جیسے تمہاری خوشی! – گل نوخیز اختر

Print Friendly, PDF & Email
پلمبر نے کمال مہارت سے ٹوٹے ہوئے پائپ کی جگہ نیا پائپ لگایا اور ٹونٹی کھولی۔ الحمدللہ پانی بالکل ٹھیک آرہا تھا اور لیک بھی نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے گہری سانس لی اور پلمبر سے اس کام کا معاوضہ پوچھا۔ اس نے کچھ دیر سوچا، پھر سر میں خارش کرتے ہوئے بولا ‘اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں‘۔ میرے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی، میں نے جیب سے کڑکڑاتا ہوا ‘دس روپے‘ کا نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔ پلمبر نے غور سے نوٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا، اپنی آنکھیں ملیں، بازو پر چٹکی کاٹی اور حیرت سے بولا ‘یہ دس روپے کا نوٹ ہی ہے ناں؟‘۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ پلمبر کا چہرہ یکدم سٹین لیس سٹیل جیسا ہو گیا اور آنکھوں میں انگارے بھر گئے ‘میں نے آپ کی گاڑی پر وائپر نہیں مارا پانی کا پائپ تبدیل کیا ہے، دس روپے کس حساب میں دے رہے ہیں؟‘۔ میں بوکھلا گیا ‘ابھی تم نے خود ہی تو کہا تھا کہ اپنی خوشی سے جو مرضی دے دیں، یقین کرو دس روپے دیتے ہوئے مجھے جو خوشی ہو رہی ہے وہ بیان سے باہر ہے‘۔ اس نے اطمینان سے رینچ واپس نکالا ‘ٹھیک ہے! میں پرانا پائپ واپس لگا دیتا ہوں تاکہ دونوں کی خوشی کا لیول برقرار رہے‘۔ پیروں تلے سے زمین نکل گئی، ہاتھ جوڑ کر اسے روکا اور نہایت عزت سے پانچ سو کا نوٹ پیش کر دیا۔
پتا نہیں کچھ لوگوں کو کیوں یہ بیماری ہوتی ہے کہ معاوضہ لیتے وقت بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ‘اپنی خوشی سے دے دیں‘۔ بندہ پوچھے کہ پیسے دیتے ہوئے کس کو خوشی ہوتی ہے؟ دوسرا جملہ اس سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے کہ ‘جو بنے گا دے دیجئے گا‘۔ یہ جملہ زیادہ تر رکشہ والے استعمال کرتے ہیں۔ بالفرض اگر اس بات پر یقین کرکے رکشے میں بیٹھ جائیں تو یقینا منزل پر پہنچ کر جتنے پیسے بنیں گے‘ ان کا تعین رکشے والا ہی کرے گا، آپ کچھ بھی طے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔ اس معاملے میں وہ لوگ زیادہ چالاک ہوتے ہیں جو عموماً رشوت لیتے وقت جملے میں معمولی سی تبدیلی کرکے آپ کو آگاہ کر دیتے ہیں کہ بالآخر اپنی خوشی سے دینا کیا ہے۔ ان سے آپ کام کروانے کا جرمانہ پوچھیں تو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں ‘پانچ سو‘ ہزار… جو خوشی سے دینا چاہیں دے دیجئے گا‘۔
پیسے نکلوانا ایک فن ہے اور جو اس فن سے آشنا ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ ہمارے ایک دوست ہیں جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کسی کے پاس 100 روپے لینے کے لیے بھیجا جائے تو وہ 150 روپے لے کر آتے ہیں۔ ایک دفعہ ایک محلے دار نے ان سے فرمائش کی کہ وہ ان کے تین سال سے ڈوبے ہوئے دس ہزار روپے واپس دلوا دیں تو ان کو شکرانے کے طور پر دو ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔ موصوف نے فوراً ہامی بھری اور شام تک دس ہزار روپے واپس لے آئے۔ آٹھ ہزار محلے دار کو پکڑائے اور باقی دو ہزار اپنی جیب میں ڈال لیے۔ ہم سب بہت حیران تھے کہ آخر انہوں نے ایسی کون سی گیدڑ سنگھی استعمال کی کہ تین سال پرانا قرض لمحوں میں وصول ہو گیا۔ آخر کچھ دنوں بعد انہوں نے خود ہی طریقہ واردات بتا دیا۔ فرمایا کہ ‘جب میں مقروض شخص کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ اُس نے اور بھی بہت سے لوگوں کے پیسے دینے ہیں‘ یہ سن کر میں نے اُس سے کہا کہ اگر تم نے فوری طور پر میرے ‘کلائنٹ‘ کے دس ہزار ادا نہ کیے تو میں گلی کے دکاندار سے لے کر سبزی اور دودھ والے تک سب کو بتا دوں گا کہ تم نے میرے کلائنٹ کے دس ہزار انتہائی آسانی سے ادا کر دیے ہیں۔ یہ سنتے ہی مقروض شخص کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور اس نے کچھ ہی دیر میں اس وعدے کے ساتھ دس ہزار کا انتظام کر لیا کہ کسی اور کو پتا نہ چلے‘۔
پیسے نکلوانے کا فن بیگمات پر بھی ختم ہے۔ یہ اچانک بتاتی ہیں کہ آٹا‘ گھی‘ سبزی اور چکن یکدم ختم ہو گیا تھا جو میں نے ذاتی پیسے ڈال کر دو ہزار کا منگوا لیا ہے‘ لہٰذا اب مجھے میرے پیسے واپس دے دیں۔ ظاہری بات ہے کون مائی کا لعل ہے جو یہاں ‘منی ٹریل‘ مانگ سکے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ دفتر جاتے وقت شوہر حضرات بیگم کے ہاتھ میں سو روپے پکڑائیں یا ایک لاکھ‘ شام کو واپسی تک اُس میں سے 80 فیصد خرچ ہو چکے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ پیسے بچوں کے ذریعے بلیک میل کرکے نکلوائے جاتے ہیں۔ بچے بیٹھے بٹھائے گھر میں بنی ہر چیز سے عاجز نظر آنے لگتے ہیں۔ گھر میں دال‘ چکن‘ سبزی‘ ہر چیز پکی ہوئی ہے لیکن بچوں کو پسند نہیں آ رہی۔ ایسے میں بچوں کی ماں سرگوشی میں بتا دیتی ہے کہ اصل میں یہ باہر سے کچھ منگوانا چاہ رہے ہیں۔ ظاہری بات ہے آپ زیادہ سے زیادہ کیا کہہ سکتے ہیں؟ دو ہزار دینے ہی پڑتے ہیں اور کیسا انوکھا اتفاق ہے کہ چیزیں بھی پور ے دو ہزار کی آجاتی ہیں۔ یہ تو کبھی کوئی بچہ ماں سے ناراض ہو جائے تو باپ کو پتا چلتا ہے کہ وہ جو اُس دن دو ہزار دیے تھے اُن میں سے بقایا تین سو بھی بچے تھے… لیکن اب پچھتائے کیا ہوت‘ جب بیگم چُگ گئیں نوٹ!
آپ کے دوستوں میں بھی کوئی ایسا دوست ہو گا جو ہر دفعہ ہوٹل میں کھانا کھا کر پندرہ منٹ تک اپنے پورے جسم پر ہاتھ مار کر وہ جیب تلاش کرتا ہے جس میں بٹوہ رکھا ہے… اور یہ بٹوہ تب ملتا ہے جب دوستوں میں سے کوئی ایک بل ادا کر دیتا ہے۔ میرے ایک دوست شفقت نے اس کا ایک نیا‘ خوفناک اور بیہودہ ترین حل نکالا۔ جونہی کوئی دوست بل ادا کرنے لگتا وہ اسے فوراً روک دیتا اور میری طرف اشارہ کر دیتا ‘نوخیز! بل دو‘۔ پہلے تو میں اسے معاف کرتا رہا لیکن پھر ایک دفعہ میں نے بھی حساب بیباک کر ہی دیا۔ اس دن سے شفقت اور میرے درمیان ہر قسم کا رابطہ منقطع ہے!
ہوا یوں کہ شفقت میرے دفتر بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میرے ایک پرانے کلاس فیلو ارشد کا فون آ گیا۔ ارشد کی تازہ تازہ شادی ہوئی تھی اور وہ اپنی بیگم کے ہمراہ مری گیا ہوا تھا‘ واپسی پر سیدھا میری طرف آ رہا تھا۔ میں نے شفقت سے گزارش کی کہ جب ارشد اور اس کی بیگم آئیں تو تم ایک دوست کی حیثیت سے جھوٹ موٹ کہنا کہ آج کھانے کی دعوت میری طرف سے ہے۔ میں فوراً کہوں گا کہ ایسا نہیں ہو سکتا‘ چونکہ میاں بیوی میرے دفتر میں آئے ہیں لہٰذا کھانا بھی میں ہی کھلائوں گا، اس طرح تمہاری بھی ویلیو بن جائے گی۔ شفقت یہ سن کر خوش ہو گیا اور ہامی بھر لی۔ آدھے گھنٹے بعد ارشد اور اس کی بیگم بھی دفتر پہنچ گئے۔ شفقت نے پلان کے عین مطابق فراخدلانہ لہجے میں کہا ‘ارشد صاحب! آج آپ سب کو کھانا میں کھلائوں گا‘۔ اور کن اکھیوں سے میری طرف دیکھا۔ میں اطمینان سے سگریٹ کے کش پہ کش لگا رہا تھا۔ ارشد اور اس کی بیگم بھی شاید بہت بھوکے تھے لہٰذا انہوں نے بھرپور اور نے ممنون نگاہوں سے شفقت کی طرف دیکھا۔ میری طرف سے خاموشی دیکھ کر شفقت جلدی سے کھنکارا اور دوبارہ بولا ‘نوخیز! میرا خیال ہے تم نے سنا نہیں‘ میں کہہ رہا ہوں کہ آج ارشد صاحب اور ان کی بیگم کے اعزاز میں تم سب کو کھانا میں کھلائوں گا‘۔ میں نے ایک لمبا سا کش لگایا اور دھواں شفقت کے منہ پر چھوڑتے ہوئے کہا ‘ٹھیک ہے میرے دوست! جیسے تمہاری خوشی…‘‘
بشکریہ روزنامہ دنیا
Views All Time
Views All Time
771
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   تھری ان ون کالم | حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: