Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

دائیں بائیں شائیں – گل نوخیز اختر

by فروری 27, 2017 کالم
دائیں بائیں شائیں – گل نوخیز اختر
Print Friendly, PDF & Email
ایک دن اچانک مجھ پر کھلا کہ میں ایک لبرل بندہ ہوں۔ میں زیادہ تر پینٹ شرٹ پہنتا ہوں‘ ٹائی بھی پسند ہے‘ فلمیں بھی دیکھتا ہوں، ناچ گانا بھی اچھا لگتا ہے ‘ گنگناتا بھی ہوں۔ دوستوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ عورتوں پر تشدد کے بھی خلاف ہوں‘ کلین شیو ہوں‘ عطر کی بجائے پرفیوم لگاتا ہوں‘ اُردو بولتا ہوں تو اُس میں آدھے سے زیادہ الفاظ انگریزی کے ہوتے ہیں‘ آمریت کی بجائے جمہوریت کا حامی ہوں‘ کئی دفعہ سٹیج ڈراموں میں رقص بھی دیکھا ہے‘ سگریٹ بھی پیتا ہوں‘ انگریزی سال کے آغاز پر دوستوں کو ہیپی نیوایئر بھی کہتا ہوں، لبرل دوستوں کی محفلوں میں بھی باقاعدگی سے شریک ہوتا ہوں‘ امریکہ سے بھی کوئی خاص شکوہ نہیں‘… لیکن پتا نہیں کیوں میرے لبرل دوست مجھے اپنے جیسا تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ میں بارہا ان کی منتیں کر چکا ہوں کہ خدا کے لیے مجھے اپنی برادری کا ہی فرد سمجھیں لیکن وہ منہ پھیر لیتے ہیں۔ میں نے ان کے اطمینان کے لیے اپنے اندر مزید تبدیلیاں کیں‘ پرتکلف پارٹیوں میں جانا شروع کر دیا‘ مولویوں کے لطیفے یاد کرلیے‘ نماز روزے میں مزید بے احتیاطی برتنا شروع کر دی لیکن وہ نہیں مانے۔
تب ایک دن میرے ایک لبرل دوست نے مجھ سے پوچھا’خدا کو مانتے ہو؟‘… میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور اثبات میں سرہلادیا۔ اس نے ایک گہری سانس لی‘ گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ بھرا اور گھور کر بولا ‘کہاں ہے خدا؟‘۔ میں نے سرکھجایا ‘کہاں نہیں ہے؟‘۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی ‘اب سمجھے ہو کہ تمہیں کوئی لبرل کیوں نہیں مانتا؟‘… بات میری سمجھ میں آگئی تھی، لیکن اس طرح سے لبرل ہونا تو ناممکن تھا، میں نے اس سے فرمائش کی کہ اِس ایشو کو چھوڑ کر کوئی اور فرمائش کردو‘ اس نے مزید ایک گھونٹ بھرا اور میرے لباس کی طرف اشارہ کرکے بولا ‘تمہاری ڈریسنگ ٹھیک نہیں‘۔ میں بوکھلا گیا ‘کیا کہہ رہے ہو، دو دن پہلے تو نئی پینٹ شرٹ لی ہے‘۔ اس نے دانت پیسے ‘جب انسان پیدا ہو ا تھا تو کیا اس نے لباس پہنا ہوا تھا؟‘ میں دم بخود رہ گیا ‘اگر پیدائش کے وقت انسان عریاں تھا تو اب لباس نہ پہننے سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی؟‘… میں نے مٹھیاں بھینچیں ‘پیدائش کے وقت تو تمہارے دانت بھی نہیں تھے وہ کیوں نہیں نکلوا دیتے، پیدائش کے وقت تو تم چل بھی نہیں سکتے تھے پھر ٹانگیں کیوں نہیں کٹوا دیتے‘ پیدائش کے وقت توتم بول بھی نہیں سکتے تھے پھر ہونٹ سلوا کیوں نہیں لیتے؟‘ وہ آگے کو جھکا اور حسب معمول مسکراتے ہوئے بولا ‘ لبرل ہونے اور لبرل کہلوانے میں بڑا فرق ہے، یہ فرق سمجھو‘۔ میں اچھی طرح سمجھ گیا تھا اس لیے خاموشی سے واپس آگیا۔
دن رات یہی سوچتا رہا کہ میں تو کالم بھی لکھتا ہوں اور کالم نگار دائیں بازو کے ہوتے ہیں یا بائیں بازو کے… میں کس طرف ہوں، بائیں بازو والے تو مجھے کہنی مار کے پرے کرچکے تھے، سوچا دائیں بازو سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے ، یہ سوچ کر مجھے بے حد اطمینان نصیب ہوا، کافی دیر غور کیا تو مجھے مذہبی ہونا زیادہ آسان لگا، میں سارے نہ سہی لیکن کچھ روزے تو آل ریڈی رکھتا تھا، مسجد سے بھی شناسائی تھی، قرآن بھی پورا پڑھا ہوا تھا، کئی آیتیں بھی یاد تھیں ‘ بچپن سے ہی کان میں اذان دی گئی تھی‘ شناختی کارڈ پر بھی مسلمان لکھا ہوا تھا، کلمے بھی یاد تھے‘ جمعہ کی نماز بھی پڑھتا تھا۔ خوشی کی ایک لہر میرے اندر دوڑ گئی، میں نے فوری طور پر اپنے مذہبی دوستوں سے رابطہ کیا ۔ میرا یوٹرن سن کر انہوں نے مجھے مبارکباد دی کہ میں صحیح رستے پر آگیا ہوں تاہم آگاہ کیاکہ میں ابھی پورا مسلمان نہیں ہوں ‘کچھ قباحتیں موجود ہیں۔ میں نے تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ مجھے داڑھی رکھنی چاہیے، ٹی وی توڑ دینا چاہیے‘ ٹائی ہرگز نہیں لگانی‘ ٹوتھ پیسٹ کی بجائے مسواک استعمال کرنی ہے‘ پینٹ شرٹ سے پیچھا چھڑانا ہے‘ سر پر ٹوپی رکھنی ہے‘ سگریٹ ہرگز نہیں پینا‘ کسی خاتون کو دوست نہیں کہنا‘ ہر وقت عبرتناک موت یاد رکھنی ہے‘ زیادہ کھل کے ہنسنے سے گریز کرنا ہے‘ موسیقی سے شدید پرہیز کرنا ہے حتیٰ کہ موبائل کی رنگ ٹون بھی نہیں لگانی۔ میں عجیب سی بے چینی میں مبتلا ہوگیا تاہم مجھے یقین ہوگیا کہ یہ طبقہ بھی مجھے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، میں دائیں بائیں کی بجائے ‘شائیں‘ ہوں!
میں اور میرے جیسے بہت سے ‘درمیانے‘ ہیں جو کھجور میں اٹکے ہوئے ہیں‘ نہ ہمیں کوئی لبرل مانتا ہے نہ مذہبی۔ ہم مجبور ہیں کہ مذہب اور معاشرے سے کٹ نہیں سکتے، یہی ہماری سب سے بڑی خامی ہے۔ ایک طبقہ ہمیں مذہب سے کاٹنا چاہتا ہے دوسرا معاشرے سے۔ ہم دونوں کے لیے آسان شکار ہیں، کوئی بھی ہمیں محبت سے اپنا کر ہمارا احساس کمتری ختم کرسکتا ہے ، ہمیں اپنے جیسا بنا سکتا ہے لیکن کوئی بھی تو نہیں آگے آتا۔ہماری چھوٹی چھوٹی باریکیوں کو زوم کرکے بتایا جاتا ہے کہ ہم کتنے غلط ہیں۔ہم جس طرف بھی جاتے ہیں جوتیاں کھاکے ہی نکلتے ہیں۔ ہم راتوں رات کیسے تبدیل ہوجائیں؟
ہم دو انتہائوں کے درمیان زند ہ ہیں لیکن وہ موج نہیں ہیں جو دریا میں ہوتی ہے، ہم بیرونِ دریا ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔ ہمیں ہمارا معاوضہ چیک کی صورت میں ملتا ہے اور چیک بینک میں جمع کرائے بغیر کیش نہیں ہوتا‘ مذہبی کہتے ہیں بینک سے لین دین جائز نہیں۔ تو پھر کس سے لین دین کریں؟ ہماری خواتین دوپٹہ اوڑھتی ہیں، لبرل کہتے ہیں یہ دقیانوسی ہونے کی علامت ہے، ہم کیسے کہیں کہ بھائی برقعہ تو اتار پھینکا، حجاب بھی نہیں پہنا، کم ازکم دوپٹہ تو رہنے دو۔ لیکن وہ نہیں مانتے۔مذہبی ہمیں سگریٹ تک نہیں پینے دیتے اور لبرل اس سے بھی آگے کی بات کرتے ہیں۔
اصل میں ہم آدھے تیتر‘ آدھے بٹیر ہیں۔اب ہم کوشش کے باوجود بھی نہ لبرل ہوسکتے ہیں نہ مذہبی۔ہمارا پورا باطن ففٹی ففٹی ہوچکا ہے۔ہم کتنے ہی لبرل دوستوں کے ساتھ کیوں نہ سفر کر رہے ہوں‘ بلند آواز نہ سہی‘ دل میں ہی سفر سے پہلے کوئی نہ کوئی دعا ضرور پڑھ لیتے ہیں۔اسی طرح بے شک رمضان میں روزے سے ہی کیوں نہ ہوں ٹی وی پر کوئی فلم بھی چکھ ہی لیتے ہیں۔کیا کریں، کدھر جائیں’ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر‘…!!
ہمارے بچے بے شک ماڈرن سکولوں میں پڑھ رہے ہیں لیکن وہ کسی نہ کسی قاری یا قاریہ سے قرآن کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔ہماری بیویاں فیشن بھی کرتی ہیں اورستائیسویں کی رات عبادت بھی‘ ہم یورپ جانے کی بھی تمنا رکھتے ہیں اور حج کی خواہش بھی۔ ہم محفل میں قہقہے بھی لگاتے ہیں اور ہمارے ہاں جنازے پڑھانے کا بھی رواج ہے۔ہم دنیا داری کو بھی مانتے ہیں اور دنیا والے کو بھی۔ ہم تو وہ ہیں جو انجانے میں کوئی غلط کام کرنے سے پہلے بھی عادتاً بسم اللہ پڑھ لیتے ہیں… بتائیں ہم کہاں جائیں، کہاں خود کو باندھیں‘ کہاں سے رسی تڑوائیں؟ ‘نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے‘۔بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں ‘ دو کشتیوں کے سوار ہیں۔ ہمارے مرنے پرشمعیں جلائیں یا قل خوانی کرائیں لیکن پلیز‘ فارگاڈ سیک‘ خدا کے لیے… یہ تو طے کردیں کہ ہم ہیں کون؟
بشکریہ روزنامہ دنیا

 

Views All Time
Views All Time
193
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   غیر اہم معاملات میں ہماری جنون کی سی دلچسپی - ایاز امیر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: