Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کھوکھلی حکومتیں

کھوکھلی حکومتیں
Print Friendly, PDF & Email

syed-ghazanfar-zaidiکچھ ماضی کے جھروکوں میں چلتے ہیں کہ جس کا ذکر ایک ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیا ۔ کہتے ہیں دلی میں ایک بزرگ تھے جن کا نام مولانا احمد اللہ شاہ تھا۔ 1855 کا زمانہ تھا دلی کے لوگ ایک دن جامعہ مسجد میں داخل ہوئے تو مسجد کے مرکزی دروازے پر ایک اشتہار آویزاں تھا جس پر لکھا تھا ۔ ” مسلمانو اور ہندوؤ! متحد ہوکر اٹھو کہ اب نہ اٹھو گے تو کبھی نہ اٹھ سکو گے ” یہ موقع اگر ہاتھ سے نکل گیا تو جان بچانے کا موقع بھی نہیں ملے گا ، یہ آخری موقع ہے اب نہیں تو کبھی نہیں ۔ اٹھو اور ملک کی قسمت بدل دو انصاف کے لیے اٹھو ۔ انگریزوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح مولانا احمد اللہ شاہ کو گرفتار کیا جائے لیکن مولانا صاحب کبھی آگرہ ، کبھی دلی ، کبھی میرٹھ ، کبھی پٹنہ ، کبھی کلکتہ تو کبھی جھانسی کی رانی کے ساتھ ملاقات کو چلے جایا کرتے تھے ۔ گلی کوچوں اوربازاروں میں لوگوں کو درس انقلاب دیتے رہے ۔ لوگ برصغیر میں انقلاب کے خواہاں تھے اور بیتابی سے انتظار کرنے لگے ۔
قصہ مختصر ماضی میں بھی ایساہی شہنشاہی نظام حکومت جو اس وقت مسلط تھا اور آج بھی ہم پر زبردستی مسلط ہے ۔ بادشاہ اور ان کی اولاد ہمارے جسموں میں سے ماس نوچ نوچ کر چیل کووں کی طرح کھا رہے ہیں جس طرح کل کھا رہے تھے اس بادشاہ کا نام بہادر شاہ ظفر تھا جو کہ مغلوں کی آخری ریاست اور آخری دور حکومت کا کا آخری فرمانروا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ ظفر کے تین بیٹے تھے جو کہ نہایت کرپٹ تھے رشوت لے کر کسی کو بھی حکومتی عہدہ عطا کردیتے تھے اور جس وقت وہ حکومتی عہدے پر فائز ہوتا تو عوام کا خون چوستا جس طرح آج کے یہ حکمران ہمارا خون چوس رہے ہیں ۔ اس وقت کے اپوزیشن نہایت کرپٹ ترین لوگ تھے جس طرح کے آج یعنی درباری لوگ ۔ 
ملک معاشی بدحالی کا شکار تھا اور قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا کُلی طور پر ایک کمزور حکومت لیکن بادشاہ کی عیاشی پر یا اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا ۔ 
وقت گزرتا گیا انگریزوں میں جنرل ولیم ہڈسن جو کہ نہایت چالاک اور شاطر جنرل تھا جنرل ہڈسن نے سب سے پہلے لال قلعہ کا سیاسی منظر نامہ طلب کیا اور روزانہ کی بریکنگ نیوز طلب کی ، جنرل ہڈسن کو مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں لڑانے کا ٹاسک دیا گیا تھا جو 1857 میں عید قربان پر پورا ہوگیا ، بادشاہ ظفر نے عید قربان پر قربانی دی تو پورے ملک کے اندرہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے ۔
جنگ ہوتے ہوتے دلی میں قلعہ تک آگئی اور بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے اپنے آپ کو قلعہ کے اندر قید کرلیا اور انگریزوں نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا 2 ماہ تک قلعہ کے اندر بادشاہ اور اس کے 6 ہزار سپاہی انگریزوں کے محاصرہ میں رہے اس دوران جنرل ہڈسن کے ساتھ بادشاہ کی ملاقات فکس ہوئی جس میں بادشاہ نے این آر او طلب کیا کہ مجھے اور میری بیوی کی جان بخشی کردو ہمیں جانے دو باقی تم جانو اور ملک جانے جو چاہو سلوک کرنا ۔ 
جنرل ہڈسن اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ قلعہ کے اندر داخل ہوا اور بادشاہ ظفر سے اس کی تلواریں طلب کی بادشاہ نے اپنی خاندانی جنگجو تلواریں پیش کردیں اور باہر کھڑے 6 ہزار سپاہیوں کو جو کہ بادشاہ کے ایک اشارے پر تن من دھن کی بازی لگانے کو تیار تھے دھوکہ دیا اور مایوس کردیا ۔ جنرل ہڈسن نے بادشاہ ظفر کے تینوں عیاش بیٹوں کو دلی کے چوک پر لٹکا کر گولی ماردی اور ان 6 ہزار سپاہیوں کو پھانسیاں دے دیں ۔ 
اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کمزور حکومتیں نہیں چلا کرتیں جناب۔ جس ملک کے اندر دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشی دہشت گردی ہو ملک کے حکمران جھوٹے ، لالچی اور کرپٹ ہوں بیرون ملک اثاثوں کے مالک ہوں اور جس کی عوام کے پاس 2 وقت کی روٹی میسر نہ ہو ۔ اپنی کرسی اپنے تخت اپنی جان بچانے کے لیے این آر اور کرتے ہوں ۔ خدا اس ملک کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ان سیاست دانوں ان حکمرانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچائے آمین ۔

Views All Time
Views All Time
232
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   خودی اور سیلفی-شاہا نہ جاوید
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: