Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

کہانی میرے شہر کی – فاطمہ عاطف

by اکتوبر 26, 2016 بلاگ
کہانی میرے شہر کی – فاطمہ عاطف
Print Friendly, PDF & Email

fatima-atifیہ کہانی ہے میرے شہر کی جہاں روز ماؤں کی ما متا ئیں چھین لی جاتی ہیں۔ جہاں ماؤں کی پلکیں ہر پل نمناک ہی رہتیں ہیں۔ ۔۔جہاں روز خون کی ندیاں بہتی ہیں، جہاں کا ہر فرد خوف و دہشت کے سا ئے میں اپنی باری کے انتظار میں زندگی کے دن کاٹ رہاہے۔ جہاں خوشی کے پل قبرستان میں گزرتے ہیں اور خوشی کے مواقع مفقود ہو گئے ہیں ۔ جہاں کے حکمران اقتدار کے نشے میں سرشار اور لاشوں پر سیا ست کرتے ہیں اور عوام اپنی زندگیوں کے تحفظ کے لئے ہلکان رہتے ہیں ۔ جہاں مائیں اپنے بچوں کو پال پوس کر عملی زندگی شروع کرنے کے لئے سنہرے خواب بننا شروع کرتیں ہیں اور مٹھی بھر دہشتگرد قوم کے مستقبل کو خاک و خون میں نہلا دیتے ہیں۔ جہاں مختلف عقیدہ رکھنا جرم ہے اور قتل ہونے والے اور قاتل دونوں جنت کی آس میں دنیا کو خیرباد کہتے ہیں۔ جہاں زندگی کا فیصلہ تو اللہ کے ہاتھ ہے مگر  موت کا فیصلہ بندوق بردار خود کش واسکٹ پہنے عفریتو ں نے اپنے ہا تھوں لے لیا ہے۔  سنا ہے میرے شہر میں ما ئیں بچے اس لیئے جوان کرتیں ہیں تاکہ خون خوار بلاؤں کی پیاس بجھا سکیں۔  یہ وه بلائیں ہیں جنھیں ان کے خالقوں نے اپنی جانوں کی امان لے کر میرے شہر میں میرے پیاروں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ یہی میرا شہر ہے  جو کبھی امن کا گہوارہ تھا اب میرے ہی پیاروں کا مقتل بن گیا ہے۔ میرے شہر میں میرے لوگوں کے لئے ان کے اپنے گھر زندان بن گئے ہیں ۔ تعلیم،صحت نہ کاروبار کیونکہ ان کے لئے گھروں سے نکلنا ہوگا اور نکلیں گے تو واپس گھرآئیں گے یا نہیں یہ بات تو کوئی نہیں جانتا۔ سنا تھا کہ میرے شہر میں خواتین کی بہت عزت ہوتی ہیں جی ہاں اب تو خواتین اور بچوں کو بھی گولیوں سے بھونا جا رہا ہے۔ 
جس طرح پہلے کئی دفعہ سینکڑوں لا شیں ایک ہی دفعہ میں گرائی گئیں اور ہر دفعہ اس المناک دن کو انسانیت کی تاریخ کا تاریک ترین دن قرار دیا گیا۔ ۔ میرے شہر کا تو ہر دن تاریک ہو گیا ہے کیونکہ لاشیں تو روز ہی اٹھتیں ہیں۔  اب تو میرے شہر کے لوگوں کے لئے مہینوں کے اصل نام یاد رکھنا ناممکن اور دہشتگرد ی کے واقعات کے حوالے سے نام یاد رکھنا سہل ہو گیا ہے۔ 
میرے شہر میں بزدلوں نے اب کی بار  پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا ۔ تقریباً ساٹھ جوان زبردستی کی شہادت کا جام بھی نوش کر گئے ۔ وہ جوان ایک بہتر مستقبل کے لئے پولیس کی تربیت لینے گئے تھے بے بسی کی موت مرنے کے لئے نہیں۔ ساٹھ جوان خاک میں پنہاں ہوگئے ۔ پھر میرے شہر میں کیا ہوا  یہ وہاں کا بچہ بچہ بتا سکتا ہیں۔  نا اہل حکومتی نما ئندوں کے بیا نا ت، سیاستدانوں کے مذمتی بیانات، صوبائی حکومت کا شہیدوں کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہو ئے سوگ کے دنوں کا تعین، کچھ سر پھروں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج،  سیکیورٹی اداروں کا بڑھ چڑھ کر وضاحتیں کرنا، باقی عوام کا حکومت کو کوسنے اور پتہ نہیں کس جزبے کے تحت شہداء کے لواحقین کے حسب توقع بیا نا ت کہ ” ہمیں فخر ہیں اپنے بیٹے/ بھائی پر جس نے انتہا ئی بہادری کے ساتھ جام شہادت نوش کیا۔۔وزیر مملکت بھی ایک آدھ اعلیٰ سطح کا اجلاس کرکے مسئلے پر بات چیت کر لیں گے اور اپنے فرائض سے سبکدوش ہو جائیں گے ۔۔یہی ہے میرے شہر کی کہانی ایک سوال کے ساتھ

کب تک آواز کے بجائے لاشیں اٹھاؤ گے ۔۔۔؟

 

Views All Time
Views All Time
2260
Views Today
Views Today
1
mm

فاطمہ عاطف کوئٹہ کی ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی ایک انسانی حقوق، خواتین کے حقوق اور امن و ثقافت کے لئے کام کرنے والی سرگرم کارکن ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی فورمز سے منسلک ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر نہ صرف ہزارہ بلکہ تمام طبقات کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتی ہیں

یہ بھی پڑھئے:   معقول یا مقبول سیاست
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: