Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کوشش سے خدا ملتا ہے

by مئی 17, 2016 بلاگ
کوشش سے خدا ملتا ہے
Print Friendly, PDF & Email

saleem rindانسان جب چلنا سیکھتا ہے تو اپنے لئے منزل تک پہنچانے والے راستوں کا خود تعین کرتا ہے بہت کم لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں ایسی راہنمائی میسر آتی ہے جو درست سمت کی نشاندہی کرتی ہے کچھ لوگ اپنے کردار اور یکسوئی کی بدولت منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنی پوری عمر اندیشوں کی نظر کر دیتے ہیں۔ جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو ہمارا واسطہ لوگوں سے نہیں بلکہ مختلف کرداروں اور رویوں سے پڑتا ہے کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن پر رشک آتا ہے اور کچھ ایسے کہ جن سے حیوان بھی شرما جائیں۔ کچھ لوگ اپنے کردار کی بدولت اپنا قد اتنا اونچا کر لیتے ہیں کہ قدرت بھی اپنی تخلیق پر رشک کرتی ہوگی۔
رب ڈینو نے سندھ کے پسماندہ ترین شہر کندھ کوٹ کی بنگوار قوم کے ایک غریب ہاری گل محمد کے گھر میں آنکھ کھولی رب ڈینو کا بچپن اپنے باپ کے ساتھ مقامی سردار کے ڈیرے پر آنے والے مہمانوں کی خدمت میں گزرا جہاں رب ڈینو کو مزاحیہ طبیعت کی بدولت لکاؤ کا لقب ملا ۔ لکاو بلوچی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی مسخرہ کے ہیں 16 سال کی عمر میں رب ڈینو کو پہلی بار بیل چرانے کی بدولت جیل ہوئی رب ڈینو سے لکاو کا لقب پانے والا جب جیل کاٹ کر گاوں پہنچا تو کندھ کوٹ گیس فیلڈ کی کنسٹرکشن کا کام چل رہا تھا جہاں اس نے مزدوری شروع کر دی۔ مزاحیہ طبیعت کی بدولت یہاں بھی بہت جلد لکاو کے چرچے ہونے لگے ایک انجنئیر نے مہربان ہوکر لکاو کو لیبر سپلائی کا ٹھیکہ دلوا دیا ۔ کچھ عرصہ بعد لیبر سپلائی کے ساتھ ساتھ لکاو نے چھوٹے چھوٹے کاموں کے ٹھیکے لینا شروع کر دئیے ۔ دو سال کی قلیل مدت میں لکاؤ نے اپنی کمپنی گل ٹریڈرزبناکر رجسٹر کروا لی آج دنیا رب ڈینو کو حاجی بنگوار کے نام سے جانتی ہے اس وقت گل ٹریڈرز کا پاکستان پٹرولیم کے بڑے کنٹریکٹرز میں شمار ہوتا ہے
جیل سے رہا ہونے کے بعد رب ڈینو اگر اپنی سمت درست نہ کرتا تو شاید اب تک کسی سنسان سڑک یا ویران جنگل میں مارا جا چکا ہوتا لیکن درست سمت کے چناؤ نے رب ڈینو کی زندگی بدل کررکھ دی۔ ہمارے ارد گرد ہزاروں کردار رب ڈینو کی صورت میں موجود ہین جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہم اپنی الجھی ہوئی زندگی سنوار سکتے ہیں

Views All Time
Views All Time
357
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سب شہید ہیں تو خود کش کیوں نہیں ؟ - ابن حیدر
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: