جنگل کا قانون ( بلوچی کہانی)-غنی پرواز

Print Friendly, PDF & Email

دفتر میں داخل ہوتے ہی وہ حیران رہ گیا۔ کیونکہ دفتر کے تمام ملازمین کے چہرے اسے بہت عجیب دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ کچھ کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ کچھ کی زبانیں نیچے لٹکی ہوئی تھیں اور کچھ کے ہونٹ پھولے ہوئے تھے۔ وہ حیرانی سے کھڑا سب کو تکتا رہا۔
بابو آفتاب نے سر اٹھایا اور باہر نکلی ہوئی آنکھیں مزید باہر نکالیں۔
‘تم آج ہمیں اس طرح دیکھ رہے ہو، جیسے ہم کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہیں۔’
اسسٹنٹ امداد نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کھڑے ہوئے کان مزید کھڑے کیے۔ ‘تم ہمیں اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو۔’
کیشیئر ظہیر نے سر اٹھایا اور اپنی لٹکی ہوئی زبان اور زیادہ لٹکالی۔
‘آج اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔’
ہیڈ کلرک مزمل نے سر اٹھایا اور پھولے ہوئے ہونٹوں کو اور زیادہ پھلایا۔
‘اسے ٹھیک کرنا پڑے گا۔’
وہ آگے بڑھا اور سب کے بیچ میں کھڑا ہوگیا۔ ‘لیکن آپ لوگوں کی حالت اس طرح کیوں ہے؟’
سب نے پہلے ایک دوسرے کی طرف اور پھر اس کی طرف دیکھا۔
‘ہمیں کیا ہوا ہے بھلا؟’
وہ طنزیہ انداز سے مسکرایا: ‘کچھ کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی ہیں، کچھ کے کان کھڑے ہیں، کچھ کی زبانیں لٹکی ہوئی ہیں، کچھ کے ہونٹ پھولے ہوئے ہیں۔’
بابو آفتاب جلدی جلدی اپنی جیب سے چھوٹا سا آئینہ نکال کر خود کو دیکھنے لگا۔ ‘جھوٹ کیوں بولتے ہو؟’
باقی لوگ بھی جلدی جلدی اٹھے اور بابو آفتاب کے چھوٹے سے آئینے میں خود کو دیکھنے لگے۔ ‘تم تو بہت بڑے جھوٹۓ ہو۔’ کسی نے کہا۔
‘تم اتنے بڑے جھوٹ کیوں بولتے ہو؟’ کسی اور نے کہا۔
‘مذاق کیوں کرتے ہو؟’ ایک نے پوچھا۔
‘اس قسم کا مذاق ٹھیک نہیں۔’ دوسرے نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
ہیڈ کلرک مزمل چھوٹا آئینہ دیکھنے سے مطمئین نہیں ہوا۔ اس لیے اٹیچ باتھ روم گیا اور بڑے آئینے میں خود کو دیکھ کر آگیا۔ ‘جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔’
وہ اپنی کرسی پر بیٹھ کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ ‘میں نہیں جانتا کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یا اس کا سر نہیں ہوتا، لیکن یہ اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ آپ ٹھیک نہیں ہیں۔’
‘کیا بات ہے، جو آپ سبھی لوگ حیران و پریشان نظر آرہے ہیں۔’ چیئر مین کی سیکرٹری فرحت بھی دفتر میں داخل ہوگئی۔
‘اطہر کا کہنا یہ ہے کہ آج ہم سب کے چہرے بگڑے ہوئے ہیں۔’ ہیڈ کلرک مزمل اس کی جانب متوجہ ہوا۔
‘آپ کے چہروں کو تو کچھ نہیں ہوا ہے۔’ فرحت نے سب کے چہروں پر نگاہ ڈالی۔
‘تم اپنی خیر مناؤ۔’ اطہر مسکرایا۔
‘مجھے کیا ہوا ہے؟’ فرحت سٹپٹائی۔
‘تمہارے گال سوجے ہوئے ہیں۔’
‘باپ رے باپ!’ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا کر اٹیچ باتھ روم کا رخ کیا۔ اور کچھ دیر بعد واپس لوٹ آئی۔ ‘تم بڑے مکار ہو۔ چوکیدای کے لائق نہیں۔’
‘اس نے ہمارا تو ستیا ناس کردیا، لیکن آپ کو بھی نہیں بخشا۔ صاحب کے پاس اس کی شکایت کرنی چاہیے۔’
‘بے فکر رہیں۔ ظاہر صاحب کو آنے تو دیں۔ میں اس کا علاج خود کراؤں گی۔’
یکایک دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور چیئرمین ظاہر علی اندر داخل ہوا۔ اس نے سب کی جانب سرسری سی نگاہ ڈالی اور اپنے کمرے میں گھس گیا۔ اسی اثنا میں فرحت بھی جلدی جلدی اس کے کمرے میں چلی گئی۔
‘کیا بات ہے؟۔۔۔۔آج تم سب کے چہروں پر ہوائیاں سی اڑ رہی ہیں۔’ چیئرمین ظاہر علی نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنا سیاہ چشمہ اتار کر میز پر رکھ دیا۔
‘آج اطہر کا دماغ پھر گیا ہے’
‘کیسے؟’
‘سب کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔’
‘تم اپنی کرسی سنبھالو۔ میں اسے ابھی بلاتا ہوں۔’
‘جی صاحب!’ گھنٹی کی آواز پر چپراسی جمعہ اندر داخل ہوا۔
‘اطہر کو بلائو۔’ چیئرمین نے حکم دیا۔
‘صاحب!۔۔۔۔۔۔آپ نے مجھے بلایا ہے؟’ اطہر نے آتے ہی پوچھا اور حیرانی سے اسے دیکھنے لگا۔
‘ہاں! سنا ہے تم لوگوں کو برا بھلا کہہ رہے ہو؟’
‘میں نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا ہے۔’ اطہر نے کہا۔ ‘میں نے تو وہی کہا ہے جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔’
‘آخر تم نے کیا دیکھا ہے؟’
‘یہی کہ سب کی شکلیں بگڑی ہوئی ہیں۔’
‘مثلاً۔۔۔۔۔کس طرح؟’
مثلاًآفتاب کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی ہیں۔ امداد کے کان کھڑے ہیں۔ ظہیر کی زبان لٹکی ہوئی ہے۔ مزمل کے ہونٹ پھولے ہوئے ہیں اور فرحت کے گال سوجے ہوئے ہیں۔’
‘مجھے بھی تم مسلسل عجیب انداز سے دیکھ رہے ہو۔ کیا مجھ میں بھی اس قسم کی کوئی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے؟’
‘معاف کیجیے گا صاحب! آپ سے گستاخی نہیں کرسکتا۔’
‘کیوں؟’
‘آپ ہمارے صاحب جو ہیں۔’
‘اگر کچھ دیکھ رہے ہو تو بتاؤ۔’
‘اچھا، تو پھر گستاخی معاف، ماشا اللہ آپ کی توند آج بہت بھاری لگ رہی ہے اور باہر کو نکلی جارہی ہے۔’ اس نے خوف سے لرزتے ہوئے دیکھا۔
چیئرمین خاموشی سے اٹھا اور اپنے کمرے کے باتھ روم میں گھس گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آیا اور اسے گھور گھور کے دیکھنے لگا۔ ‘تم بڑے خبیث ہو۔’
اطہر سر سے پاؤں تک کانپنے لگا۔ ‘صاحب! مجھے معاف کیجیے۔’
‘تم معافی کے نہیں سزا کے قابل ہو۔’
چیئر مین نے غصے بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور گھنٹی بجائی۔ چپراسی بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔
‘جی صاحب!’
‘ذرا ان لوگوں کو بلاؤ تو۔۔۔۔’
‘کن لوگوں کو صاحب؟’
‘آفتاب، ظہیر اور مزمل کو’
‘ٹھیک ہے صاحب!’ وہ جلدی جلدی واپس چلا گیا اور کچھ دیر بعد تینوں آگئے۔
‘تم لوگ ایک دوسرے میں نئی تبدیلی دیکھتے ہو؟’ چیئرمین نے فکر مندی سے سب کی طرف دیکھا۔
‘نہیں!’ سب نے نفی میں سرہلایا۔
‘مجھ میں کوئی تبدیلی؟’
نہیں!’
‘تو پھر یہ کمبخت ایسا کیوں بولتا ہے؟’ وہ غصے کے مارے پیچ و تاب کھارہا تھا۔
‘صاحب! اس کی آنکھیں خراب ہیں۔’ مزمل نے اطہر کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا۔
‘مزمل ٹھیک کہتا ہے۔ تمہاری آنکھیں خراب ہیں۔’ چیئرمین نے اطہر کی جانب دیکھا۔
‘میری آنکھیں۔۔۔خراب تھیں۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔’
‘لیکن کیا؟’
‘لیکن ان کا علاج کروالیا ہے۔۔۔۔’
‘علاج نے تمہاری آنکھوں کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔’ چیئرمین نے اس کی آنکھوں کے اندر دیکھا۔ ‘لیکن تمہاری آنکھوں میں خرابی کیا تھی، جو تم نے علاج کروا کے انہیں بگاڑ دیا ہے؟’
‘میری آنکھیں جھلملاتی تھیں۔۔۔۔’
‘آنکھیں جھلملاتی تھیں؟۔۔۔۔۔۔بھلا آنکھیں بھی کبھی جھلملاتی ہیں؟’
‘جی ہاں صاحب!۔۔۔۔۔جھلملاتی تھیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا تھا، جیسے میری آنکھوں کے اندر نئی اور زیادہ روشن آنکھیں اگ رہی ہیں۔’
‘کس ڈاکٹر نے ان کا علاج کیا ہے؟ اور کس قسم کا علاج کیا ہے؟’
‘ڈاکٹر صالح میمن نے آپریشن۔۔۔۔۔’
‘چاہے جس نے بھی آپریشن کیا ہو، مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ آپریشن الٹا ہوا ہے۔’
‘آپریشن الٹا؟’
‘ہاں الٹا ہوا ہے۔’چیئرمین نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔ ‘لیکن جناب! میری آنکھوں کی روشنی میں پہلے سے کافی اضافہ ہوا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے، جیسے میں اندرونی چیزوں کو بھی دیکھ سکتا ہوں۔’
‘کیا مطلب ہے تمہارا اندرونی چیزوں سے۔۔۔۔؟’
‘یعنی میں دیکھ رہا ہوں کہ باہر نکلی ہوئی آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں۔گھرے ہوئے کان کیا سن رہے ہیں۔لٹکی ہوئی زبانیں کیا کہہ رہی ہیں۔ پھولے ہوئے ہونٹ کیا مانگ رہے ہیں۔ سوجے ہوئے گال کیا تلاشتے ہیں اور موٹی۔۔۔۔۔’
‘بس بے ادب’ وہ مسلسل بولتا جارہا تھا کہ چیئرمین نے اس کی بات سختی سے کاٹی۔ ‘اگر تم ہمارے پرانے ملازم نہ ہوتے تو میں ابھی اسی وقت تمہیں نوکری سے نکال دیتا۔’
‘رحم کیجیے صاحب!’اس نے اپنے دونوں ہاتھ باندھ لیے۔’مجھ معاف کردیجیے۔’
‘ایک شرط پرتمہیں معاف کرسکتا ہوں، صرف ایک شرط پر۔’چیئرمین نے اپنی کرسی آگے کی طرف کھینچ لی اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
‘مجھے ہر شرط ۔۔۔منظور ہے۔’اطہر نے اپنا سر جھکالیا۔
‘میں ڈاکٹر سلیم سے تمہارا ایک سیدھا آپریشن کراؤں گا۔اور آپریشن کی فیس اور اخراجات تھوڑا تھوڑا کرکے تمہاری تنخواہ سے کاٹوں گا۔ چیئرمین نے اپنا فیصلہ سنادیا۔
‘تم کیا کہتے ہو؟’مزمل طنزاً مسکرایا۔
‘میں بھلا کیا کہہ سکتا ہوں؟’ اطہر نے بے بسی کا اظہار کیا۔
آپریشن کے بعد، جب اس کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں اور وہ پھر سے دفتر جانے لگا تو اب اس کی نگاہوں میں ہر شخص اپنی اصل حالت میں تھا۔ کسی کی آنکھیں،کان، زبان، گال، توند یا کوئی اور چیز بگڑی ہوئی نہیں تھی۔
وہ دروازے کے قریب کھڑا تھا کہ چیئرمین آپہنچا۔
اب تمہاری آنکھیں کیسی ہیں؟’چیئرمین نے طنزاً پوچھا۔
ہمیشہ کی طرح ہیں۔’اطہر نے حسرت سے جواب دیا۔
‘یاد رکھو، انسان کے لیے آنکھوں کی زیادہ روشنی ٹھیک نہیں۔’چیئرمین نے اسے اچھی طرح سے سمجھایا۔
‘کیونکہ آنکھوں کی زیادہ روشنی انسان کو زیادہ مصیبتوں میں ڈال سکتی ہے۔’
‘میں آپ کی یہ نصیحت کبھی نہیں بھلاؤں گا۔’اطہر تلخی سے مسکرایا۔’کیونکہ میں زیادہ مصیبتیں برداشت نہیں کرسکتا۔’

Views All Time
Views All Time
572
Views Today
Views Today
3
یہ بھی پڑھئے:   مفاد پرست

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: