے تسلی دی۔ امی جان بہتر ہیں پہلے سے۔ فاطمہ کو دیکھ کر اور بہتر ہوجائیں گی۔ انشاءاللہ ہم دونوں کی زبان سے بے ساختہ ادا ہوا۔ تین دن قبل ہی ہفتہ بھر ملتان میں رہ کر واپس لاہور گیا تھا۔ امی حضور ہفتہ بھر سے نشتر ہسپتال کے شعبہ امراض قلب میں داخل تھیں۔ دل کا عارضہ انہیں برسوں سے لاحق تھا۔ معمول کا علاج بھی جاری۔ سکھر میں ایک سیمینار میں شرکت سے واپسی پر ان کی قدم بوسی کے لئے ملتان رُکا تھا۔ ہسپتال میں داخل ہوئے انہیں پانچواں دن تھا۔ پائینتی کی طرف کھڑے پاؤں دباتے ان کے چہرے کی زیارت کررہا تھا۔ انہوں نے اچانک آنکھیں کھولیں اور ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ ان کے بائیں طرف عیادت کرنے کےلئے آنے والی دو تین خواتین کھڑی تھیں۔ آہستہ سے انہیں کہا ذرا جاوید کو میرے پاس آنے دو‘ میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگیں گھر کا چکر لگا آؤ اور واپسی پر فاطمہ اور اس کی امی کو لیتے آنا۔ وہ ہفتہ کا دن تھا۔ ان کے اصرار بھرے حکم پر ماں کے قدم چھوئے اور روانہ ہونے لگا تو امی جان بولیں سوموار تک واپس آجانا۔ جی بہتر۔ بہنوں سے اجازت لے کر ہسپتال سے چلا آیا۔ سوموار کے بجائے منگل کی صبح لاہور سے ملتان کے لئے روانہ ہوا۔ بارہ ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ والدہ اور بہن سے ٹیلیفون پر بات ہوئی۔ تقریباً اڑھائی پونے تین بجے ملتان پہنچے۔ بس سٹینڈ پر کسی کو نہ پاکر بہت حیرانی ہوئی۔ ہمشیرہ کے دروازے پر پہنچ کر دستک دی۔ دروازہ کھلا تو سامنے بہن کھڑی تھیں۔ دیر کردی تم نے آنے میں۔ اس نے روتے ہوئے کہا۔ قدموں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میرے بہنوئی آگے بڑھے اور گلے لگاتے ہوئے بولے حکم ربی۔ سب مال اس کا ہے۔ بہن کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا دو گھنٹے قبل تو فون پر بات ہوئی تھی۔ آپ بھی کہہ رہی تھیں امی اب پہلے سے بہتر ہیں۔ پھر اچانک؟ آنسو دوپٹے کے پَلُو سے صاف کرتے ہوئے اس نے جواب دیا۔ ظہر کی نماز کے لئے وضو کررہی تھیں اس حالت میں اپنے رب سے ملاقات کے لئے روانہ ہوگئیں۔

اہلِ ملتان احترام بھرے انداز میں انہیں سیدہ عاشو بی بی کے نام سے یاد کرتے ہیں اب بھی۔ نصف صدی سے چند برس اوپر انہوں نے ملتان میں وعظ کی محفلوں سے خطاب کیا۔ میری نانی اماں اور بڑی خالہ مرحومہ بھی وعظ کیا کرتی تھیں۔ بی بیوں کا خاندان کہلاتا تھا ہمارا خاندان۔ کئی نسلوں سے وعظ میلادالنبی کی محفلوں میں (خواتین کے اجتماعات) خطابت کا سلسلہ جاری تھا۔ یہی تعارف تھا۔ والد صاحب پہلے فوج میں تھے۔ مولانا سید مودودیؒ اور مولانا عبدالستار نیازیؒ کو ختم نبوت کی تحریک (1950ءکی دہائی والی) میں سنائی گئی سزائے موت پر اپنے ردعمل کے سبب چند دوسرے افسروں کے ہمراہ فوج سے رخصت کردیئے گئے۔ انہوں نے کاروبار جمانے کی کوشش کی مگر الحمداللہ تینوں بار حصہ داروں کے ہاتھوں ڈسے گئے۔ بعدازاں سعودی عرب چلے گئے۔ غم روزگار انہیں گھر اور اولاد سے دور لے گیا۔ 1965ءاور 1971ءکی جنگ میں وطن واپس پہنچ کر اپنی خدمات فوج کو پیش کیں۔ دونوں بار جوش و جذبہ کے ساتھ ملکی دفاع میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔ جنگوں کے اختتام پر جیسے ہی حالات بہتر ہوئے وہ دونوں بار اپنی سعودی ملازمت پر چلے گئے۔ المونیم کی کھڑکیاں وغیرہ بنانے والی ایک سعودی فیکٹری میں منیجر تھے۔ ان کی فوجی ملازمت‘ کاروبار کے برسوں اور پھر سعودی عرب چلے جانے پر والدہ نے ہی گھر کے نگران اعلیٰ کے فرائض ادا کئے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت کے ساتھ وعظ کی محفلوں میں خطابت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ میں چونکہ دوسرے بہن بھائیوں کی طرح گھر اور ملتان میں بہت کم رہا اس لئے جب بھی ان کی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوتا خصوصی توجہ ملتی۔ بہن بھائیوں میں سے چند ایک کے علاوہ کچھ عزیز رشتہ دار ان سے میرے بارے میں شکوہ کرتے۔ کچھ کو میرے نظریات سے اختلاف تھا کچھ میرے فہم دین سے چڑتے تھے۔ وہ ہر شکایت کنندہ کو جواب میں صرف یہ کہتیں ”میرے جاوید کی طرح ہر شخص کاملاً آزاد ہے اپنا برابھلا سوچنے کے لئے“۔ ایک بار ان کی (والدہ کی) کسی مریدنی نے ان سے میری شکایت کی کہ میں ڈریم لینڈ سینما پر فلم دیکھ رہا تھا۔ اس شکایت پر طلبی ہوئی۔ انہوں نے اپنی مریدنی کی بات کی تصدیق چاہی تو میں نے عرض کیا جی ہاں یہ خالہ جان بھی کل مولانا وحید مراد اور حافظ محمدعلی کی تقریر ہی سننے کے لئے گئی تھیں۔ پاس بیٹھی ہوئی میری چھوٹی بہنوں نے اس جواب پر قہقہہ لگایا۔ انہوں نے ڈانٹتے ہوئے کہا یہ چند دنوں کے لئے ملتان آتا ہے مگر اس کی شکایتیں قیام کے دنوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔ بہنوں نے مسکراتے ہوئے کہا جلتے ہیں لوگ ہمارے بھائی سے۔ امی جان نے ڈانٹتے ہوئے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھئے:   دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا!

چوتھی جماعت میں زیرتعلیم بیٹے کے گھر سے چلے جانے اور پھر چھ سات سال بعد ملاقات کے درمیانی عرصہ میں ان کی دعائیں شامل حال رہیں۔ یہی دعائیں جبروستم کے مقابلہ کے ماہ و سال میں حصار بن کر حفاظت کرتی رہیں۔ ایک مثالی ماں‘ خاندان کی نگران اعلیٰ اور خطیبہ کے طور پر نصف صدی کے سفر میں انہوں نے اپنی شخصیت کا محبوب ترین تاثر قائم کیا۔ کبھی اچانک گھر پہنچنے پر سلام کے جواب میں وہ باآواز بلند فرماتیں پردہ ہے تمہاری خالہ آئی بیٹھی ہیں۔ مہمان کی رخصتی پر میں اکثر ان سے عرض کرتا ہمیں خالاؤں کی فہرست بناکر دے دیجئے۔ اﷲ کی مخلوق ہے۔ میرے گھر آتی ہے۔ سادات کے دروازے کسی حاجت مند کے لئے بند نہیں ہوتے۔ شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے سے ان کی دائمی جدائی تک کے درمیانی برسوں میں یہی حالت تھی۔ نماز فجر کے فوراً بعد سے ان کی عقیدت مند خواتین کی تشریف آوری کا سلسلہ شروع ہوجاتا اور عشاءکی نماز تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔ وقفہ ان گھنٹوں میں ہوتا جب امی جان کہیں وعظ کے لئے تشریف لے گئی ہوتیں۔ انہیں اپنی ساری اولاد ہی عزیزجاں تھی۔ میرے بھیا ابو (بڑے بھائی) پیرزادہ سید فاروق حسین ایڈووکیٹ البتہ ان کی آنکھوں کا تارا رہے امی کی حیات میں۔ بھیاابو ہیں بھی بہت حلیم اور صاحب علم و کتاب دوست شخصیت۔ کچھ توجہ مجھ نالائق کو اس لئے زیادہ ملتی ایک تو میں ان کی آنکھوں سے زیادہ دور رہا تھا ثانیاً سیاست و صحافت میں دلچسپی اور اس کے نتیجے میں ملنے والی اذیتیں۔ جنرل ضیاءالحق کے عہد ستم میں جب ہرطرف یہ کہا جارہا تھاکہ فوجی حکومت جاوید کو زندہ نہیں چھوڑے گی تو وہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں۔ اﷲوارث ہے ہم بھی لاوارث نہیں۔ زندگی اور موت کے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں جنرل ضیاءکے گھر یا دفتر پر نہیں۔ بہت صابروشاکر خاتون تھیں۔ مشکل ترین حالات میں کبھی گھبرائی نہیں۔ ہر مشکل بھرے لمحے میں وہ اپنی جائے نماز بچھاتیں اور سرسجدہ میں رکھ دیتیں۔ سجدہ سے سر اٹھاتیں تو کہتیں وہ بہت کریم ہے اپنے کریم محبوب کے صدقے کرم فرمائے گا۔

یہ بھی پڑھئے:   پیپلزپارٹی: تنظیم نو یا تشکیلِ نو؟ - خورشید ندیم

ڈیڑھ عشرہ ہوتا ہے انہیں حیاتِ ابدی کے سفر پر روانہ ہوئے ہوئے۔ ان کی تربت پر حاضری دیتا ہوں۔ ڈھیروں باتیں کرتا ہوں۔ سارے احوال اور شکوے‘ ماں کے سوا بندہ کہہ بھی کس کو سکتا ہے۔ ابدی سچائی یہ ہے کہ ماں دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کی قبر اولاد کے سینے میں ہوتی ہے۔ مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ ماں بھلے اس دنیا میں نہ رہے مگر اولاد کے دکھ سکھ کو تربت میں بھی محسوس کرتی ہے اور اپنے خالقِ حقیقی سے اولاد کے حق میں خیر ہی خیر طلب کرتی رہتی ہے۔ سفرِحیات کے اس مرحلہ میں ہی کیا سارے مراحل میں ماں کی دعائیں سب سے بڑی مددگار اور ماں کی ذات محفوظ ترین پناہ گاہ ہوتی۔ اپنی والدہ حضور کی برسی کے موقع پر اپنے رب کا شکرگزار ہوں کہ میں سیدہ عاشو بی بی کا فرزند ہوں۔ ان کا بیٹا ہونا میرے لئے باعث فخر و عزت ہے۔ ان کی دعائیں آج بھی مجھے اپنے حصار میں لئے ہوئے ہیں۔ ان سموں یہ سطور لکھتے ہوئے یہ اطمینان بھی ہے کہ اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میری وجہ سے میرے والدین اپنے خالق حقیقی اور محبوب دوجہاں حضرت محمد کے دربار میں شرمندہ نہیں ہوں گے۔ اﷲتعالیٰ ان تمام ماؤں کو جو اب اس دنیا میں نہیں اپنے محبوب کے تابعداروں میں شمار فرمائے اور جو مائیں حیات ہیں انہیں اولاد کے سکھ دکھائے‘ آمین بحق آقائے صادق حضرت محمد مصطفی کریم۔

٭(اپنی والدہ حضور کی برسی کی مناسبت سے لکھا گیا کالم)۔

بشکریہ خبریں ملتان

Views All Time
Views All Time
1306
Views Today
Views Today
1

One thought on “مائے نی میں کہنوں آکھاں درد وچھوڑے دا حال نی | حیدر جاوید سید

  • 11/07/2017 at 7:33 صبح
    Permalink

    خدا وند کریم مرحومہ سیدہ کو جوار محمدوآل محمد علیہم السلام میں بلند درجات مرحمت فرمائے آمین

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: