Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

محبت کی مثالیں اپنی لائبریوں میں تلاش کیجئے – فرخ عباس

by فروری 13, 2017 بلاگ
محبت کی مثالیں اپنی لائبریوں میں تلاش کیجئے – فرخ عباس
Print Friendly, PDF & Email

ویسے محبت سے لبریز لوگ محبت کو کسی رنگ نسل یا مذہب میں تقسیم نہیں کرتے یہ جذبہ بھی کبھی کسی رسمی قید خوف یا فتووں کے آگے رک نہیں پایا۔ مفاہمتیں اور خوف اگر راستہ روک پاتے تو شہزادے مراد کی بیٹی اور پرجلال بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بھتیجی آسائش بانو کا روکتے۔ یہ مہ پارہ ایران کی دلبران خوش خرام کی آنکھ کے تارے صالح کو دل دے بیٹھی تھیں جری صالح بھی مغل بادشاہوں کی ہیبت سے متاثر نہ ہوا اور آسائش بانو کو اپنا کر چھوڑا ۔لاکھ مشکلیں تھیں پر صالح اور آسائش کے دلوں پہ محبت کا وار بھی کاری تھا خوف اور مفاہمت شاہ جہاں کی بیٹی میر النساء کو بھی نہ روک سکے جس کو عاقل خان سے محبت ہوئی۔ شیر دل عاقل کو جب میرالنساء نے طعنہ دیا کہ وہ اس کے باپ کی ہیبت سے محبت سے پہلو تہی کرتا ہے تو عاقل نے اسے کہہ دیا کہ تم خود اپنے کہے پر پیشمان ہو گی۔ پھر جب عاقل نے شہزادی کو بدنامی سے بچانے کیلئے ایک دھات کی دیگ میں پناہ لی تو بادشاہ نے دیگ کے نیچے آگ جلوا دی شہزادی دھاڑیں مار کر روتی رہی مگر عاقل خان نے اف تک نہ کی اور زندہ جلنا گوارہ کر لیا۔

علم اور عقل بھی کبھی عشق کی راہ میں حائل نہ رہ سکے اگر ہوتے تو علم و فضل میں شہرت مند جعفر برمکی کو سمجھا پاتے جسے ہارون الرشید کی بہن شہزادی عباسیہ سے عشق تھا۔ جاہ و جلال نے بالآخر جعفر برمکی کا سر قلم کر دیا لیکن جعفر برمکی نے عباسیہ سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔ اور پھر ایک کنیز انارکلی جو ایک شہزادے سلیم کے حضور یوں معتبر ٹھہری کی تخت و تاج کو ٹھوکر مارنے پہ آمادہ ہوا ۔اور پھر آتشگیز حسن کی مالک عرب عاتکہ اقر عبداللہ کو کون بھولے گا عبداللہ نے جب عاتکہ کہ عشق میں یہ شعر کہا کہ اے عاتکہ میں تجھ کو نہیں بھول سکتا جب تک سورج چمکتا رہے گا تو عاتکہ بول اٹھی؛

جب تک زمانہ قائم ہے جب تک بلبلیں درختوں پر نغمے گا رہی ہیں جب تک رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات چل رہی ہے اے عبداللہ تیری یاد بھی ناسور کی طرح میرے دل سے رستی رہے گی۔

اور قیس عامری جو مجنوں ٹھہرا جس کو لیلیٰ سے عشق امر ہو گیا۔ لیلیٰ جب بیمار پڑی اور بچنے کی امید نہ رہی تو اس نے اپنی ماں سے وصیت کی کہ اسے سجا سنوار کر دفنایا جائے تاکہ جب مجنوں سے ملے تو شاداب لگے۔ مجنوں جو صحراؤں میں رہتا تھا اور وہاں کے درندے اس سے مانوس ہو گئے تھے جب لیلیٰ کی قبر پہ آیا تو درندے اس کے ساتھ تھے۔ قبر پہ اس قدر رویا کہ اس کے آنسوؤں سے قبر کے گرد سبزہ و سرخ پھول اگ آئے۔ وہ صحرا جاتا مگر آرام نہ پاتا بالآخر وہیں اسکی ہڈیاں بکھر گئیں درندوں نے پھر بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا ۔۔۔

محبت کے سارے رنگ یکساں ہوتے ہیں گرجے کا سینٹ ویلنٹائن ہو کوئی مسلمان شہزادہ یا مجنوں یہ سب کے دلوں پہ یکساں وار کرتی ہے کوئی فتویٰ، کوئی خوف ،کوئی بندھن، کوئی رسم یا کوئی قانون اس کو روک نہیں پایا نہ روک پانے کی طاقت رکھتا ہے یہ ہر گھر میں موجود ہے یہ ہر لائبریری میں موجود ہے۔

Views All Time
Views All Time
346
Views Today
Views Today
1
یہ بھی پڑھئے:   امید قوی اور انتظار طویل | سمی بلوچ
Previous
Next

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

%d bloggers like this: