Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آئی ایم ینگ – گل نوخیز اختر

by مارچ 27, 2017 مزاح
آئی ایم ینگ – گل نوخیز اختر
Print Friendly, PDF & Email
ایک خاتون کااپنڈکس کا آپریشن ہونا تھا‘ ڈاکٹر نے اسے بیہوش کرنے سے پہلے پوچھا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ خاتون نے جلدی سے کہا”پچیس سال‘‘۔ ڈاکٹر نے ایک گہری سانس لی”دیکھئے ! اپنی عمر ٹھیک ٹھیک بتائیے گا کیونکہ ہم نے اسی کے مطابق anesthesia دینا ہوتا ہے‘ اگر کوئی گڑ بڑ ہوگئی تو اس کی ذمہ داری سرا سر آپ پر ہوگی۔ ‘‘ خاتون گھبر ا گئیں اور قدرے توقف کرتے ہوئے بولیں”پینتیس سال ‘‘۔ڈاکٹر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ anesthesia کی مقدار عمر کے مطابق دی جاتی ہے لہذا اگر آپ نے عمر غلط بتائی اور ہم نے اس کے مطابق anesthesia دے دیا تو اِس کا اثر الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ خاتون کے چہرے پر اذیت کے آثار ابھر آئے‘ کچھ دیر اپنی انگلیوں کو مروڑا اور آہستہ سے بولیں”پینتالیس سال‘‘۔ڈاکٹر نے عینک درست کی اور غور سے ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا”ایک بار پھر سوچ لیجئے کیونکہ کسی قسم کی غلط بیانی کی صورت میں آپ کی جان کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے‘‘۔ خاتون فیصلہ کن لہجے میں بولیں”اب اس کے بعد بے شک آپریشن تھیٹر سے میری لاش ہی کیوں نہ نکلے، میں پینتالیس سے ایک سال آگے نہیں بڑھ سکتی۔‘‘
عمرچھپانے کی صلاحیت خواتین میں 20سال کے بعد ہی پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے۔ہماری ایک کولیگ کے بیٹے کی عمر 18 سال ہے۔ ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی اپنی عمر کتنی ہے‘ اٹھلا کر بولیں”اکیس سال‘‘۔میں نے بے اختیار کہا”اس کا مطلب ہے آپ کی شادی نہیں ہوئی تھی کوئی حادثہ ہوا تھا‘‘۔ایک اور کولیگ ہیں جو تیس سال سے اپنی پچیسویں سالگرہ مناتی چلی آرہی ہیں۔شادی شدہ خواتین کی اکثریت کا یہ رٹا رٹایا جواب ہوتاہے کہ اصل میں ان کی شادی اوائل عمری میں ہی ہوگئی تھی۔سیانے کہتے ہیں خاتون کی اصل عمر کا پتاچلانا ہو تو جتنی عمر وہ بتائے اس میںپندرہ سال مزید شامل کرلینے چاہئیں۔کبھی کبھی تو لگتاہے عمر کو روکنا خواتین کے اپنے اختیار میں ہوتاہے۔اس معاملے میں خواتین ایک پیج پر ہوں نہ ہوں ایک ایج (age ) پر ضرور ہیں…!!!
شناختی کارڈ پر درج عمر بھی خواتین کی اصل عمر نہیں ہوتی‘اس حوالے سے ہر خاتون کے پاس ایک گھڑا گھڑایا جواب موجود ہوتاہے۔ 99 فیصد خواتین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ بچپن میں نہایت ذہین و فطین تھیںلیکن چونکہ ان کی عمر کم تھی اس لیے سرکاری سکول والے داخلہ نہیں دے رہے تھے ‘ مجبوراً ابا جی نے ان کی عمر دس سال بڑھا کر درج کروا دی ۔خواتین شناختی کارڈ میں تو گڑبڑ نہیں کر سکتیں لیکن عموماً یہ نکاح نامے میں اپنی پسند کی عمر لکھواتی ہیں۔ہمارے ایک دوست کی35سال کی عمر میں شادی ہوئی تو نکاح نامے میں ان کی اہلیہ کی عمر 19 سال لکھی پائی گئی۔ موصوف غصے میںآگئے اور دلہن کے والد سے کہنے لگے”انکل! میرا خیال ہے آپ کی صاحبزادی نے ہندسے الٹ لکھ دیے ہیں۔‘‘یہ جملہ کسی حاسد نے دلہن تک بھی پہنچا دیا۔ اس کے بعد دو گھنٹے تک دلہن کے اہل خانہ اُس بندے کو ڈھونڈتے رہے جس نے یہ راز فاش کیا تھا۔
جن لڑکیوں کی شادی لیٹ ہوجاتی ہے ان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چھبیس ستائیس سال تک ہی رہیں ۔آئیڈیل کی تلاش میں عمر بڑھ جائے اور لڑکی کی شادی نہ ہو تو اس میں کچھ قصور لڑکی کا بھی ہوتاہے۔میں نے کہیں لکھا تھا کہ لڑکی کی عمر 20سال ہو اور اس کے لیے کوئی رشتہ آئے تو اپنی عمر کے مطابق لڑکی کاپہلا سوال یہی ہوتاہے کہ ”لڑکا کیسا ہے؟‘‘۔ عمر 25 سال ہوجائے اور کوئی رشتہ آئے تو پھر پہلا سوال یہی ہوتاہے کہ ”لڑکا کرتا کیا ہے‘‘۔ اور اگر عمر تیس سال سے تجاوز کرجائے تو عموماً کوئی رشتہ آنے پر مختصر ترین سوال یہی ہوتا ہے ” کتھے؟‘‘…!!
اکثر لڑکیوں کی شادیاں بی اے کے دوران ہی ہوجاتی ہیں اور جواز یہ پیش کیا جاتاہے کہ لڑکی شادی کے بعد بی اے کرلے گی…اور پھر یہ بی اے ساری زندگی ادھورا ہی رہ جاتاہے‘ بیاہ کے بعد بی اے کا تصورہی محال ہے۔ایم اے پاس لڑکی کو سب سے بڑی پرابلم یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی عمر سولہ سال نہیں بتا سکتی تاہم کئی ایک نے اس کا بھی چھوٹا موٹا حل نکالا ہوا ہے، ہماری ایک عزیزہ نے ایم اے کرلیا ہے تاہم وہ بڑے فخر سے بتاتی ہیں کہ انہوں نے شروع سے ہی ایک سال میں دو کلاسیں پاس کی ہیں گویا آٹھ جماعتیں پڑھیں اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی‘ اب کوئی مائی کا لعل انہیں پندرہ سال سے کم کا ثابت کرکے دکھائے۔
ہمارے ہاں رواج ہے کہ بیوی ہر حال میں شوہر سے کم عمر ہی ہوگی لیکن کئی شادی شدہ خواتین کی عمریں سن کر اندازہ ہوتاہے کہ شائد ان کے شوہر نے انہیں پا ل پوس کر شادی کی ہے۔میرے خیال میںعمر وہی ہوتی ہے جو آپ کے چہرے سے نظر آتی ہے۔ اگر آپ پچاس سال کی عمر میں تیس کی نظر آئیں تو اس سے زیادہ فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے‘ یہ اور بات ہے کہ ایسا بہت کم ہوتاہے۔ کئی چالیس سالہ خواتین اپنی عمر کم ثابت کرنے کے لیے اپنے آپ کو شرارتی بنا لیتی ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو ‘لڑکی ‘ لگیں۔ یہ بات بات پر قہقہے لگاتی ہیں‘ نہایت معصومیت سے پوچھتی ہیں’گیسٹ ہائوس‘ ڈرامہ کب لگا کرتا تھا؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے گیسٹ ہائوس تو دور کی بات ہے اِنہیں ‘آخری چٹان‘ کے بھی سارے سین یاد ہوتے ہیں۔
محفل میں اگر ”ففٹی ففٹی‘ ‘ کے خاکے ڈسکس ہورہے ہوں تو یہ کوئی بھی رائے دینے سے پہلے احتیاطاً اپنے موبائل پر گوگل کرکے چیک کرلیتی ہیں کہ یہ کب کی بات ہے۔عمر چھپانے والی خواتین کو عموماً صرف اپنی عمر چھپانا یاد رہ جاتی ہے ۔ایسی کسی خاتون سے اگر آپ پوچھیں کہ آپ کی عمر کتنی ہے تو انتہائی اطمینان بھری آواز آتی ہے’پچیس سال‘۔ اوراگر اسی لمحے پوچھ لیا جائے کہ آپ کی چھوٹی بہن کی عمر؟تو بلا سوچے سمجھے جواب آتا ہے” پینتیس سال ‘‘…!!!
ایک دفعہ ایک دوست نے خواتین کی عمر چیک کرنے کا نیا فارمولا بتایا‘ کہنے لگا”سیانے کہتے ہیں کہ جو عورت بات کرتے وقت منہ زیادہ کھولے اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور جس کا منہ کم کھلے وہ کم عمر ہوتی ہے‘‘کئی دوستوں نے اس فارمولے کی مخالفت شروع کر دی کیونکہ اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ بات بڑھتی گئی۔اسی دوران اتفاقاًقریب سے محلے کی 85 سالہ مائی ‘اماں جیراں‘ گذری۔ یکدم ذہن میں آیا کہ اماں ایک جہاندیدہ خاتون ہیں‘ زمانہ شناس ہیں ‘ ان سے بھی رائے لینی چاہیے تاکہ حقیقت کھل سکے۔میں نے اماں کو روکا اور پوچھا کہ ”اماں کیا واقعی یہ بات درست ہے کہ جو عورت بات کرتے وقت منہ کم یا زیادہ کھولے اس کی عمربھی اسی کے مطابق ہوتی ہے؟‘‘۔ اماں نے کچھ دیر غور سے میری بات سنی‘ کانپتے ہاتھوں سے اپنی کمر پر ہاتھ رکھا‘ ہم سب دوستوں کا جائزہ لیا اور انتہائی مختصر سا منہ کھول کر بولی”پُت…مینوں کی پتا‘‘!!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
307
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   فیس بک کے فیوض و برکات-سید زیدی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: