Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

نظریہ ضرورت کا مقتول ۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو – حیدر جاوید سید

نظریہ ضرورت کا مقتول ۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو – حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

haiderاپریل 4، 1979 کی صبح ذوالفقار علی بھٹو کو جمہوریت کے لئے تارا مسیح بننے والے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے پھانسی چڑھوا دیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب وزیراعظم ایٹمی پروگرام کے بانی اسلامی سربراہی کانفرنس کے چیئرمین اور اکیسویں صدی کے اس مفکر، دانشور، روشن خیال، عوام دوست اور سامراج دشمن سیاستدان نے سیاست و ریاست”کارخواصاں” کے دجل و فریب کا پردہ چاک کرتے ہوئے عوام کے حق حکمرانی کا نعرہ مستانہ بلند کیا۔ دیندار اور دنیاداروں کے گٹھ جوڑ کو برباد کر کے رکھ دیا۔ دینداروں نے اس کے نظریات کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا اور سرکار کے گماشتوں نے کردار کشی شروع کردی مگر لوگوں کو زبان مل چکی تھی انہوں نے ہر دیوار کو گرا کر دم لیا۔5 جولائی 1977ء کو ان کے وفادار آرمی چیف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے اعلان کیا کہ "ملک خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا، فوج صرف 90 دن کے لئے آئی ہے۔ شفاف انتخابات کرانا فوجی قیادت کا مقصد ہے انتخابات ہوتے ہی اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو حوالے کر دیا جائے گا”۔ 90 دن گیارہ سالوں پر پھیل گئے۔ جنرل ضیاء الحق ریڈیو ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کئے گئے وعدے ہی نہیں بلکہ بیت اللہ میں قرآنی آیات پڑھ کر دیئے گئے حلف کو بھول بھلا کر اپنے اقتدار کو طول دینے میں جت گئے۔ بھٹو مخالف تحریک کو نظامِ مصطفیٰ کے نفاذ کی تحریک قرار دینے قرار دینے والے چند وزارتوں اور کچھ مراعات کے بدلے اسلامی نظام کی بجائے اسلام آباد کو پیارے ہوگئے۔ اسلام والوں کو اسلام آباد مل گیا۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کا ایک ماتحت ادارہ سرکاری ٹرکوں میں پی این اے کے کارکنوں کو اسلحہ فراہم کرتا رہا۔ امریکی ڈالروں کی ریل پیل تھی۔ سپریم کورٹ سے ان کی نظر ثانی کی درخواست خارج ہوئی تو بیگم نصرت بھٹو نے جیل میں ملاقات کے دوران ان سے کہا "میں رحم کی درخواست کرنا چاہتی ہوں” ۔ بھٹو نے رسان سے کہا "اگر تم ایسا کرو گی اور ضیاء نے مجھے چھوڑ دیا تو میں اپنے عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گا۔ دیکھو نصرت میں قسم کھاتا ہوں اگر تم نے رحم کی درخواست کی تو میں اپنے آپ کو خود ہی ختم کر لوں گا”۔ 5 اور 6 جولائی کی درمیانی رات فوج کے ایک دستے نے 70 کلفٹن کراچی میں بھٹو کی نجی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور دوسری اشیاء کے ساتھ دو اہم دستاویزات بھی چھاپہ مار پارٹی ہمراہ لے گئی۔ ان دو ستاویزات میں ایک تو حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کی مصدقہ نقل تھی اور دوسری سندھ اور بلوچستان میں آئل اینڈ گیس کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ کی نقل جو کچھ عرصہ قبل سفارتی بیگ کے ذریعے امریکہ بھجوائی جا رہی تھی لیکن بھٹو نے اپنے دست راست نصر اللہ خٹک (صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ تھے) کی اطلاع پر جہاز کی پرواز رکوا کر برآمد کرا لی تھی۔
معروف صحافی اور یانہ فیلاسی نے ان کے بارے میں لکھا تھا "زیڈ اے بھٹو بہت بڑے جاگیر دار اور دولت مند تھے لیکن غریبوں کے ہمدرد اور سوشلسٹ۔ وہ کٹر مسلمان تھے لیکن لبرل” واقعتاََ بھٹو ایسے ہی تھے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ انہوں نے زرعی اصلاحات کے دوران اپنی چالیس ہزار ایکڑزرعی اراضی سے دستبرداری خوش دلی سے قبول کی۔ 4 اپریل 1979 کی صبح 6 بجے کے قریب ذوالفقار علی بھٹو کا جسد خاکی ان کے آبائی گاؤں پہنچایا گیا۔ آخری رسومات سنگینوں کے سائے میں یوں ادا کی گئیں کہ 300 سے زیادہ مسلح فوجی اس جگہ کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھے جہاں مشکل سے 20، 25 افراد کو نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت دی گئی۔ سنگینوں کے سائے میں ہی بھٹو کو آخری آرام گاہ میں اتار دیا گیا۔ گڑھی خدا بخش کے قبرستان میں وہ شخص مٹی کی چادر اوڑھ کر سو گیا جس نے شکست خوردہ فوج کی ازسرِ نو تنظیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ باوجود اس کے کہ ان کے چند معاونین دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے تھے "طاقت ور فوج اقتدار پر قبضہ کرنے میں دیر نہیں لگاتی”۔ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے نئے عالمی نظام کے قیام کے حامی تھے جو دنیا بھر کے لوگوں کو سامراجی ریشہ دوانیوں، سرمایہ دارارنہ استحصال اور بالادستوں کی غلامی سے نجات کی ضمانت ہو۔ ان کا کہنا تھا "آزادی فکر کے بغیر کوئی بھی سماج ترقی کے مراحل طے نہیں کر سکتا”۔ بھٹو پاکستان کے مظلوم اور محکوم لوگوں کی توانا آواز تھے اور اس آواز کے دشمن تھے۔ سول و ملٹری اشرافیہ کے شکاری، فرقہ پرست مذہبی رہنما اور انسانی حقوق کا نام نہاد عالمی محافظ امریکہ بہادر۔خیر جانے دیجیئے ہم ذوالفقار علی بھٹو کی باتیں کرتے ہیں۔ بھٹو کی جنہوں نے بھارت کی طرف سے ایٹمی دھماکہ کیے جانے کے بعد اعلان کیا "جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے۔ یہ عدم توازن پاکستان کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ہم زندہ قوم ہیں اور اپنے مستقبل کی حفاظت کے لئے گھاس کھا کر جی لیں گے مگر پاکستان کو ایٹمی ضرور بنائیں گے تاکہ جموں و کشمیر، جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن پر قابض انڈیا مزید منہ زوری نہ کر نے پائے” پاکستان کے اولین منتخب جمہوری وزیراعظم کی طرف سے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے اعلان کے فوراََ بعد ان کے مخالفین نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی۔ گو کہ اس تحریک کو عوامی تائید نہ مل سکی لیکن ایک دلچسپ حقیقت آج بھی غور طلب ہے کہ ایٹمی صلاحیت کے حصول کے اعلان کے بعد جمہوری حکومت گرانے کے لئے امریکہ اور بھارت کی خدمت کے جذبہ سے میدان میں اترنے والے آج یہ چاہتے ہیں کہ ایٹمی گولیاں تھیلوں میں بھر کر ان کے حوالے کر دی جائیں اور وہ نسیم حجازی کے ہیروؤں کی طرح گھوڑوں پر سوار ہو کر دنیا فتح کرنے کے کے مشن پر نکلیں۔
ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھ گرفتاری سے پھانسی تک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق اس کے حواریوں اور امریکی ڈالروں پر رقص کرنے والوں نے جو سلوک کیا وہ ہماری تاریخ کا بدنما حصہ ہے۔ ہم آج بھی اگر دیانتداری کے ساتھ بھٹو کے قتل کا تجزیہ کریں تو یہ حقیقت دو چندہوجاتی ہے کہ ان کے قتل کا سب سے بڑا فائدہ امریکہ اور بھارت کو ہوا۔ دونوں کی ایک ایسے قوم پرست رہنما سے مستقل طور پر جان چھوٹ گئی جو ہمہ قسم کی قبضہ گیری کو انسانی اور آزادی کے منافی سمجھتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ 4 اپریل 1979 کی صبح پھانسی چڑھنے والے بھٹو نے شام اور اسرائیل کی جنگ کے دوران پاک فضائیہ کے ہوا بازوں کا دستہ شام بھجوایا اور ان ہوا بازوں کی بہادری کے شامی عوام آج بھی معترف ہیں۔ یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے فلسطین کی آزادی کے لئے مسلمانوں کی مشترکہ فوج کی تشکیل اور اس ضمن میں پاکستانی فوج بھجوانے کی پیش کش کی تھی۔ بریگیڈئیر کے منصب سے آگے کی ترقی کے لئے جنرل ضیاء الحق کے سفارشی اردن کے شاہ حسین تھے۔ بھٹو پھانسی چڑھ گئے لیکن آج بھی زندہ ہیں۔ بلاشبہ وہ انسان تھے اور ان سے ولیوں کے سے اطوار کی توقع فضول۔ یقیناََ ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں مگر خوبیوں، وطن پرستی، عوام دوستی اور حریت فکر کا پلڑا بھاری ہے۔ حضرت بو علی قلندرؒ نے کہا تھا۔
"اگر تو دار کی طرف میری رہنمائی کرو تو میں سو بار منصور کی طرح اناالحق کا نعرہ بلند کروں۔ اس محبوب کے ہوتے ہوئے جو میں رکھتا ہوں مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ دونوں جہانوں سے میرا سر اونچا ہو”۔

Views All Time
Views All Time
1806
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   مشعال خان : تم کیا گرے، ستون حاکمیت کے اور شکستہ ہوگئے - عامر حسینی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: