اشتہار سے اشتہاء تک

Print Friendly, PDF & Email

zahid buttاشتہار کا لغوی مطلب اُردو لغت میں ڈھونڈنے بیٹھا، تو ڈھونڈتا ہی رہ گیا، ڈکشنری شاید پُرانی تھی یا زیادہ وزنی نہ تھی ، ایک معمولی سا لفظ بھی اس سے نہ اُٹھایا گیا۔ ایک ادیب دوست سے پوچھا تو انہوں نے اصطلاحی تشریح میں پھنسالیا جس میں ایک گھنٹے دورانیہ کا میری جہالت اور ادب کی ناقدری پر دماغ چھید لیکچر بھی شامل تھااور جس کاواحد نکتہ ناشران واحباب کا ان کی تخلیقات و نادر تحقیقات کی نا قدری بلکہ بے حرمتی تھا ۔ ان نادر تحقیقات میں ’’آئن اسٹائن اور حکیم جلاب ،اصل حقیقت ‘‘ نامی ایک مقالہ اہلِ محلہ میں کافی مشہور ہوا جس میں محقق نے آئن اسٹائن کوحکیم صاحب سے بھڑوانے کے بعد نظریہ اضافت کو اصل میں نظریہ اجابت قرار دیتے ہوئے حکیم جُلاب کونوبل پرائز کا اصل حق دار ٹھہرایا۔ حکیم جُلاب کو اس مقالہ کی فوٹو کاپیاں تقسیم کرنے کے صلے میں شاید ایسا کوئی ’نیک انعام‘ دے ہی دیا جاتا مگر ایک پردہ دار خاتون کی مخبری کی وجہ سے بات رہ گئی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ محترمہ حکیم جُلاب کی زوجہ کے عہدے پر عرصے سے قابض و فائز تھیں ۔
توبات ہو رہی تھی اشتہار کی، ایک سیانے نے خاصی منفرد تشریح بیان کی کہ جس تصویر یا فلم میں کوئی خوبصورت خاتون اپنے علاوہ کسی دوسری چیز کی تعریف کرتی نظر آئے اور وہ ( چیز ، خاتون نہیں)بازار میں آسانی سے مل جائے تو اس کو اشتہار کہا جاتا ہے مگر وضاحت نہ کی کہ اشتہارکیاہے؟ تصویر یا خاتون؟ خود سے پوچھا تو بُرا مان گئے۔ایک وکیل دوست نے اس کا رُخ اُن بھگوڑے ملزمان کی طرف موڑ دیا جو اندرونی صفحات میں چھپے اخباری دعوت ناموں کی وجہ سے اشتہاری ہو جاتے ہیں ۔ ایک مولانا صاحب سے پوچھا تو انہوں نے فوراََ کہا ’’ لاحول ولا قوۃ‘‘۔میں سمجھ نہ سکا انہوں نے مطلب بیان کیا یا نتیجہ؟اکادمی ادب کو بھی لکھا مگر جواب ندارد ۔بعد میں یاد آیا کہ لفافے پر ٹکٹیں لگانا تو رہ گئی تھیں لیکن ایڈریس تو مکمل لکھاتھا۔تنگ آ کر پھر اسی پُرانی ڈکشنری کو اُٹھایا ۔ کافی تگ و دو کے بعد اس سے ملتاجُلتا لفظ ایک کونے میں چُھپنے کی کوشش کرتے ہوئے مل ہی گیا۔یہ تھا اشتہاء!۔ فوراََ ذہن کی کھڑکیاں کھلیں، روشنی اندر درآئی اور میں کچھ کچھ سمجھ گیا کہ اشتہار کا مطلب کیا ہو نا چاہئیے۔
اصل لفظ ہو گا اشتہاء! اوراس کا آسان مطلب بھوک یا طلب کا بڑھنا یا بڑھاناہے۔اسی لئے مختلف پراڈکٹس کی اشتہاری مہمات خاصی اشتہا ء انگیزہوتی ہیں، خاص طور پر غیر ملکی پراڈکٹس کی۔میں آج تک یہی سمجھ نہ پایا کہ مغرب میں مرد حضرات جوتے کی نوک سے لے کر گردن میں ٹائی تک مکمل ملبوس ہوتے ہیں اور بیچ میں سے ہوا کے گزرنے کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا جاتا مگر خواتین کیسے اتنی سردی میں بھی صرف تیس فی صد لباس میں گزارہ کرلیتی ہیں؟قسم لے لیں جو ایک آدھ اشتہار کے علاوہ کوئی مغربی اشتہار میری سمجھ میں آیا ہو بلکہ ایک آدھ جو سمجھ میں آیا وہ بھی اُلٹا گلے پڑ گیا۔میں بڑے چاؤ سے جسے پرفیوم سمجھ کے ڈیوٹی فری شاپ سے خرید لایا اور دو دن تک کپڑوں پر لگا لگا کر آفس جاتا رہا تیسرے دن بیگم نے اسے دیکھ کرسر کے بالوں پر کرنے والا سپرے بتایا۔ جلد کو نرم و ملائم رکھنے والا لوشن اصل میں ہئیرریموونگ کریم نکلا ۔وہ تو بھلا ہو دکاندار کا ،کہ شاید میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر پوچھ بیٹھا کہ اس کے استعمال کی کچھ خبر بھی ہے؟ میں نے اس کی اس قدربے تکلفی اور بدتمیزی پر بہت برا منایا اور قریب تھا کہ کھری کھری سناتا ،اس نے مجھے کان میں لوشن کی حقیقت بتائی ۔ ورنہ میں تو بھنووں سے لے کر ٹھوڑی تک اسے استعمال کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھا تھا۔
میڈیا پراشتہار اب اتنے اشتہاء انگیز ہو چکے ہیں کہ ایک دفعہ اشتہار والی پر نظر پڑ جائے تو پھر ہٹانے کی ہمت نہیں رہتی ۔ بیگم اس حوالے سے کافی مدد کرتی ہیں کہ کئی اشتہارات ان کے آس پاس رہنے کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں ۔اکثر میں نے اندازے ہی سے سمجھا کہ اشتہار میں خاتون ڈسکاؤنٹ کی بات پراڈکٹ کے حوالے سے ہی کر رہی ہوں گی اور بعد میں جو فون نمبر لکھا ہوا آتاہے وہ بھی ان کا ہر گز نہیں ۔ میری حتیٰ لامکان کوشش ہوتی ہے کہ ہر اشتہار مکمل دیکھوں بلکہ کئی پروگرام اشتہاروں ہی کے لالچ میں دیکھتا ہوں ۔جس پروگرام کے ساتھ اشتہار نہ چلیں میرے نزدیک ان کے بور ترین ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ اب تو ملکی میڈیا نے بھی اتنی ترقی کر ہی لی ہے کہ اس اشتہاری عیاشی کے لئے ہم کسی غیر ملکی چینل کے محتاج نہیں رہے ۔کئی اشتہارات دیکھ کر اکثرمجھے شک ہوا کہ سٹار ورلڈ تو نہیں چل رہا؟ مگرتحقیق کرنے پر اپنا ہی نکلا۔
نئے نئے جوان ہوئے بچوں کے لئے سیل فون کمپنیاں اشتہارات ہی کے ذر یعے جدید سہولیات فراہم کرنے میں کافی آگے نکل گئیں ہیں جن میں رات گئے تک چھپ چھپ کردوستوں(؟) سے گپیں ہانکنا یا سوئے ہوئے لوگوں کو جگا جگا کر نئی دوستیاں بنانے کی کوشش قابلِ ذکرہیں ۔ ان اشتہارات سے نوجوانوں میں ادبی ذوق بھی پیدا ہوا ہے کہ سستے سیل فون پیغامات کے ذریعے کتنی ہی نادر و بے باک تخلیقات نے جنم لیا ،جن میں کریڈٹ بیلنس کی مؤدبانہ درخواست اور بدلے میں رات کو عشقیہ گپیں لگانے کا نہ پورا ہونے والا وعدہ، ناقابلِ اشاعت رومن اُردولطیفے ، خفیہ دوستی کی خواہش ، اور ملکی سیاست پر قابلِ گرفت بیان بازی کا ذکر بے محل نہ ہو گاجو عوام الناس میں موبائل بہ موبائل گردش کرتی اور انہیں سنسر سے پاک تفریح فراہم کرتی ہیں ۔ اور تو اور اب سیل فون پیغامات کاروباری حضرات کے لئے بھی اپنی اشیاء یا خدمات کو فروخت کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں اور ان پیشکشوں کو پیش کرنے کا کوئی مخصوص وقت بھی نہیں بلکہ عموماََ انہیں رات ایک بجے کے بعد ہی پیش کیا جاتا ہے ۔ میرے سیل فون پر بھی ایسی پیشکشیں اکثرموصول ہوتی رہتی ہیں ، پرسوں رات ہی کی بات لے لیں جب میں حسبِ معمول بیگم اور بچوں کو شور مچانے سے باز رہنے کی درخواست کرنے کے بعد سونے میں کامیاب ہواتھا اور ایک حسین خواب مجھے اپنی گرفت میں لینے ہی والا تھا کہ سیل فون کی پیغام آمد گھنٹی بجی اور میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ سرہانے پڑا فون اٹھا کر دیکھا تو حسبِ توقع ایک پیغام موصول ہونے کا اشارہ موجود تھا۔ یااﷲخیر کہہ کراسے پڑھنا شروع کیا۔ یہ پیغام ایک پرائیویٹ اسپتال کی جانب سے تھا جس میں مجھے بڑا آپریشن ، نارمل ڈیلیوری ، گردے کی پتھری اور ہارٹ اٹیک کا علاج رعایتی نرخوں پر کروانے کی پیشکش کی گئی تھی ساتھ ہی کوئی سے دو آپریشن اکٹھے کروانے کی صورت میں تیسرامفت ہونے کی اطلاع بھی موجودتھی ۔ آپ یقین کریں اسے پڑھتے ہی میرے بائیں کندھے میں ہلکا ہلکا درد ہونے لگا اور پیٹ کی د ا ہنی طرف کچھ چبھن سی بھی محسوس ہونے لگی۔ یہ تو میری خوش قسمتی تھی کہ شروع میں بیان کی گئی دوپیشکشوں کو قبول کرنے سے میں اپنی قدرتی ساخت کی وجہ سے معذور تھا۔ اسی طرح ایک رات کسی عامل کی جانب سے محبوب میرے قدموں میں گرانے کی یقین دہانی ، کاروبار میں ترقی کی خوشخبری اورسنگ دل شوہر سے نجات کا مژدہ سنانے کے ساتھ ساتھ انعامی بانڈ زکی قرعہ اندازی میں نکلنے والا پہلا نمبر بھی انتہائی رعایتی نرخوں پر مہیا کرنے کی نویددی گئی تھی ۔ اس پیغام میں صرف ایک قباحت تھی کہ نرخ نامے میں سنگ دل بیوی سے نجات کا رعایتی نرخ کہیں درج نہیں تھا۔میرا ایسے عاملین کو مفت مشورہ ہے کہ صرف اس ایک خدمت کی فراہمی بھی خاصی نفع بخش ثابت ہوسکتی ہے بلکہ اس کے بے انتہا آرڈرز دوسرے ممالک سے بھی آنے کا امکان ہے۔

Views All Time
Views All Time
742
Views Today
Views Today
1

زاہد شجاع بٹ پیشہ ور سے زیادہ شوقیہ مزاح نگار ہیں ۔ ادب کے جراثیم بچپن ہی میں پائے جاتے تھے جو قریباََ چھ سال پہلے ایکٹیو ہوئے ۔ روزنامہ دن میں کالم نگاری سے لے کر دن نیوز چینل انفوٹینمنٹ پروگرام ’’ واہ واہ ‘‘ کی سکرپٹ نگاری سے ہوتے ہوئے اے پلس کے پروگرام آدھا کار سیزن دو کے لکھاری اور پھر ڈاکٹر یونس بٹ کے ساتھ ہم سب امید سے ہیں تک ان کا چھ سالہ سفر اب اگلی منزل کی طرف بڑھنے کو ہے ۔ کالموں کا مجموعہ "خبر یہ ہے کہ‘‘ نام سے چھپ چکا ہے۔ اگلی کتاب ترتیب کے مراحل میں ہے ۔ قلم کار میں آپ ان کے چبھتے اور مزاح سے بھرپور انشائیے اور طنزائیے پڑ سکیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:   میری محبوبہ کا خط

زاہد شجاع بٹ

زاہد شجاع بٹ پیشہ ور سے زیادہ شوقیہ مزاح نگار ہیں ۔ ادب کے جراثیم بچپن ہی میں پائے جاتے تھے جو قریباََ چھ سال پہلے ایکٹیو ہوئے ۔ روزنامہ دن میں کالم نگاری سے لے کر دن نیوز چینل انفوٹینمنٹ پروگرام ’’ واہ واہ ‘‘ کی سکرپٹ نگاری سے ہوتے ہوئے اے پلس کے پروگرام آدھا کار سیزن دو کے لکھاری اور پھر ڈاکٹر یونس بٹ کے ساتھ ہم سب امید سے ہیں تک ان کا چھ سالہ سفر اب اگلی منزل کی طرف بڑھنے کو ہے ۔ کالموں کا مجموعہ "خبر یہ ہے کہ‘‘ نام سے چھپ چکا ہے۔ اگلی کتاب ترتیب کے مراحل میں ہے ۔ قلم کار میں آپ ان کے چبھتے اور مزاح سے بھرپور انشائیے اور طنزائیے پڑ سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: