Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

ماں کی نمناک آنکھیں – فاطمہ عاطف

by جنوری 10, 2017 بلاگ
ماں کی نمناک آنکھیں – فاطمہ عاطف
Print Friendly, PDF & Email

irfan-photoپہلی بار میں نے اسے ہمارے گھر کے پاس ایک مارکیٹ میں دیکھا۔ شدید گرمی کا موسم تھا۔ اس نے مو سم کے حساب سے آدھی آستینوں والی شرٹ اور شارٹس پہن رکھے تھے۔تعارف کے بعد بمشکل تین منٹوں کے وقفے سے ہماری گفتگو کا رخ حسب توقع "ہزاره نسل کشی” کی طرف چلا گیا اور اس نوجوان کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ اسں کی دیکھا دیکھی میرے آنسوؤں کا بند بھی ٹوٹ گیا اور اسے تسلی دینے کے بجائے میں بھی سر جھکا کر آنسو بہانے لگی۔ تھوڑی دیر ہم اسی کیفیت میں رہے اور ہچکیوں کے درمیان اپنے مشترکہ درد (کوئٹہ میں ہزارہ نسل کشی) پر باتیں کرتے رہیں ۔ سر اور نظریں اسی طرح جھکی رہیں اس احساس کے ساتھ کہ کوئٹہ میں روزا نہ کی بنیاد پر ہزارے مارے جا رہے ہیں اور ہم باقی بچے ہوئے لوگ کچھ نہیں کر پا رہے، اور دن بہ دن خوف و یاس کی زنجیروں میں جکڑے یا تو ملک سے فرار ہو رہے ہیں یا اپنے گھروں میں محبوس ہو کر زندگی گزارنے پر مجبورہو گئے ہیں۔ اس نے مجھے بتا یا کہ وہ انسانی حقوق کی کن تنظیموں اور نیٹ ورکس کے ساتھ وابستہ ہے۔ کچھ کر گزرنے کی چاہ اور توانائی سے بھر پور اس لڑکے کا نام "عرفان خودی” تھا۔ اس کے بعد ہماری متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور ہر دفعہ میں نے عرفان کو انسان، انسانیت، انسانی حقوق، امن کے لئے اور دہشتگردی کے خلاف مضبوطی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ایستادہ پایا۔ اگر عرفان کے کام کی تفصیل میں جائیں گے تواس چھوٹی سی تحریر کو سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔

alamdar-protest10 جنوری 2013 انسانیت کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس دن علمدار روڑ میں دہشتگردوں نے ظلم اور بربریت کی وہ تاریخ رقم کی کہ جس کو پڑھ کر ہر دور میں انسانیت شرم سے منہ چھپا لے۔رہائشی علاقے میں خودکش حملے اور ایک اور بلاسٹ کے نتیجے میں تقریباً 130 لوگ مارے گئے جس میں عرفان اور عرفان کے بہنوئی بھی شامل تھے اور شہادت (جبری) کا تمغہ دے کر تین دن کے دھرنے کے بعد ان کو دفنا دیا گیا۔ 270 لوگ زخمی ہوئے اور ان میں سے کچھ آج بھی معذوری کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔

عرفان انسانی حقوق کا ایکٹویسٹ، امن اور بھائی چارے کے علمبردار اور انسانیت کی ترویج کے لئے کام کرنے والا جوان تھا ۔ عرفان تو چلا گیا مگر اس کے جانے بعد اس کے خاندان پر جو بیتی وہ بیان سے باہر ہے۔ خصوصاََ عرفان کی ماں سے  جب بھی میں ملی مجھے یہی لگا کہ جیسے عرفان کی موت ابھی واقع ہوئی ہو۔ اس ماں کی اجڑی گود کبھی بھر نہ پائے گی۔ اس ما ں کی اداس آنکھوں میں لگتا ہے آنسو مستقل طور پر ٹھہر گئے ہیں۔ اپنے دن کا بیشتر حصہ عرفان کی قبر پر گزارنے کے باوجود ان کو یقین نہیں آتا کہ ان کا بیٹا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلا گیاہے ۔ وہ بے بس ماں زیر لب یہی دہراتی رہتی ہے کہ عرفان کے تو خوشی کے دن تھے۔ اس کی شادی کو ایک سال کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا ۔ اس کے کمرہ عروسی کے پھولوں کی سجاوٹ ویسی کی ویسی ہے تو عرفان کیسے مر سکتا ہے۔ وہ جو ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف لڑتا رہا خود اسی کی لپیٹ میں آگیا۔ عرفان جب گھر سے نکلتا تھا تو اپنی ماں کے پاؤں چوم کر نکلتا تھا اور اس کو یقین تھا کہ ماں کی دعائیں ہمیشہ اس کی نگہبان ہوں گی۔ تو پھر اس دن ایسا کیا ہوا۔ وہ تو زخمیوں کی مدد کےلئے نکلا تھا اور کبھی واپس نہیں آیا۔ ماں کی نمناک آنکھیں آج بھی عرفان کے کسی دوست کا دیدار کرتی ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ عرفان کی زیادہ سے زیادہ باتیں کریں۔ چاہنے کے باوجود میں ان سے ملنے سے گھبراتی ہوں کیونکہ عرفان کے دوستوں سے مل کر ان کا غم روز اول کی طرح تازہ ہو جاتا ہے۔ ماں نے تو اپنی ذمہ داری نبھائی۔ اپنے بچوں کو اپنے خون سے سینچ کر جوان کیا تاکہ وہ معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں مگر دہشت گرد ماؤں کی ما متا ئیں لوٹتے رہے اور ہم بے بسی کے ساتھ یہ تما شا دیکھتے رہے۔ عرفان کی ماں کو لگا تھا کہ عرفان نے شاید بہت دوست بنا ئے ہیں جو اس کے مرنے کے بعد شاید اس کے خاندان کی خبر گیری کرینگے۔ مگر ایسا نہیں ہو پا یا۔۔میں شرمندہ ہوں عرفان کی ماں سے اور ساتھ ساتھ ان تقریباً 2000 ہزارہ شہداء کے خاندانوں سے بھی کہ حسب توفیق کوششوں کے باوجود ہم اپنے پیاروں کے قاتلوں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچا سکے ہیں مگر ہم چپ بھی نہیں بیٹھیں ہیں ۔ دہشت گردی کی آگ لگی ہے تو اس میں باری باری سبھی جلیں گے۔تو اگر کچھ اور ممکن نہیں تو آواز تو اٹھا ہی سکتے ہیں۔ فیصلہ ہمارا ہے کی لاش اٹھانی ہے یا آواز۔۔۔۔۔

 

Views All Time
Views All Time
3087
Views Today
Views Today
2
mm

فاطمہ عاطف کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور امن و ثقافت کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز سے منسلک ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہزارہ بلکہ تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں

یہ بھی پڑھئے:   سوال کیجئے
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: