Skip to Content

Qalamkar | قلم کار

جہالت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف برسرپیکار

سوشل میڈیا اور وقت گزاری کا فن | فرح رضوی

by May 26, 2017 بلاگ
سوشل میڈیا اور وقت گزاری کا فن | فرح رضوی

وقت بدلتا ہے تو اسے گزارنے کے ڈهنگ بهی بدل جاتے ہیں. محنت کرکے وقت گزارنے والوں کے شب و روز کم و بیش ایک سے ہی ہوا کرتے ہیں. “Time pass” نہ ان کا مسئلہ ہے نہ شوق. ان کے پاس وقت گزاری کی نت نئی ورائٹی نہیں ہوتی سو اسی یکسانیت کے ساتھ شب و روز گزارنے کے پابند ہوتے ہیں. مگر سب اتنے بدنصیب نہیں کہ بے کیف زندگی گزاریں. وہ جن پر وقت کی دیوی مہربان ہے انهوں نے اپنے دن رات نچھاور کر کے اسے رام کیا ہے.
ہنس کھیل کر گزارے گئے وقت کے سینکڑوں رنگ ہیں جن میں “سوشل میڈیا” محبوب ترین ہے. اس کوئے بتاں میں قیمتی لمحے لٹاتے یہ دیوانے طبیعتا سخی ہوتے ہیں اور اسی کشادہ دلی کے سبب انکا دل”سارے جہاں کا درد “سمیٹنے کی خدا داد صلاحیت رکھتا ہے. صرف اسی پر بس نہیں بلکہ فیس بک کی اس فانی دنیا کے گلوں میں اپنے تبصروں سے رنگ بهر کر گلشن کے کاروبار کے چالو رہنے کی ضمانت بهی ہیں.
عمومی مسائل پر سوا سیر حاصل گفتگو کے ساتھ ساتھ اہم قومی اور ملکی مسائل پر رائے زنی کا حق ،فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں.دوران بحث دلیل دیتے ہوئے گهٹنے کا نشانہ لیکر آنکھ پهوڑنے کی صلاحیت سے مالامال اپنے کیمپ کے یہ ہونہار چشم وچراغ اکثر خود اپنے ہی گھر کو آگ لگا بیٹهتے ہیں.
“جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی “کے نظریئے سے اظہارِ یک جہتی کیلئے اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ مخالفین کی پوسٹس پر خود ہی چنگیز خان بنکر کمنٹس کی کھوپڑیوں کے مینار کهڑے کر دیتے ہیں. انکے دوڑائے ہوئے گهوڑوں نے بحر ظلمات میں اتنے چهینٹے اڑائے ہیں کہ عنقریب وہ سوکھ کر پہلے دشت اور پهر صحرا کی صورت اختیار کرنے کو ہے.
ایک قبیلہ وہ ہے جس نے “نظریہء ارتقاء” کی مدد سے اپنے اصل شجرہ نسب کی کهوج لگانے کے بعد اپنے اجداد کے اوصاف اپنانے کی ذمہ داری رضاکارانہ طور پر سنبھال لی ہے.انکی شناخت مشکل نہیں، اگر کوئی آپ کے کمینٹ کے reply میں اچهل کود کرتا نظر آئے تو پہچان لیجئے گا .
خلوص نیت سے سرشار علم و دانش کا چشمہء فیض ، پوسٹس کے دریا کے بہاؤ کے سہارے دن رات جاری رہتا ہے اور ٹیگ کی نہروں کے تحت احباب کی فکری بنجر زمینوں (walls) کو سیراب کرتا جاتا ہے. کچھ عاقبت نا اندیشوں نے اس چشمہء فیض کی منہ زور طغیانیوں کے آگے بند باندھ رکھا ہے مگر تاریخ انهیں اس ناشکرے پن پر کبهی معاف نہیں کرے گی.
پہروں جاگ جاگ کر (walls ) دیواروں کی منڈیر پر تاک جهانک کرکے اپنے پرایوں کی خبر گیری کرنے کی نیکی بهی انہی کے حصے میں آئی ہے .
وقت گزاری کا ہنر ہر کس و ناکس کے نصیب میں نہیں . وقت کی قدر دانی کے کچھ نام نہاد دعوے دار جو بیک وقت محنت کے ساتھ حسد کرنے پر بهی یقین رکھتے ہیں ان خوش نصیبوں سے جلتے ہیں. پتھر دل ، جذبات سے عاری ،مشینی سوچ رکهنے والے کیا جانیں کہ وقت گزاری کس پائے کا fun ہے. اسی فن کاری کا مظاہرہ کرتے کسی شخص سے پوچھا گیا کہ “بهائی تم سارا سارا دن یونہی ہاتھ پر ہاتھ دهرے بیٹهے رہتے ہو، کیوں اپنا وقت برباد کرتے ہو.” اس معصوم نے ایک ٹھنڈی آہ بهری اور بولا ؛”اس وقت نے مجهے برباد کیا اب میں بدلے میں اسے برباد کرونگا. “

مرتبہ پڑھا گیا
339مرتبہ پڑھا گیا
مرتبہ آج پڑھا گیا
1مرتبہ آج پڑھا گیا
Previous
Next

Leave a Reply

%d bloggers like this: