بریکنگ نیوز – گل نوخیز اختر

Print Friendly, PDF & Email
ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ دہشت گردوں نے حکومت اور سکیورٹی فورسز سے درخواست کی ہے کہ انہیں ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی جائے۔ دہشت گردوں نے اپنی درخواست اوتھ کمشنر سے تصدیق کروا کے چار پاسپورٹ سائز تصویروں اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کے ہمراہ پیش کی تھی؛ تاہم حکومت نے ان کی درخواست رد کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس پر دہشت گردوں میں بے حد مایوسی پھیل گئی ہے۔
ہمارے نمائندے نے بتایا ہے کہ دہشت گرد نہایت سیخ پا ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ حکومتی اجازت نہ ملنے پر اسمبلی ہال کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کے لیے جو درخواست دی تھی اس کے ساتھ میٹرک کی سند اور کریکٹر سرٹیفکیٹ منسلک نہیں کیا گیا۔ جب حکومتی ترجمان سے پوچھا گیا کہ اگر یہ دہشت گرد آپ سے اجازت لیے بغیر کوئی دہشت گردی کی کارروائی کر دیں تو اس پر کیا ایکشن لیا جائے گا‘ تو جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں حکومت بالکل بھی خاموش نہیں رہے گی‘ بلکہ بھرپور طریقے سے اس عمل کی نہ صرف مذمت کی جائے گی بلکہ اسے سرعام ایک بزدلانہ فعل بھی قرار دیا جائے گا۔ حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی اجازت کے لیے عنقریب ایک محکمہ قائم کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جائے گی کہ ملک کی ہر یونین کونسل میں اس کے ذیلی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ دہشت گردوں کو اپنی کارروائیوں کی اجازت لینے کے لیے دور دراز کا سفر نہ طے کرنا پڑے۔ 
اس موقع پر سکیورٹی اداروں کے ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے لیے انہوں نے ایک شاندار پلان تیار کیا ہے جس کے تحت بہترین موسیقاروں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ لازوال گیت بنا بنا کر دہشت گردوں کا قلع قمع کیا جا سکے‘ اس مقصد کے لیے ہر اہم عمارت کی چھت پر سنائپر کی بجائے ‘خانصاب‘ تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے 1965ء کا حوالہ دے کر ثابت کیا کہ تب بھی نور جہاں کے گیتوں کی وجہ سے ہم نے دشمن کو شکست فاش دی تھی؛ تاہم ‘1971ء میں میڈم کا گلا خراب ہونے کی وجہ سے ہم ان کی جنگی خدمات سے خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھا سکے‘۔
ہمارے نمائندے کے مطابق حکومت نے دہشت گردی کی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے عوام کو اکٹھا ہونے کی تاکید کی ہے؛ تاہم ساتھ ہی دفعہ 144 بھی نافذ کر دی ہے۔ عوام پریشان ہیں کہ وہ کہاں اکٹھے ہوں؟ اس حوالے سے حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ جہاں بھی کسی دہشت گرد کی اطلاع ملے عوام کو چاہیے کہ فوراً وہاں اکٹھے ہو جائیں اور ون فائیو پر اطلاع دیں تاکہ اگر اس وقت اُدھر سے کوئی اہم شخصیت گزر رہی ہو تو اس کا روٹ تبدیل کر دیا جائے۔
اس موقع پر اپوزیشن رہنما بھی موجود تھے جنہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیاں روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ پاناما کیس کا جلد از جلد فیصلہ سنایا جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یکدم دہشت گردی کی کارروائیاں کیوں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سب پاناما کیس سے توجہ ہٹانے کی کوششیں ہیں۔ ہمارے نمائندے نے جب دہشت گردوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس ملک میں سب کے حقوق ہیں سوائے دہشت گردوں کے۔ نہ ہمیں میڈیا پر جگہ دی جاتی ہے نہ ہماری کوئی وزارت ہے بلکہ ہمارے لیے تو حکومت کوئی سہولت بھی مہیا نہیں کرتی‘ ہمیں اپنا سہولت کار بھی خود ہی تیار کرنا پڑتا ہے؛ تاہم نامساعد حالات کے باجود ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اپنا کام بہتر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔
جب دہشت گردوں سے پوچھا گیا کہ نہ آپ نے پورے ملک میں سکیورٹی کیمرے لگائے ہیں‘ نہ آپ بڑے بڑے محل نما گھروں میں رہتے ہیں‘ نہ سکیورٹی فورسز پر آپ کا کوئی کنٹرول ہے‘ پھر آپ اتنی کامیابی سے اپنی کارروائیاں کیسے سرانجام دے رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہماری کامیابی کی وجہ صرف اپنے کام سے کام رکھنا ہے، ہم حکومت کی طرح بوکھلاہٹ کے شکار نہیں، ہمیں پتا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ فول پروف سکیورٹی کے باوجود آپ کیسے کامیاب ہو جاتے ہیں تو سب نے ایک مشترکہ قہقہہ لگا کر کہا کہ فول پروف صرف حکمرانوں کی سکیورٹی ہوتی ہے، عوام کی سکیورٹی تو واٹر پروف نہیں ہو سکتی فول پروف کیا ہو گی۔
ہمارے نمائندے کے مطابق حکومتی اور سکیورٹی فورسز نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پورے ملک کے بازار‘ سکول‘ مزار‘ مارکیٹیں‘ ریلوے سٹیشنز‘ ایئرپورٹس اور سرکاری ادارے بند کر دیے جائیں، انٹرنیٹ کنکشن منقطع کر دیے جائیں اور ہر طرف کرفیو لگا دیا جائے۔ یقینا اس کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جو باہر نکلنے کی کوشش کرے گا‘ وہ دہشت گرد ہی ہو گا لہٰذا اسے وہیں پر ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اچھے دہشت گردوں کے نہیں بلکہ صرف بُرے دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک سکیورٹی ایجنسی کے آفیسر نے کہا کہ دہشت گرد بہت بزدل لوگ ہیں؛ تاہم یہ جملہ سن کر جب ایک دہشت گرد ان کی طرف لپکا تو خودآفیسر کی چیخیں نکل گئیں اور وہ چھلانگ مار کر دوڑ گئے۔
ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ حکومت جس طرح سے ان کی بھرپور مذمت کرتی ہے اس سے وہ بہت زیادہ شرمندہ ہو رہے ہیں‘ اب تو ان کے محلے دار بھی انہیں طعنے مارنے لگے ہیں جس کی وجہ سے ان کا جینا محال ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں سے جب بھی ان کے کسی حملے کے خلاف قرارداد مذمت پاس ہوتی ہے وہ زمین میں گڑ جاتے ہیں اور اگلے دو ہفتے تک انہیں بخار رہتا ہے۔ دہشت گردوں کے مطابق ان کے کئی ساتھی اِن مذمتی بیانات کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے ہیں۔ جب دہشت گردوں سے پوچھا گیا کہ آپ معصوم لوگوں کی جان کیوں لیتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ عوام تو ویسے بھی مر رہی ہے، ہم تو عوام کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے انہیں مارتے ہیں کیونکہ جب کوئی ہمارے حملے میں مرتا ہے تو بے شک وہ غریب ہی کیوں نہ ہو‘ حکومت اس کے لواحقین کو بھاری معاوضہ ادا کرتی ہے اور یوں اس کے باقی ماندہ گھر والے خوشحال ہو جاتے ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک دہشت گردوں اور حکومتی نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور اس بات پر بحث کی جا رہی تھی کہ کوئی ایسا حل نکالا جائے جس سے نہ دہشت گردوں کی انا مجروح ہو نہ حکومت کی۔ عوام نے اس موقع پر مذاکرات میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں زبردستی کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
326
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   جمہوریت اور طبقاتی نظام میں فرق ہے صاحبو! - حیدر جاوید سید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: