Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

لہو لہو پارا چنار- تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے | حیدر جاوید سید

لہو لہو پارا چنار- تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے | حیدر جاوید سید
Print Friendly, PDF & Email

عید الفطر سے تین دن قبل جمعۃ الوداع کے روز کوئٹہ، پارا چنار اور کراچی میں دہشت گردی کے المناک واقعات ہوئے۔ پاکستان میں ہر زندہ انسان کی آنکھ پرنم ہوئی ان سانحات پر ماسوائے ان شقی القلب مچونوں کے جو اپنی پیدائش سے اب تک کے ہر سانحہ کا جواز گھڑکر تاریخ بننے والی آج کی کہانیوں میں گند ڈالتے ہیں۔ ان سانحات کے رونما ہونے والے دن سے تکفیریت کے ہمنواؤں کے ہاں جشن کا سماں ہے۔ مبارک سلامت کے میلے لگے ہوئے ہیں۔ ادھر پاراچنار میں دو بم دھماکوں (ان میں دوسرے دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے دھماکے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لئے اکھٹے ہونے والے شہریوں پر ہوا) میں اب تک کی اطلاع کے مطابق 97 سے 103 افراد شہید اور 100 کے قریب زخمی ہوئے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ پہلے دھماکے کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف شہریوں پر خودکش حملے کےبعد جانی نقصان بڑھا تو اس پر سیکیورٹی اداروں کی نااہلی کے خلاف احتجاج ہوا جس پر مقامی ایف سی کمانڈر کرنل عمر کے حکم پر فائرنگ کی گئی۔ اور تین افراد جان سے گئے۔ ایف سی کمانڈر اس طرح کا حکم قبل ازیں دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد احتجاج کرنے والوں کے خلاف بھی دے چکے ہیں جس سے جانی نقصان ہوا۔ جمعۃ الوداع کے سانحہ کے شہدا کی تدفین کے بعد چندصد افراد سے شروع ہونے والے دھرنے میں ان سطور کے لکھے جانے کے وقت تک 25 سے 30 ہزار کے لگ بھگ لوگ شریک ہیں۔ دھرنے والوں کے مطالبات فطری طور پر درست ہیں۔ ریاست کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔ الیکٹرانک میڈیا میں 98 فیصد بلیک آؤٹ کی صورتحال ہے۔ دھرنے میں مختلف الخیال قیادتیں موجود ہیں مگر اس بار اس کا انتظام نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ کھلے مذاکرات پر بضد ہیں ، کمروں کے مذاکرات کو زہرِ قاتل قرار دے رہے ہیں۔ پچھلے چند دنوں کے دوران اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا۔ عسکری تنظیموں کے ہم خیال مکتب کے پیجز، قلم بردار تو میدان میں تھے ہی ، سوشل میڈیا پر عارف خٹک بھی میدان میں اترے اور تقسیم ِ برصغیر سے 20 سال قبل کی صورتحال سے ڈانڈے ملاتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کر گئے۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کر دوں کہ ذاتی طور پر میں اس یاوہ گوئی کا جواب لکھنے کے حق میں نہیں تھا۔ دو باتیں اس تحریر کی وجہ بنیں۔ اولاََ دیوبندی مکتبِ فکر کے انتہا پسندوں کا تاریخ سے بلادکار کی صورت بنی تحریر کو مقدس اوراق کی طرح لے اڑنا اور پھر کافر کافر شیعہ کافر کی صداؤں کا بلند ہونا۔ ثانیاََ یہ کہ چند صاحبان علم دوستوں کا تقاضا ہائے جواب دعویٰ۔ ضمناََ ایک بات عرض کر دوں ۔ کبھی بھی دوسو سال پہلے انگریزوں اور ہندوؤں کے ملاپ سے تخلیق ہوئے ہندی اسلام کےفرزندوں کے تکفیری نعروں، تحریروں اور فتوؤں کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ ان پر کوئی وضاحت لکھی کہی جائے۔ دارالعلوم دیوبند کے بانیان میں سے ہی ایک شیخ المحدثین حضرت سید محمد انور شاہ کاشمیری ؒ کی سربراہی میں دارالعلوم دیوبند ہی کے پہلے تکفیری فتوے کے رد میں جاری ہوئے فتوے کے بعد گنجائش ہی نہیں کہ اس موضوع پر بحث کی جائے۔ ہم پارا چنار چلتے ہیں جس کی ابتر صورتحال کے ڈانڈے عارف خٹک نے 1927ء کے لکھنؤ حالات سے جوڑے ہیں۔ تاریخ کا یہ نکتہ وہ کہاں سے لائے ہیں یہ وہی جانتے ہوں گے البتہ دستیاب تاریخی حوالوں میں ایسی کوئی بات کہیں نہیں لکھی کہ لکھنؤ کے ایجی ٹیشن میں پارا چنار سے کوئی مسلح وفد لکھنؤ کے شیعوں کی مدد کے لئے گیا تھا۔تبرہ ایجی ٹیشن میں البتہ ہر دو طرف کے فریقوں کے ہمدرد قریبی علاقوں سے لکھنؤ پہنچے اور اپنے اپنے طبقے کے احتجاج میں شریک ہوئے۔ پاراچنار کی شیعہ آبادی کی تازہ دربدری اور بے آمانی کا آغاز افغانستان کے انقلاب ثور کے بعد شروع ہوا۔ یہ وہ سال تھے جب پاکستان بطور ریاست افغانستان میں شروع ہوئی سوویت امریکہ جنگ کو جہاد اسلامی کے طور پر قبول کر کے فرنٹ لائن سٹیٹ بنا ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پشتون بندوبستی (شہری) اور قبائلی علاقوں سے لوگ جوق در جوق جہاد افغانستان میں شریک ہوئے۔ یہاں ایک اور بات عرض کردوں۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ایرانی انقلاب کی ہمنوائی میں قائم نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کی شرعی قانون سازی بالخصوص نظامِ زکوٰۃ پر مکتبِ امامیہ کا اجتماعی ردعمل تھا۔ بھکر میں ایک کنوینشن منعقد ہوا جہاں علامہ مفتی جعفر حسین قبلہ ؒ کو قائد ملتِ جعفریہ منتخب کیا گیا۔ مکتبِ امامیہ کی اس وقت کی تنظیموں نے متفقہ طور پر ان کی قیادت کو تسلیم کیا۔ یہ کہنا جہالت اور نفس کی غذا کے سوا کچھ نہیں کہ تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ علامہ سید عارف حسین الحسینی نے قائم کی تھی۔ سید عارف الحسینی مفتی جعفر حسین ؒ کی رحلت کے بعد بھکر میں منعقدہ کنوینشن میں ان کے جانشین کے طور پر منتخب ہوئے۔ اس سے قبل دینہ کنوینشن میں علامہ سید حامد علی موسوی ایک دھڑے کے قائد بن گئے۔ (چونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں اس لئے مختصر تذکرے پر ہی اکتفا کیجیئے۔ مکتبِ امامیہ کی پہلی تقسیم میں کس جنرل کا کیا کردار تھا اور آئی بی کے ایک اعلیٰ افسر کا کیا کردار تھا جو آج کل معروف خطیب بنے ہوئے ہیں ایک الگ کہانی ہے)۔ کرم ایجنسی سے دیوبندی اور اہلحدیث گھرانوں کے جو لوگ جہاد افغانستان میں شرکت کے لئے گئے ان میں سے بچ رہنے والوں نے واپسی پر علاقے میں جہاد کی پاسبانی فرمانے کی کوشش کی جس کا نتیجہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں ہی 1985ء میں ایک بڑے تصادم کی صورت میں سامنے آیا۔ 1986ء کا سال کرم ایجنسی کے شیعوں اور گلگت و بلتستان کی شیعہ برادری کے لئے آج بھی ماضی کی خوفناک یاد ہے ۔ یہ وہ سال ہے جب گلگت پر وفاقی وزیر قاسم شاہ کی قیادت میں افغانوں کے مسلح لشکر نے چڑھائی کی اور گلگت کے اندر منصوبے کے تحت بسائے گئے افغان مہاجرین نے حملہ آور لشکر کی پیشوائی کے طور پر پناہ دینے والوں پر زندگی تنگ کر دی۔ اسی سال افغان جہادیوں کے ہم خیال گروپ نے پاراچنار اور گرد و نوا میں شیعہ افراد کی مذہبی گوشمالی کا فریضہ ادا کیا۔
پاراچنار کی شیعہ آبادی کے لئے تاریک دور کا آغاز 2006ء میں ہوا جب حقانی نیٹ ورک سمیت طالبان کے مختلف دھڑوں نے کرم ایجنسی کے راستے افغانستان میں آزادانہ آمد ورفت کا حق نہ ملنے پر مشترکہ لشکر تشکیل دیا اور پھر 2007ء میں باقاعدہ چڑھائی کر دی۔ تاریخ کےاوراق اور ثبوت عقل والوں کے لئے ہوتے ہیں ۔ تقریباََ چار سوا چار سال تک پاراچنار کے شیعہ، طالبان اور لشکر جھنگوی وغیرہ کے محاصرے میں رہے۔ بلاشبہ اس دوران محصور علاقوں میں شیعوں اور طالبان کے حامیوں (جنہیں عارف خٹک نے سنی لکھا حالانکہ وہ سنی نہیں) کے درمیان تصادم ہوا لیکن علاقہ چھوڑنے والوں میں زیادہ تر طالبان کے حامی تھے جنہیں محفوظ راستہ دیا گیا۔ عارف خٹک کے محبوب مجاہدین نے علاج کےلئے لے جائی جانے والی خواتین اور بچوں کی ایک ویگن کے سارے مسافر ذبح کر کے غالباََ سنتِ یزیدی کو اصل کے رنگ میں زندہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ پچھلے دس برسوں میں پاراچنار کی شیعہ آبادی جن عذابوں سے دوچار ہے ان کی ذمہ داری افغان و پاکستانی طالبان، لشکرِ جھنگوی، مینگل قبیلے اور ان دہشت گردوں کی پشت پر کھڑے ریاستی اداروں پرعائد ہوتی ہے۔ جس بنیادی بات کو نظر انداز کر کے حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنی انجمن سپاہ صحابہ کو کرم ایجنسی میں لانے والا ایک فوجی خطیب ہی تھا۔ حوالدار رحمت اللہ فوجی پیش نماز (امام مسجد) تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک پوری ریاست مخصوص نظریات کے حاملین سمیت جہاد پروری میں مصروف تھی اور ہے اس پر سوال کرنے کی جرات کسی کو نہیں ہوتی لیکن آجا کر تان ٹوٹتی ہے تو شیعہ کافر، ایرانی مجوسی پر ۔ پاکستان میں شیعہ دیوبندی تنازعہ جسے عرفِ عام میں غلط طور پر شیعہ سنی تنازعہ کہا جاتا ہے ایرانی انقلاب کی پیداوار نہیں بلکہ اس افغان جہاد کی برکتوں کا ثمر ہے جس کے لئے 80 فیصد مسلم دنیا امریکہ کی قیادت میں افغانستان کے اندر انقلاب ثور کےحامیوں سے لڑ رہی تھی۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ افغان جہاد میں چونکہ دیوبندی اہلحدیث اتحاد بنا اور اس اتحاد کے کارکنوں نے مصر سے سعودی عرب اور اردن سے افریقی ممالک تک سے آئے تیمی سوچ کے کے حامل جہادیوں سے روابط ہوئے یوں پاکستان میں ایک نئی قسم کی تکفیریت در آئی۔ ورنہ اختلافات تو پہلے بھی تھے۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ افغان جہاد کے عربی مجاہدین کی اکثریت ابنِ تیمیہ کی پیرو کار تھی یا اس کے جدید ایڈیشن محمد بن عبدالوہاب کی ۔ سو ان کے افکار سے پاکستانی مجاہدین بھی متاثر ہوئے۔ اسی دوران مدرسوں اور جہادیوں کے لئے سعودی ریالوں کی ریل پیل نے بھی الگ سماں باندھا۔
2007ء سے 2012ء کے وسط تک محصور پاراچناریوں نے کسی بیرونی مدد کے بغیر جس استقامت سے طالبان اور لشکرِ جھنگوی کا مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اچھا اگر اس الزام کو مان لیا جائے کہ پاراچنار کے شیعہ ایرانی انقلاب کے تربیت یافتہ تھے تو کوئی اس سوال کا جواب دے گا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے شیعوں پر 2002ء سے 2008ء کے درمیان قیامتیں کیوں ٹوٹیں حالانکہ انہوں نے تو 2002ء کے انتخابات میں چند ہزار ووٹ مولانا فضل الرحمٰن کی کتاب پر بھی رکھے تھے۔ معاف کیجیئے گا یہ ایک سوچ ہے۔ شیعہ آبادی پر کہیں بھی ظلم ہو جھٹ سے سعودی ایرانی پراکسی وار کی رام لیلا لے کر بیٹھ جاؤ۔ کتنی عسکری تنظیمیں بنوائیں ایرانیوں نے پاکستان میں شیعوں کی؟ جس سپاہ محمد کو عارف صاحب عسکری تنظیم قرار دے رہے ہیں اس کی عمر کتنی تھی؟ برابری کا نقشہ اور کہانیاں لکھنے والے بنیادی اسباب کی الف ب سے آگاہ نہیں۔ رہا یہ الزام کہ پارا چنار کے اہلِ تشیع قیادت نے افغان صدر حامد کرزئی سے بقول عارف خٹک کے 2007ء میں ملاقات کی اور مدد کی درخواست کی۔ ثابت کیجیئے اس الزام کو البتہ دل چاہے تو حوالداری سے تھوڑی ترقی کر کے جی ایچ کیو سے پوچھ لیجیئے کہ نومبر 2008ء میں کس عرب ملک کے سفری نے پاکستان کی کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی؟ بہت ادب کے ساتھ مکرر عرض کیے دیتا ہوں عارف خٹک نے جھوٹ پر عمارت بنائی اور اسی عمارت کے ملبے میں دفن ہوں گے۔ انجمن سپاہ صحابہ کے قیام سے آج تک ریاست پوری قوت سے تکفیری انتہا پسندوں کے پیچھے کھڑی ہے، باردیگر عرض ہے پوری قوت سے۔ ریاست اس وقت بھی طالبان کے ساتھ کھڑی تھی جب وہ پاراچنار پر لشکر کشی کئے ہوئے تھے۔ ویسے شیعہ سنی اختلافات کے فریق دو سو سال کے ہندی اسلام والے ہرگز نہیں۔ یہ تو تکفیریت کی نئی قسم ہے۔ تکفیریت کی اس نئی قسم کے عسکری علمبرداروں کے سلسلے کا آغاز انجمن سپاہ صحابہ سے ہوتا ہے اور اب تک درجن بھر تنظیمیں۔ جوابی طور پر شیعہ مکتب کی کتنی عسکری تنظیمیں میدان میں آئیں؟ تکفیری سوچ کا جو شخص بھی قلم اٹھاتا ہے سب سے پہلے سید عارف حسین الحسینی پر چڑھ دوڑتا ہے، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ سید عارف حسینی الحسینی نے پاکستان میں مکتبِ امامیہ کو الگ سے سیاسی شناخت دلوانے کی جدوجہد کی۔ کیا عجب بات ہے دیوبندیوں کی درجن بھر سیاسی اور اتنی ہی عسکری تنظیمیں حلال اور شیعہ مذہبی وہ سیاسی سوچ کی تنظیم ایران کی سازش؟ سبحان اللہ۔ ارے بھائی دوسرے فرقوں کی طرح انہیں بھی سیاسی کردار کا حق ہے ہمت ہے تو مطالبہ کیجیئے کہ تمام مسالک کی فرقہ پرست جماعتوں پر پابندی لگائی جائے۔
کیا عارف خٹک اور اسے تحقیقاتی صحافی کے طور پر پیش کرنے والے اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلیں ریاست کے ایک ادارے سے باضابطہ معاہدے کے تحت توڑی گئیں؟ الزام نہیں لگا رہا چیلنج کر رہا ہوں کہ لشکرِ جھنگوی اور جنرل کیانی کے درمیان معاہدہ کروانے والوں میں ایک جنرل حمید گل وفات پاچکے مگر دوسرے احمد لدھیانوی ابھی زندہ ہیں اور معاہدے کے گارنٹر سمیع الحق بھی۔ طے یہی ہوا تھا کہ جیلوں میں بند طالبان اور لشکرِ جھنگوی کے لوگ ملک میں نہیں رہیں گے بلکہ عراق اور شام چلے جائیں گے۔ امجد معاویہ گروپ نے معاہدے کی پاسداری کی۔ ڈیرہ جیل سے بھاگے تو شام چلے گئے مگر بنوں جیل سے فرار ہونے والوں نے معاہدے کی خلاف وزری کی اور بعد ازاں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ یہ الزام کہ پاراچنا ر کے شیعہ نوجوان داعش کےخلاف لڑنے شام جاتے ہیں مان بھی لیا جائے تو کیا دیوبندی تنظیموں کے نوجوان داعش سے مل کر شام اور عراق میں شیعوں اور صوفی سنیوں کا قتلِ عام نہیں کرتے رہے؟ بات یہ ہے کہ ایک گروپ کو ریاستی تعاون حاصل تھا تو دوسرا ردِ عمل میں گیا۔ شام اور عراق میں کس کا کیا کردار تھا یہ الگ موضوع ہے۔ ہم پاراچنار کے حوالے سے ہوئی یاوہ گوئیوں پر بات کر رہے ہیں۔ سادہ سا سوال ہے کہ آج تک اہلِ تشیع نے کتنی فوجی چھاؤنیوں، ائیر بیسوں اور حساس مقامات پر حملے کیے؟ کتنے ایرانی تربیت یافتہ شیعہ گرفتار ہوئے؟ ہوا میں تلواریں چلانے اور الزام گھڑتے رہنے کا فائدہ نہیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ منظم انداز میں شیعہ نسل کشی ہو رہی ہے، ریاست پر الزام آ رہا ہے۔ یہ سوال بھی کہ اورکزئی اور دوسری ایجنسیوں کے جو لوگ داعش کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے واپس آئے ہیں تو ان کا جہادی میدان پاراچنار ہے۔ اس کھیل کو لشکر جھنگوی العالمی کھیل رہی ہے۔ ایک ایسے شہر میں جہاں داخلے کے وقت معصوم طلباء کا سکول بیگ تک چھان مارا جاتا ہو بارود سے بھری گاڑیاں ریاستی اہلکاروں کے تعاون کے بغیر کیسے داخل ہو سکتی ہیں؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ منہ بھر کے الزام لگانے کا فیشن عام ہے۔ ستم بالائے ستم کہ عصری امور اور تاریخ کو بھی سیکس کی کہانی سمجھ لیا گیا ہے۔ افسوس ہے کہ محض ریٹنگ کے چکر میں حقائق کو مسخ کرنے کی روش پر گامزن ہیں کچھ ویب سائٹ مالکان۔ معاف کیجیئے گا اگر آپ مظلوموں کی اشک شوئی نہیں کر سکتے تو غلیظ پروپیگنڈے سے تو اجتناب کریں۔ لیکن کیا کریں جس ملک میں سالی کے چکر میں قتل ہونے والا مولوی شہید اعظم کہلائے اس ملک میں عارف خٹک برانڈ لوگ ہی تاریخ اور عصری امور پر طبع آزمائی کریں گے۔ حرف آخر یہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان جہاد میں عدم شرکت کا فیصلہ ملت جعفریہ کو مہنگا پڑا۔ عالمی غنڈوں کے سجائے میدان جنگ میں کرائے کا قاتل نہ بننے والوں کے بچے پچھلے 32 سال سے اس ملک میں مارے جا رہے ہیں لیکن جو بھی اٹھتا ہے ایران سعودی پراکسی وار کا بھجن گانے لگتا ہے۔ حضور اگر ایران نے پاکستانی شیعوں کا اس طرح ساتھ دیا ہوتا جیسے سعودیہ ، قطر، کویت اور بحرین نے انتہا پسند دیوبندیوں کا دیا ہے تو پھر 30 ہزار شیعوں کے جناے ہی نہ اٹھتے۔

Views All Time
Views All Time
6000
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   تنقیدی شعور-خورشید ندیم
Previous
Next

One commentcomments4

  1. Ali Nasir Dharejo

    شکر ہے شیعی قوم نے کچھ عقل کے ناخن لیئے اور بند کمرے میں "مصلحت پسند رہنمایانِ ملت” کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کے بجائے اب قیادت اہنے میں سے چند نوجوان ھاتھوں میں سونپ دی اور ایران کی جانب امید کی نظروں سے دیکھنے کے بجائے، خود کچھ کردکھانے کی ٹھان لی ہے ۔اب انشاء اللّٰہ وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنے ھزارں شہداء کی ارواح سے انصاف کرسکیں۔

    مگر یہ راستہ دولحاظ سے کٹھن ھوسکتا ہے، ایک یہ کہ بہت طویل عرصے کے لیئے اس تحریک پر قائم رہنے اور شرکاء جو اپنے ساتھ باندھے رکھنے میں کامیابی کی کی حکمتِ عملی وضع کرنا ۔
    دوسری اوراہم بات اپنے سابق "قائدین” کی حکومت سے کسی ملی بھگت پہ نگاہ رکھنا اور ان پیشہ ور قائدین کی در پردی ریشہ دوانیوں کا بروقت تدارک کرنا اور شرکاء کوہر مرحلے پر اعتماد میں لینا ۔

  2. محترم حیدر صاحب آپ نے بہت اچھے سے اس ساری صورتحال کاجائزہ سامنے رکھا ہے۔ سوال ہے کہ اب آگے کیا ہوتا دکھائی دے رہا ہے؟ وہ کرنل عمر جو ہے اس کی مزید کیا حقیقت ہے؟ اور ہمارے شعیہ بھائیوں کا مستقبل اب کس چیز سے وابستہ ہے کہ محفوظ رہ سکے؟

  3. عارف خٹک نے جو کچھ لکھا وہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے، بہتر ہوتا کہ آپ اس کے مضمون کو مکمل ہونے کا انتظار کرلیتے۔ ایک دوستانہ مشورہ ہے کہ علمی بحث ذاتی حملوں سے پاک ہونی چاہیے۔

  4. جناب ایڈمن مجھے پاراچنار سے متعلق تمام تحاریر کی پرنٹ چائیے تاکہ ہارڈکاپیز تقسیم کرسکوں۔ رہنمائی کیجئے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: