نوجوان شاعر اور شاعرات کی اَن دیکھی ماں – فضل عباس ظفرؔ

Print Friendly, PDF & Email

fazalمیں آج جس سینئر شاعرہ پہ کچھ تحریر کرنے کا سوچ رہا ہوں وہ کوئٹہ کی معروف شاعرہ ہیں۔ عالم جوانی میں ٹی۔وی پر بھی ادبی پروگرام پڑھتی رہی ہیں۔ اب جبکہ گھر میں ہی ادبی سرگرمیوں میں عافیت سمجھتی ہیں۔ جہانِ زیست میں شاملِ فیس بک کے انٹرنیٹ جہان پر بھی ہمیں ایک محبتوں بھری ماں کی دلکش ممتائی سے مزین ماں ملی ہے۔ جس پر بیٹے اور بیٹیوں کو زمانے سے بے خبر تنہائی میں لیس انگلیوں کی ٹک ٹک میں مگن ، محویت میں بھی ماں اپنی آبرو اور معتبر و محترم مقدس محبت کے ساتھ یاد رہتی ہے۔
انسان چاہے زندگی کی کسی سیڑھی پر اپنے کانپتے پاؤں رکھ رہا ہو مثلاً بچپن، لڑکپن، جوانی، بڑھاپا اسے ماں کی تشنگی، تڑپ، مضطرب رکھتی ہے۔ سو سال تک بھی اس کی تمنا بوڑھی نہیں ہوتی اور وہ گاہے بگاہے بہتے اشکوں کیساتھ کراہتے ہوئے دل سوز لہجہ میں اظہار کرتا ہے کہ کاش آج میری ماں زندہ ہوتی۔ حیرت کدہ آدمیت میں یہ محبت انسانیت کا حصول ہے۔ جب کبھی اچانک انسان کو شدید چوٹ آئے، جسم کے کسی حساس اعضا یں درد اٹھے یا جسم کا کوئی حصہ حادثاتی طور پر کٹ جائے تو آدمی تھوڑا سا منہ کھول کے لبوں کو ملاتے ہوئے بے ساختہ درد بھری آہ کیساتھ اپنے منہ کے اندر زبا ن کو حرکت دیکر کہتا ہے۔ ہائے ماں۔
شاید اسی لیے آدمی کرب دنیا میں ماں کو پکارتا ہے کہ میری مشکل میں بھائیوال ہے ماں۔ دکھ، در، غموں کی ڈھال ہے ماں، میں ہنستا ہوں تو نہال ہے ماں، میں روتا ہوں تو نڈھال ہے ماں، محفوظ ہوں میں وہ جال ہے ماں، میں ایک مگر لکھ پال ہے ماں، میری آنکھیں ہے، میرے گال ہے ماں میرا دل دھڑکن میری شال ہے ماں، لجپال کہوں لجپال ہے ماں، میری سوچوں کی رکھوال ہے ماں، میری محشر کا اموال ہے ماں، میری زہد نگاہ کی چال ہے ماں، میری نیکی کا احوال ہے ماں۔
sumaira-saharجب بھی کبھی سمیرا سحر صاحبہ کو اس کی کسی پوسٹ پہ کمنٹس کریں تو خدا گواہ ہے اس طرح بیٹا کہہ کر مخاطب ہوتی ہیں کہ دن کی تھکن اتر جاتی ہے۔ چبھن بجھنے لگتی ہے اور پھبن نمودار ہونے لگتی ہے اور میں تخیل بچگانہ میں ماں کی آغوش میں پہنچ کر آغوں، ماغوں کرتے ہوئے ہمکنے کیصورت کروٹیں بدلنا شروع کردیا ہوں اور میری ماں میرے ماتھے پہ اپنا دائیاں ہاتھ رکھ کے مجھے اپنی شفقت بھری فردوسی نگاہوں سے دیکھنے لگ جاتی ہے اور میں معصومانہ تبسم شیرخوار ہونٹوں پہ بکھیر کر ماں کو سلام کرتے ہوئے دفاداری کا عہد کرتا ہوں۔
ڈاکٹر علی شریعتی فرماتے ہیں عالم فطرت میں انسان ایک اولیٰ ہستی ہے جس کی اصل منفرد ہے اور خواہ مخلوق کی حیثیت میں یا قدرتی مظہر کے طور پر وہ اشرف بھی ہے اور متثنیات میں سے ہے چونکہ وہ ارادہ کا مالک ہے لہٰذا ایک مستقل باالذات عادت کی طرح عالم طبیعی میں دخل انداز بھی۔
امتیاز و انتخاب کی صلاحیت کا حامل ہے اور پہلے سے مقرر شدہ قسمت سے الگ اور ہٹ کر اپنی نئی تقدیر کی تخلیق میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ یہ قوت ایسی ہے کہ اس پر ایک پابندی اور ذمہ داری عائد کرتی ہے جو بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ تاوقتیکہ اقدار کے اس سلسلہ کے ساتھ اس کا رشتہ نہ جوڑ دیا گیا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان ایک تصوریت پسند ہستی ہے جس کی ساری جدوجہد کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ واقعی، قلب ماہیت حقیقی میں ہو جائے یعنی ’’جو ہے‘‘ کی جو ہونا چاہیے‘‘میں۔ خواہ عالم طبیعی ہو کہ معاشرہ کہ اس کی اپنی خودی، قلب ماہیت کی یہی کوشش اسے تکمیل ذات کی راہ پر گامزن کردیتی ہے۔ انسان کی ہستی اپنے عمل سے ایک ایسی طاقت کا بھی مظاہرہ کرتی ہے جو عالم فطرت کی ضد ہے۔ ان معنوں میں کہ وہ اپنی کار فرمائیوں سے عالم کی اور خود اپنی فطرت کی تخلیق تو کرتی ہے۔ اس تخلیقی طاقت سے لیس ہوکر انسان اپنی اور عالمِ طبیعی کی مزید ترقی کیلئے بھی اس کو بروئے کار لاتا ہے۔ چنانچہ عالمِ مادی میں جو کمی رہ گئی ہے وہ اس کمی کو حسن، آرٹ اور ادب کی تخلیق کرکے پورا کردیتا ہے اور صنعت و کاریگری کی تخلیق کے ذریعے اپنے لیے وہ کچھ مہیا کرلیتا ہے جو فطرت اس کو دینے سے قاصر رہی ہے۔
انسان ایک فکر کرنے ولای ہستی بھی ہے اور اس ماورائی رجحان کی بدولت اس کا اپنا اور عالمی شعور نمو پاتا ہے۔ نیز معاشرہ میں اور عالم میں اور زمان میں اس کی بشری حیثیت کے بارے میں اس کا شعور، فکر کی صلاحیت کی بدولت وہ اپنی جولان گاہ وجود کو وسعت دیکر جسمانی وجود کی سرحدوں کے اس پار لے جاتا ہے اور اس کا طائر عقل ایک طرف تو محسوس مظاہر کی تہہ میں پہنچ کر دانہ زیر دام کی خبر لاتا ہے تو دوسری جانب مادی دنیا کے سقب زیریں کے پرے ہی پرے اپنی جولانی دکھاتا ہے۔ ماحول کی سرحدیں ختم ہو جاتی ہیں لیکن اس کا سفر جاری رہتا ہے۔ اس سفر پہ گامزن سمیرا سحر صاحبہ کی شاعری جو میں اپنے قارئین کی نظر کرتا ہوں
قطعہ
ایک بہانے سے نکل جاتے ہیں
چل زمانے سے نکل جاتے ہیں
خود پہ اک بار سحر چیخ کے ہم
ڈر چھپانے سے نکل جاتے ہیں
واہ کیا خوب عکاسی کی ہے سمیرا سحر صاحبہ نے اپنے شعر میں۔ کردار یزید مردہ ہوگیا، فرات کا پانی روک کے اور صبر حسینی زندہ ہے آج بھی تشنگی برداشت کرکے۔ کیا ہی خوب کربلا شناسی ہے اس شعر میں۔ قطعہ دیکھئے۔
پی گیا یزید کیا جانے
یہ شہادت کا جام پانی کو
دشت میں بھی لگی سبیل حسینؑ
مل گیا احترام پانی کو
کیا خوب ماں کی عقیدت میں اسلام شناسی سے آگاہ کرتے ہوئے سمیرا سحر صاحبہ نے اپنے شعر میں ماں کی ممتائی بیان کی ہے۔
حج کو جو لوگ جا نہیں سکتے
ماں کو دیکھا کریں محبت سے
اس سال جب پاکستانی زائرین اربعین کے موقع پر زیارت امام عالی مقام کرنے مزارات مقدسہ پہنچے تو کروڑوں کے مجمع میں علم پاک کیساتھ پاکستانی پرچم بھی لہرارہا تھا جس سے عقیدت اور وطنیت کی محبت میں انسانوں کا جم غفیر جھومتا دکھائی دیتا تھا۔ سمیرا سحر صاحبہ نے کیاخوب لکھا ہے روزانہ سینکڑوں قتل ہونے کے باوجود خود کش بمباروں کی کارروائیوں میں شہید کروانے کے بعد بھی پرچم وطن بڑے احترام سے اٹھائے ہوئے ہیں۔ موجودہ حالات کی کیا خوب عکاسی ہے۔ قطعہ دیکھیے۔
ہے سمندر لہو کا کاندھوں پہ
پھر بھی پرچم کو میں اٹھا کر چلی
میرے بیٹے تجھے کچل دیں گے
دشمنوں کو سحر بتا کے چلی
سمیرا سحر صاحبہ کی غزل میں کرب موجود ہے۔ محبت کی چاشنی بھی اپنے جامعہ میں ہے اور تخلیل و ہنر کی پختگی تو بابانگ دہل بول رہی ہے۔ اب آپ سمیرا سحر صاحبہ کی غزلیات پڑھئے اور سر دھنیئے۔
غزل
تجھ کو کھویا کہ پالیا میں نے
زخم سارا چھپا لیا میں نے
برف کتنی گری کہ بالوں پہ
چلتا سورج بجھا لیا میں نے
زندگی یاد کی لکیروں میں
اپنا چہرہ مٹا لیا میں نے
بارشیں ڈر رہی ہیں یوں مجھ سے
جیسے صحرا کو کھا لیا میں نے
گر گئیں ہاتھ سے کئی چیزیں
آئینے کو اٹھ الیا میں نے
خود سے ناراض ہوں سحر لیکن
خوش ہوں تجھ کو منالیا میں نے
غزل
تیرے آنے پھر خبر آئے
ایسا ممکن نہیں مگر آئے
آگئی کس طرح کی یہ سردی
خود سے لپٹے ہوئے نظر آئے
دشت آیا ہوا کے رستے میں
جب کبھی میرے بال و پر آئے
اک تماشہ کہاں تلک دیکھوں
اب کوئی اور بازی گر آئے
زخم میرے تھے پوچھنے لائق
چارہ گر کو ہی چارہ گر آئے
ہم نے پتھر بھی مار کر دیکھا
الٹا پانی میں ہی بھنور آئے
کھل گئے اور راستے دل میں
کیسے ممکن ہے میرا گھر آئے
میں نہیں تھی سحر نہ اک وہ تھا
لوگ بھی کتنے مختصر آئے
غزل
دل دریا محبت میں روانی دیکھ لیتی ہوں
اترتی ہوں سمندرمیں تو پانی دیکھ لیتی ہوں
میں خود کو یاد کرتی ہوں مگر پھر بھول جاتی ہوں
اسے لیکن شب ہجراں زبانی دیکھ لیتی ہوں
اداکاری تو اپنی زندگی نے بارہا دیکھی
مگر کردار ہے کیسا کہانی دیکھ لیتی ہوں
کریدا اس لیے ہے زخم کہ تم نے دیا مجھ کو
تمہاری یاد آئے تو نشانی دیکھ لیتی ہوں
میں پیچھے بھی نہیں ہٹتی میں آگے بھی نہیں رہتی
کسی بھی طور صورت درمیانی دیکھ لیتی ہوں
میری آنکھوں میں رو پڑتا ہے شاید اس لیے پانی
کہ پانی کے پیاسا میں پانی دیکھ لیتی ہوں
سحر میں ٹوٹ کر بھی چاہتی ہوں اس لیے تم کو
کبھی سستی کبھی اس دل میں حانی دیکھ لیتی ہوں

Views All Time
Views All Time
777
Views Today
Views Today
2
یہ بھی پڑھئے:   ہماری لاش پر ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں (محسن نقوی) - رضی الدین رضی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: