Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

رمضان سپیشل | گل نوخیز اختر

رمضان سپیشل | گل نوخیز اختر
بچپن میں جب شب برات کے بعد مساجد میں قلعی ہونے لگتی تھی‘ نئی صفیں بچھنے لگتی تھیں اور فضا نسبتاً ایک پاکیزہ روپ دھارنے لگتی تھی تو بچوں کو بھی اندازہ ہو جاتا تھا کہ اب رمضان شروع ہونے والا ہے۔ آج کل پھل‘ کھجوریں‘ بیسن اور سبزیاں مہنگی ہو جائیں اور جوتیوں کی دکانوں میں پرانے مال کی سیل لگ جائے تو پتا چلتا ہے کہ برکتوں کا مہینہ سر پر ہے۔ تسبیح اور ٹوپیاں بھی مہنگی ہو گئی ہیں کیونکہ پچھلے رمضان والی تسیبح اور ٹوپیاں شاید ہی کسی کے پاس محفوظ رہی ہوں… جب نئی چیز مل رہی ہے تو پرانی کون ڈھونڈے!!!
آج سے چند روز بعد سارا نظام بدل جائے گا۔ دکانوں پر چپس‘ بسکٹ‘ ڈبل روٹی‘ انڈے اور بوتلیں سامنے رکھی ہوں گی لیکن سگریٹ چھپا دیے جائیں گے‘ گویا روزہ صرف سگریٹ سے ہی ٹوٹتا ہے۔ سارا دن ٹی وی پر مشروبات کے فرحت بخش اشتہارات چلیں گے اور روزہ داروں کا صبر آزمائیں گے۔ بڑے بڑے برینڈ اچانک اپنے اشتہارات میں عقیدت کا رنگ بھر لیں گے اور ہر چیز رمضان کا نام لے کر بیچی جائے گی۔ افطاری کے قریب ٹی وی پر باتھ روم کلینر کے اشتہارات مع تصویر دکھائے جائیں گے اور بار بار دکھائے جائیں گے۔ رمضان کے احترام میں جگہ جگہ ‘ڈیزل‘ میں پکے پکوڑوں سموسوں کی دکانیں کھل جائیں گی‘ مسجدیں یکدم آباد ہو جائیں گی اور گداگروں کی ٹولیاں ہر طرف گشت کریں گی۔ شیطان بند اور انسان آزاد ہو جائیں گے۔ دفاتر میں کام ٹھپ ہو جائے گا کیونکہ کچھ لوگوں کو یقین ہے کہ روزہ دار کا حق ہے اگر وہ روزہ رکھے تو بے شک کوئی کام نہ کرے لیکن تنخواہ پوری لے۔
کچھ روز بعد ٹریفک بے ہنگم سی ہو جائے گی‘ افطار کے اوقات میں لوگ ہوا کے دوش پر اڑتے نظر آئیں گے‘ چوراہوں پر ٹریفک جام ہو جائے گی‘ سب کو صرف ایک ہی جلدی ہو گی کہ کسی طرح گھر پہنچ کر افطاری میں شریک ہو جائیں۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی کہتا تھا کہ ‘میں روزے سے ہوں‘ تو بے اختیار اس کے لیے احترام کے جذبات امڈ پڑتے تھے۔ آج کل جب کوئی یہ جملہ کہتا ہے تو پتا نہیں کیوں یکدم خوف طاری ہو جاتا ہے کہ موصو ف کہیں یکدم بھڑک ہی نہ جائیں۔ ہمارے محلے میں ایک حاجی صاحب رہتے ہیں جو روزہ رکھ لیں تو پورے محلے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حاجی صاحب روزے سے ہیں۔ حاجی صاحب کا تقاضا ہوتا ہے کہ انہیں دکان پر سب سے پہلے سامان دیا جائے کیونکہ ان کا روزہ ہے‘ سائیکل پر جا رہے ہوں تو بیچ سڑک میں چلتے ہیں‘ گاڑی والا ہارن دے تو گھور کر ایک ہی جواب دیتے ہیں ‘اوئے… میرا روزہ ہے‘۔ لوڈ شیڈنگ کی صورت میں بنیان پہن کر گھر کے صحن میں لیٹ جاتے ہیں اور سب بچوں کو حکم دیتے ہیں کہ مجھے زور زور سے پنکھا جھلو‘ میرا روزہ ہے۔ مالک مکان کرایہ بھی مانگنے آئے تو یہی جواب دے کر بھگا دیتے ہیں۔
گرمی بہت ہے‘ روزے یقینا انتہائی سخت ہوں گے‘ ایسے میں حاجی صاحب جیسے کئی لوگوں نے پہلے سے ہی کچھ ضروری انتظامات کر لیے ہیں مثلاً میرے ایک بٹ دوست نے پکا ارادہ کر لیا ہے کہ وہ سحری میں چار بڑے گلاس دہی کی لسی کے پیئں گے تاکہ سارا دن پیاس نہ لگے۔ پچھلی دفعہ بھی انہوں نے ایسا ہی کیا تھا اور ایسی خماری چڑھی تھی کہ افطاری کے وقت جب انہیں نیند سے اٹھایا جاتا تو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتے کہ ‘ایڈی جلدی دن گزر گیا؟‘‘۔ بٹ صاحب افطاری میں دال چاول کا پتیلا لے کر ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں اور اکثر تب اٹھتے ہیں جب پتیلے میں سے خود آواز آتی ہے کہ ‘بٹ صاحب ہن تے مینوں چھڈ دیو‘۔ ایک اور صاحب ہیں جنہیں ہر وقت یہی شبہ رہتا ہے کہ ان کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ روزے کی حالت میں فون کر کر کے دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ بیگم پیاز کاٹ رہی تھی‘ آنکھ میں آنسو آ گئے‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… ٹی وی لگایا تو اچانک ایک گانے والے چینل پر نظر پڑ گئی‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… گھر میں بریانی پک رہی ہے‘ دیکھ کر منہ میں پانی آ گیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… مجھے حسرت ہی رہی کہ کاش کبھی ان کے منہ سے یہ بھی سننے کو ملے کہ آج میں نے بچے سے کہہ دیا کہ باہر جا کر محلے دار سے کہہ دو میں گھر پر نہیں ہوں‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… میں نے تین سو روپے میٹر والا کپڑا بارہ سو روپے میٹر میں فروخت کیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… میں نے کل کے باسی سموسے پکوڑے اپنی ماسی کو دے دیے‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا… میں نے ساری رات کنڈا لگا کر اے سی چلایا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… میں نے صبح کی نماز میں ایک بچے کو دھکا دے کر پچھلی صف کی طرف دھکیل دیا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا؟… میں نے اپنے غیر مسلم ملازم کو سارا دن بھوکا پیاسا رکھا‘ روزہ تو نہیں ٹوٹا… ہو سکتا ہے ان چیزوں سے روزہ نہ ٹوٹتا ہو‘ بہرحال کسی کا دل ضرور ٹوٹ جاتا ہے۔
بچپن میں مولوی صاحب ہمیں پڑھایا کرتے تھے کہ روزے کی حالت میں بھوکا پیاسا رہ کر انسا ن کو غریب کی حالت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں تو اپنی بھوک پیاس مار دیتی ہے کسی کی طرف خاک دھیان جانا ہے۔ اصولی طور پر ماہ رمضان میں ہر گھر میں راشن کی مقدار کم ہو جانی چاہیے لیکن اس کے الٹ ہوتا ہے۔آپ کبھی حساب لگا کر دیکھئے گا‘ بھوک پیاس کے اِس مہینے میں سب سے زیادہ کھایا جاتا ہے۔ لوگ بھوک پیاس کو برداشت کرنے کی بجائے اس کے حل ڈھونڈنے میں لگے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں فیس بک پر ایک اشتہار دیکھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک گولی کھانے سے آپ کو سارا دن بھوک پیاس نہیں لگے گی لہٰذا رمضان میں یہ گولی مسلمانوں کے لیے تحفے سے کم نہیں۔ بندہ پوچھے اگر بھوک پیاس ہی نہ لگی تو روزہ کیسا؟؟؟ بھائی جی! روزہ رکھنا ہے‘ روزے کو شکست نہیں دینی…!!!
وہ لوگ جن کا حقیقی روزہ ہو گا ان کی پہچان بڑی آسان ہے… یہ کبھی کسی سے نہیں پوچھیں گے کہ تمہارا روزہ ہے؟… یہ تھکے ہوئے بھی نظر نہیں آئیں گے… کسی بے روزہ دار کو کھاتے پیتے دیکھ کر اِن پر لرزہ طاری نہیں ہو گا… نماز کی صورت میں یہ کسی کو بتائے بغیر خاموشی سے دفتر کے دوسرے کمرے میں جائیں گے اور نماز ادا کرکے واپس اپنی نشست پر آجائیں گے۔ یہ گاڑی بھی بڑے سکون سے چلائیں گے۔ دورانِ ڈرائیونگ افطاری کی صورت میں گاڑی ایک طرف روکیں گے‘ ڈیش بورڈ پر پڑی کھجور کھا کر پانی پئیں گے اور اطمینان سے دوبارہ گھر کی طرف چل پڑیں گے… یہ سحری بھی اُتنی ہی کرتے ہیں جتنا عام دنوں میں ناشتہ کرتے ہیں… افطاری کے وقت بھی پکوڑوں سموسوں کا انبار کھانے کی بجائے پیاس بجھائیں گے اور کچھ دیر بعد معمول کے مطابق رات کا کھانا کھائیں گے… ان کے چہرے پر آپ کو بیزاریت کی بجائے بشاشت نظر آئے گی… یہی وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں‘ بھگتاتے نہیں… یہ سحری کھاتے نہیں کرتے ہیں… دفتر کا کام مزید بہتر طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں… یہ تعداد کم ہے لیکن اتنی بھی کم نہیں۔ ان کے برعکس وہ لوگ توآپ نے دیکھے ہی ہوں گے جو سحری کے وقت پوری طرح چوکنے رہتے ہیں کہ اذان کے قریب فٹا فٹ دو تین گلاس پانی کے پی لیں اور افطاری کے وقت آستینیں چڑھا لیں…!!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
299
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

جواب دیجئے

%d bloggers like this: