Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

آنندی-غلام عباس

آنندی-غلام عباس
Print Friendly, PDF & Email

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلاف معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بدنما داغ ہے۔

بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ اور دردمند سمجھے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے۔

”….اور پھر حضرات آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک ایسے حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گاہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ چنانچہ ہر شریف آدمی کو چارو ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں شرفا کی پاک دامن بہو بیٹیاں اس بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ صاحبان! جب یہ شریف زادیاں ان آبرو باختہ، نیم عریاں بیسواﺅں کے بناﺅ سنگارکو دیکھتی ہیں تو قدرتی طور پر ان کے دل میں بھی آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں اور ولولے پیدا ہوتے ہیں اور اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں لوینڈروں، زرق برق ساڑھیوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پرمسرت گھر، ان کا راحت کدہ ہمیشہ کے لیے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔

”…. اور صاحبان پھر آپ یہ بھی تو خیال فرمائیے کہ ہمارے نونہال قوم جو درس گاہوں میں تعلیم پا رہے ہیں اور جن کی آئندہ ترقیوں سے قوم کی امیدیں وابستہ ہیں اور قیاس چاہتا ہے کہ ایک نہ ایک دن قوم کی کشتی کو بھنور سے نکالنے کا سہرا ان ہی کے سر بندھے گا۔ انہیں صبح شام اسی بازار سے ہو کر آنا جانا پڑ جاتا ہے۔ یہ قحبائیں جو ہر وقت بارہ بھرن! سولہ سنگار کئے ہر راہرو پر بے حجابانہ نگاہ و مژہ کے تیر و سناں برساتی اور اسے دعوت دیتی ہیں۔کیا انہیں دیکھ کر ہمارے بھولے بھالے ناتجربہ کار جوانی کے نشے میں سرشار سود و زیاں سے بے پرواہ نونہالان قوم اپنے جذبات و خیالات اور اپنی اعلیٰ سیرت کو معصیت کے مسموم اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟ صاحبان! کیا ان کا حسن زاہد فریب ہمارے نونہالان قوم کو جادہ مستقیم سے بھٹکا کر، ان کے دل میں گناہ کی پُراسرار لذتوں کی تشنگی پیدا کرکے ایک بے کلی، ایک اضطراب، ایک ہیجان برپا نہ کردیتا ہوگا….“

اس موقع پر ایک رکن بلدیہ جو کسی زمانہ میں مدرس رہ چکے تھے اور اعداد و شمار سے خاص شغف رکھتے تھے بول اٹھے :
”صاحبان واضح رہے کہ امتحانوں میں ناکام رہنے والے طلبہ کا تناسب پچھلے پانچ سال کی نسبت ڈیوڑھا ہوگیا ہے۔“

ایک رکن نے جو چشمہ لگائے تھے اور مہینہ وار اخبار کے مدیر اعزازی تھے تقریر کرتے ہوئے کہا : ”ہمارے شہر سے روز بروز غیرت، شرافت، مردانگی، نیکو کاری و پرہیز گاری اٹھتی جا رہی ہے اور اس کے بجائے بے غیرتی، نامردی، بزدلی، بدمعاشی، چوری اور جعل سازی کا دور دورہ ہوتا جا رہا ہے، منشیات کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ قتل و غارت، خود کشی اور دیوالہ نکلنے کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کا سبب محض ان زنان بازاری کا ناپاک وجود ہے کیونکہ ہمارے بھولے بھالے شہری ان کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہو کر ہوش و خرد کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی بارگاہ تک رسائی کی زیادہ سے زیادہ قیمت اداکرتے ہر جائز و ناجائز طریقہ سے زر حاصل کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ اس سعی و کوشش میں جامہ انسانیت سے باہر ہو جاتے اور قبیح افعال کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جان عزیز سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور یا جیل خانوںمیں پڑے سڑتے ہیں۔“

ایک پینشن یافتہ معمر رکن جو ایک وسیع خاندان کے سرپرست تھے اور دنیا کا سردو گرم دیکھ چکے تھے اور اب کشمکش حیات سے تھک کر باقی ماندہ عمر سستانے اور اپنے اہل و عیال کو اپنے سایہ میں پنپتا ہوا دیکھنے کے متمنی تھے۔ تقریر کرنے اٹھے۔ ان کی آواز لرزتی ہوئی تھی اور لہجہ فریاد کا انداز لیے ہوئے تھا۔ بولے : ”صاحبان رات رات بھر ان لوگوں کی طبلے کی تھاپ، ان کی گلے بازیاں، ان کے عشاق کی دھینگا مشتی، گالی گلوچ، شور و غل، ہاہاہا ہو ہو سن سن کر آس پاس کے رہنے والے شرفا کے کان پک گئے ہیں۔ ضیق میں جان آگئی ہے۔ رات کی نیند حرام ہے تو دن کا چین مفقود۔ علاوہ ازیں ان کے قرب سے ہماری بہو بیٹیوں کے اخلاق پر جو بُرا اثر پڑتا ہے اس کا اندازہ ہر صاحب اولاد خودکرسکتا ہے….“

آخری فقرہ کہتے کہتے ان کی آواز بھرا گئی اور وہ اس سے زیادہ کچھ نہ کہہ سکے۔ سب اراکین بلدیہ کو ان سے ہمدردی تھی کیونکہ بدقسمتی سے ان کا مکان اس بازار حسن کے عین وسط میں واقع تھا۔

ان کے بعد ایک رکن بلدیہ نے جو پرانی تہذیب کے علمبردار تھے اور آثار قدیمہ کو اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے تقریر کرتے ہوئے کہا:
”حضرات! باہر سے جو سیاح اور ہمارے احباب اس مشہور اور تاریخی شہر کو دیکھنے آتے ہیں۔ جب وہ اس بازار سے گزرتے اور اس کے متعلق استفادہ کرتے ہیں تو یقین کیجئے کہ ہم پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔“

اب صدر بلدیہ تقریر کرنے اٹھے۔ گو قد ٹھگنا اور ہاتھ پاﺅں چھوٹے چھوٹے تھے مگر سر بڑا تھا۔ ”حضرات! میں اس امر میں قطعی طور پر آپ سے متفق ہوں کہ اس طبقہ کا وجود ہمارے شہر اور ہماری تہذیب و تمدن کے لیے باعث صدعار ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کا تدارک کس طرح کیا جائے۔ اگر ان لوگوں کو مجبور کیا جائے کہ یہ اپنا ذلیل پیشہ چھوڑ دیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کھائیں گے کہاں سے؟“

ایک صاحب بول اٹھے۔ ”یہ عورتیں شادی کیوں نہیں کر لیتی؟“

اس پرا یک طویل فرمائشی قہقہہ پڑا اور ہال کی ماتمی فضا میں یکبار شگفتگی کے آثار پیدا ہوگئے۔ جب اجلاس میں خاموشی ہوئی تو صاحب صدر بولے : ”حضرات یہ تجویز بارہا ان لوگوں کے سامنے پیش کی جاچکی ہے۔ اس کا ان کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے کہ آسودہ اور عزت دار لوگ خاندانی حرمت و ناموس کے خیال سے انہیں اپنے گھروں میں گھسنے نہ دیں گے اور مفلس اور ادنیٰ طبقہ کے لوگوں کو جو محض ان کی دولت کے لیے ان سے شادی کرنے پر آمادہ ہوں گے۔ یہ عورتیں خود منہ نہیں لگائیں گی۔“

اس پر ایک صاحب بولے: ”بلدیہ کو ان نجی معاملوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بلدیہ کے سامنے تو یہ مسئلہ ہے کہ لوگ چاہے جہنم میں جائیں مگر اس شہر کو خالی کر دیں۔“

صدر نے کہا : ”صاحبان! یہ بھی آسان کام نہیں ہے۔ ان کی تعداد دس بیس نہیں سینکڑوں تک پہنچتی ہے اور پھر ان میں سے بہت سی عورتوں کے ذاتی مکانات ہیں۔“

یہ مسئلہ کوئی مہینے بھر تک بلدیہ کے زیر بحث رہا۔ اور بالاخر تمام اراکین کے اتفاق رائے سے یہ امر قرار پایا کہ زنان بازاری کے مملوکہ مکانوں کو خرید لینا چاہیے اور انہیں رہنے کے لیے شہر سے کافی دور کوئی الگ تھلگ علاقہ دیا جانا چاہیے۔ ان عورتوں نے بلدیہ کے اس فیصلہ کے خلاف سخت احتجاج کیا بعض نے نافرمانی کرکے بھاری جرمانے اور قیدیں بھگتیں مگر بلدیہ کی مرضی کے آگے ان کی کوئی پیش نہ چل سکی اور وہ ناچار صبر کرکے رہ گئیں۔

اس کے بعد ایک عرصہ تک ان زنان بازاری کے مملوکہ مکانوں کی فہرستیں اور نقشے تیار ہوتے اور مکانوں کے گاہک پیدا کیے جاتے رہے۔ بیشتر مکانوں کو بذریعہ نیلام فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان عورتوں کو چھ مہینے تک شہر میں اپنے ہی مکانوںمیں رہنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ اس عرصے میں وہ مخصوص علاقہ میں مکان وغیرہ بنوا سکیں۔

ان عورتوں کے لیے جو علاقہ منتخب کیا گیا۔ وہ شہر سے چھ کوس دور تھا۔ پانچ کوس تک پکی سڑک جاتی تھی اور اس سے آگے کوس بھر کا کچا راستہ تھا۔ کسی زمانے میں وہاں کوئی بستی ہوگی مگر اب تو کھنڈروں کے سوا کچھ نہ رہا تھا۔ جن میں سانپوں اور چمگادڑوں کے مسکن تھے اور دن دہاڑے الو بولتا تھا۔ اس علاقے کے نواح میں کچے گھروندوں والے کئی چھوٹے چھوٹے گاﺅں تھے۔ کسی کا فاصلہ بھی یہاں سے دو ڈھائی میل سے کم نہ تھا۔ ان گاﺅں کے بسنے والے دن کے وقت کھیتی باڑی کرتے، یا یونہی پھرتے پھراتے اِدھر نکل آتے تو نکل آتے ورنہ عام طور پر اس شہر خموشاں میں آدم زاد کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ بعض اوقات روز روشن ہی میں گیدڑ اس علاقے میں پھرتے دیکھے گئے تھے۔

پانسو سے کچھ اوپر بیسواﺅں میں سے صرف چودہ ایسی تھیں جو اپنے عشاق کی وابستگی یا خود اپنی دل بستگی یا کسی اور وجہ سے شہر کے قریب آزادانہ رہنے پر مجبور تھیں اور اپنے دولت مند چاہنے والوں کی مستقل مالی سرپرستی کے بھروسے بادل نخواستہ اس علاقہ میں رہنے پر آمادہ ہوگئی تھیں۔ ورنہ باقی عورتوں نے سوچ رکھا تھا کہ وہ یا تو اسی شہر کے شریف محلوں کے کونوں کھالیوں میں جا چھپیں گی یا پھر اس شہر ہی کو چھوڑ کہیں اور نکل جائیں گی۔

یہ چودہ اچھی خاصی مالدار تھیں۔ اس پر شہر میں ان کے جو مملوکہ مکان تھے ان کے دام انہیں اچھے وصول ہوگئے تھے اور اس علاقے میں زمین کی قیمت برائے نام تھی اور سب سے بڑھ کر یہ ان کے ملنے والے دل و جان سے ان کی مالی امداد کرنے کے لیے تیار تھے۔ چنانچہ انہوں نے اس علاقے میں جی کھول کر بڑے بڑے عالی شان مکان بنوانے کی ٹھان لی۔ ایک اونچی اور ہموار جگہ جو ٹوٹی پھوٹی قبروں سے ہٹ کر تھی۔ منتخب کی گئی۔ زمین کے قطعے صاف کرائے اور چابک دست نقشہ نویسوں سے مکان کے نقشے بنوائے گئے اور چند ہی روز میں تعمیر کا کام شروع ہوگیا۔

دن بھر اینٹ، مٹی، چونا، شہتیر، گارڈر اور دوسرا عمارتی سامان لاریوں، چھکڑوں، خچروں، گدھوں اور انسانوں پر لد کر اس بستی میں آتا اور منشی حساب کتاب کی کاپیاں بغلوں میں دبائے انہیں گنواتے اور کاپیوں میں درج کرتے۔ میر عمارت معماروں کو کام کے متعلق ہدایات دیتے۔ معمار مزدوروں کو ڈپٹتے،مزدور اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے۔ مزدورنیوں کو چلا چلا کر پکارتے اور اپنے ساتھ کام کرنے کے بلاتے۔ غرض سارا دن ایک شور، ایک ہنگامہ رہتا اور سارا دن آس پاس کے گاﺅں کے دیہاتی اپنے کھیتوں میں اور دیہاتنیں اپنے گھروں میں ہوا کے جھونکوں کے ساتھ دور سے آتی ہوئی کھٹ کھٹ کی دھیمی آوازیں سنتی رہتی۔

اس بستی کے کھنڈروں میں ایک جگہ مسجد کے آثار تھے اور اس کے پاس ہی ایک کنواں تھا جو بند پڑا تھا۔ راج مزدورں نے کچھ تو پانی حاصل کرنے اور بیٹھ کر سستانے کی غرض سے اور کچھ ثواب کمانے اور اپنے نمازی بھائیوں کی عبادت گزاری کے خیال سے سب سے پہلے اسی کی مرمت کی۔ چونکہ یہ فائدہ بخش اور ثواب کا کام تھا اس لیے کسی نے کچھ اعتراض نہ کیا۔ چنانچہ دو تین روز میں مسجد تیار ہوگئی۔

دن کو بارہ بجے جیسے ہی کھانا کھانے کی چھٹی ہوئی۔ دو ڈھائی سو،راج، مزدور، میر عمارت، منشی اور ان بیسواﺅں کے رشتہ دار یا کارندے جو تعمیر کی نگرانی پر مامور تھے اس مسجد کے آس پاس جمع ہوجاتے اور اچھا خاصا میلہ سا لگ جاتا۔

ایک دن ایک دیہاتی بڑھیا پاس کے کسی گاﺅں میں رہتی تھی اس بستی کی خبر سن کر آگئی۔ اس کے ساتھ ایک خورد سال لڑکا تھا۔ دونوں نے مسجدکے قریب ایک درخت کے نیچے گھٹیا سگریٹ بیڑی، چنے اور گڑ کی بنی ہوئی مٹھائیوں کا خوانچہ لگا دیا۔ بڑھیا کو آئے ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ ایک بوڑھا کسان کہیں سے ایک مٹکا اٹھا لایا اور کنویں کے پاس اینٹوں کا ایک چھوا سا چبوترا بنا کر پیسے کے دو دو شکر کے شربت کے گلاس بیچنے لگا۔ ایک کنجڑے کو جو خبر ہوئی وہ ایک ٹوکرے میں خربوزے بھر کرلے آیا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس بیٹھ کر، لے لو خربوزے شہد سے میٹھے خربوزے کی صدا لگانے لگا۔ ایک شخص نے کیا کیا۔ گھر سے سری پائے پکا، دیگچی میں رکھ، خوانچہ میں لگا۔ تھوڑی سی روٹیاں مٹی کے دو تین پیالے اور ٹین کا ایک گلاس لے کے آموجود ہوا اور اس بستی کے کارکنوں کو جنگل میں گھر کی ہنڈیا اور مزا چکھانے لگا۔

ظہر اور عصر کے وقت میر عمارت، منشی، معمار اور دوسرے لوگ مزدوروں سے کنویں سے پانی نکلوا نکلوا کر وضو کرتے نظر آتے۔ ایک شخص مسجد میں جا کر اذان دیتا۔ پھر ایک کو امام بنایا جاتا اور دوسرے لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔ کسی گاﺅں میں ایک ملا کے کان میں یہ بھنک پڑی کہ فلاں مسجد میں امام کی ضرورت ہے۔ وہ دوسرے ہی دن علی الصبح ایک سبز جزدان میں قرآن شریف، پنجسورہ، رحل اور مسلے مسائل کے چند چھوٹے چھوٹے رسالے رکھ کر آموجود ہوا اور اس مسجد کی امامت باقاعدہ طور پر اسے سونپ دی گئی۔

ہر روز تیسرے پہر گاﺅں کا ایک کبابی سر پر اپنے سامان کا ٹوکرا اٹھائے آ جاتا اور خوانچہ والی بڑھیا کے پاس زمین پر چولہا بنا کر کباب، کلیجی، دل اور گردے سیخوں پر چڑھا بستی والوں کے ہاتھ بیچتا۔ ایک بھٹیاری نے یہ حال دیکھا تو اپنے میاں کو ساتھ لے مسجد کے سامنے میدان میں دھوپ سے بچنے کے لیے پھونس کا ایک چھپر ڈال تنور گرم کرنے لگی کبھی کبھی ایک نوجوان دیہاتی نائی پھٹی پرانی کسبت گلے میں ڈالے جوتی کی ٹھوکروں سے راستے کے روڑوں کو لڑھکاتا اِدھر اُدھر گشت کرتا دکھنے میں آ جاتا۔

ان بیسواﺅں کے مکانوں کی تعمیر کی نگرانی، ان کے رشتہ دار یا کارندے توکرتے ہی تھے۔ کسی کسی دن وہ دوپہر کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے عشاق کے ہمراہ خود بھی اپنے مکانوں کو بنتا دیکھنے آ جاتیں اور غروب آفتاب سے پہلے یہاں سے نہ جاتیں۔ اس موقع پر فقیروں اور فقیرنیوں کی ٹولیوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں سے آ جاتیں اور جب تک خیرات نہ لے لیتیں اپنی صداﺅں سے برابر شورمچاتی رہتیں اور انہیں بات نہ کرنے دیتیں۔ کبھی کبھی شہر کے لفنگے اوباش بے کار مباش کچھ کیا کرکے مصداق شہر سے پیدل چل کر بیسواﺅں کی اس نئی بستی کی سن گن لینے آ جاتے اور اگر اس دن بیسوائیں بھی آئی ہوتیں تو ان کی عید ہو جاتی۔ وہ ان سے دور ہٹ کر ان سے گردا گرد چکر لگاتے رہتے۔ فقرے کستے، بے تکے قہقہے لگاتے۔عجیب عجیب شکلیں بناتے اور مجنونانہ حرکتیں کرتے۔ اس روز کبابی کی خوب بکری ہوتی۔

اس علاقے میں جہاں تھوڑے ہی دن پہلے ہُو کا عالم تھا اب ہر طرف گہما گہمی اور چہل پہل نظر آنے لگی۔ شروع شروع میں اس علاقے کی ویرانی میں ان بیسواﺅں کو یہاں آ کر رہنے کے خیال سے جو وحشت ہوتی تھی وہ بڑی حد تک جاتی رہی تھی اور اب وہ ہر مرتبہ خوش خوش اپنے مکانوں کی آرائش اور اپنے مرغوب رنگوں کے متعلق معماروں کو تاکیدیں کر جاتیں تھیں۔

بستی میں ایک جگہ ٹوٹا پھوٹا مزار تھا جو قرائن سے کسی بزرگ کا معلوم ہوتا تھا۔ جب یہ مکان نصف سے زیادہ تعمیر ہوچکے تو ایک دن صبح کو بستی کے راج مزدوروں نے کیا دیکھا کہ مزار کے پاس دھواں اٹھ رہا ہے اور ایک سرخ سرخ آنکھوں والا لمبا تڑنگا مست فقیر لنگوٹ باندھے چار ابرو کا صفایا کرائے۔ اس مزار کے اردگرد پھر رہا اور کنکر پتھر اٹھا اٹھا کر پرے پھینک رہا ہے۔ دوپہر کو وہ فقیر ایک گھڑا لے کر کنویں پر آیا، اور پانی بھر بھر کر مزار پر لے جانے اور اسے دھونے لگا۔ ایک دفعہ جو آیا تو کنویں پر دو تین راج مزدور کھڑے تھے۔ وہ نیم دیوانگی اور نیم فرزانگی کے عالم میں ان سے کہنے لگا: ”جانتے ہو وہ کس کا مزار ہے؟ کڑک شاہ پیر بادشاہ کا! میرے باپ دادا ان کے مجاور تھے۔“ اس کے بعد اس نے ہنس ہنس کر اور آنکھوں میں آنسو بھر بھر کر پیر کڑک شاہ کی کچھ جلالی کراماتیں بھی ان راج مزدوروں سے بیان کیں۔

شام کو یہ فقیر کہیں سے مانگ تانگ کر مٹی کے دو دیے اور سرسوں کا تیل لے آیا اور پیر کڑک شاہ کی قبر کے سرہانے اور پانتی چراغ روشن کر دیئے۔ رات کو پچھلے پہر کبھی کبھی اس مزار سے اللہ ہو کا مست نعرہ سنائی دے جاتا۔

چھ مہینے گزرنے نہ پائے تھے کہ چودہ مکان بن کر تیار ہوگئے۔ یہ سب کے سب دو منزلہ اور قریب قریب ایک ہی وضع کے تھے۔ سات ایک طرف اور سات دوسری طرف بیچ میں چوڑی چکلی سڑک تھی۔ ہر ایک مکان کے نیچے چار چار دکانیں تھیں۔ مکان کی بالائی منزل میں سڑک کے رخ وسیع برآمدہ تھا۔ اس کے آگے بیٹھنے کے لیے کشتی نما شہ نشین بنائی گئی تھی۔جس کے دونوں سروں پر یا تو سنگ مرمر کے مور رقص کرتے ہوئے بنائے گئے تھے اور یا جل پریوں کے مجسمے تراشے گئے تھے جن کا آدھا دھڑ مچھلی اور آدھا انسان کا تھا۔ برآمدہ کے پیچھے جو بڑا کمرہ بیٹھنے کے لیے تھا۔ اس میںسنگِ مرمر کے نازک نازک ستوں بنائے گئے تھے۔ دیواروں پر کوش نما پچی کاری کی گئی تھی۔ فرش چمکدار پتھر کا بنایا گیا تھا۔ جب سنگِ مرمر کے ستونوں کے عکس اس فرش زمردیں پر پڑتے تو ایسا معلوم ہوتا گویا سفید براق پروں والے، راج ہنسوں نے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھیل میں ڈبو دی ہیں۔

بدھ کا شبھ دن اس بستی میں آنے کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس روز اس بستی کی سب بیسواﺅں نے مل کر بہت بھاری نیاز دلوائی۔ بستی کے کھلے میدان میں زمین کو صاف کرا کر شامیانے نصب کر دیئے گئے۔ دیگیں کھڑکنے کی آواز اور گوشت اور گھی کی خوشبو بیس بیس کوس سے فقیروں اور کتوں کو کھینچ لائی۔ دوپہر ہوتے پیر کڑک شاہ کے مزار کے پاس جہاں لنگر تقسیم کیا جاتا تھا اس قدر فقیر جمع ہوگئے کہ عید کے روز کسی بڑے شہر کی جامع مسجد کے پاس بھی نہ ہوتے ہوں گے۔ پیر کڑک شاہ کے مزار کو خوب صاف کروایا اور دھلوایا گیا اور اس پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی اور اس مست فقیر کو نیا جوڑا سلوا کر پہنایا گیا جسے اس نے پہنتے ہی پھاڑ ڈالا۔

شام کو شامیانے کے نیچے دودھ سی اجلی چاندنی کا فرش کر دیا گیا۔ گاﺅ تکیے اور راگ رنگ کی محفل سجائی گئی۔ دور دور سے بہت سی بیسواﺅں کو بلوایا گیا جو ان کی سہیلیاں یا برادری کی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کے بہت سے ملنے والے بھی آئے جن کے لیے ایک الگ شامیانے میں کرسیوںکا انتظام کیا گیا اور ان کے سامنے کے رخ چقیں ڈال دی گئیں۔بے شمار گیسوں کی روشنی سے یہ جگہ بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔ ان بیسواﺅں کے توندل سیاہ فام سازندے، زر بفت اور کمخواب کی شیروانیاں پہنے، عطر میں بسے ہوئے پھوئے کانوں میں رکھے اِدھر اُدھر مونچھوں کو تاﺅ دیتے پھرتے اور زرق برق لباس اور تتلی کے پَرے بھی باریک ساڑھیوں میں ملبوس، غازوں اورخوشبوﺅں میںبسی ہوئی نازنیں اٹکھکیلیوں سے چلتیں، رات بھر رقص اور سرود کا ہنگامہ برپا رہا اور جنگل میں منگل ہوگیا۔

دو تین دن کے بعد جب اس جشن کی تھکاوٹ اتر گئی تو یہ بیسوائیں سازو سامان کی فراہمی اور مکانوں کی آرائش میں مصروف ہوگئیں۔ جھاڑ، فانوس، ظروف بلوری قد آدم آئینے، نواڑی پلنگ، تصویریں اور قطعات سنہری، چوکھٹوں میں جڑے ہوئے لائے گئے اور قرینے سے کمروں میں لگائے گئے اور کوئی آٹھ روز میں جا کر یہ مکان کیل کانٹے سے لیس ہوئے۔ یہ عورتیں دن کا بیشتر حصہ تو استادوں سے رقص و سرود کی تعلیم لینے، غزلیں یاد کرنے، دھنیں بٹھانے، سبق پڑھنے، تختی لکھنے، سینے پرونے، کاڑھنے، گراموفون سننے، استادوں سے تاش اور کیرم کھیلنے، ضلع جگت، نوک جھونک سے جی بہلانے، سونے میں گزارتیں اور تیسرے پہر غسل خانوں میں نہانے جاتیں۔ جہاں ان کے ملازموں نے دستی پمپوں سے پانی نکال نکال کر ٹب بھر رکھے ہوتے۔ اس کے بعد وہ بناﺅ سنگار میں مصروف ہو جاتیں۔

جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا یہ مکان گیسوں کی روشنی سے جگمگا اٹھتے جو جابجا سنگ مرمر کے آدھے کھلے ہوئے کنولوں میں نہایت صفائی سے چھپائے گئے تھے اور ان مکانوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کے کواڑوں کے شیشے جو پھول پتیوں کی وضع کے کاٹ کر جڑے گئے تھے۔ ان کی قوسِ قزح کے رنگوں کی سی روشنیاں دور سے جھلمل جھلمل کرتی نہایت بھی معلوم ہوتیں۔ یہ بیسوائیں بناﺅ سنگار کئے برآمدوں میں ٹہلتی، آس پاس والیوں سے باتیں کرتیں ہنس کر کھلکھلاتیں جب کھڑے کھڑے تھک جاتیں تو اندر کمرے میں چاندنی کے فرش پر گاﺅ تکیوں سے لگ کر بیٹھ جاتیں۔ ان کے سازندے ساز ملاتے رہتے اور یہ چھالیاں کترتی رہتیں۔ جب رات ذرا بھیگ جاتی تو ان کے ملنے والے ٹوکروں میں شراب کی بوتلیں اور پھول پھلاری لیے اپنے دوستوں کے ساتھ موٹروں یا تانگوں میں بیٹھ کر آتے۔ اس بستی میں ان کے قدم رکھتے ہی ایک خاص گہماگہمی اور چہل پہل ہونے لگتی۔نغمہ و سرود، ساز کے سر، رقص کرتی ہوئی نازنینوں کے گھنگروﺅں کی آواز قلقل مینا میں مل کر ایک عجیب سرور کی سی کیفیت پیدا کرتی۔ عیش ومستی کے ان ہنگاموں میں معلوم بھی نہ ہوتا اور رات بیت جاتی۔

ان بیسواﺅں کو اس بستی میں آئے چند ہی روز ہوئے تھے کہ دکانوں کے کرایہ دار آباد ہوگئے جن کا کرایہ اس بستی کو آباد کرنے کے خیال سے بہت ہی کم رکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے جو دکان دار آیا وہ وہی بڑھیا تھی جس نے سب سے پہلے مسجد کے سامنے درخت کے نیچے خوانچہ لگایا تھا۔ دکان کو پُر کرنے کے لیے بڑھیا اور اس کا لڑکا سگرٹوں کے بہت سے خالی ڈبے اٹھا لائے اور اسے منبر کے طاقوں میں سجا کر رکھ دیا گیا۔ بوتلوں میں رنگ دار پانی بھر دیا گیا تاکہ معلوم ہو شربت کی بوتلیں ہیں۔ بڑھیا نے اپنی بساط کے مطابق کاغذی پھولوں اور سگریٹ کی خالی ڈبیوں سے بنائی ہوئی بیلوں سے دُکان کی کچھ آرائش بھی کی۔ بعض ایکٹروں اور ایکٹرسوں کی تصویریں بھی پُرانے فلمی رسالوں سے نکال کر لئی سے دیواروں پر چپکا دیں۔ دکان کا اصل مال دو تین قسم کے سگریٹ تین تین چار چار پیکٹوں، بیڑی کے آٹھ دس بنڈلوں، دیا سلائی کی نصف درجن ڈبیوں، پانوں کی ڈھولی، پینے کے تمباکو کی تین چار ٹکیوں اور موم بتی کے نصف بنڈل سے زیادہ نہ تھا۔

دوسری دُکان میں ایک بنیا، تیسری میں حلوائی اور شیر فروش، چوتھی میں قصائی، پانچویں میں کبابی اور چھٹی میں ایک کنجڑا آ بسے۔ کنجڑا آس پاس کے دیہات سے سستے داموں چار پانچ قسم کی سبزیاں لے آتا اور یہاں خاصے منافع پر بیچ دیتا۔ ایک آدھ ٹوکرا پھلوں کا بھی رکھ لیتا۔ چونکہ دُکان خاصی کھلی تھی ایک پھول والا اس کا ساتھی بن گیا۔ وہ دن بھر پھولوں کے ہار، گجرے اور طرح طرح کے گہنے بناتا رہتا اور شام کو انہیں چنگیر میں ڈال کر ایک ایک مکان پر لے جاتا اور نہ صرف پھول ہی بیچ آتا بلکہ ہر جگہ ایک ایک دو دو گھڑی بیٹھ سازندوں سے گپ شپ بھی ہانک لیتا اور حقے کے دم بھی لگا آتا۔ جس دن تماش بینوں کی کوئی ٹولی اس کی موجودگی ہی میں کوٹھے پر چڑھ آتی اور گانا بجانا شروع ہو جاتا وہ سازندوں کے ناک بھوں چڑھانے کے باوجود گھنٹوں اٹھنے کا نام نہ لیتا،مزے سے گانے پر سر دھنتا اور بیوقوفوں کی طرح ایک ایک کی صورت تکتا رہتا۔ جس دن رات زیادہ گزر جاتی اور کوئی ہار بچ رہتا تو اس اپنے گلے میں ڈال لیتا اور بستی کے باہر گلا پھاڑ پھاڑ کر گاتا پھرتا۔

ایک دکان ایک بیسوا کا باپ اور بھائی جو درزیوں کا کام جانتے تھے سینے کی ایک مشین رکھ کر بیٹھ گئے۔ ہوتے ہوتے ایک حجام بھی آگیا اور اپنے ساتھ ایک رنگریز کو بھی لیتا آیا۔ اسکی دُکان کے باہر الگنی پر لٹکتے ہوئے طرح طرح کے رنگوں کے دو پٹے ہوا میں لہراتے ہوئے آنکھوں کے بہت بھلے معلوم ہونے لگے۔

چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک ٹٹ پونجئے، بساطی نے جس کی دُکان شہر میں چلتی نہ تھی، بلکہ اسے دکان کا کرایہ نکالنا بھی مشکل ہو جاتا تھا شہر کو خیر باد کہہ کر اس بستی کا رخ کیا۔یہاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیاگیا اور اس کے طرح طرح کے لوینڈر، قسم قسم کے پاﺅڈر، صابن، کنگھیاں، بٹن، سوئی، دھاگا، فیتے خوشبودار تیل، رومال، منجن کی خوب بکری ہونے لگے۔

اس بستی کے رہنے والوں کی سرپرستی اور ان کے مربیانہ سلوک کی وجہ سے اسی طرح دوسرے تیسرے روز کوئی نہ کوئی ٹٹ پونجیا دکاندار کوئی بزاز، کوئی پنساری، کوئی نیچہ بند، کوئی نان بائی مندے کی وجہ سے یا شہر کے بڑھے ہوئے کرایہ سے گھبرا کر اس بستی میں آ پناہ لیتا۔

ایک بڑے میاں عطار جو حکمت میں بھی کسی قدر دخل رکھتے تھے ان کا جی شہر کی گنجان آبادی اور حکیموں اور دواخانوں کی افراد سے جو گھبرایا تو وہ اپنے شاگردوں کو ساتھ لے شہر سے اٹھ آئے اور اس بستی میں ایک دکان کرایہ پر لے لی۔ سارا دن بڑے میاں اور ان کے شاگرد دواﺅں کے ڈبوں، شربت کی بوتلوں اور مربے، چٹنی اچار کے بویاموں کو الماریوں اور طاقوں میں اپنے اپنے ٹھکانے پر رکھتے رہے۔ ایک طاق میں طب اکبر، قرابا دین قادری اور دوسری طبی کتابیں جما کر رکھ دیں۔ کواڑوں کی اندرونی جانب اور دیداروں میں جو جگہ خالی بچی۔ وہاں انہوں نے اپنے خاص الخاص مجربات کے اشتہار سیاہ روشنائی سے جلی لکھ کر اور دفیتوں پر چپکا کر آویزاں کر دیئے۔ ہر روز صبح کو بیسواﺅں کے ملازم گلاس لے لے کر آ موجود ہوتے اور شربت بزوری، شربت بنفشہ، شربت انار اور ایسے نزہت بخش، روح افزا شربت و عرق، خمیرہ گاﺅ زبان اور تقویت پہنچانے والے مربے مع ورق ہائے نقرہ لے جاتے۔

جو دکانیں بچ رہیں ان میں ان بیسواﺅں کے بھائی بندوں اور سازندوں نے اپنی چارپائیاں ڈال دیں۔ دن بھر یہ لوگ ان دُکانوں میں تاش چوسر اور شطرنج کھیلتے، بدن پر تیل ملواتے، سبزی گھوٹتے، بٹیروں کی پالیاں کراتے، تیتروں سے سبحان تیری قدرت کی رٹ لگواتے اور گھڑا بجا بجا کر گاتے۔

ایک بیسوا کے سازندے نے ایک دکان خالی دیکھ کر اپنے بھائی کو جو ساز بنانا جانتا تھا اس میں لا بٹھایا۔ دکان کی دیواروں کے ساتھ ساتھ کیلیں ٹھونک کر ٹوٹی پھوٹی مرمت طلب سارنگیاں، ستار، طنبورے، دلربا وغیرہ ٹانگ دیئے گئے۔ یہ شخص ستار بجانے میں بھی کمال رکھتا تھا۔ شام کو وہ اپنی دُ کان میں ستار بجاتا جس کی میٹھی آواز سن کر آس پاس کے دکان دار اپنی دکانوں سے اٹھ اٹھ کر آ جاتے اور دیر تک بت بنے ستار سنتے رہتے۔ اس ستار نواز کا ایک شاگرد تھا جو ریلوے کے دفتر میں کلرک تھا۔ اسے ستار سیکھنے کا بہت شوق تھا، جیسے ہی دفتر سے چھٹی ہوتی سیدھا سائیکل اڑاتا ہوا اس بستی کا رخ کرتا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ دکان ہی میں بیٹھ کر مشق کیا کرتا غرض اس ستار نواز کے دم سے بستی میں خاصی رونق ہونے لگی۔

مسجد کے ملا جی، جب تک تو یہ بستی زیر تعمیر رہی رات کو دیہات میں اپنے گھر چلے جاتے رہے مگر اب جبکہ انہیں دونوں وقت مرغن کھانا بافراط پہنچنے لگا تو وہ رات کو بھی یہیں رہنے لگے۔ رفتہ رفتہ بعض بیسواﺅں کے گھروں سے بچے بھی مسجد میں پڑھنے آنے لگے جس سے ملا جی کو روپے پیسے کی آمدنی بھی ہونے لگی۔

ایک شہر شہر گھومنے والی گھٹیا درجہ کی تھیڑیکل کمپنی کو جب زمین کے چڑھے ہوئے کرایہ اور اپنی بے مائیگی کے باعث شہر میں کہیں جگہ نہ ملی تو اس نے اس بستی کا رخ کیا اور ان بیسواﺅں کے مکانوں سے کچھ فاصلہ پر میدان میں تنبُو، کھڑے کرکے ڈیرے ڈال دیئے۔ اس کے ایکٹر ایکٹری کے فن سے محض نابلد تھے۔ ان کے ڈریس پھٹے پُرانے تھے جن کے بہت سے ستارے جھڑ چکے تھے اور یہ لوگ تماشے بھی بہت پرانے اور دقیانوسی کرتے تھے مگر اس کے باوجود یہ کمپنی چل نکلی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹکٹ کے دام بہت کم تھے۔ شہر کے مزدوری پیشہ لوگ، کارخانوں میں کام کرنے والے اور غریب غربا، جو دن بھر کی نوکری، محنت مشقت کی کسر شوروغل، خرمستیاں اور ادنیٰ عیاشیوں سے نکالنا چاہتے تھے۔ پانچ پانچ چھ چھ کی ٹولیاں بنا کر، گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے، ہنستے بولتے، بانسری اور الغوزے بجاتے، راہ چلتوں پر آوازیں کستے، گالی گلوچ بکتے، شہر سے پیدل چل کر تھیٹر دیکھنے آتے اور لگے ہاتھوں بازار حسن کی سیر بھی کر جاتے۔

جب تک ناٹک شروع نہ ہوتا تھیٹر کا ایک مسخرہ تنبو کے باہر ایک اسٹول پر کھڑا کبھی کولا ہلتا، کبھی منہ پھلاتا، کبھی آنکھیں مٹکاتا۔ عجیب عجیب حیا سوز حرکتیں کرتا جنہیں دیکھ کر یہ لوگ زور سے قہقہے لگاتے اور گالیوں کی صورت میں داد دیتے۔

رفتہ رفتہ دوسرے لوگ بھی اس بستی میں آنے شروع ہوئے۔ چنانچہ شہر کے بڑے بڑے چوکوں میں تانگے والے صدائیں لگانے لگے۔ ”آﺅ کوئی نئی بستی کو۔“ شہر سے پانچ کوس تک جو پکی سڑک جاتی تھی اس پر پہنچ کر تانگے والے سواریوں سے انعام حاصل کرنے کے لالچ میں یا ان کی فرمائش پر تانگوں کی دوڑیں کراتے۔ منہ سے ہارن بجاتے اور جب کوئی تانگہ آگے نکل جاتا تو اس کی سواریاں نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیتیں۔ اس دوڑ میں غریب گھوڑوں کا بُرا حال ہو جاتا اور ان کے گلے میں پڑے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے بجائے خوشبو کے پسینے کی بدبو آنے لگتی۔

رکشا والے تانگے والوں سے کیوں پیچھے رہتے۔ وہ ان سے کم دام پر سواریاں بٹھا، طرارے بھرتے اور گھنگرو بجاتے اس بستی کو جانے لگے۔ علاوہ ازیں ہر ہفتے کی شام کو اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ ایک ایک سائیکل پر دو لدے، جوق در جوق اس پُراسرار بازار کی سیر دیکھنے آتے جس سے ان کے خیال کے مطابق ان کے بڑوں نے خواہ مخواہ انہیں محروم کر دیا تھا۔

رفتہ رفتہ اس بستی کی شہرت چاروں طرف پھیلنے اور مکانوں اور دُکانوں کی مانگ ہونے لگی۔ وہ بیسوائیں جو پہلے اس بستی میں آنے پر تیار نہ ہوئی تھیں اب اس کی دن دوگنی رات چوگنی ترقی دیکھ کر اپنی بیوقوفی پر افسوس کرنے لگیں۔ کئی عورتوں نے تو جھٹ زمینیں خرید ان بیسواﺅں کے ساتھ ساتھ اسی وضع قطع کے مکان بنوانے شروع کر دیئے۔ علاوہ ازیں شہر کے بعض مہاجنوں نے بھی اس بستی کے آس پاس سستے داموں زمینیں خرید خریدکر کرایہ اٹھانے کے لیے چھوٹے چھوٹے کئی مکان بنوا ڈالے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فاحشہ عورتیں جو ہوٹلوں اور شریف محلوں میں روپوش تھیں مورو ملخ کی طرح اپنے نہاں خانوں سے باہر نکل آئیں اور ان مکانوں میں آباد ہوگئیں۔ بعض چھوٹے چھوٹے مکانوں میں اس بستی کے وہ دکان دار آ بسے جو عیال دار تھے اور رات کو دُکان میں سو نہ سکتے تھے۔

اس بستی میں آبادی تو خاصی ہوگئی تھی۔ مگر ابھی تک بجلی کی روشنی کا انتظام نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ ان بیسواﺅں اور بستی کے تمام رہنے والوں کی طرف سے سرکار کے پاس بجلی کے لیے درخواست بھیجی گئی جو تھوڑے دنوں بعد منظور کر لی گئی اس کے ساتھ ہی ایک ڈاک خانہ بھی کھول دیا گیا۔ ایک بڑے میاں ڈاک خانہ کے باہر ایک صندوقچے میں لفافے، کارڈ اور قلم دوات رکھ، بستی کے لوگوں کے خط پتر لکھنے لگے۔

ایک دفعہ بستی میں شرابیوں کی دو ٹولیوں میں فساد ہوگیا۔ جس میں سوڈا واٹر کی بوتلوں، چاقوﺅں اور اینٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور کئی لوگ سخت مجروح ہوئے۔ اس پر سرکار کو خیال آیا اس بستی میں ایک تھانہ بھی کھول دینا چاہیے۔

تھیٹریکل کمپنی دو مہینے تک رہی اور اپنی بساط کے مطابق خاصا کما لے گئی۔ اس شہر کے ایک سینما کے مالک نے سوچا کہ کیوں نہ اس بستی میں بھی ایک سینما کھول دیا جائے۔ یہ خیال آنے کی دیر تھی کہ اس نے جھٹ ایک موقع کی جگہ چن کر خرید لی اور جلد جلد تعمیر کا کام شروع کرا دیا۔ چند ہی مہینوں میں سینما ہال تیار ہوگیا۔ اس کے سینما کے اندر ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی لگوایا گیا تاکہ تماشائی اگر بائیسکوپ شروع ہونے سے پہلے آ جائیں تو آرام سے باغیچہ میں بیٹھ سکیں۔ ان کے ساتھ بستی کے لوگ یونہی سستانے یا سیر دیکھنے کی غرض سے آ آ کر بیٹھنے لگے۔ یہ باغیچہ خاصی سیر گاہ بن گیا۔ رفتہ رفتہ سقے کٹورا بجاتے اس باغیچے میں آنے اور پیاسوں کی پیاس بجھانے لگے۔ سر کی تیل مالش والے نہایت گھٹیا قسم کے تیز خوشبو والے تیل کی شیشیاں واسکٹ کی جیبوں میں ٹھونسے کاندھے پر میلا کچیلا تولیہ ڈالے، دل پسند دل بہار مالش کی صدا لگاتے درد سر کے مریضوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگے۔سینما کے مالک نے سینما ہال کی عمارت کی بیرونی جانب دو ایک مکان اور کئی دکانیں بھی بنوائیں۔ مکان میں ہوٹل کھل گیا جس میں رات کو قیام کرنے کے لیے کمرے بھی مل سکتے تھے ا وردُکانوں میں ایک سوڈا کی فیکٹری والا، ایک فوٹو گرافر، ایک سائیکل کی مرمت والا، ایک لانڈری والا، دو پنواڑی، ایک بوٹ شاپ والا ایک ڈاکٹر مع اپنے دواخانہ کے آ رہے، ہوتے ہوتے پاس ہی ایک دکان میں کلال خانہ کھلنے کی اجازت مل گئی۔ فوٹو گرافر کی دُکان کے باہر ایک کونے میں ایک گھڑی ساز نے آڈیر ا جمایا اور ہر وقت محدب شیشہ آنکھ پر چڑھائے گھڑیوں کے کل پرزوں میں غلطاں و پیچاں رہنے لگا۔

اس کے کچھ ہی دن بعد بستی میں نل، روشنی اور صفائی کے باقاعدہ انتظام کی طرف توجہ کی جانے لگی۔ سرکاری کارندے سرخ جھنڈیاں، جریبیں اور اونچ نیچ دیکھنے والے آلے لے کر آ پہنچے اور ناپ ناپ کر سڑکوں اور گلی کوچوں کی داغ بل ڈالنے لگے اور بستی کی کچی سڑکوں پر سڑک کوٹنے والا، انجن چلنے لگا….“

اس واقع کو بیس برس گزر چکے ہیں۔ یہ بستی اب ایک بھرا پڑا شہر بن گئی ہے۔ جس کا اپنا ریلوے اسٹیشن بھی ہے اور ٹاﺅن ہال بھی۔ کچہری بھی اور جیل خانہ بھی۔ آبادی ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ شہر میں ایک کالج، دو ہائی اسکول، ایک لڑکوں کے لیے، ایک لڑکیوں کے لیے اور آٹھ پرائمری سکول ہیں جن میں میونسپلٹی کی طرف سے مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ چھ سینما ہیں اور چار بنک جن میں سے دو دنیا کے بڑے بڑے بنکوں کی شاخیں ہیں۔

شہر سے دو روزانہ، تین ہفتہ وار دس ماہانہ رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ ان میں چار ادبی، دو اخلاقی و معاشرتی و مذہبی، ایک صنعتی، ایک طبی، ایک زنانہ اور ایک بچوں کا رسالہ ہے۔ شہر کے مختلف حصوں میں بیس مسجدیں، پندرہ مندر اور دھرم سالے، چھ یتیم خانے، پانچ اناتھ آشرم اور تین بڑے سرکاری ہسپتال ہیں۔ جن میں سے ایک صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔

شروع شروع میں کئی سال تک یہ شہر اپنے رہنے والوں کی مناسبت سے ”حُسن آباد“ کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا۔ مگر بعد میں اسے مناسب سمجھ کر اس میں تھوڑی سی ترمیم کر دی گئی۔یعنی بجائے ”حُسن آباد“ کے ”حَسن آباد“ کہلانے لگا۔ مگر یہ نام چل نہ سکا۔ کیونکہ عوام حُسن اور حَسن میں کچھ امتیاز نہ کرتے، آخری بڑی بڑی بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی اور پُرانے نوشتوں کی چھان بین کے بعد اس کا اصلی نام دریافت کیا گیا جس سے یہ بستی آج سے سینکڑوں برس قبل اجڑنے سے پہلے موسوم تھی اور وہ نام ہے ”آنندی!“

یوں تو سارا شہر بھرا پرا، صاف ستھرا اور خوشنا ہے مگر سب سے خوبصورت سب سے بارونق اور تجارت کا سب سے بڑامرکز وہی بازار ہے جس میں زنان بازاری رہتی ہیں۔

آنندی بلدیہ کا اجلاس زوروں پر ہے، ہال کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہیں۔ بلدیہ کے زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے۔ کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بدنما داغ ہے۔

ایک فصیح مقرر تقریر کر رہے ہیں۔ ”معلوم نہیں وہ کیا مصلحت تھی جس کے زیرِ اثر ناپاک طبقے کو ہمارے اس قدیمی اور تاریخی شہر کے عین بیچوں بیچ رہنے کی اجازت دی گئی….“

اس مرتبہ ان عورتوں کے لیے جو علاقہ منتخب کیا گیا وہ شہر سے بارہ کوس دور تھا۔

Views All Time
Views All Time
462
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ٹوٹتی امیدیں(۴)-سید شاہد عباس کاظمی
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: