Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں تو ایسی کیوں ہے؟ | فاطمہ عاطف

by جون 20, 2017 بلاگ
ماں تو ایسی کیوں ہے؟ | فاطمہ عاطف
Print Friendly, PDF & Email

میرا بیٹا جب تین سال کا ہوا تو ہم نے اس کو گھر کے قریب ایک پلے گروپ میں داخل کروانے کا فیصلہ کیا . اس وقت ہم لاہور میں رہتے تھے اور اسکول گھر کے قریب ہی واقع تھا . اسکول شروع کرنے سے پہلے داخلے کے وقت میرے بیٹے نے اسکول کا دورہ کرلیا تھا اس لئے وہ جا نتا تھا کہ اسکول میں کھیلنے کے لئے کھلونے اور جھولے موجود تھے. اس کے بابا کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے ہوئے تھے لہذا اپنے بیٹے کو پہلے دن اسکول مجھے ہی چھوڑنا تھا. بالآخر وہ دن آگیا جب میرا بچہ پہلی دفعہ اسکول جانے کے لئے تیار تھا . میرے ساتھ میری تین ماہ کی بیٹی بھی تھی جسکو میں نے کار سیٹ میں بٹھا کر سیٹ بیلٹ سے باندھا اور گاڑی چلانا شروع کی. بیک ویو مرر میں دیکھا تو پچھلی سیٹ پر میرا بچہ نئے کپڑے پہن کر چمکتی آنکھوں کے ساتھ گاڑی سے با ہر دیکھ رہا تھا اور بے چینی سے اسکول پہنچنے کا انتظار کر رہا تھا. مجھے شدید پریشانی اور بے چینی ہو رہی تھی کہ جس بچے نے میرے بغیر اپنی زندگی کا ایک منٹ بھی نہیں گزارا وہ تین گھنٹے میرے بغیر کیسے گزارے گا . کہیں اس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو جائے, کہیں کوئی اور بچہ اس کی پٹائی نہ کردے. کہیں اس کو کوئی چوٹ نہ لگ جائے. وہ ٹوائلٹ کیسے جائے گا میری مدد کے بغیر. مختصر یہ کہ اسی طرح کی سوچوں نے مجھے گھیرے میں لیا ہوا تھا. دس منٹ کا مختصر وقت بہت بھاری گزرا اور ہم اسکول پہنچ گئے. میں ذہنی طور پر تیار تھی کہ اب یہاں پر کوئی سین ہوگا اور میں اس کو چھو ڑ کر جانے لگوں گی تو وہ روئے گا اور لپٹ لپٹ کر مجھے آوازیں دے گا کہ "اماں مجھے چھوڑ کر مت جاو” وغیرہ وغیرہ
سکول کے باہر "آیا” بچوں کو لینے کے لئے کھڑی تھی اور میں نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے بیٹے کو کہا "جاو بیٹے آنٹی کے ساتھ” دل و دماغ منتظر کہ اب رونے کی زور دار آواز آئے گی مگر . یہ کیا ..وہ تو ایک سیکنڈ کی تا خیر کئے بغیر "یہ جا وہ جا” وہ نہ تو رویا اور نہ کچھ بولا . اور نہ ہی مڑ کر پیچھے دیکھا کہ مجھ پر جان چھڑکنے والی ماں کی کیا حالت ہے . میں حیرت اور دکھ کے دریا میں غوطے زن وہی پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی. اس خاص دن کا میں نے بہت انتظار کیا تھا. بڑی تیاریاں کی تھیں کہ میرا بچہ بغیر کسی مسئلے کے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرے مگر میں خوش ہونے کی بجا ئے دکھی کیوں تھی. یہ دکھ مجھے اس وقت بھی ہوا تھا جب دو سال پورے ہونے پر میں نے اس سے اپنا دودھ چھڑوایا تھا . وہ تو ٹھیک تھا میں کئی دنوں تک روتی رہی تھی. یوں لگ رہا تھا جیسے میرا بچہ مجھ سے دور ہو رہا ہے . خیر میں واپس گاڑی میں بیٹھی اور کافی دیر بیٹھی رہی.اس خیال سے کہ کہیں اسکول والے مجھے پا گل نہ سمجھیں میں وہاں سے چلی آئی اور دو گھنٹوں تک سڑکوں پر گھو متی پھرتی رہی. اپنا دھیان بٹانے کے لئے سودا سلف بھی خریدا. کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ گھر پہنچ کر بھی مجھے سکون نہیں ملنا اسلئے گھر نہیں گئی اور اسکول کی چھٹی سےآدھا گھنٹا پہلے پھر اسکول پہنچ گئی.
میرے بچے کو اسکول سے باہر لایا گیا تو اسکے چہرے پہ پھیلی روشنی اور کامیابی کے تاثرات دیکھ کر میں پچھلے تین گھنٹوں کا مشکل وقت بھول گئی اور اس کو ایسے گلے لگایا جیسے سالوں بعد مل رہی ہوں اور رونا شروع کر دیا. ایک ماں کے جذبات کوئی اور سمجھ نہیں سکتا .
اس واقعے کو لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ ماں کے جذبات کو سمجھنا اور بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں. مگر ایک ماں دوسری ماں کے جذبات سمجھ سکتی ہے. ملک بھر میں اور ملک سے باہر دہشت گردی, توہین مذہب , فرقہ واریت,مذہبی انتہا پسندی کے انسانیت سوز واقعات میں سیاسی جماعتوں, عسکری تنظیموں اور سرکاری اداروں, دائیں اور بائیں بازو کے گروپس کی ہار اور جیت سے قطع نظر اگر انسانی بنیادوں پر سوچا جائے تو اس سیاسی. مذہبی اور معاشی جنگ میں کبھی ایک جیتا تو کبھی دوسرا..اصل خسا رے میں تو مائیں ہیں جن کی اولاد اس ہولناک جنگ کا ایندھن بنی اور ان کی گود اجڑ گئی. کبھی مشال مردان میں وحشی درندوں کے ہا تھوں اور کبھی شکیل اور حوا )ہزارہ بہن بھائی(کوئٹہ میں دہشت گردوں کی بر بریت کا نشانہ بنے. جوان عیسائی جوڑا بھٹی کا ایندھن بنے اور اس شر سے صحافی,وکلا، پولیس اور تو اور ایکٹیوسٹ بھی محفوظ نہ رہے. غرض کوئی بھی محفوظ نہیں سوائے منظور نظر لوگوں کے .
پہلے مائیں اپنے بچے بڑا کرکے اپنے بڑھاپے کا سہارا بناتی تھیں اور اب دہشت گردی کے عفریت کا پیٹ بھرنے کے لئے چارا تیار کرتی ہیں. ماں سوچتی تھی کہ اس کی اولاد کی بقا ان کے بغیر ممکن نہیں مگر آپ سوچئے کہ بچوں کے بغیر ماں اپنی زندگی کیسے گزارے۔ وقت بدل رہا ہے زمانہ بدل رہا ہے . پہلے انتہائی اہم موقعوں پر مائیں اپنے بچوں کو قرآن پاک کے نیچے سے گزار کر اس کی سلامتی اور کامیابی کی دعائیں مانگتی تھیں اور اب عملدار روڈ سے ہزارہ ٹاون کے مختصر سفر اور کام پر جاتے ہوئے، کالج اور یونیورسٹیوں کے لئے گھر سے قدم نکالنے سے پہلے مائیں دھڑکتے دلوں کے ساتھ قرآن پاک کی زیارت کرواکر،قرآن کے سائے میں دعائیں کرتے ہوئے اپنے بچے رخصت کرتی ہیں اور ان کی صحیح سلامتی کے ساتھ ان کی واپسی کی دعائیں مانگتی ہیں جو کبھی قبول ہوتی ہیں اور کبھی نہیں. جبری شہادتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ سب کے لئے اعصاب شکن ثابت ہورہا ہے .. وقت بدل رہا ہے . کبھی تو دکھ کی یہ تاریک راتیں صبح کے اجالوں میں بدلیں گی. نا امیدی کفر ہے حالانکہ ہم تو پہلے ہی کافر قرار دیئے جا چکے ہیں .

Views All Time
Views All Time
337
Views Today
Views Today
1
mm

فاطمہ عاطف کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور امن و ثقافت کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز سے منسلک ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہزارہ بلکہ تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں

یہ بھی پڑھئے:   محرم الحرام اور موسمی مینڈکوں کا شور
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: