مسلسل خوف – فاطمہ عاطف

Print Friendly, PDF & Email

fatima-atif-1مملکت پاکستان میں رہتے ہوئے تقریباََ ساری زندگی بیت گئی۔۔۔ سوچتی ہوں زندگی کا کون سا ایسا مرحلہ تھا جب میں نے لوگوں کو بغیر خوف کے اپنی زندگیاں گزارتے ہوئے دیکھا ہو۔ بہت سوچ بچار کے باوجود مجھے شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام کا ہر طبقہ مختلف نوعیت کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ معاشی عدم استحکام کا خوف، تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی کا خوف، بروقت بہتر علاج معالجے کی سہولیات کی عدم دستیابی کا خوف، مذہبی فرائض پورا نہ کرنے پر دوزخ جانے کا خوف، رشتے کھونے کا خوف، ملکی وسیاسی حالات کا عدم استحکام، زندگی کے کسی بھی شعبے میں ناکامی کا خوف، اپنی ساکھ کو بچانے کا خوف وغیرہ وغیرہ۔ غرض ہماری زندگیاں انہی چھوٹے بڑے،خود ساختہ اور بعض اوقات بیرونی عوامل پر مبنی خوف کی نذر ہو چکی ہیں۔

 کم و بیش گزشتہ دو دہائیوں سے بالعموم تمام پاکستانی عوام اور بلخصوص کچھ مخصوص علاقوں اور برادریوں کے لوگ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خوف کے سائے میں زندگیوں کے دن گن رہے ہیں۔ کیونکہ کالعدم عسکریت پسند ادارے دن بہ دن مزید بے خوفی کے ساتھ پورے ملک میں اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور کچھ مخصوص علاقوں اور نسلوں کے لوگوں کا خون اسلام کے نام پر بہا کر اپنے لئے جنت میں جگہ کی تصدیق کر نے کے ساتھ ساتھ کچھ مخصوص بر سر گزشتہ اور موجودہ بر سر اقتدار اور با اختیار شخصیات کے سیاسی مفادات کی پاسداری کو بھی یقینی بنا رہے ہیں۔ مذکوره تناظر میں” ہزارہ”کی پاکستان اور افغانستان میں منظم انداز میں نسل کشی ایک عالمگیر انسانی مسئلے کی صورت اختیار کر چکا ہے جس پر دونوں ممالک کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے عالمی ادارے بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہر طرح کی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ غیر انسانی اور متعصبانہ رویہ بھی خاص وطیرہ، معاشرتی عدم مساوات، عدم برداشت اور اقلیتوں کے حقوق کی خلف ورزی کی عام مثالیں ہیں۔

 10 جنوری 2013 علمدار روڑ، 16 فروری 2013 کرانی روڑ کے انسانیت سوز واقعوں کے بعد 16 دسمبر 2014 آرمی پبلک سکول کا اندوہناک اور نا قابل فراموش واقعہ پوری دنیا کو اشکبار کر گیا۔ تحریک طالبان کے سات لوگوں نے سکول پر دن دہاڑے حملہ کردیا اور سکول میں داخل ہو کر بچوں اور سکول کے عملے کو بے دردی کے ساتھ گولیوں کا نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں آٹھ سال سے اٹھارہ سال کے 132 بچوں کا قتل عام کیا گیا اور عملے کے نو افراد بھی مارے گئے۔ بعد میں سب کو جبری شہادت کے تمغے پہنا کر خاموش کر دیا گیا۔ عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ۔ ہم خود واقعے کے فورا بعد مسلسل 4 دنوں تک شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ اسلام آباد پریس کلب ، کبھی لال مسجد اور کبھی تھانہ آبپارہ کے باہر اپنے پارہ پارہ جگر کا خون گراتے رہے مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا بلکہ اس تحریک کو منظم کرنے والے (جبران ناصر) کو دھمکیاں دی گئیں اور خاموشی کا سبق پڑھایا گیا۔ اسکے بعد بھی ماہانہ بنیادوں پر ہر ماہ کی 16 تاریخ اور پھر 6 مہینے پورے ہونے پر اور پھر سال پورا ہونے پر ہم اکٹھے ہو کر اس تاریخی بربریت کے خلاف آواز اٹھاتے رہے مگر نتیجہ ندارد۔

 اس مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 132 بچوں کے بہیمانہ قتل عام کو لوگ شاید بھول چکے ہوں مگر میں ابھی تک اس سانحے  کے اثرات سے با ہر نہیں نکل پائی۔ روز اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے اطمینان کے بجائے بے کلی کا شکار رہتی ہوں اور انجانا خوف من میں کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا ہے جو بچوں کی خیریت سے واپسی پر وقتی طور پر ٹھیک تو کو جاتا ہے مگر اگلے روز پھر اسی خوف کے سائے منڈلانا شروع ہو جا تے ہیں۔ دل میں عجیب و غریب خیالات کی گنجلک بند جا تی ہے۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے مسکراتے چہرے دماغ میں گھوم جاتے ہیں۔ وہ منحوس لمحے تصور میں آتے ہیں جب ان نازک کلیوں پر گولیوں کی بارش ہوئی ہوگی تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔ کس کس بچے نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا اور کونوں میں چھپ کر یہ امید کی ہوگی کہ شاید ان کو کو ئی آکر بچا لے گا مگر ظالموں کی گولیوں نے ان کو مزید مہلت نہیں دی ہوگی۔ مزید لکھنے کا حوصلہ کھو رہی ہوں کیونکہ آنسو اس تواتر سے بہہ رہے ہیں کہ کچھ نظر نہیں آرہا۔

 اس اندوہناک سانحے کے نتیجے میں قوم نے جس یکجہتی سے ہم آواز ہو کر جس نیشنل ایکشن پلان پر لبیک کہا تھا اس کو بھی ہمارے ارباب بست و کشاد نے سیاسی مصلحتوں پر قربان کردیا۔ ہم آج بھی انتہا پسندی اور مذہبی شدت پسندی کے زیر سایہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان عوامل کی موجودگی ہمارے حکمرانوں کے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اس نیشنل ایکشن پلان کے نتیجے میں دہشت گردی کے بڑے واقعات کو سارے پاکستان سے سمیٹ کر بلوچستان تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان صرف پنجاب اور سندھ پر ہی مشتمل ہے اور قومی ایکشن پلان کے تمام تر ثمرات بھی بس یہیں تک محدود ہیں۔

Views All Time
Views All Time
3504
Views Today
Views Today
1
mm

فاطمہ عاطف کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور امن و ثقافت کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز سے منسلک ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہزارہ بلکہ تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں

یہ بھی پڑھئے:   ؒعظیم لیڈر، محمد علی جناح
mm

فاطمہ عاطف

فاطمہ عاطف کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور امن و ثقافت کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز سے منسلک ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہزارہ بلکہ تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: