Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

گارنٹیاں اور وارنٹیاں

گارنٹیاں اور وارنٹیاں
Print Friendly, PDF & Email

آپ نے اکثر جگہوں پر کچھ شرائط نامہ لکھا ہوا دیکھا ہو گا۔ مثلاً موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو وہاں ‘انجینئر صاحب‘ کی پشت پر ایک بڑا سا چارٹ لکھا ہوا ہوتا ہے ‘اپنا موبائل پندرہ دن کے اندر واپس لے جائیں ورنہ دکان دار ذمہ دار نہ ہو گا‘ موبائل کی بیٹری تبدیل کروانے پر بیٹری نہ چلی تو کوئی گارنٹی نہیں ہو گی‘ موبائل ٹھیک کرنے کے دوران خراب ہو گیا تو دکان دار کا ذمہ دوش پوش وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کسی ہاؤسنگ سکیم میں پلاٹ بک کروائیں تو پشت پر لمبی چوڑی تنبیہہ درج ہوتی ہے کہ ‘قسط لیٹ ہونے کی صورت میں اتنا جرمانہ ہو گا‘ چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں اتنا جرمانہ ہو گا‘۔ ایسی تمام شرائط میں کوئی شرط ایسی نہیں ہوتی جو آپ کے حق میں جا رہی ہو۔ یعنی کہیں یہ درج نہیں ہوتا کہ مقررہ تاریخ تک پلاٹ کا قبضہ آپ کو نہ دیا گیا تو کمپنی اتنا جرمانہ ادا کرے گی یا فلاں چیز اگر ٹھیک نہ ہوئی تو اس کا ہرجانہ دکان دار ادا کرے گا۔ یہ ایک یکطرفہ شرائط نامہ ہوتا ہے‘ جس کے تمام تر نقصانات آپ کے کھاتے میں جا رہے ہوتے ہیں۔ آپ نے اکثر ایسے شرائط ناموں کے آخر میں یہ جملہ بھی لکھا دیکھا ہو گا کہ ”کوئی بھی تنازع ہونے کی صورت میں اس کارروائی کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ گو کہ یہ ایک احمقانہ جملہ ہوتا ہے لیکن خریدار پر اس کا بیٹھے بٹھائے رعب پڑ جاتا ہے۔ یہ جملہ از خود توہین عدالت ہے‘ گویا دکان دار نے اپنا کوئی قانون بنا لیا ہے اور عدالتوں کے اختیار کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے اپنا موبائل بیٹری تبدیل کرنے کے لیے دکان دار کو دیا۔ بیٹری تو تبدیل ہو گئی لیکن موبائل نے چلنے سے انکار کر دیا۔ دکان دار سے بحث ہوئی تو اس نے حسب عادت اپنی دکان میں لگے چارٹ کی طرف اشارہ کیا جس پر لکھا تھا کہ موبائل میں کسی قسم کی خرابی کی ذمہ داری دکان دار کی نہیں ہو گی۔ دوست نے سر ہلایا اور واپس آ گیا‘ اگلے دن اس نے دکان دار کو صارف کورٹ کا نوٹس بھجوا دیا۔ قصہ مختصر… عدالت میں دکان دار نے جج صاحب کے سامنے یہی موقف اپنایا کہ یہ دیکھیں ہم نے لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ ہماری دکان کے کسی معاملے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جج صاحب نے گھور کر اسے دیکھا اور بولے ”اس بات پر تو آپ کی سز ا ڈبل بنتی ہے‘ آپ کون ہوتے ہیں کسی بھی معاملے کو عدالتی دائرہ اختیار سے باہر رکھنے والے‘‘۔ دکان دار نے پہلے تو بغلیں جھانکیں‘ پھر گھگھیا کر معافی مانگی کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھئے:   پردیس

ہم دن رات ایسے ہی بے مقصد جرمانے بھرتے ہیں۔ نیا فریج خراب نکل آئے تو کمپنی والے اطمینان سے جواب دیتے ہیں کہ ہم نے پُرزوں کی گارنٹی نہیں دی تھی۔ ٹی وی خراب نکلے تو پتا چلتا ہے کہ صرف ڈبے کی گارنٹی تھی‘ پکچر ٹیوب کی نہیں۔ آپ نے نہایت نیک لوگوں کی دکان پر بھی جلی حروف میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہو گا کہ ”خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا‘۔ یہ کبھی ایسی بات نہیں لکھتے کہ ”ہمارا مال خراب نکل آئے تو ہم دُگنے پیسے ادا کریں گے‘‘۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ایسی بات لکھنے سے خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں سارے مال کے دُگنے پیسے ادا نہ کرنے پڑ جائیں۔

ایک اور عادت بڑی عام ہے۔ آپ کہیں سے کوئی چیز خریدیں‘ دکان دار اسی وقت بتا دے گا کہ دکان میں کھڑے ہو کر چیز چیک کر لیں‘ بعد میں خراب ہو گئی تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ گویا اگر آپ نے لیپ ٹاپ خریدا ہے تو کم ازکم دو گھنٹے دکان میں ضرور بیٹھیں تاکہ اچھی طرح کھول کر چیک کر سکیں کہ ایک ایک چیز چل رہی ہے یا نہیں‘ کیونکہ جو چیز آپ بھول گئے وہ آپ ہی کے پلے پڑے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ موقع پر بھی کوئی چیز غلط ثابت نہیں کر سکتے۔ کیا آپ نے کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جس نے بازار میں بکنے والے شربت میں چینی کی بجائے سکرین ثابت کی ہو اور پانچ ہزار کا انعام جیتا ہو؟ اشتہاروں میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شوگر کا علاج صرف تین دنوں میں۔ لیکن جب آپ علاج کروانے پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کی علامات تین دن میں ٹھیک ہونے والی نہیں ہیں۔آپ ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں کہ کوئی ایسا مریض بھی نظر آئے جس کو تین دن میں خوش خبری مل سکے لیکن اتفاق سے وہاں آیا ہوا ہر مریض آپ ہی کی طرح ‘آخری سٹیج‘ پر ہوتا ہے۔ منی بیک گارنٹی والی کتنی چیزوں کی قیمت آپ کو واپس ملی؟

آن لائن شاپنگ والے اور بھی زیادہ محتاط ہوتے ہیں‘ یہ گاہک کو یہ بھی حق نہیں دیتے کہ وہ موصول شدہ چیز کو ایک دفعہ کھول کر ہی دیکھ لے کہ کیا واقعی ڈبے میں وہی چیز ہے یا کوئی اور چیز آ گئی ہے۔ بس آپ نے پیسے ادا کرنے ہیں اور ڈبہ لے لینا ہے‘ بعد میں بے شک اندر سے ٹارچ کی بجائے جرابوں کا جوڑا نکل آئے۔ میرا ایک دوست بہت سوکھا پتلا ہے‘ اسے ساری زندگی خواہش رہی کہ اس کے بھی ڈولے بن جائیں اور وہ بھی طاقت ور نظر آئے۔ موصوف نے پچھلے دنوں فیس بک پرآن لائن شاپنگ والوں کا اشتہار دیکھا‘ جس میں لکھا تھا کہ اگر سوکھے پتلے ہیں تو ہماری یہ خاص پراڈکٹ منگوائیں‘ ایک سیکنڈ میں آپ اپنی آنکھوں سے اپنی طاقت دیکھ سکیں گے۔ قبلہ بہت خوش ہوئے اور پانچ ہزار میں مذکورہ پراڈکٹ کا آرڈ بک کروا دیا۔ تین چار دن بعد گھر کے دروازے پر بیل ہوئی اور پوسٹ مین نے خوش خبری سنائی کہ آن لائن شاپنگ والوں کی طرف سے آپ کا پیکٹ آیا ہے۔ بہت خوش ہوئے‘ پانچ ہزار دے کر ڈبہ اندر لے آئے۔ آ کر کھولا تو کمپنی کا کہا سچ پایا… ایک ایسی چیز سامنے تھی جو واقعی ان کے سوکھے پتلے جسم کو طاقتور دکھا سکتی تھی… اندر ایک 50 روپے والا محدب عدسہ پڑا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:   کھویا ہوا یقین (چھوٹے حضرتؑ کی بارگاہ چلو) | مصلوب واسطی

یہ گارنٹیاں اور وارنٹیاں صرف گاہک کو اطمینان دلانے کے لیے ہوتی ہیں۔ میرے ایک محلے دار نے شکایت کی کہ انہوں نے فوم کا ایک گدا خریدا تھا جس کی گارنٹی لائف ٹائم تھی لیکن وہ دو سال میں ہی بیٹھ گیا ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں اُن کے ساتھ فوم کی دکان پر چلوں اور خونخوار طریقے سے نہ صرف دلائل دوں بلکہ ان کا گدا بھی تبدیل کروا کے دوں۔ میں چونکہ خدمت خلق میں پیش پیش رہتا ہوں لہٰذا فوری طور پر ایک ایسی شرٹ پہنی جس کے گریبان کے دو بٹن ٹوٹے ہوئے تھے… بال بکھرا لیے… دانتوں میں ماچس کی تیلی دبا لی… اور احتیاطاً گلے میں رومال بھی باندھ لیا… دکان پر پہنچے تو کاؤنٹر پر چھ فٹ لمبا بندہ بیٹھا تھا جس کی جسمانی ساخت سے لگ رہا تھا کہ کثرت سے کسرت کرتا ہے۔ میں نے آہستہ سے رومال گلے سے کھینچ لیا اور ہاتھ سے گریبان بھی ڈھانپ لیا۔ محلے دار میری طرف دیکھنے لگے کہ اب میں کیا کرتا ہوں۔ میں نے اُنہیں اشارہ کیا کہ وہ اپنا کیس پیش کریں۔ انہوں نے کاؤنٹر والے سے اپنا مسئلہ بیان کیا تو وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا… وجہ پوچھی گئی تو بے نیازی سے بولا ”بھائی صاحب! لائف ٹائم گارنٹی سے مراد آپ کی لائف نہیں فوم کی لائف ہوتی ہے… اس فوم کی لائف دو سال تھی لہٰذا گارنٹی بھی پوری ہو گئی‘‘۔ محلے دار نے جلدی سے میری طرف دیکھا اور میں نے نظریں دوسری طرف کر لیں… دکان دار کی دلیل زیادہ وزنی تھی…!!!

بشکریہ روزنامہ دنیا

Views All Time
Views All Time
247
Views Today
Views Today
1
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: