دہشت گرد کہہ رہے ہیں کہ وہی دہشت گردی کے خلاف لڑرہے ہیں؟

Print Friendly, PDF & Email

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ 110بلین ڈالر کا ملٹری ہتھیاروں کا سب سے بڑا معاہدہ کیا ہے مگر وہ یہ بھول رہے ہیں کہ 2012میں اس وقت کے صدر مسٹر اوباما نے اسی سعودی عرب کو 120بلین ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے تھے۔سابق صدر مسٹر کلنٹن کے ایڈوائیزرمسٹر بروس ریڈل کا کہنا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کا معاہدہ ابھی صرف کاغذی حد تک ہے ۔اگر وہ عملی ہو تا تو اسرائیل نے اب تک واویلا مچا دیا ہو تا اور امریکہ کو کہتا کہ اْسے ایسے ہتھیار دیے جائیں جس سے عربوں پر اس کی برتری برقرار رہے۔ایک طرف ٹرمپ نے قطر کے خلاف اس بات کو لے کر زہر اگلا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ دوستی بڑھا رہا ہے اور مصر کے اخوان المسلمین اور فلسطین کے حماس کی ہر طرح مدد کر رہا ہے جو اسرائیل کے لئے خطرہ ہے مگردوسری طرف اْس نے فوری طور پر اپنے سکریٹری آف اسٹیٹ مسٹر جیمس میاٹس کو قطر روانہ کیا اور بارہ بلین ڈالر کا ملٹری ہتھیاروں کا معاہدہ کر لیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ کو نہ سعودی عرب کی حفاظت اور خوشحالی مقصود ہے نہ قطر اور دیگر عرب ممالک کی ۔اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ آخر سعودی عرب یہ ہتھیار کس کے خلاف استعمال کرے گا؟سعودی عرب کے اطراف جو ممالک ہیں وہ سب چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں جو سعودی عرب کے خلاف کھڑے بھی ہو نہیں سکتے۔اسرائیل کے خلاف ان کا استعمال ایک نا ممکن سی بات ہے کیونکہ عیش پسند سعودی لڑنے کے بالکل قابل نہیں ہیں اور کرائے کے سپاہی بہادر نہیں ہو سکتے۔ایران ایک طاقتور ملک ہے مگر اس کے تعلقات سعودی عرب سے اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ وہ باقاعدہ جنگ شروع کر دے گا۔ایک تو دونون ممالک کی سرحدیں جڑی ہوئی نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ موجودہ حالات میں ( مغربی ممالک کی دشمنی)کے سبب ایران اپنی طاقت ضائع کرنا پسند نہیں کرے گا۔20.10.2017 کو ترکی کے شہر استنبول میں مسلم ممالک کی نویں سالاننہ محافظین القدس کی کانفرنس کی سات سو نمائندوں پر مشتمل دو روزہ کانفرنس ہوئی جس میں مقررین نے بیت المقدس کو پنجہ یہود سے آزاد کرانے کے لئے ہر شعبہ میں جد و جہد کر نے کی ضرورت پر زور دیا اور اسے پورے عالم اسلام کی ذمہ داری بتایا۔سب نے کہا کہ یہ مسئلہ انکی اولین ترجیجات میں ہے ۔ حماس نے کہا کہ وہ مسلح جہاد سے دست بردار نہیں ہو گی۔مسجد اقصیٰ کے امام و خطیب اسمعیل نواھضہ نے کہا کہ فلسطینی قوم میں یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے وہ ماضی میں نہیں تھی۔ علماء نے کہا کہ مسلم ممالک اسرائیل سے ہوے تمام معاہدے ختم کر دیں کیونکہ اسرائیل سے تعلقات شرعاََ حرام اور بد ترین جرم ہیں۔یوروپی یونین نے بھی 1967میں جو فلسطین علاقہ اسرائیل نے فتح کر لئے اور اب تک واپس نہیں کئے اسے انٹر نیشنل جرم کہا ہے اور خوب مذمت کی ہے۔یہاں مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ یہ سب ڈر پوک،کمزور اور نادان مسلم بادشاہوں، ڈکٹیٹروں ،صدور و وزیر اعظموں اور امیروں کی زبانی جمع خرچ ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ان کی عقل کہیں اور چلی گئی ہے۔ سعودی عرب اسرائیل کے خلاف لڑے گا نہیں کیونکہ اسرائیل صرف چار دن میں سعودی عرب کو تہس نہس کر دے گا اور اگر دو نیوکلیر بم گرا دیئے تو آدھا سعودی عرب ریگستان بن جائے گا۔ایسے میں سعودی عرب کیوں اتنے زیادہ بلین ڈالر کے ہتھیار خرید رہا ہے یہ کسی بھی عقلمند آدمی کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب ممالک میں عقلمندوں کی کمی ہو گئی ہے؟تمام عرب ممالک کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو جنگ کے ذریعہ ہرا نہیں سکتے اور صرف بات چیت اور حکمت ہی ایک راستہ ہے۔ہاں اگر اسرائیل کو ڈرا دھمکا کر بات چیت کی میز پر لا نا ہے تو اتنے زیادہ روایتی ہتھیار خرید نے کے بجائے شمالی کوریا یا کسی اورر ملک سے 20/25نیوکلیر بم اور میزائل خرید لیں تو ڈرانے کے لئے کافی ہے۔اگر سعودی عرب کے 110 اور قطر کے بارہ بلین ڈالر غریب ممالک کو فلاحی کاموں کے لئے دے دیتے تو غربت ختم ہو جاتی۔مغربی ممالک ہر حال میں اسرائیل کو بچائے رکھنا اور طاقتور رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ عربوں کو ڈرا کر زیادہ سے زیادہ ہتھیاروں کا بزنس کیا جا سکتا ہے، چوبیس گھنٹے فیکٹریوں کو چلایا جا سکتا ہے اور لاکھوں شہریوں کو ملازمت دی جا سکتی ہے۔فروری2011میں سعودی حکمرانوں نے دیکھا کہ مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک ، لبیا کے معمر قدافی اور تیونس کے زین العابدین کاتختہ عوامی انقلاب کے ذریعہ الٹ دیا گیا تو انہیں ڈر ہوا کہ کہیں ایسا انقلاب سعودی عرب اور دیگر بادشاہوں اور امیروں کے ملکوں میں آ گیا تو اْن سب کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور انکے خاندان کے خاندان قید یا قتل کر دیے جائیں گے۔ مصر میں اخوان المسلمین کا اقتدار میں آناسعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے لئے اور اسرائیل کے لئے ایک خطرے کی گھنٹی تھی ۔ 20.10.2017 کو سعودی عرب نے اس ڈر سے کہ کہیں اس کے عوام اخوان المسلمین سے تعقات رکھنے والے پروفیسرس کے خیالات سے متاثر ہو کر بغاوت نہ کر دیں انکا اپنی یونیورسٹیوں میں بائیکاٹ کر دیا ہے اور انہیں دہشت گردی کے ذمہ دار کہا ہے۔مصر میں اخوان کے مسٹر مرسی سے ایک غلطی ہو گئی ۔ مصری عوام مدت دراز سے بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں کے ماتحت رہے اور انکی ذہنیت محکومانہ رہی۔ مسٹر مرسی نے حکمت سے کام لیتے ہوے آہستہ آہستہ انکی ذہنیت بدلنے کے بجائے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد اسلامی طرز زندگی نافذ کر نے لگ گئے۔اس سے عوام میں بوکھلاہٹ پیدا ہو گئی جس کا فائدہ سعودی عرب اور ملٹری نے اٹھا یا ۔سعودی عرب نے مسٹر السیسی کا بھر پور ساتھ دیا اور انہیں آٹھ بلین ڈالر دے دیے تاکہ وہ مخالف ملٹری انقلاب کو کامیاب بنا سکیں اور عوامی انقلاب کو کچل سکیں۔اس مخالف انقلاب سے سب سے زیادہ خوشی اور فائدہ اسرائیل کو اور عرب بادشاہوں کو ہوا۔امریکہ کے سابق صدر آئزن ہاور نے مشورہ دیا تھا کہ امریکہ اپنی خوشحالی کے لئے Military Industrial Complexپر انحصار کرے یعنی ہتھیاروں کے بزنس پر۔ایک بات جو نوٹ کر نے کی ہے وہ یہ کہ جتنے بھی خود کش بمبار گزرے ہیں وہ وہابی ہیں نہ کہ شیعہ، ایرانی اور اخوانی۔در اصل اس میں وہابی آئڈیالوجی کا بڑا ہاتھ ہے۔آج تک کئی خود کش بمباریاں ہو گئیں مگر مسائل جوں کے توں ہی رہے۔ کوئی مسلہ حل نہیں ہوا۔معصوموں کی جانیں گئیں، مغربی ممالک بمباری پر بمباری کر تے رہے اور ساری دنیا مجرمانہ انداز میں دیکھتی رہی۔یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ دنیا بھر کے دوسو ملک ہو نے کے باوجود وہی ہو تا ہے جو امریکہ اور مغربی ممالک چاہتے ہیں۔ روس اور چین کا سوائے سیکوریٹی کونسل کے کہیں بھی کوئی اثر نہیں ہو تا۔جہاں اقوام متحدہ سے کام بنتا ہے وہاں مغربی ممالک اسی کے ذریعہ سے کام لیتے ہیں اور جہاں انہیں اقوااام متحدہ سے نا امیدی ہو تی ہے وہاں وہ فوراً آگے بڑھ کر خود ہی کام کر تے ہیں۔ایسی حکمت اور ایسی ہمت نہ روس میں ہے اور نہ ہی چین میں۔عرب ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ عرب اسرائیل تنازعہ فلسطین ہے اور یہ مسئلہ جنگ سے حل نہیں ہو سکتا۔اس لئے عربوں کو چاہیے کہ وہ یہودیوں کی طرح امریکی لیڈروں کے کان اور آنکھ بن جائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے الیکشنوں میں مالی اور ووٹوں سے مدد کریں اور ان سے تعلقات بڑھاتے ہوے ان کی ذہن سازی کریں۔ہونہار امریکی نوجوان جو آگے چل کر امریکی سیاستدان بنیں گے ان پر صرف کریں، خود کے خریدے ہوے چند نیوکلیر اور کیمیکل ہتھیار اور میڈیم رینج میزائیلز رکھیں۔ ، عمارتیں ، جوے خانے اور بڑے بڑے ٹاورز بنا نا بند کریں اور دولت کو انسانوں پر خرچ کریں اور زیادہ سے زیادہ ڈاکٹرز، انجنیرز ، سائنسدان اور ہر فیلڈ کے ماہرین بنائیں اور ریسرچ پر توجہ دیں۔عربوں کو چاہیے کہ عرب اسرائیل کے مسائل پر زیادہ سے زیادہ انگریزی فلمیں بنائیں اور انہیں ساری دنیا میں پہنچائیں اور بتائیں کہ اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کی حقیقت کیا ہے ۔ ایسا کر نا عربوں کے لئے فائدہ مند رہے گا اور ساری دنیا صحیح حالات سے واقف ہو جائے گی۔ا گر ایسا ہونے لگا تو صرف پانچ سال کے اندر اْن کی کایا پلٹ ہو جائے گی۔پتھر اور پٹاخے جیسے بم پھینکتے رہنے سے اسرائیل کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔اسے شکست دینے کے لئے دماغ کی ضرورت ہے اور مہارت کی ضرورت ہے، حکمت کی ضرورت ہے، اتحاد کی ضرورت ہے جو آج عربوں میں نہیں ہے۔ذرا سوچئے کہ شمالی کوریا جس کی آبادی دو کروڑ پچاس لاکھ ہے اْس نے روایتی ہتھیار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساتھ نیوکلیر ہتھیار رکھے ہیں جس کے سبب امریکہ اور مغربی ممالک اْس پر ہاتھ ڈالنے سے خوف زدہ ہیں ۔اگر جنگ ہوئی تو جنوبی کوریا اور جاپان اور امریکہ کا تمام جزیرے تباہ ہو جائیں گے۔اگر عربوں کے پاس نیوکلیر ہتھیار ہو تے تو نہ افغانستان تباہ ہو تا ، نہ عراق اور نہ ہی لبیا اور شام۔ اب بھی وقت ہے کہ عرب ممالک اس طرف توجہ دیں۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اب سعودی عرب نے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے نیوکلیر پلانٹس قائم کر نے کا اعلان کیا ہے۔سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ عرب ممالک اقوام متحدہ کو نوٹس دے دیں کہ اگر سیکورٹی کونسل عرب اسرائیل مسئلہ کا حل تلاش نہیں کر تے تو وہ تمام ممالک اقوام متحدہ سے الگ ہو جائیں گے۔یقین مانیے اس دھمکی سے اقوام متحدہ کی بنیادیں ہل جائیں گیں۔جب شمالی کوریا جیسا چھوٹا ملک اقوام متحدہ کی تمام پابندیوں کے باوجود جی سکتا ہے اور یوروپ کو ڈرا سکتا ہے تو کیا عرب ممالک اقوام متحدہ کا خود بائیکاٹ کر کے مر جائیں گے؟صرف چند مہینوں میں مغربی ممالک عربوں کو منانے لگ جائیں گے کیونکہ انہیں احساس ہو جائے گا کہ ورلڈ آرڈر بگڑ جائے گا۔تیل تو ہر ملک سے انفرادی معاہدوں کے ذریعہ فروخت کیا جا سکتا ہے ۔ ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ جہاں جہاں ہماری ملاقات عربوں سے ہو تی ہے وہاں ان کی اس طرز پر ذہن سازی کریں، ان کے اخباروں میں لکھیں اور ان کے ٹی وی چینلوں پر بات رکھیں۔آج کی دنیا میں ہر مسئلہ کا حل بات چیت اور کچھ لے اور کچھ دے ہے۔ ہٹ دھرمی اور ضد اور انا سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو تا ۔اللہ بھی انہیں قوموں کی مدد کر تا ہے جو جد و جہد کر تے ہیں، حکمت سے کام لیتے ہیں اور پھر دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔(یو این این)

Views All Time
Views All Time
176
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   چوہے تیں تھیں اُتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: