Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سڑیل لوگوں کی نشانیاں

سڑیل لوگوں کی نشانیاں
Print Friendly, PDF & Email

سڑیل کون ہوتا ہے؟ وہی جو قہقہوں بھری محفل میں بھی اچانک اٹھ کر کہہ دیتا ہے ”معاف کیجئے! زیادہ ہنسنا منافقت کی نشانی ہے‘‘ یقینا اس جملے کے بعد نہ ہنسنے کا جواز باقی رہتا ہے نہ محفل کا۔ سڑیل لوگ خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں ‘ یہ وہ ہینڈ گرنیڈ ہوتے ہیں جو کھلی پن کے ساتھ جہاں جاتے ہیں بربادی پھیلا آتے ہیں۔ ایسے مہلک لوگوں کی پہچان کے لیے نشانیاں حاضر ہیں‘ آپ اسے ایک پبلک سروس میسج سمجھ لیجئے۔۔۔!!

سڑیل لوگوں سے سلام لیا جائے تو آگے سے گھور کر دیکھتے ہیں۔ حال چال پوچھا جائے تو صرف ‘ہوں‘ میں جواب دیتے ہیں۔ یہ گاڑی چلا رہے ہوں تو اِرد گرد کی ٹریفک پر مسلسل تبرا کرتے رہتے ہیں۔ ان کے آگے سے کوئی موٹر سائیکل والا گزر جائے تو ڈیڑھ دو سو گالیوں سے سواگت کرتے ہیں۔ یہ جنازے میں شریک ہوں تو وہاں بھی جھگڑے کا کوئی موقع نکال لیتے ہیں۔ شادی کی تقریب میں یہ سب سے الگ تھلگ منہ پھلائے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو خود ہی بے باک اور دو ٹوک کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ان سے کبھی کوئی غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ اکثر غلط بات کا آغاز ہی انہی سے ہوتا ہے۔ اِن سے کبھی کسی کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔ یہ بیگم سے لڑنے کے موڈ میں ہوں اور کوئی وجہ نہ مل رہی ہو تو اکثر اس بات پر فساد کھڑا کر لیتے ہیں کہ بارشیں کیوں نہیں ہو رہیں؟ یہ شاپنگ بھی کر رہے ہوں تو لگتا ہے جنگ لڑ رہے ہیں۔ دکانداروں سے بلا وجہ الجھنا بھی ان پر ختم ہے‘ کئی دفعہ تو اس بات پر طوفان کھڑا کر لیتے ہیں کہ مالٹے پر ایکسپائری ڈیٹ کیوں نہیں لکھی ہوئی؟

ان کے سڑیل پن کا سب سے زیادہ نشانہ اِن کے سسرال والے بنتے ہیں‘ وہاں اگر اِنہیں یہ خوشخبری سننے کو ملے کہ سالے نے نئی موٹر سائیکل خریدی ہے تو اِن کا غصہ دیکھنے والا ہوتا ہے‘ موٹر سائیکل کی خطرناکی پر لیکچر دیتے ہوئے اعلان کر دیتے ہیں کہ بس اب کچھ دنوں میں لاش آیا ہی چاہتی ہے۔ یہ کسی خاتون سے بات کر رہے ہوں تو سب سے پہلے اُسے باور کراتے ہیں کہ اِن کے علاوہ سارے مرد بھیڑیے ہیں۔ محبت کے معاملے میں بھی ان کی طبیعت جلالی رہتی ہے‘ محبوبہ دن میں دو دفعہ فون کرے تو چیخنے لگتے ہیں کہ تیسری دفعہ کیوں نہیں کیا‘ اور اگر تین دفعہ فون آنے لگے تو دانت پیستے ہیں کہ ایسی کیا مصیت آ گئی ہے۔ بیوی کو دیکھتے ہی ان کی بیزاری بڑھ جاتی ہے۔ بیوی کے ہر کام میں کیڑے نکالتے ہیں اور اگر نہ نکال سکیں تو کیڑے ڈال دیتے ہیں۔ بچے بھی اِن سے سہمے سہمے رہتے ہیں‘ کوئی بچہ اگر پیار سے کہہ بیٹھے کہ ”پاپا آج میں نے سکول ٹیسٹ میں 100 میں سے 80 نمبر لیے‘‘ تو اِن کی رگیں تن جاتی ہیں ”پورے سو کیوں نہیں لیے۔۔۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:   چھوٹی سی ساہوکارنی

سڑیل لوگ عموماً چار چار دن شیو نہیں کرتے۔ گھر کے یو پی ایس کی خرابی کا ذمہ دار بھی بیوی کو قرار دیتے ہیں۔اِنہیں اپنے سے زیادہ کامیاب ہر شخص زہر لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی مخالف کے خلاف کوئی پوسٹ لگائیں تو اوپر لکھ دیتے ہیں ‘لعنت بھیج کرآگے شیئر کریں‘۔ جس دلیل کا ان کے پاس جواب نہیں ہوتا اُس کے جواب میں موٹی تازی گالی نکال دیتے ہیں۔ یہ ہر وقت اتنے تپے رہتے ہیں کہ ایک بادام بھی کڑوا نکل آئے تو ڈرائی فروٹ والے پر کیس کر دیتے ہیں۔ مسجد سے جوتی چوری ہو جائے تو جوتوں والی دکان پر رسید لے کر پہنچ جاتے ہیں کہ جوتی تو ابھی انڈر وارنٹی تھی۔ یہ شناختی کارڈ بنوانے جائیں‘ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے جائیں‘ بچوں کے سکول جائیں‘ گاڑی کے ٹوکن لگوانے جائیں‘ ڈاک خانے جائیں یا ہسپتال جائیں۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے کسی نہ کسی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ یہ دماغ کے اتنے گرم ہوتے ہیں کہ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اگر کوئی راہ گیر آواز لگا دے کہ ‘بھائی سٹینڈ اوپر کر لو‘ تو اُسے بھی گھوری ڈالتے ہوئے جاتے ہیں۔ عموماً سڑیل لوگوں کے دوست نہیں ہوتے۔۔۔ اور دشمن کی اِنہیں ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

اِن کے نزدیک اِن کی ناکامیوں کی سب سے بڑی وجہ ان کی بے خوفی ہوتی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ سب کو جوتے کی نوک پر لکھتے ہیں لہٰذا ناکام ہیں حالانکہ اکثر معاملہ الٹ ہوتا ہے۔ ان کے اندر خود ساختہ غیرت بھی کوٹ کوٹ کے بھری ہوتی ہے۔ یہ عورت کی تعلیم کے بھی خلاف ہوتے ہیں اور بیگم کے لیے گائنی کی لیڈی ڈاکٹر بھی تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ اِن کے دماغ میں ہر وقت ایک بھونچال سا آیا رہتا ہے۔ ریلوے پھاٹک بھی چند سیکنڈ زیادہ بند رہے تو یہ پھاٹک والے سے ‘رجسٹر شکایات‘ طلب کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ نہ کرے ان کی کہی ہوئی ہزار باتوں میں سے ایک بھی صحیح نکل آئے تو ساری زندگی اُسی کو حوالہ بناتے ہیں کہ ”میں نے کہاتھا ناں۔۔۔‘‘

ان کے سامنے اگر کوئی خوشگوار موڈ میں پھر رہا ہو تو یہ بلا وجہ ‘کچیچیاں وٹنے‘ لگتے ہیں۔ اِن کو بے شک ‘آپ جناب‘ کہہ کر بلایا جائے یہ آگے سے ”توں‘‘ ہی کہتے ہیں۔ اِن کی طبیعت دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ ابھی لڑ پڑیں گے لیکن ایسی نوبت کبھی نہیں آتی۔ اِن کا تمام تر غیط و غضب زبانی کلامی ہوتا ہے‘ اور اگر اگلا آستینیں چڑھا کر لڑائی پر اُتر آئے تو اِن کا سارا غصہ ڈاؤن لوڈ ہو جاتا ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ سڑیل لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہوتے ہیں لیکن ایسی کوئی بات نہیں‘ نارمل کیفیت میں بھی یہ فریضہ بخوبی سرانجام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگ جان بوجھ کر ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ بات بگڑ جائے۔ یہ جان بوجھ کے سموکنگ ایریا میں پہنچ جاتے ہیں اور پھر وہاں تماشا کھڑا کر لیتے ہیں کہ تمباکو نوشی کیوں ہو رہی ہے۔ سڑیل مزاجی صرف مردوں میں ہی نہیں خواتین میں بھی پائی جاتی ہے لیکن وہاں اس کی نوعیت تھوڑی مختلف ہے۔ سڑیل مزاج خواتین شوہر کی طرف سے گفٹ کیے ہوئے سوٹ پر بھی پہلا جملہ یہی کہتی ہیں ”تینوں ایہو جیا ای رنگ پسند آندا اے‘‘۔ فیس بک پر سڑیل خواتین کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنی پوسٹ لائک نہ کرنے والوں کو ان فرینڈ کر دیتی ہیں لیکن خود کسی کی پوسٹ پر لائک یا کمنٹ کرنا گناہ سمجھتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:   ایک تھا لاشاری - ذیشان حیدر نقوی

مرد ہوں یا خواتین۔۔۔ دونوں میں سڑیل موجود ہیں؛ تاہم میری آج کی تحقیق کا زیادہ تر حصہ سڑیل مردوں پر مشتمل تھا۔ یہ سڑیل لوگ بھی چونکہ معاشرے کا حصہ ہیں لہٰذا ان سے الگ تھلگ ہونا آسان کام نہیں‘ البتہ ان کی پہچان ضرور ہونی چاہیے۔ سڑیل بندے کی اگر شادی ہو جائے اور ایک سال بعد اُس کی بیوی سے رشتے دار خواتین پوچھیں کہ ”سناؤ شکیلہ کچھ ہوا؟‘‘۔ تو آگے سے جواب یہی ملتا ہے ”جی ہاں۔۔۔ جھگڑا!!!‘‘۔

اگر آپ نے کافی سارے لوگوں کی موجودگی میں چیک کرنا ہو کہ کون سڑیل ہے تو اس کا بڑا آسان سا طریقہ ہے۔ بلند آواز میں کہیں کہ بھئی آج کا کھانا تو بہت اچھا تھا۔ یہ سنتے ہی کسی نہ کسی کونے سے پھنکار سنائی دے گی ”بکواس‘‘۔۔۔ فوراً سمجھ جائیں کہ آپ کا مطلوبہ سڑیل آپ کے سامنے ہے۔۔۔!!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
249
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: