Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

داعش کی قلندر سے نفرت کا سبب ہماری محبت ہے – فاطمہ بھٹو (ترجمہ: رضا مہدی باقری)

by مارچ 1, 2017 بلاگ, تراجم
داعش کی قلندر سے نفرت کا سبب ہماری محبت ہے – فاطمہ بھٹو (ترجمہ: رضا مہدی باقری)
Print Friendly, PDF & Email

"داعش قلندر سے اس لئے نفرت کرتا ہے کیونکہ سب اس سے محبت کرتے ہیں”
 گزشتہ جمعرات کو نام نہاد "اسلامی ریاست” داعش کے خود کش بمبار نے سیہون شریف پرحملہ کیا۔پاکستان کے جنوبی سندھ صوبہ میں واقع یہ مزار مقدس ترین مزاروں میں شمار ہوتا ہے۔اس اندوہ ناک واقعہ میں 24بچوں سمیت 80سے زیادہ افراد شہید اور250 نفوس زخمی ہوئے۔
 دہشت گرد قلندر سے نفرت اسی لئے کرتے ہیں کیونکہ ہم سب ان سے محبت کرتے ہیں۔ سیہون میں قلندر اور ان کا مزار سنی،شیعہ،ہندو،مسلم،موحد و ملحد سب کی محبت و عقیدت کا مرکز و محور ہے۔
 نام نہاد اسلامی ریاست کے دہشت گرد اور وہابی تشدد پسند جو اسلام کی انتہا پسندانہ تشریح کرتے ہیں ان کے نزدیک مزار پر رائج رسومات،موسیقی،دھمال وہ بنیادیں ہیں جن کی وجہ سے یہ سیہون شریف جیسی درگاہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
1980اور90کی دہائی میں اپنے بچپن میں اپنے خاندان کے ساتھ کراچی سے اپنے آبائی شہر لاڑکانہ جاتے ہوئے سیہون شریف میں حاضری دیا کرتی تھی۔ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر سفر کرتے جن پر پام کے درخت اور اکا دکا لوگ ہی نظر آتے ،ہم دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر رک جاتے تاکہ سیہون میں محو خواب لال شہباز قلندر کے مزار پر حاضری دیں۔ شہباز قلندر تیرہویں صدی عیسوی کے صوفی شاعر مولانا روم کے ہم عصر تھے۔
قلندر جن کا پورا نام سیدمحمدعثمان مروندی  ہے،موسیقی و صوفیانہ شاعری کی وجہ سے لال شہباز قلندر کے نام سے محترم و مکرم جانا جاتا ہے۔جیسے جیسے ہم سیہون کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہیں فضا پھولوں اور ہاروں کی خوشبو سے معطر ہوتی چلی جاتی ہے۔جو کہ زائرین مزار پر چڑھانے کے لئے خریدتے ہیں۔
 سات سال کی عمر میں عاشورہ کے دوران سیہون شریف گئی اس موقعہ پر وہاں نواسہء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام حسینؑ کی عزاداری و ماتم داری ہورہی تھی جنہیں 680عیسوی میں ایک ظالم حکمران نے کربلا۔جسے اب عراق کہتے ہیں ، کے مقام پر شہید کردیا تھا۔مجھے لال شہباز قلندر کے مزار کے احاطہ میں ہزاروں عزادروں کا ماتم اب بھی یاد ہے جو پسینے سے شرابور کالی شلوار قمیض پہنے گھاس اور ان بجھے سگرٹوں پر سینہ کوبی کرتے ہوئے چل رہے تھے۔سات سال کی عمر میں مجھے یہ سب کچھ انتہائی ارتعاش انگیز،حیران کن اور قلندر کی پاکیزگی کا مظہر لگا۔
 میں برسوں سے وہاں جاکر سرخ و سبز روشنیوں،سنہری گنبداور فلک بوس میناروں سے مزین احاطہ مزار میں بیٹھتی ہوں۔ مزار کا فرش اکثر زائرین سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے۔
 کچھ لوگ اپنے بچوں بالوں کی خوراک کے ٹفن لئے نظر آتے ہیں۔دوسرے پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس مصروف دعا و مناجات ہوتے ہیں
 امراء و رؤسا بھی اپنی اپنی پریشانیاں قلندر پاک کی چوکھٹ پر رکھنے کے لئے مجمع کو چیرتے چلے آتے ہیں۔ ایسا ملک جو لسانی، علاقائی، جنسی اور طبقاتی تقسیم پر قائم ہے وہاں قلندر کی بارگاہ انسانی برادری کی یک جہتی اور محبت کا مینار نور ہے۔ یہ ایک ایسا انبساط افزا جزیرہ ہے جہاں آکر ہندو، بدھ ،مسلمان سب ایک ہو جاتے ہیں۔
 جمعرات کی شام کولوگ قوالی سننے اور مستانہ رقص/دھمال کے لئے مزار پر اکٹھےہوتے ہیں۔وہ گلابوں کی پتیاں، مکھانے اور پس انداز کی ہوئی رقم لیکر آتے ہیں۔وہ شدت آلام سے آرام اور اس ظالم دنیا میں کرب و اذیت سے نجات کے لئے دعا کرتے ہیں اور اپنی بھولی بسری دعاؤں کے جواب کی استدعا کرتے ہیں۔جو لوگ کچھ بھی لانے کے قابل نہیں وہ خالی ہاتھ ہی آجاتے ہیں۔سیہون کی بارگاہ کمزور، پریشان اور مفلوک الحال انسانوں کو امن اور تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے
 جب بھی ہم سیہون جاتے ایک گونگا بہرہ شخص جسے گونگا کے نام سے ہی پکارا جاتا تھا میرا اور میرے بھائی ذلفی کا استقبال کرتا۔
 یہ مزار کا خادم اور محافظ تھا۔بعض اوقات اس کی قمیض کی جیب پر امام حسین علیہ السلام کی تصویر چسپاں ہوتی تھی گونگا ہمیں مزار میں لے جاتا جو اس کاگھر تھا پناہ گاہ تھی۔
مزار پر درج ذیل نغمات سننے کو ملتے ہیں
شہباز قلندر۔۔۔ قوالی
سیہون کا سفر فنا فی اللہ
طاہر فریدی قوال کی وڈیو
او لال میری پت رکھیو بلا جھولے لالن
سندھڑی دا سیہون دا سخی شہباز قلندر
دما دم مست قلندر
 میں سیہون سے دور بہت دور ہوں ،ان ملکوں میں ہوں جو اردو بولنے والوں کے دیس سے کتنے ہی دور ہوں۔”دمادم مست قلندر” سننے کی خاطر مادر وطن میں واپس جانا ہی ہوتا ہے۔
 مزار پر افسوس ناک حملہ کے بعد میرے بھائی نے مجھے فون کرکے دریافت کیا کہ "گونگا زندہ ہے؟” لیکن جب سے دھماکہ ہوا ہے کسی نے گونگا کو نہیں دیکھا۔ ہم پاکسانیوں کا ایمان ہے اولیاء ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ کراچی جہاں ہم سمندر کے کنارے رہتے ہیں۔۔۔ ہمارا ماننا ہے کہ عبداللہ شاہ غازی ؒ کا مزار شہر کو سمندری طوفانوں سے بچائے رکھتا ہے۔
 قلندر کے یہاں آنے سے پہلے سیہون کا نام شیوستان تھا یعنی ہندو دیوتا شیوا جی کے نام پر۔ وقت کے ساتھ نام سیہون میں تبدیل ہو گیا۔مگر سندھ صدیوں سے تمام مذاہب کا گھر رہا ہے۔ قلندر کے عرس پر مزار پر چادریں چڑھانے والوں میں ہندو مسلمان سب شامل ہوتے ہیں۔

ترجمہ: رضا مہدی باقری

Views All Time
Views All Time
1126
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   شانِ رمضان اور پہچانِ مسلمان | سید حسن
Previous
Next

One commentcomments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: