رفاقت روح و جسم

Print Friendly, PDF & Email

Rehan Naqviتہذیب کے آغاز سے ہی روح ایک عظیم معمہ رہی ہےـ اس کے وجود اور اس کے جسم کے ساتھ تعلق پر سوال اٹھایا گیا ، اور دوسرے نسبی موضوعات پر تحقیقات کی گئیں بہت سے فلاسفہ ، محققّین نے ان سوالوں کے جواب معّین کرنے کی کوشش کی ـ
یہ مضمون روح اور جسم کے نظریے پر محیط ہے اور خصوصاً ان دونوں کے مابین تعلق سے عبارت ہے , مضمون کا اول حصہ افلاطونی دوئی پسندی کو بیان کرے گا جو کہ اس مسئلے کی بنیاد ہے اس کے تفصیلی بیان کے بعد دوئی پسندوں کے جدید دور تک ہونے والے فکری ارتقاء کو ظاہر کرے گا چناچہ دوئی پسندوں پر ہونے والے اعتراضات بھی صریح طور پر بیان کیے گئے ہیں ـ مضمون کا اختتام ملا صدرا کے متبادل نظریہ جسکو نظریہِ حکمتِ متعالیہ کہتے ہیں پر ہوگا ـ
اس مضمون میں ، میں نے روح کے لیے شعور ، سپرٹ جیسے اصطلاحاتی اضطراب کے استعمال سے بچنے کی کوشش کی ہے ، اور ان کو ایک غیر مادی جوہر کے معنوں میں ایک ہی تسلیم کیا ہے ، اور یہ مفروضہ بھی قائم کیا گیا ہے کہ ماہیت جسم سے علیحدہ وجود رکھتی ہےـ
دوئی پسندی (Dualism) کیا یے ؟ بنیادی طور پر یہ نظریہ افلاطون نے متعارف کروایا تھا جس کے مطابق جوہر کے دو حصے ہیں ، ایک حسی اور دوسرا شعوری ، حسی حصے سے مراد وہ جو کہ مادی ہے جیسے کہ ہمارے اجسام جبکہ شعوری حصہ وہ جو کہ غیر مادی ہے جس سے مراد روح لی جاتی ہے ـ
سوئن برن کی تصویر کشی کے مطابق افلاطون سمجھتا تھا کہ جب ایک انسان بلی کا تصور قائم کرتا ہے تو اس کی روح بھی تصور قائم کرتی ہے ، دوئی پسندوں کے نزدیک روح محسوس بھی کرسکتی ہےـ
جسم اور روح دو مختلف وجود ہیں جو کہ فطری لحاظ سے ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک واحد شئے ہیں ـ ان کا تعلق صرف عرضی اور سادہ ہے ـ سو ان دونوں کا باہم ربط ظاہری حد تک محدود ہے ــ
دوسرے فلاسفہ کی طرح ارسطو نے بھی اپنے نظریہ کو بیان کیا اور خلاء کو پر کرنے کی کوشش کی اس نے انسان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جس میں جسم مادی ہے اور روح صورت یا ماہیت ہے , اس کا ماننا ہے کہ کوئی شخص با آسانی سمجھ سکتا ہے کہ جسم اور روح کے ربط کا معاملہ دو مختلف وجود کے باہمی ربط سے بڑھ کر ہے [دقیق تر ہے] دی انیما میں ارسطو کہتا ہے
‘ہر طبعیی جسم جو زندگی رکھتا ہو مختلف چیزوں کا مرکب ہوتا ہے جیسا کہ ایسے اجسام وجود رکھتے ہیں تو روح جسم نہیں ہوگی کیونکہ یہ جسم کی طرح موضوع اور مادی وجود نہیں ، روح دراصل صورت یا ماہیت ہے جس میں مادی جسم زندگی کی صلاحیت رکھتا ہے
[جس طرح کمپیوٹر ہارڈویر اور سوفٹ وئیر پر مشتمل ہوتا ہے ہارڈوئیر فزیکل حصہ ہے اور سوفٹ وئیر غیر فزیکل صورت ہے]
ارسطو کی رائے کے مطابق ، روح ایک متوازن جسم کا فنکشن ہے ، اس کا جسم سے علیحدہ ذاتی کوئی وجود نہیں ، ارسطو نے تھوڑی دقیق نظر سے جسم اور روح کے ربط کو بیان کیا ہے ، چناچہ اس کے مطابق روح ازلی نہیں ہے بلکہ معین وقت میں تخلیق ہوتی ہے اور تغیر پذیر ہے ، یہ کہنا درست ہوگا کہ ارسطو پہلا فنکشنلسٹ تھاـ
فنکشنل ازم ، دوئی پسند فلسفے کا مخالف نظریہ ہے جس کے مطابق شعور کوئی ایسی چیز نہیں جو ظاہری جسم سے علیحدہ وجود رکھتی ہو اور شعوری حالت ظاہری حالت یکساں بھی نہیں ہیں ـ حالیہ ادوار میں Putnam اور Shoemaker اس نظریے کے سرخیل رہے ہیں لیکن یہ زیادہ تر ظاہری صورت اور ان کے نوازن تک محدود رہے ہیں ، انہوں نے اس مسلے کے مرکزی نقطے یعنی شعور بذات خود کیا ہے اور اور اس کا جسم سے کیا ربط ہے ؟
تحریک روشن خیالی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ، ڈیکارٹ دلیل دیتا ہے کہ انسان جسم اور روح پر مشتمل ہے جسم سے اس کی مراد یہ ہے کہ :
وہ چیز جو خاص شکل تک محدود رہے ، اور خلاء پر کرے (بعینہ مادے کی تعریف کے مشابہ) اور روح , جو ایک سوچنے والا موجود جو ذہانت رکھتی ہے لیکن جسم کی طرح جگہ نہیں گھیرتی وہ مزید کہتا ہے کہ میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ میری اصل صرف ایک ہے اور وہ سوچنے والا وجود ہے ، سو میں یہ کہہ سکتا ہوں یا خود کو یہ کہنے میں حق بجانب سمجھتا ہوں کہ میں یقیناً ایک جسم رکھتا ہوں جس سے میں جڑا ہوا ہوں لیکن ایک طرف میں اپنا مکمل ادراک رکھتا ہوں اور جیسے کہ (میرے نزدیک) میں صرف ایک سوچنے والا وجود ہوں اور دوسری طرف اپنے جسم کو مکمل ترک کرسکتا ہوں تو جسم صرف ایک اضافی اور نا سوچنے والا وجود ہے تو حقیقتاً میں جسم سے مختلف ہوں اور اس کے بغیر بھی وجود رکھ سکتا ہوں ـ
ارسطو کے نظریے کہ بر خلاف ، ڈیکارٹ کہتا ہے کہ ہمارا شعور اندرونی لحاظ سے جسم سے جڑا ہوا ہے لیکن یہ جسم وہ چیز نہیں جو ہمیں اصل میں وہ بناتی ہے جو ہم حقیقت میں ہیں بلکہ وہ مائنڈ ہےـ
نتیجتاً ڈیکارٹ یہ ماننے پر مجبور ہے کہ وہ جاندار جو انسانوں سے مختلف ہیں ایک مشین کے علاوہ کچھ نہیں ـ چنانچہ ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈیکارٹ صحیح طور پر یہ نہین سمجھا سکا کہ روح کس طرح جسم سے اتصال رکھتی ہے کیونکہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ جسم بلاواسطہ مائنڈ پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتا سوائے صنوبری غدے کہ [Pineal Gland جو کہ دماغ کو وہ حصہ ہے جو حسیات کو بیدار اور درست رکھنے کا موجب ہے ]
جیسا کے ہم جانتے ہیں کہ جسم اور روح میں علتی ربط قائم ہے تو پھر کیا یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ شعور فقط ایک مادی چیز ہے ، ڈیکارٹ اور افلاطون اس بابت دونوں میں ضروری اور اصولی ربط سمجھانے سے قاصر رہےـ
جو سوال اوپر اٹھایا وہ ایک اور مخالف نظریے کا بھی راستہ کھولتا ہے جس کو ہم مادیت پسندی کہتے ہیں اور اس دور کی تہذیب میں اس کو مرکزی حثیت حاصل ہے اور جو کہ اکثریتی فلاسفہ اور سائنسدانوں نے اختیار کی ہے، مادیت پسند کہتے ہیں کہ ایک شخص تمام کا تمام جسم پر مشتمل ہے اور جسے ہم شعور کہتے ہیں وہ جسم سے علیحدہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی ، انکے نزدیک انسان کا مطالعہ ظاہری اور مادی بنیادوں پر ہی ہونا چاہیے ، یہ نظریہ لوکریٹس سے ڈارون اور لاپلیس جیسے فلسفہ دانوں نے اپنایا ـ
ڈیکارٹ کے دوئی پسند نظریے نے اور مادیت پسند فلسفے کے امتزاج سے بہیویرازم (Behaviorism) کا ظہور ہوا , اسکے زیرِ نظر محسوسات ، شعوری حالتیں ، اور پروسیسز دماغی حالتوں جیسے ہی ہیں ـ
اس کے علاوہ ، مادیت پسندی دوئی پسند فلسفے سے زیادہ غیر موزوں اور اس معاملے میں مشکلات کا شکار ہے ، ایک روایتی اعتراض یہ ہے کہ ہم خیالات کی موجودگی کو کیسے ظاہر کریں ؟ کیا خیالات ، تکالیف ، محبت اور نفرت فقط ری ایکشنز ہیں جو جسم کے اندر وقوع پذیر ہورہے ہیں ؟ کیا مفروضے کے طور پر ہم ایک انسان کلون(Clone) کی صورت میں تخلیق کرکے اس سے یہ کہ سکتے ہیں کہ وہ محبت ظاہر کرے ؟ سمجھیے مادیت پسندی اس بابت درست ہے تو کیا رنج ، تخیل اور محبت اور دوسری جذباتی حالتوں کی پیمائش ہوسکتی ہے ؟ مادی بھی دوسری تھیوریز کی مماثل مسائل کا شکار ہے ـ
اسکے علاوہ بھی مختلف خیالات پائے جاتے ہیں جس نے دوئی پسندی کے نظریے پر تنقید کی ہے جیسا کے مثالیت پسند فلسفہ ، پھر بھی یہ کہنا درست ہوگا کہ اس نظریے کو بھی جسم اور روح کے ربط کو سمجھانے میں اول الذکر نظریات کی طرح اعتراضات کا سامنا ہے باقی نظریات کے نقوش اسقدر گہرے نہیں جتنے بیان کردہ نظریات کے ہیں ـ
ایک متبادل تھیوری کی ضرورت تھی جو اس مسلے کو حل کرنے میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہو ، صدر الدین شیرازی جو کہ ملا صدرا کے نام سے جانے جاتے ہیں فلسفہِ اسلامی میں دو برجوں ابن سینا اور ابن رشد کی موجودگی کہ باوجود انتہائی اثر انگیز سمجھے جاتے ہیں ـ
ان کی تحقیق کو فقط ان کی تھیوری حرکت الجوہریه کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے , وہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ ایک جوہری حرکت ہے جو محسوس نہیں کی جاسکتی ، اس کے برعکس فقط عرضی اور حسیاتی حرکت ہے جو بظاہر دنیا میں برسرپیکار ہے ، حقیقتاً جوہری حرکت ہے جو دوسری حرکات کا منبع ہے
وہ دلیل دیتے ہیں کہ کسی بھی شئے کی عرضی (عرض دراصل وہ خصوصیت ہے جس کے بغیر شئے وجود رکھ سکتی ہے جیسے مثال کے طور پر کسی شخص کا رنگ ، رنگ ایک اضافی خصوصیت ہے اور قابلِ تغیر ہے اس سے جوہر پر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ) تبدیلی کہ لیے اسکی جوہری تبدیلی ضروری ہے کیونکہ عرض ، جوہر سے آزاد وجود نہیں رکھتی ـ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماہیت اور مادہ خود کو مسلسل نئی اشکال میں بدلتے رہتے ہیں اور یہ عمل چلتا رہتا ہے
تمام مخلوق اس دنیا میں اس کی (حرکت الجوہریه) وجہ سے مسلسل حرکت میں رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ حقیقت کی نہجی اور انتہائی مثال نہ بن جائیں ، روح کو بھی اس قانون سے راہِ فرار نہیں، روح ظاہری مادے کے اندر تشکیل پاتی ہے ، مادہ اس قابل ہے کہ ایک غیرمرئی وجود کی تربیت کرسکے ــ
فطرت اور ماورائے فطرت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ، اور کوئی ایسی شئے نہیں جو ایک مادی وجود کو تدریجی ارتقاء کے ذریعے ماورائے مادہ وجود روک سکے ـ
اس سے صدرا کی مراد ہے کہ روح جسم کے ساتھ ہی تخلیق ہوتی ہے لیکن ریاضت کے ذریعے ابدی وجود بن جاتی ہے ــ چنانچہ ، روح مکمل مادی نہیں ہے کیونکہ تغیر ِجوہری کے لیے جوہر کا اونچے درجے کا ہونا ضروری ہے جسکے ذریعے سے تبدیلی رونما ہوسکے ، ان کے مطابق ہر جاندار حتیٰ کہ جانور اور نباتات تک مکمل مادی نہیں ہوسکتے جبکہ وہ مادے کو روحانیت میں انتقال کے لیے آلہ کہ طور پر استعمال کرتے ہیں ــ
سو اس دلیل نے مادیت کو رد کردیا اور روح و جسم کے ربط کی مزید موضوع تفسیر پیش کی ، فنکشنل ازم کے برخلاف ، جو کہ ارسطو کا نظریہ تھا کہ روح جسم کا فنکشن ہے ، ملا صدرا لکھتے ہیں :
یہ قوتیں جسم کے اندر موجود نہیں ، بلکہ اعضاء ان کے ذریعے وجود رکھتا ہیں ، اس کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی ثبوت نتیجہ خیر ہے کہ جب کوئی چیز کسی دوسری چیز میں فطر ی اثر رکھتی ہو (جسمانی اعضاء کی مانند) ، اس طرح کے دونوں کی حقیقت ایک ہی ہو یعنی جو شئے موثر ہو اور جس پر اثر ہورہا ہو وحدتِ وجود رکھتی ہو تو یہ ناممکن ہے کہ موثر اور متاثر دونوں الگ دنیا میں وجود رکھتے ہوں ـ
لہذا ، وہ قوتِ صلاحیت کو روح سے مخصوص کرتے ہیں ، یہ نظریہ ارسطو کی فکر سے عظیم اختلاف ہے ، یہ روح کو فقط مادی وجود سے مبرا کردیتا ہے ـ جیسا کہ ارسطو کے نزدیک ماہیت یا فورم بھی مادی ہے جو ارتقاء کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ اس میں مادے کی مقدار عام ظاہری مادے سے کم ہوتی ہے ـ
افلاطونیت دوئی پسندی جو انسانی جسم کو دو حصوں پر مشتمل مانتی ہے جسکو بعد میں ڈیکارٹ کے نظریے کی بھی معاونت حاصل رہی سائنسی اور فلسفیانہ لحاظ سے مسائل کا سامنا ہے ، جسکے باعث مختلف حل پیش کیے گئے ، جیسا کہ فنکشنل ازم نے یکجا کرکے حل پیش کیا لیکن اسکو بھی کافی تنقید سے دوچار ہونا پڑا ہے
بہیویرازم اور دوسرے نظریات کا حامل مادیت پسند فلسفہ جس نے دوئی پسند نظریے پر تنقید کی ہے بذات خود دوئی پسندی سے بڑھ کر لاینحل بنا ہوا ہے ـ ملا صدرا کے فلسفہ حکمتِ متعالیہ نے متبادل نظر سے دوسرے نظریات سے زیادہ موضوع نکات پیش کیے ہیں ، صدرائی تھیوری کے ذریعے چند مشکل اور پیچیدہ مسائل سے نبٹا گیا ، چنانچہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ملاصدرا نے اس مسئلے میں عظیم کارنامہ سر انجام دیا ہے ــ

Views All Time
Views All Time
783
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   سماج سازی میں حصہ ڈالئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: