Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ہمارے ووٹ کی حق دار سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ اچھے امیدوار ہیں

by جولائی 13, 2018 سیاست
ہمارے ووٹ کی حق دار سیاسی جماعتیں نہیں بلکہ اچھے امیدوار ہیں
Print Friendly, PDF & Email

ایسا میں بلاجواز یا بغیر دلیل کے نہیں عرض کر رہا بلکہ اس مقدمہ کو ثابت کرنے کے لیے میرے پاس بہت مؤثر نقاط ہیں. الیکشن کمیشن کی حتمی فہرست کے مطابق تحریک انصاف (272 میں سے 245), مسلم لیگ ن (272 میں 213 جب کہ قبائلی علاقوں کے 12 حلقوں میں ٹکٹ جاری نہیں کیے گئے) اور پیپلز پارٹی (272 میں 206) حلقوں سے قومی اسمبلی کے لیے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں …. یہ واضح ہے کہ الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں بھی یہی تینوں جماعتیں حاصل کریں گی. سیاسی نظریات کے حوالہ سے ان تین بڑی پارٹیوں میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ تینوں پر ایک ہی طبقے اور ایک ہی سوچ یعنی دائیں بازو والی بنیاد پرستانہ سوچ کا غلبہ ہے۔ ان حالات میں "ہم جیسے لیفٹسٹ کس کو ووٹ دیں” کے فیثا غورث سوال نے سب کو حیران و ششدر کر کے رکھا ہوا ہے کہ 2 بڑے پرانے سیاستدانوں اور (1) نئے جنون کے درمیان کس کا انتخاب کریں.

1): پہلا پرانا سیاست دان آصف علی زارداری، ملک کا تیسرے نمبر پر سب سے امیر شخص، سیاسی گرو، جمہوریت پسند،  یاروں کا یار، اداروں اور پارٹی کو ساتھ لے کر چلنے والا بندہ، لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کا ریکارڈ نظر نہیں آتا اور نہ ہی میٹرو بس و اورنج ٹرین نما ترقی کے لیے پراجیکٹس کیے ہیں مگر متوازن خارجہ پالیسی بنا کر ترقی اور ملک کی مجموعی سمت درست رکھتا ہے. 2): دوسرا پرانا سیاست دان نواز شریف  اس کے بارے مشہور کر دیا گیا ہے کہ یہ اپنی ہوس, اپنے اقتدار اور اپنے مفادات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے بوٹ پالش بھی کرنے کو تیار رہتا ہے اور اس نے اپنی بدعنوانی سے اتنی دولت اکٹھی کر رکھی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو ختم نہ ہو. ملکی ترقی کے لیے موٹر وے, میٹرو بس, اورنج ٹرین طرز کے پراجیکٹس پر یقین رکھتا ہے مگر خارجہ پالیسی کے محاذ پر معاملات ہینڈل نہیں کر سکتا. 3): عمران خاں، سیاست کا نیا جنون، اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایا میں یہ بوٹ پالش کروانے والوں کا آج کے دور میں سب سے نڑا مہرہ ہے، بدعنوان نہیں ہے. اگر منتخب ہو گیا تو بدعنوانوں کی مٹی پلید کر کے رکھ دے گا. نقصان صرف یہ ہے کہ اپنے دماغ کا استعمال نہیں کرتا. ٹھرکی بھی انتہا کا ہے اور اس چکر میں اہم ترین فیصلے بھی ملک دشمن نتائج کے کر سکتا ہے. بوٹوں والوں کا خاص الخاص بندہ جو انہیں بار بار اس کی یقین دپانی بھی کرواتا رہتا ہے. سب سے بڑا ظلم اس نے یہ کیا ہے کہ اپنی پارٹی میں دوسری پارٹیوں کے سارے ان جفاداری سیاہ ستدانوں کو اکٹھا کر لیا ہے جو ہر حکومت میں لمبڑ ون کی آشیرباد سے پہنچ جاتے ہیں

ذرا غور کیجئیے گا کہ تینوں بڑی جماعتوں کا انتخابی منشور ایک جیسا ہے یعنی اساس پاکستان کے برخلاف انتہا پسندی, جعلی تاریخ بمثل مطالعہ پاکستان, دوسرے ملکوں میں مداخلت کی پالیسی کی حمایت اور دفاعی اداروں کے غیر دفاعی معاملات میں مداخلت پر چپ سادھنے جیسے امور شامل ہیں تو ان کے لیڈران کی عادات بھی ایسی ہیں کہ تھوڑی بہت سمجھ بوجھ والا بھی سر پٹخ لے. ان پارٹیوں کے بعد اگر عوام کے مزاج کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ ووٹروں کی اکثریت ووٹ دینے کے لیے جن عوامل سے متاثر ہوتی ہے وہ کچھ یوں ہیں: 1): لیڈر کے لیے کسی سانحہ یا کسی واقعہ سے ہمدردی کی لہر، اگرچہ پیپلز پارٹی نے بےنظیر بھٹو شہید کے بہیمانہ قتل سے ملنے والی ہمدردی کو زمین بوس کر دیا تھا اور واضح طور پر ملنے والی دو تہائی اکثریت کو سادہ اکثریت میں بدل لیا تھا.2): اسٹیبلشمنٹ خصوصا” ملٹری کا کسی جماعت کی طرف جھکاؤ، الیکشن 2013ء میں یہ جھکاؤ ن لیگ اور تحریک انصاف میں تقسیم دکھائی دیتا تھا جب کہ اس دفعہ واضح طور پر یہ عمران خاں کی طرف متوجہ ہے. 3): دائیں بازو کی جماعتوں یعنی مذہبی جماعتوں سے منسلک گروپوں کی طرف سے کسی خاص جماعت کی حمایت، ن لیگ 1988ء سے بلا شرکت غیرے دائیں بازو کے انتہاپسندانہ ووٹ کی حق دار رہی ہے مگر اس الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کی صورت میں دیوبندی + اہل حدیث ووٹ, ملی مسلم لیگ کی صورت میں سلفی ووٹ اور تحریک لبیک کی صورت میں کٹر سنی ووٹ ن لیگ کے مقابلہ میں کھڑا یے. 4):-معاشی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے پراجیکٹس. کہتے ہیں کہ اگر معاشی ترقی کے پراجیکٹس ہی ووٹ ملنے کی بنیاد ہوتے تو 2008ء میں ق لیگ + مشرف پارٹی کبھی نہ ہارتی. اس لیے الیکشن 2013ء میں ن لیگ کو بھی میٹرو بس، اورنج ٹرین، لوڈ شیڈنگ میں کمی کا کچھ زیادہ فائدہ نہیں مل سکے گا. 5): مین اسٹریم میڈیا پر چلنے والی جعلی خبریں اس میں اب سوشل میڈیا مہم بھی مین اسٹریم میڈیا سے زیادہ مؤثر کردار ادا کرتی ہے. یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ صرف 15% ووٹوں تک ہی رابطہ ممکن ہے باقی 85% ووٹرز کے لیے مین اسٹریم میڈیا, برادری ازم اور کچھ حلقوں میں مذہبی ووٹ ہی امیدوار کی جیت میں بنیادی کردار ادا کریں گے.

یہ بھی پڑھئے:   پنجاب میں پیپلزپارٹی کی واپسی - اکرم شیخ

ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے عمران خان کی کھلی حمایت کے تناظر میں یہ واضح رہے کہ ملٹری کی طاقت اور اس کا اثرو رسوخ ایک حقیقت ہے لیکن ان کا ایک بہت بڑا ووٹ بینک ہے۔ ملک میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 8 لاکھ کے قریب ہے اور اگر ان کے خاندان کو شامل کیا جائے اور اس کے ساتھ ان افراد کے خاندانوں کو شامل کیا جائے جن کے مالی مفادات فوج سے جڑے ہیں تو یہ تعداد ایک کروڑ کے قریب بن جاتی ہے. یہ ایک کروڑ ووٹروں کی 90% اکثریت عمران خاں کی حمایت میں کھڑی ہے. اس کا بہت اثر ہو گا اور نواز شریف بہت زیادہ ہمدردی کے باوجود بھی اس بڑی تعداد کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے. کچھ لوگوں کے نزدیک تو اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نواز شریف کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو عدالتی فیصلوں سے قتل کیا جا رہا ہے. پہلے یہ جوڈیشل ایکٹوازم صرف پیپلز پارٹی کے خلاف تھی اور اب "ن” لیگ اس جوڈیشل ایکٹوازم کا واضح نشانہ ہے. اعتراض یہ نہیں ہے کہ کرپشن کے خلاف عدالت کیوں فعالیت دکھا رہی ہے .. اعتراض یہ ہے کہ وہ الیکشن کے نزدیک کیوں یہ فعالیت دکھانے کی کوشش کرتی ہے .. عدالت میں سالہا سال سے چل رہے لاکھوں کرپشن کے کیسز تو زیرالتوا ہیں مگر مخصوص سیاستدانوں کے کیسوں کو تاک تاک کر من چاہے فیصلوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے … اور پھر یہ نشانے صرف سیاستدانوں پر ہی کیوں لگائے جا رہے ہیں .. جج, جرنیل, جرنلسٹ اور ملا بھی تو بدعنوانی کے اونچے میناروں پر بیٹھے بھنگڑے ڈال رہے ہیں .. کبھی ان پر کوئی کاروائی کیجئیے تاکہ پتہ چلے کہ یہ سیاستدانوں کا ہی عدالتی قتل نہیں ہے بلکہ اس کی لپیٹ میں سارے بدعنوان آئیں گے

یہ بھی پڑھئے:   کرپشن ہمارا قومی المیہ

واضح رہے کہ ہمارے ملک میں اپنی "گڈ” بکس میں شامل چند مصنوعی سیاستدانوں کے علاوہ مقتدر حلقوں کی ایماء پر اصلی اور کبھی کبھار اپنے پیدا کئے ہوئے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے عدالتی "قتل” کی تاریخ 1950ء کی دہائی سے شروع ہے — اس سے نہ مولوی تمیز الدین بچ سکے, نہ حسین شہید سہروردی, نہ محترمہ فاطمہ جناح, اور نہ ہی پیپلز پارٹی بچ سکی ہے. اور یہ سلسلہ تھم نہیں سکا، سنجیدہ حلقوں کا پوچھنا یہ بھی ہے کہ نواز شریف کے بعد اگلا نشانہ کیا عمران خاں نہیں ہوں گے. یہ وہ سوال ہے جس سے ہم جانتے بوجھتے ہوئے بھی آنکھیں چرائیں تو ہمیں عقل مند تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا. اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کا واحد طریقہ جمہوریت کا تسلسل ہے جس سے کاسہ لیسوں کی جگہ اصل جمہوری سوچ رکھنے والی لیڈر شپ جلد یا بدیر نتھر کے سامنے آ کے رہے گی. اس لیے جمہوری سوچ رکھنے والے دانشوروں کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی جمہوریت سے مایوس نہ ہوں اور اسے ہر حال میں چلتے رہنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہیں. اس طرح کی گومگو کیفیت میں کسی بھی ووٹر کے لیے عمران خان, نواز شریف, زارداری وغیرہ کے لیے کسی قسم کی قلبی وابستگی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی نفرت رکھنی چاہیے. ہر شخص کو اپنا ٹارگٹ طے کرنا چاہیے کہ ہمیں ہر حالت میں جمہوریت کے ساتھ رہنا ہے. ٹھیک ہے کہ اس وقت جمہوری لوگوں کے رویہ اور کردار مکمل غیر جمہوری ہے مگر چشم بیناء کو دور کہیں سے اس کیچڑ میں کھلتا ہوا کنول بھی نظر آ رہا ہے. اگر اسی لولی, لنگڑی کرپٹ جمہوریت کا تسلسل باقی رہا تو انشاءاللہ العزیز ہمیں مخلص, ایماندار, محب وطن اور اصل جمہوری سوچ رکھنے والی جمہوریت بھی نصیب ہو جائے گی.

یاد رہے کہ دنیا کی بڑی بڑی اور پرانی جمہوریتوں مثلا” برطانیہ, امریکہ, فرانس وغیرہ میں بھی ہم سے برا حال تھا اور لیڈران ایسے ہی کرپٹ بھی تھے اور فوج کی انگلی پر ناچنے والے بھی تھے مگر وہاں جمہوریت کا تسلسل باقی رہا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ان ممالک میں عوامی مفاد عامہ کے خلاف جانے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور کرپٹ حکمرانوں کا وہاں حشرنشر ہو جاتا ہے.اگر ہمارے یہاں بھی جمہوریت کا تسلسل قائم رہا تو انشاءاللہ العزیز ہم نہ سہی مگر ہماری اگلی نسلیں اچھا وقت ضرور دیکھیں گی. لہٰذا ان حالات میں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر کسی ایسے امیدوار کو ووٹ دیں جو سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور معتدل مزاج ہو گا۔ آئندہ الیکشن میں کوئی بھی جیتے لیکن یہ الیکشن ملتوی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ 2018ءمیں ایک اور جنرل الیکشن پاکستان کو آگے لےکر جائے گا۔اور 2023ء کا الیکشن بھی وقت پر ہو گیا تو پھر پاکستان کی جمہوریت مزید پختہ ہو جائے گی۔

Views All Time
Views All Time
96
Views Today
Views Today
5
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: