جمہوریت اور طبقاتی نظام میں فرق ہے صاحبو! – حیدر جاوید سید

Print Friendly, PDF & Email

کوئی جاکر جناب وزیراعظم کی خدمت میں عرض کرے ”بندہ پرور تاریخ رقم کرنے سے زیادہ بہتر اور افضل کام یہ ہوگا کہ آپ وہ رقم واپس کردیجئے جس بارے الزام ہے کہ آپ نے لوٹی“۔ اچھا کیا یہ محض الزام ہے جو گھڑا گیا؟ اور سچ یہ ہے جو شہبازشریف نے فرمایاکہ ”1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں دفاعی سازوسامان اتفاق فونڈری میں تیار ہوتا رہا“۔ نوازشریف 1938ءسے بڑے صنعتکار خاندان کی کہانی سناتے ہیں۔ ان سطور میں پوری کہانی ماہ و سال کے حساب سے بیان کرچکا۔ ”سلطان سرائے ریلوے روڈ نزد اسلامیہ کالج لاہور میں واقع لوہا بنانے والی بھٹی پر بڑے میاں صاحب ایک محنت کش کی حیثیت سے کام کرتے تھے پھر بٹوارے کے ہنگام میں اس کے ہندو مالک نے اپنے مسلمان ملازم کو یہ بھٹی بیچ دی۔ لالو لوہار دی بھٹی کو اتفاق فونڈری کا نام دیا گیا“۔ یہی کہانی ہے۔ اب اسے صنعت کہتے ہیں اور تقسیم سے قبل ٹیکس گزار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو مذاق اڑتا ہے۔ مگر حکمرانوں تک فقط درباریوں کی آواز پہنچتی ہے۔ شہبازشریف کے دعویٰ پر سوشل میڈیا میں جگتوں کا سیلاب آگیا۔ کہا گیا سکندراعظم‘ سائرس اعظم‘ رنجیت سنگھ اپنے لشکریوں کے لئے اسلحہ اتفاق فونڈری سے بنواتے تھے۔ مصر کے فرعون ہانت نے اتفاق فونڈری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ کہا ہمارا احتساب تو ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا۔ ارے واہ چھوٹے میاں جی کب اور کیسے ہوا یہ احتساب۔ تاریخ کا یہ ورق کہاں سے ڈھونڈ لائے آپ؟ بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کی پالیسی کے درست یا غلط ہونے پر آراءموجود ہیں۔ بھٹو جب اپنے منشور پر عمل کرکے نیشنلائزیشن کررہے تھے تو اس وقت دنیا میں اس فہم کا سیلاب تھا۔ سوشلسٹ نظریات میں اس کی گنجائش تھی۔ پیپلزپارٹی قدرے سوشلسٹ نظریات کے قریب تھی۔ اس نے صنعتوں‘ مالیاتی اداروں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا۔ فائدہ و نقصان ایک الگ موضوع ہے۔ مجھ طالب علم کے نزدیک بنیادی ضروری انتظامات کے بغیر پالیسی پر عمل نے مسائل پیدا کئے۔ کیا کبھی میاں صاحبان اس قوم کو یہ بھی بتانا پسند کریں گے کہ جنرل ضیاءالحق نے اتفاق فونڈری کا قرضہ معاف کرکے یہ ادارہ شریف خاندان کو واپس کیوں کیا؟

آگے بڑھنے سے قبل مختصراً عرض کردیتا ہوں اس لئے واپس کیاکہ شریف خاندان نے پہلے تحریک استقلال اور پھر بھٹو مخالف قومی اتحاد پر بھرپور انویسٹمنٹ کی۔ اس طرح کی انویسٹمنٹ کی قریب ترین مثال افتخار چودھری کی بحالی کی تحریک ہے۔ 36کروڑ کی سرمایہ کاری اس تحریک پر ہوئی بدلے میں فیض پائے۔ جانے دیجئے یہ موضوع سے ہٹ کر کی باتیں ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ کون تاریخ رقم کررہا ہے اور کیا ملک کو اس رقم شدہ تاریخ سے فائدہ ہوگا یا رقم سے؟ پانامہ سکینڈل جب سے سامنے آیا ہے جاتی امراءکے درباری چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاہی خاندان کی توہین ہوگئی ہے۔ جناب نوازشریف تو اپنے احتساب کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ بھی قرار دے چکے۔ سبحان اللہ کہنے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ چند دن اُدھر ان سطور میں عرض کیا تھا پانامہ سکینڈل کے اندر سے حدیبیہ پیپر کا معاملہ نکلا اور اسے نکلنا ہی تھا کیونکہ یہ کڑی اگر گُم ہو یا کردی جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ جناب شہبازشریف حدیبیہ پیپر والے قصے کے اہم بلکہ مرکزی کرداروں میں سے ایک ہیں۔ نون لیگ کے چند بڑبولے جس طرح جے آئی ٹی پر چاندماری میں مصروف ہیں وہ بہت کچھ نہیں تو کم ازکم سمجھانے کے لئے بہت ہے۔ ہمارے کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ شریفین کے احتساب کے حق میں وزن ڈال کر جمہوریت دشمنی کی غذا سے پیٹ بھرا جارہا ہے۔ کیا عرض کروں ان کی خدمت میں۔ حرف گیری کرتے ہوئے انہوں نے جمہوریت اور طبقاتی نظام کے فرق کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ جمہوریت جمہور کے لئے ہوتی ہے۔ کوئی بتلائے کہ جمہور نے اس جمہوریت سے کیا پایا؟ مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ بدترین جمہوریت کو سونے کے نوالے دیتے مارشل لاءیا ٹیکنوکریٹ آمریت سے لاکھ درجہ بہتر سمجھتا ہوں مگر جمہوریت ہے کہاں۔ جو ہے یہ خاندان شریفیہ کا اقتدار ہے سارے راستے جاتی امراءکو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   کہانی میرے پڑوسی کی

عجیب بات یہ ہے کہ جب یہ عرض کرتے ہیں کہ جنرل ضیاءکے دور میں جرنیلی جمہوریت کی چھتری کے نیچے پلے بڑھے شریف خاندان کو جمہوریت کی ش میم بھی نہیں آتی تو جھٹ سے چند پٹواری ایوب بھٹو قصہ لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ حضور بھٹو صاحب سکندر مرزا کی وفاقی کابینہ میں پہلی بار شامل ہوئے۔ بجا کہ بھٹو ایوب کی کابینہ میں وزیر رہے‘ کنونشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی مگر ایوان اقتدار سے نکلے عوامی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا پیپلزپارٹی قائم کی۔ بھٹو انسان ہی تھے یقیناً ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں مگر خوبیوں کا پلڑا بھاری ہے۔ اب جو لوگ نوازشریف کو آج کا بھٹو بناکر پیش کررہے ہیں وہ دس سالہ معاہدہ جلاوطنی اور اس معافی نامے بارے کیا کہیں گے جو مشرف دور کی مقدس دستاویزات ہیں؟ بھٹو نے معافی مانگنے اور جلاوطنی پر پھانسی کو ترجیح دی۔ بھٹو اور نوازشریف کا کوئی موازنہ ہو ہی نہیں سکتا۔ نوازشریف کی سیاست کا خمیر جنرل جیلانی کی نرسری سے اٹھا ضیاءالحق کی بھٹی میں تپا اور کاروباری سیاست کے ہنگام میں پھلا پھولا۔ پتہ نہیں لوگ کیسے بھول جاتے ہیں اٹک قلعہ کے دنوں کو یا پھر اس اعتراف کو کہ میری (نوازشریف کی) دونوں حکومتوں کے دوران محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے خاندان پر جو مقدمات بنائے گئے وہ کسی کے دباؤ پر قائم کئے گئے۔ باقی کی باتیں ایک طرف رکھ دیجئے پچھلے چار برسوں کے دوران کا ایک دن بتا دکھا دیجئے جو جمہوریت کے اصولوں کے مطابق گزرا ہو۔ کیا 17جون 2014ءکو جو کچھ ماڈل ٹاؤن لاہور میں منہاج القرآن کے باہر ہوا وہ جمہوریت کہلائے گا؟ بہت ادب سے عرض کروں جناب شریف کی سیاست خریدلو یا پھر توڑ دو کے سوا کچھ نہیں۔ پانچ یا چھ بار احتساب کئے جانے کے دعویدار یہ تو بتادیں کہ احتساب کیا کس نے اور کب ہوا؟ وہ تو اتنے خوش قسمت ہیں کہ چودھری کورٹس (افتخار چودھری کی عدالت) سے جی بھر کے ریلیف لئے۔ ایک مثال مکرر عرض کردیتا ہوں۔ قانونی طور پر نادہندہ شریف فیملی 2008ءاور پھر 2013ءمیں انتخابات لڑ ہی نہیں سکتی تھی کیونکہ اس نے نیشنل بینک کے 3ارب روپے قرضہ (اور واجب سود علاوہ) دینا تھا۔ یہ قرضہ نیشنل بینک کو کب ادا ہوا اور کب این او سی جاری ہوا بینک ریکارڈ سے دیکھ لیجئے مگر نادہندگی کی زد میں آئے خاندان کو چودھری کورٹ کی چھتری حاصل تھی۔ دوسری مثال شہبازشریف کی ان کی صوبائی اسمبلی کی بھکر اور راولپنڈی والی نشست کے حلف کا تنازع مقدمہ کی صورت 2009ءسے 2013ءتک سپریم کورٹ میں رہا۔ یہاں تک ہواکہ چیف جسٹس افتخار چودھری نے ”خاص صحافیوں“ کو سپریم کورٹ میں دعوت دی اور کہاکہ ایسا کوئی مقدمہ زیرسماعت ہی نہیں مگر جون 2011ءمیں اس مقدمہ میں اکرم شیخ نے شہبازشریف کے وکیل کے طور پر وکالت نامہ جمع کرواتے ہوئے تیاری کے لئے وقت مانگا اور وہ وقت نہ آیا جب مقدمہ کی سماعت ہوتی نیا الیکشن ہوگیا۔ یہ دو مثالیں ہیں صاف دامنی و طہارت بھری سیاست کی۔ گوکہ وضاحت کی ضرورت ہرگز نہیں پھر بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ ہم سے زمین زادے جمہور اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں آخری سانس تک البتہ موجودہ طبقاتی نظام کو جمہوریت سمجھنے کا گناہ کرنے سے قاصر ہوں۔ عوام بدترین حالات سے دوچار ہیں۔ اربوں روپے ترقی کی تشہیر پر لگانے والے اگر صرف لاہور کی ترقی کو ملک کی ترقی سمجھتے ہیں تو سورة فاتحہ بلند آواز میں پڑھ دیجئے۔ سیاست و صحافت کے طالب علموں کو اکتوبر 1999ءکے اوائل میں برطانوی اخبارات میں ”روگ آرمی“ کے عنوان سے شائع ہونے والے اشتہارات نہیں بھولے۔ ان اشتہارات کے مقاصد کیا تھے ان پر پھر کبھی بات کریں گے۔ اﷲ کا شکر ہے کہ کبھی طالع آزما جرنیلوں کی چاکری نہیں کی جمہوریت کی محبت میں اپنی بساط سے بڑھ کر قربانی دی مگر جمہوریت ایک نظام کا نام ہے کسی خاندان کی حکمرانی اور اس حکمرانی کے دفاع کا نہیں۔ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے مشروط ہے طبقاتی استحصالی نظام سے نہیں۔

Views All Time
Views All Time
1379
Views Today
Views Today
1

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: