Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

حالی اور ہم

by جون 2, 2016 مزاح
حالی اور ہم
Print Friendly, PDF & Email

salman basitچونکہ نابغہ ہائے اردو ادب کا اس قحط الرجالی کے دور میں صرف ہم پر ہی اعتماد رہ گیا ہے سو وہ ہمارے خوابوں میں اکثر و بیشتر در آتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو اپنی بے چارگي کا رونا رونے آتے ہیں اور ہم سے اپنے اشعار کی اصل شرح تشنگانِ ادب تک پہنچانے کے متمنی ہوتے ہیں ۔ کچھ دیگر بزرگ ایسے بھی ہیں جو کسی وجہ سے مشہور تو ہو گئے مگر بحرِ علم میں ویسے غوطہ زن ہونے کے مواقع کما حقہ بوجوہ حاصل نہ کر پائے۔ اب علم کی پیاس ہے کہ قبر میں بھی چین نہیں لینے دیتی سو عالم_ بالا میں ہم سے بالا بالا کسی سے ہمارا پتا پوچھ کر آ جاتے ہیں اور اپنی زندگی میں جو عقدے کسی سے وا نہ کروا پائے، وہ ہم سے پوچھنے کی ضد کرتے ہیں۔ ابھی کل رات کی بات ہے۔ کوئی رات کے ڈھائی تین بجے کا وقت ہوگا کہ حالی نے ہمارے درِ خواب پر دستک دی۔ حالی کا برا حال تھا۔ چہرے پر شدید رقّت کے آثار ہویدا تھے۔ ہم نے پوچھا، "حالی میاں! خیر سے آنا ہوا؟” بولے، ” سوالی کیوں آتا ہے سخی کے پاس” ۔ ہم قدرے متآمل ہوئے تو حالی فورا” گویا ہوئے، "یا استاد العصر! میں زندگی بھر بڑے بڑے اساتذہ کے در کی خاک چھانتا رہا مگر کسی کے پاس ایسی تشفّی نہ ہوئی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارا زانوئے تلمّذ کس کس کے سامنے تہہ ہوا۔” اس مرحلے پر ہم نے بے ساختہ پوچھ لیا کہ کون کون سے جنت مکانی آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ حالی بولے، "مرشدی! اس تجاہلِ عارفانہ کے صدقے جاؤں۔ بھلا کیا آپ یہ نہ جانتے ہوں گے۔ اس سوہانِ روح تصور پر میں تو دوبارہ مرحوم ہونے کو ترجیح دوں گا” ۔ پھر اچانک پوچھ بیٹھے کہ بتائیے بھلا ہمارے اساتذہ میں کون کون شامل تھے۔ ہم اس ناگہانی سوال کے باعث خلجان بدست ایک طرف ہو کر کھڑے ہو گئے۔ حالی نے اسے ہماری ناراضی پر محمول کیا۔ کہنے لگے، ” محبیّ! واللہ ہمیں آپ کا امتحان مقصود نہیں تھا ۔ ہم تو یونہی اپنا حافظہ مہمیز کرنا چاہ رہے تھے۔ کہنے لگے ،” بخدا جو قلبی سکون ہمیں آپ کی بیٹھک میں ملتا ہے وہ نہ کبھی خمیرہ گاؤ زبان کھانے سے ملا او ر نہ کبھی غالب اور سر سید کی صحبت میں ملا۔ ” ہم نے اکتاہٹ کے عالم میں کہا۔ حالی میاں آمد کی وجہ بتائیے۔ ہمارے دیوانِ خواب میں مزید اکابرین بھی سائلین کی حیثیت میں فرش نشیں ہیں۔ بولے، ” مرشدی! کبھی نہ جانے کیسے ایک شعر ہو گیا تھا جو زباں زدِ عام تو ہوگيا مگر ہم سے جب بھی کسی نے اس کی شرح پوچھی تو ہم کبھی اس کی خاطر خواہ تشریح نہ کر سکے۔ بہت سے نا ہنجار تو ہمیں شک آمیز نظروں سے دیکھتے رخصت ہو جاتے۔ کچھ بد خواہوں نے تو ہمارے شاعر ہونے کے بارے میں بھی بے پر کی اڑائیں۔ اسی ادھیڑ بن میں ہمارا انتقالِ پر ملال ہو گیا مگر یہ الجھن بدستور رہی۔ آج قدرت نے ایک موقع عطا کیا کہ عالمِ بالا سے آ کر آپ سے اکتساب_ فیض کرسکوں۔ ہم نے قدرے بے اعتنائی سے شعر پوچھا۔ حالی نے شعر سنایا:
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
ہم نے اسی طرح خلا میں گھورتے ہوئے اور اپنی کمر پر خارش جاری رکھتے ہوئے شرح بیان کی۔ یوں تو فرشتہ اور انسان دونوں ہی پانچ پانچ حروف پر مشتمل الفاظ ہیں مگر آپ سے جو شعر سرزد ہو گيا ہے اس کی اپنی توجیہ موجود ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فرشتوں کے پاس انسانوں والی سہولیات نہیں ہوتیں۔ یہاں ہم نے قدرے توقف کیا۔ حالی بے صبری سے بولے،” وہ کون سی مخدومی؟” ہم نے ہاتھ کے اشارے سے صبر اختیار کرنے کا اشارہ کیا اور اپنی شرحِ بے مثال جاری رکھی۔ فرشتے تو خلا کے مکین ہوتے ہیں اور زمین کی کشش سے دور رہتے ہیں۔ انسان زمین کا باسی ہے اور اس کی جملہ سہولیات اسی کو حاصل ہیں۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کی سہولت، دوسروں کے پاؤں تلے سے زمین کھینچ لینے کی سہولت، زمین پر موجود قدرتی حسن کو ہاتھ سے چھو لینے کی سہولت، مزے مزے کے اور مرچیلے کھانے کھانے کی سہولت، جاہ و حشم کی سہولت، گناہ کر نے اور اس سے لذّت کشید کرنے کی سہولت اور اس جیسی لاتعداد سہولتیں جن کا فرشتے تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اب رہی بات دوسرے مصرع کی تو اس کی کچھ ناگفتہ اور اجمالی سی تفصیل یہ ہے کہ فرشتے تو بنے بنائے ہوتے ہیں جبکہ ایک انسان کو بننے کے لیے کافی طویل عرصہ درکار ہوتا ہے اور اس میں اس کے ماں باپ کی پھٹکار اور اساتذہ کی مار کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ اتنے جاں گسل مرحلوں کے بعد اور سخت محنت کے بعد انسان کا بچہ بنتا ہے۔ اس کے بعد جا کر کہیں انسان بنتا ہے۔ کچھ اور بھی تفاصیل ہیں لیکن کچھ خوفِ فسادِ خلق سے ان کو ناگفتنی ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے۔
ہم نے شرح ختم کر کے حالی کی طرف ایک نظر دیکھا تو حالی لپک کر آئے اور ہاتوں کا بوسہ لیا۔ گو ہمیں یہ چونچلے پسند تو نہیں لیکن ان کی دلآزاری کے خیال سے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ حالی نے تشکر آمیز ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ رخصت چاہی۔ جب وہ رخصت ہوئے تو ان کی چال کا اعتماد بتا رہا تھا کہ اب یہ وہ حالی نہیں جو غالب اور ذوق کی محافل میں وقت ضائع کیا کرتے تھے۔

Views All Time
Views All Time
297
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   دیوانے اصغر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: