Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

جمشید دستی ہوش محمد شیدیؒ ہرگز نہیں مگر ۔۔۔ حیدرجاوید سید

by جولائی 3, 2017 کالم
جمشید دستی ہوش محمد شیدیؒ ہرگز نہیں مگر ۔۔۔ حیدرجاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

یہ کالم جمشید دستی کی رہائی سے قبل لکھا گیا تھا۔ اشاعت میں چند گھنٹوں کی تاخیر کے باوجود اس کی اہمیت بہرطور ہے ۔(ادارہ)
پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ’’جمشید دستی پر تشدد نہیں ہوا۔ جسم کے کسی حصہ پر تشدد کے نشان موجود نہیں۔ ذہنی مسائل کا شکار ہیں‘‘۔ بہت سارے دوست اس میڈیکل رپورٹ پر فوراََ ایمان لے آئے اور دستی کی بھد اڑا تے رہے ہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک بات عرض کیے دیتا ہوں جمشید دستی ، دیوان مول راج ہے نہ ساون مل، شہید ہوش محمد شیدی ہے نہ شہید احمد خان کھرلؒ ،وہ فقط جمشید دستی ہے۔ ایک عام آدمی سے ضلع کونسل کا کونسلر بنا پھر ایم این اے ۔ کونسلر اور ایم این اے بنانے والی پارٹی اس نے چھوڑ دی۔ اس لاتعلقی کے بارے میں کچھ باتیں اب بھی فضا میں ہیں مگر رہنے دیجیئے ۔ وہ کج ادا ہے سیاسی بے وفائی کا مرتکب ہوا خود پرست ہے۔ یہ اور اس جیسی سینکڑوں باتیں ہیں۔ یہ وقت ان باتوں کا نہیں۔ میں اس کے دوستوں میں شامل نہیں مگرہاں ناقد ضرور ہوں۔ اس پر پانی چوری اور کارِ سرکار میں مداخلت کے جو مقدمات قائم ہوئے یہ درست مان لوں تو مجھے دلشاد بیگم کلکتہ والی کے میاں نواز شریف کے بارے ارشادات پر ایمان لے آنا چاہیے ۔ ان ساری باتوں کو چھوڑئیے او ر اس قصے کو بھی کہ تنہا پرواز کے شوق میں بنانے والوں سے بچھڑ کر تنہا ہی رہ گیا۔ اچھا اس مروجہ سیاسی نظا م میں سیاسی ہجرت کا مرتکب کون نہیں ہوا؟ چند مثالوں کے سوا ستر سال کی تاریخ سیاسی ہجرتوں سے عبارت ہے۔ سرگودھا کی انسدادِ دہشت گری عدالت میں اس کی پیشی کے موقع کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس نے اسے سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ یاد کیا رکھتے ہیں۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ میاں نواز شریف اٹک قلعہ میں عدالتی سماعت کے دوران نوحہ پڑھتے تھے ’’ مجھے ناشتے میں دو توس اور وہ بھی جلے ہوئے ملتے ہیں۔ میں انڈہ کھانے کا عادی ہوں ناشتے میں۔میری کوٹھڑی میں مچھر بہت ہیں‘‘ یہ نوحہ پڑھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں سے آنسو بہہ کر سفید گالوں کا بوسہ لیتے رہے۔ پھر نواز شریف معافی نامہ کے عوض دس سالہ معاہدہ جلا وطنی خرید کر اپنے خاندان، سوٹ کیسوں اور باورچیوں سمیت ملک چھوڑ گئے۔ واپس آئے تو دینے والوں نے دو تہائی اکثریت ’’عطا‘‘ کی۔ شہباز شریف نے زرداری کے گھٹنے چھو کر اور سیف الرحمان (نوا زشریف دور کے احتساب سیل کے سربراہ) نے زرداری کے قدموں میں گر کر معافی مانگی۔ کب کسی کو یاد ہے اور اتناوقت کس کے پاس ہے کہ یاد رکھے۔
جمشید دستی اپنی عوام دوستی کے مظاہروں کی وجہ سے اپنے ضلع کا مقبول لیڈر بنا۔ نوابوں ، سرداروں، کھروں اور مخدوموں کی سیاست کے لئے خطرہ۔ یہ سب یوں ہوا کہ عام آدمی اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں اور آپ اس پر جتنی مرضی تنقید کر لیں، طعنے دیں بھد اڑائیں مگر کیا وہ اپنے حلقۂ انتخاب کے لوگوں کے دلوں سے اتر گیا؟ میری دانست میں یہ فیصلہ کالموں اور سوشل میڈیا پر نہیں انتخابی میدان میں ہو گا۔ رانا ثناء اللہ نے مشرف دور میں الزام لگایاتھا کہ اسے اغوا کرنے والے حساس ادارے کے افسروں نے اس پر انسانیت سوز تشدد کیا، مونچھیں اکھاڑیں، سرکار نے تردید کردی۔ دونوں میں سے کس کی بات درست ہوگی۔رانا ثناء اللہ کی یا مشرف سرکار کی؟ میرے نزدیک مشرف سرکار کا بیان سفید جھوٹ تھا اور دستی کے معاملے میں پنجاب حکومت کے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پیلا جھوٹ ہے۔ دستی میاں شہباز شریف کے ذاتی حکم پر گرفتار ہوا۔ ان سطور میں قبل ازیں لکھ چکا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب سے ذاتی طور پرکہا کہ دستی کو فکس کردو۔ اور دستی ٹانگ دیا گیا۔ پانی چوری اور کارِ سرکار میں مداخلت کے محض بہانے ہیں۔ اصل جرم یہ ہے کہ اس نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت اورخاندانِ شریفیہ کے دامادِ اول (مریم نواز کے شوہر) پر آوازیں کسیں وہ بھی اس کے سسر کی موجودگی میں جو ملک کا وزیرِ اعظم ہے اور پھر سپیکر کی انتباہ کے باوجود ایوان میں گو نواز گو کے نعرے لگاتا رہا۔ کبھی یہی دستی تھا جس نے قومی اسمبلی کے ایوان میں بیگم فریال تالپور پر آواز کسنے والے جھنگ کے ایک مخدوم زادے کو ترکی بہ ترکی جواب دیا اور زرداری کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ وہ مخدوم آج کل پیپلز پارٹی میں ہے اور مرکزی نائب صدر بھی، دستی کب کا پیپلز پارٹی چھوڑ گیا۔ کچھ دوستوں کادعویٰ ہے کہ کوئی خاص طاقت اسے سرائیکی وسیب کا ہیرو بنانا چاہتی ہے۔ وہ خاص قوت اسے گرفتاری اور تشدد سے کیوں نہ بچا سکی؟ اس کے ضلع اور گردو نواح کے بڑے بڑبولے اور نسل در نسل حکمران اشرافیہ کے چوبدار کا کردار نبھاتے جاگیردار اور سردار کہتے ہیں ’’ ہمیں حیرانی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اس کرمینل شخص کی حمایت کر رہے ہیں‘‘۔ واہ جی ، انگریزوں کی بگھیاں کھینچنے والوں کی اولادیں بھی طعنے ماریں گی۔ سبحان اللہ۔ اچھا دستی جرائم پیشہ ہے؟ مان لیا۔ ان سرداروں اور جاگیرداروں میں سے کس کا دامن صاف ہے؟ کون ہے جس نے چٹی دلالی نہیں کی؟ کس نے کب چوروں کا ساتھ نہیں دیا؟ عام آدمی چور ہوتا کہلاتا اور سردار، جاگیردار، سرمایہ دار و وڈیرے چور قاتل ہونے کے باوجودشرفاء کہلاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بندوق، لاٹھی اور دولت کے ساتھ ساتھ تھانہ ان کی جیب میں اور حکومت پگڑی سے بندھی ہوتی ہے۔ دستی کی جس ویڈیو اور گفتگو کو لے کر باتیں ماری جا رہی ہیں اس ویڈیو اور گفتگو کو ہم اس طرح کیوں نہیں دیکھتے اور لیتے کہ بندے مار اشرافیہ کے تنخواہ داروں اور وفاداروں نے مل کر وہ سب کیا جو ایک عام آدمی کے لئے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ سماج کے عام طبقات میں سے جو بھی ہمارے لئے خطرہ بننے کی کوشش کرے گا اس کے ساتھ یہی سلوک ہو گا۔ ویسے کیا اس نے انصاف کے لئے عدالت کو آواز دی جان بچانے کے لئے چیف جسٹس کو ؟ یا معافی نامہ پیش کرنے کی مہلت چاہی؟ عجیب سے مزاج کے لوگ ہم سبھی۔ ہمارے درمیان میں سے اٹھ کر کوئی چند قدم آگے بڑھ جائے تھوڑا سا نمایاں ہو جائے اس کی درگت بنانے اور ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پھر روتے اور سوال کرتے ہیں کہ اشرافیہ سے جان کیسے چھوٹے گی؟
مجھے معاف کیجیئے گا میں دستی کو ہیرو نہیں سمجھتا نہ سرائیکی وسیب کا نجات دہندہ۔ وہ ایک عام آدمی ہے۔ تحریک انصاف اس کے لئے بیانات تو دے رہی ہے مگر قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے کی ریکوزیشن کے لئے ہم خیال اپوزیشن جماعتوں سے مل کر سپیکر کو درخواست نہیں دی۔ اجلاس بلوانے کی ریکوزیشن جمع ہوگئی ہوتی تو سپیکر پابند ہو جاتا اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے۔ اس پرتشدد کی مذمت کرنے والے سیاسی رہنماؤں اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی بس اپنا فرض ادا کر چکے۔ ان کا اتنا ہی فرض تھا۔ ہاں دستی کی جگہ کوئی پیر، میر، جاگیردار یا مخدوم زادہ یا سردار ایم این گرفتار ہوتا تو ان سب کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتیں۔ مگر خود اس کے حلقۂ انتخاب کے وہ لوگ کہاں ہیں جو کہتے تھے دستی ان کا مجاہد ہے، لیڈر ہے، بھائی ہے۔ جو دوست سرائیکی قوم پرستوں پر چاند ماری میں مصروف ہیں انہیں کس نے بتایا کہ جمشید دستی سرائیکی قوم پرست لیڈر تھا یا ہے؟ خیر اس قصے کو یہیں رہنے دیجیئے۔ وہ کوئی انقلابی رہنما ہر گز نہیں ہاں اس کے حلقہ انتخابات کے لوگوں نے اشرافیہ کی نفرت میں اسے آنکھوں پر بٹھایا۔ وہ بھی اپنے ووٹروں کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ افسوس کے اس کے ووٹر اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوئے۔ ہم سبھی ایک چٹ کپڑئیے کا مذاق اڑا کر اور طعنے مار کر کتنے خوش ہیں۔ مگر یہ غور کرنے کو تیار نہیں کہ دستی نے نون لیگی جمہوریت کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ میڈ ان پاکستان جمہوریت پسند قیادت کی اوقات کھول کر رکھی دی۔ وہ جو اپنی کرپشن پر کہتے ہیں کہ فیصلہ عرش سے آئے گا۔ دستی کو فیصلہ پڑھانے کے لئے روائتی ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ معاف کیجیئے گا اس کا فیصلہ بھی عرش والے پر کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟ ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر اپنے طویل بلاگ میں لکھا ’’جمشید دستی اس پنچائیت کا سربراہ تھا جس نے مختاراں مائی کے ساتھ زیادتی کا فیصلہ دیا‘‘۔ قربان اس بلاگرپر اس سے زیادہ کچھ نہیں لکھنا اس بیہودہ الزام پر مجھے۔ ایک وسیبی ہونے کے ناطے مجھے اس سے ہمدردی ہے۔ لاکھ اختلافات ہیں۔ پسندیدگی بھی نہیں مگر جس کڑے وقت سے دستی گزر رہا ہے اس وقت اسے ماضی کے کچھ قصے سنانے اور باتیں یاد کروانے کی بجائے اس ظلم و تشدد اور ناانصافی کی مذمت کرنی چاہیے۔ طبقاتی نظام کا جبر یہ ہے کہ عام آدمی کی آواز دبانے کے لئے سارے ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔ شریفی جمہوریت کی فسطائیت کے چہرے پر پڑا نقاب اتر گیاہے ۔ لیگی حکومت نے اپنے پچھلے ادورا میں بھی سیاسی مخالفین کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ جمشید دستی کو نشان عبرت بنا دینے کے جنون کے شکار شریف خاندان سے خیر کی توقع عبث ہے۔ نام نہاد جمہوریت کا دفاع کرنے والے پٹواریوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے دوستوں کی خدمت میں یہ عرض کروں گا کہ اگر دستی پر حکومتی الزامات درست اور تشدد جائز ہے تو پھر ناجائز کیا ہوتا ہے؟ مکرر عرض ہے دستی، دیوان ساون مل ہے نا مول راج یا ہوش محمدشیدی وہ فقط جمشید دستی ہے۔ ایک عام آدمی اور قومی اسمبلی کا رکن۔ ہم اگر اس کے حق میں آواز بلند نہیں کر سکتے تو اسے تماشہ بھی نہ بنائیں۔

Views All Time
Views All Time
1253
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   پنجاب میں پیپلزپارٹی کی واپسی - اکرم شیخ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: